گلوبلائزیشن:Globalization02:

جدید عالمی نظام کے مرکزی عناصر :

 عالم گیریت چند مرکزی عناصر سے مل کر وجود پذیر ہو ئی، جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں :

(۱) سرما یہ دارانہ نظام کا فروغ :

 اشترا کی نظام کے شکست خور دہ ہو جانے کی وجہ سے،سرمایہ دارانہ نظام کو تمام معاشروں پر ایسی اقدار مسلط کرنے کا موقع مل گیا، جنہیں امریکہ پروان چڑھا رہا ہے اقوام متحدہ کی تابع عالمی تنظیمیں جیسے، ، عالمی بنک انٹرنیشنل ما نیٹری فنڈ، ، اس کی مدد کر رہے ہیں جبکہ ان تنظیموں کی سرپر ستی میں ہونےوالے عالمی معاہدے، امریکہ کے لیے راستہ صاف کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

(۲)ایک مرکز:

 سوویت یونین کے سقوط اور اس کے عالمی ڈھانچے’’وارسو‘‘ کے خاتمے کے بعد، امریکہ تنہا عالمی قائد کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آیاہے۔ انسانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ طاقت میں توازن ختم ہو چکا ہے اور امریکہ عسکری اور اقتصادی میدانوں میں اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ کوئی ملک کبھی بھی اتنا مضبوط نہیں رہا۔طاقت میں عدم توازن کی وجہ سے آج امریکہ نے ایک مرکز ثقل کی حیثیت اختیار کر لی ہے، جب کہ دیگر تمام ممالک اس کا طواف کرتے نظر آتے ہیں، مرکزیت کے اس مقام پر پہنچنے کے بعد ہی امریکہ کو یہ ہمت ہوئی کہ وہ جدید عالمی نظام دنیا کے ملکوں پر مسلط کر سکے، خواہ وہ اس کے لیے راضی ہوں یانہ ہوں۔

(۳)مواصلات کے میدان میں انقلاب :

 یوں تو انسانی تاریخ میں بہت سے انقلابات آئے ہیں،ان میں سے کچھ بے انتہا اہمیت کے حامل ہیں اور کچھ وقتی طور پر مؤثر رہے اور بعد میںتاریخ کے اوراق میں گم ہو گئے، ٹکنالوجی کے میدان میں آنے والا انقلاب نہایت اہم اور ناقابل فراموش انقلابات میں شمار کیے جانے کا مستحق ہے۔اس انقلاب نے دنیا کو حیرت واستعجاب کے مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ہے کمپیوٹر اسی انقلاب کی دین ہے، جو موجودہ دور میں ایک سکینڈ کے اندر دنیا کے دو ارب مختلف کاموں کو پورا کر رہا ہے، اگر کمپیوٹرکے بغیر وہ کام کیے جائیں، تو ان کی تکمیل میں ایک ہزارسال کا عرصہ لگ سکتا ہے، اس انقلاب کی دوسری دین  مواصلاتی ترقی ہے، جس کی وجہ سے مختلف افراد، معاشرے اور ممالک ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں اور مواصلاتی وسائل جیسے ٹیلیفون، فیکس، ٹیلی ویژن ریڈیو،ای میل اور انٹرنیٹ وغیرہ کی مددسے چوبیس گھنٹے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں
یا یوں کہیے کہ مغرب سے مشرق میں تہذیب و ثقافت کی منتقلی ہو رہی ہے، جس کی وجہ سےعالم گیریت برق رفتاری سے عالم کے افق پر پھیلتی نظر آ رہی ہے۔
(مقالہ: العولمۃ الحقیقۃ والابعادhttp//:www.ummah.com )

پس پردہ ادارے اور تنظیمیں :

 اتنا تو ’’جد ید عالمی نظام ‘‘کے بانیوں کو بھی معلوم تھا کہ دنیا کو اس نظام کے تابع کرناکوئی آسان کھیل نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے جہاں اقتصادی راہ داریوں کا استعمال کرناضروری ہے، وہیں سیاست، ثقافت اور ذرائع ابلاغ کے شعبوں میں اہم منصوبے بنا کران کو نافذ کرنا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے، اس لیے صہیونی سازشی دماغوں نےگلو بلائزیشن کی طرف جانے وا لے راستوں کو ہموار کر نے کے لیے، مختلف تنظیمیں اور ادارے قائم کیے، جنھوں نے اپنی اپنی ذمے داریوں کو کبھی پس پردہ اور کبھی کھو لے بندھوں انجام دیا، ذیل میں ایسے اداروں اورتنظیموں کا مختصر تعارف دیا جا رہا ہے، جنہوں نے پردے کے پیچھے سے عالم گیریت کے نشو و نما کے لیے اہم کردار کیا ہے۔

بلڈر برجBILDERBERG :

 یہ دنیا کی انتہائی طاقت ور اور خفیہ عالمی تنظیم ہے، جس کو ۱۹۵۴ء میں سونڈن ‘‘سے تعلق رکھنے والے ایک سرما یہ دار ’’جوزف رٹنگر‘‘ (JOSEPH H. RETINGE نےقائم کیا تھا، اس تنظیم کا سب سے پہلا اجلاس مئی ۱۹۵۴ء کو ہا لینڈ کے شہر اوسڑبیک (OOSTERBEEK) میں بلڈر برج نامی ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں منعقد ہوا تھا، جس کی صدارت ہا لینڈ کے شہزادے ’’برنہارڈ‘‘ نے کی تھی، اسی اجلا س میں اس خفیہ عالمی تنظیم کا نام ہو ٹل کے نام پر ’’بلڈر برج‘‘ تجویز کیا گیا، عام طور پر ۱۱۵افراداس کے ممبر رہتے ہیں، جن میں کچھ بین الاقوامی سیاسی شخصیات ہوتی ہے، جن کی تعداد کل ممبروں کی ایک تہائی ہوتی ہے، جب کہ باقی دو تہائی لوگ بین الاقوامی سطح پر اقتصادی، تعلیمی اور صنعتی شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں، اس کے ارکان بھی دو قسم کے ہوتے ہیں، مستقل رکنیت رکھنے والے، جیسے بدنام زمانہ امریکن یہودی وزیر خارجہ، ہنری کیسنجر، جب کہ غیر مستقل رکنیت رکھنے والوں کو اس کے اجلاس میں دعوت نامے جاری کرکےمدعوکیاجاتا ہے، ۲۰۰۰ء میں اس تنظیم کے سربراہ، ناٹو،کے سابق سکریٹری جنرل،لارڈگیرنگٹن، تھے اس تنظیم کے جلسوں کے لیے عام لوگوں کی نظروں سےدورعالی شان ہوٹل بک کر لیا جاتا ہے، جس میں یہ جلسے تین روز تک جاری رہتے ہیں، اس دوران کوئی رکن ہوٹل سے باہر نہیں آسکتا، سکیورٹی کے انتظامات امریکی خفیہ، سی آئی اے،کے علاوہ یورپی ممالک کی خفیہ تنظیمیں بھی کر تی ہیں۔
 حیرت انگیز امر یہ ہے کہ گزشتہ بیس سالوں کے دوران امریکہ اور برطانیہ میں، سیاسی طور پر کامیابی کے لیے اس خفیہ تنظیم سے وابستگی لازم ہو چکی ہے، امریکہ کے بہت سے صدر اس تنظیم کی رکنیت کے بعد ہی کرسی صدارت تک پہونچ سکے ہیں، جن میں رونالڈ ریگن، جمی کارٹر، جارج بش اور بل کلنٹن قابل ذکر ہیں، برطانیہ کی سابقہ وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے ۱۹۷۵ء میں اس تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی تھی، ٹھیک چند سالوں بعد وہ برطانیہ کی وزارت عظمی کے عہد ے پرفائز ہو گئیں، اسی طرح اشتراکی خیالات کا حامل ایک برطانوی نوجوان سیاست داں ’’ٹونی بلیر ‘‘ گم نامی کے انتہائی نچلے درجے میں پڑا ہوا تھا، برطانیہ جیسے سرمایہ دار ملک میں اشتراکی نظریات کا اخذ کرنا اپنے آپ کو سیاسی موت سے ہم کنار کرنے کے مترادف ہے، مگر جلدی ہی یہ نوجوان اپنی فکر سے تائب ہو کر ’’بلڈر برج‘‘ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کرتا ہے اور یکایک شہرت کی بلندی پر پہنچ کر، چار سال کے بعد برطانیہ کا وزیر اعظم بن جاتا ہے۔
 ۱۹۹۸ء میں اس کا اجلاس اسکاٹ لینڈ کے ’’ٹو رنبری ہوٹل ‘‘ میں منعقد ہوا، جس میں چند مغربی صحافیوں نے داخل ہونے کی کوشش کی، مگر انھیں اس سلسلے میں مکمل طور پر کامیابی حاصل نہ ہوسکی، مگر پھر بھی جس حد تک انھیں اس اجلاس کا ’’ایجنڈا ‘‘سمجھ میں آسکا، اسے انھوں نے New World Order Intelligence Update (نیو ورلڈ آرڈر انٹیلی جنس اَپ ڈیٹ)کے نام سے شائع کیا ’’میٹرکس ‘‘ (Matrix)کے مینیجنگ ایڈیٹر ’’چارلس اوربیک‘‘ نے لکھا ہے کہ:
 ’’اس اجلاس میں دنیا کے اہم اور حسّا س علاقوں کے بارے میں فیصلے لیے گئے ہیں، اس سلسلے میں ’’سی آئی اے ‘‘ کے سابق ڈائریکٹر ’’جان ڈوٹیج‘‘ اور امریکی ریاست  ’’نیوجرسی ‘‘ کے گورنر ’’کریسٹن ٹیڈوائٹ ‘‘ کو یہ ذمے داری سونپی گئی ہے کہ وہ اندازہ لگائیں کہ ’’جدید عالمی نظام ‘‘ کے زیر سا یہ کس طرح دنیا میں مغرب کی سیادت قائم ہوسکتی ہے۔‘‘
’’اور بیک ‘‘ آگے لکھتے ہیں کہ: ’’اس میں شرکت کرنے والے بہت سے ارکان کی قومیت تک کا پتا نہیں چلتا مگر اس کے اجلاس میں منظور کردہ قرار دادوں کا اطلاق دنیا کی بہت سی حکومتوں، سیاسی نظاموں، عالمی تجارت اور دنیا میں پھیلے ہوے دولت  کےذخائرپرہوتاہے ‘‘۔(مدینے سے وائٹ ہاؤس تک: از محمد انیس الرحمنص:۱۶۸تا۱۷۶مطبوعہ لاہور)

راکفلر فاؤنڈیشن :

 عالمی نظام کے قیام میں روز اول ہی سے جن اداروں نے مالی مدد کا بیڑا اٹھا یا ہے، ان میں راکفلر فاؤنڈیشن کا نام سب سے پہلے آتا ہے،یہ ادارہ خیراتی ادارے کا لیبل لگا کرٹیکس سے چھٹکارا پاچکا ہے، امریکی سینٹ نے ۱۹۵۲ء میں قرارداد ۱۶۵ کے ذریعے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کا مقصد یہ جائزہ لینا تھا کہ اس ادارے کی رقمیں کہیں امریکہ کے خلاف تو استعمال نہیں ہو رہی ہیں (جائزے سے پتہ چلا کہ یہ ادارہ یورپ و امریکہ میں یہودی مفادات کے لیے سرگرم عمل ہے) اس ادارے کی بے شمار ذیلی تنظیمیں بھی ہیں جو بہ ظاہر ایک دوسرے سے بے تعلق نظر آتی ہیں لیکن ہر ایک کے مقاصد اور میدان عمل متعین ہیں۔
’’ بلڈر برج‘‘ تنظیم کے سالانہ جلسوں کے بے پناہ اخراجات بھی یہی ادارہ (جو دراصل امریکہ کی سب سے بڑی تجارت کمپنی ہے)برداشت کرتا ہے۔ (مدینے سے وائٹ ہاؤس تک، ص :
۱۷۳)۔

امر یکی کلیسا کی تنظیم:

 ۱۹۰۸ء میں ’’ہنر ی فواڈ ‘‘اور’’روسنگس ‘‘ نے اس ادارے کو قائم کیا، راکفلر فاؤنڈیشن نے ما لی امداد فراہم کی، ۱۹۴۲ء میں اس ارادے نے ایسی تجاویز پیش کی تھیں، جن میں ایک ایسی عالمی حکومت کے قیام کا خاکہ تھا، جس کی فوجیں تمام ملکوں پر حکمرانی کریں اور یہ عالمی حکو مت ایسا مالیا تی نظام وضع کرے، جو عالمی بنک کے ما تحت ہو،۲۳اگست ۱۹۴۸ء کو اس تنظیم کا نام عالمی کلیسا کر دیا گیا۔ (مغربی میڈیا ص:۹۷)

تعلقات خارجہ کمیٹیC.F.R.:

 ۱۹۰۹ء اور۱۹۱۳ء کے درمیانی عرصے میں ’’ رہو ڈس سیشل ‘‘(یہودی ) کے دوستوں نے اس ادارے کی بنیاد رکھی تھی، اس وقت اس کے مقاصد بہت خفیہ رکھے گئے تھے،۱۹۲۱ء میں ’’روٹشیلڈبنک‘‘ کے نمائندے برائے امریکہ مسٹر’’جی آرمورگن ‘‘نے ’’جان راکفلر‘‘، ’’برنارڈ باروخ ‘‘(متعدد امریکی صدور کے یہودی مشیر خصوصی )’’پال واربرگ ‘‘،’’جیکب شیف ‘‘اور آٹوکہن‘‘ نے اس ادارے کی مالی ۔C.F.R کے بانی ارکان میں کرنل ’’ایڈورڈ مانڈیل ہاؤس ‘‘(امریکی صدر ولسن کے معاون ) ’’وائر لیمپ مین‘‘(امریکی صحافی )’’جان فاسٹرڈلس ‘‘ (امریکی صدر آئزن کے وزیر خارجہ ) ’’ایلن ڈلس ‘‘(سی آئی اے کے ڈائریکٹر)اور’’ کر سچن ہر ٹر ‘‘(امر یکی وزیر خا رجہ )شامل تھے۔c.f.rکی نگرانی میں ’’ فارن افیرز ‘‘نامی رسالہ شائع ہوتا ہے، اس رسالے کے ایک شمارے میں ’’ تحقیقات ‘‘کے تحت ایک مقالہ لکھا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ: ’’جدید عالمی نظام کی طرف ہماری نگاہیں لگی ہو ئی ہیں۔‘‘
 اس تنظیم کی طاقت کا اندازا اس سے لگا یا جا سکتا ہے کہ امریکی وزیر دفاع کے معاون ’’جان میکلولے‘‘ کا کہنا ہے کہ:
’’امریکی حکومت کے دفاتر میں جب بھی ملازمین کی ضرورت ہوتی ہے، تو ہم سب سے پہلے C.F.R. کے کارکنوں کی فہرست دیکھتےہیں اور فوراً نیویارک میں واقع اس کے مرکزی دفتر سے رابطہ قائم کرتے ہیں ‘‘۔
 امریکی نظام حکومت کو چلانے والی تمام اہم شخصیتوں کا تعلق اسی ادارے سے ہوتا ہے، جو یہودی مقاصد کو بہ روئےکارلانےکےلیے سرگرم عمل رہتی ہیں، اس کا اندازہ چند مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے:
(۱) اقوام متحدہ کی تشکیل میں مدد دینے کے لیے، امریکی حکومت نے۴۷افراد پر مشتمل ایک کمیٹی ترتیب دی تھی، اس کمیٹی میں ’’جان فاسٹرڈلّس‘‘ ’’نیلسن راکفلر‘‘ اور ایڈلائی اسٹیونسن‘‘بھی تھے، یہ تمام ۴۷ارکان C.F.R. کے ممبران تھے۔
(۲) امریکی صدر ’’رونا لڈریگن‘‘ کے دفاتر میں کام کرنے والے تین سو تیرہ ذمے دار اسی ادارے کے رکن تھے، یہی صورت  جارج بش کے دفتر میں بھی تھی، جہاں تین سو ستاسی افسران اسی ادارے سے منتخب ہو کر آئے تھے، ۱۹۳۱ ء سے اب تک ۱۸وزرائے مالیات میں سے ۱۲ کا تعلق R. F. C.سےتھا، سولہ وزرائے خارجہ میں سے بارہ، جب کہ ۱۹۴۷ء سے سے اب تک  پندرہ وزرائے دفاع میں سے نو، اسی ادارے سے لیے گئے۔
(۳) ۱۹۵۲ء سے ا ب تک(بجز ۱۹۶۴ء ) دونوں سیا سی پارٹیوں سے جتنے امیدواروں کو صدارتی میدان میں اتارا گیا ہے، ان کا تعلق اسی ادارے سے تھا۔ (۱)مغریبی میڈیا، ص:۵۷تا۹۹اضافہ شدہ ایڈیشن۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: