حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ:01

آپ کا نام طلحہ (ؓ) باپ کا نام عبید اللہ والدہ محترمہ کا نام صعبہ ہے آپ کے والد محترم کی وفات کے متعلق دو روایات ہیں کچھ مورخین کا خیال ہے کہ وہ حضور اکرم کی بعثت سے قبل ہی وفات پا چکے تھے جبکہ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ وہ حضرت  طلحہ ؓ کےاسلام لانے سے قبل ہی اس دنیا سے کوچ کر گئے تھے آپ کی کنیت محمد تھی آپ کےتین لقب تھےجوحضوراکرم نے مختلف مواقع پر آپ کو عنایت فرمائے تھے جنگ احدمیں آپ کی کارگزاری کو دیکھتے ہوئے حضوراکرم نے آپ کو ’’طلحۃ الخیر‘‘ کہہ کرپکارا تھا جبکہ غزوہ ذوالعشیرہ کے موقع پر حضور اکرم نے آپ کو ’’طلحۃ الفیاض‘‘ کے لقب سے یاد کیا۔ جبکہ جنگ خیبر کے دن آپ نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کو’’طلحۃ الجود‘‘ کے لقب سےپکاراتھا۔
جہاں تک آپ کے نسب کا تعلق ہے تو وہ کچھ اس طرح ہے۔ طلحہ بن عبید اللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مدہ بن کعب بن لوی۔ کیونکہ مدہ بن کعب حضور اکرم کے اجداد میں سے ہیں اس وجہ سے حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کا نصب چھٹی ساتویں پشت میں حضور اکرم سے جا ملتا ہے۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓقدکےچھوٹےتھےبدن چھریرا، چہرے کا رنگ سرخ اور سفید جسم گھٹا ہوا، سینہ چوڑا، پائوں گوشت سےبھرپور، غزوہ احد میں ایک ہاتھ کو نقصان پہنچا تھا۔ رنگ گندمی، بال گھنے، چہرہ کتابی اور خوبصورت تھا۔ جب چلتے تو لگتا جیسے تیز چل رہے ہوں۔
آپ کی والدہ محترمہ نےبھی اسلام قبول کیا طویل اور لمبی زندگی پائی کچھ روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ جب مفسدین نے حضرت عثمان غنی ؓ کے گھر کا محاصرہ کر لیا تو اس وقت حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کی والدہ زندہ تھیں۔
حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ بعثت نبوی سے لگ بھگ گیارہ برس اور ہجرت نبی سے تقریباً پچیس سال قبل پیدا ہوئے جہاں تک آپ کے اسلام لانے کا تعلق ہے تو کچھ مورخین لکھتے ہیں کہ آپ کے والد محترم تاجر پیشہ آدمی تھے اس طرح حضرت طلحہ ؓ کو بھی
عین شباب میں تجارت کے سلسلے میں دور دراز کے ممالک کا سفر اختیار کرنے کا اتفاق
ہوا تھا۔
انہی سفروں میں سے آپ کا ایک سفر بصرہ کی طرف بھی تھا بصرہ میں ان دنوں عیسائی راہبوں کی بھرمار ہوا کرتی تھی۔ تجارت کے لیے حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ بصرہ کی طرف گئے تو اس وقت آپ کی عمر سترہ اٹھارہ برس کے لگ بھگ تھی بصرہ میں قیام کے دوران ایک راہب سے ملاقات ہوئی اور اس راہب نے حضور اکرم کی بعثت کی بشارت دی۔
اس راہب کی اس بشارت سے حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کو اتنا تو معلوم ہو گیا کہ مکہ میں ایک نبی مبعوث ہونے والے ہیں جبکہ وہ یہ بھی جان چکے تھے کہ حضور اکرم نے نبوت کا دعویٰ بھی کر دیا ہے لیکن آبائو اجداد کے دین کو ترک کرنا ان دنوں کوئی آسان کام نہ تھا اور پھر مکہ اور گرد و نواح کے لوگوں کے ذہنوں میں بت پرستی جذب ہو چکی تھی چاروں طرف بت پرستانہ ماحول تھا اس بناء پر راہب کی وہ پیشگوئی آپ کے دل پر کوئی زیادہ اثر نہ کر سکی۔
آخر جب تجارت کے سفر سے لوٹے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی دعوت اور تبلیغ کی وجہ سے آپ اسلام کی طرف متوجہ ہوئے۔ بت پرستی کی وجہ سے دل کے اندر جو اس وقت شکوک و شبہات تھے وہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی دعوت اور تبلیغ نے نکال باہر کیے۔ حضور اکرم اور اسلام کی محبت کا جذبہ دل میں ٹھاٹھیں مارنے لگا اور پھر اسی جذبے کے تحت ایک روز حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی معیت میں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ حضور اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئےاور کلمہ توحید پڑھ کر اسلام کے جانثاروں میں شامل ہو گئے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کا آٹھواں نمبر ہے اس لیے ان کو اصحاب السابقون الاولون میں شمار کیا جاتا ہے۔
مورخین یہ بھی لکھتے ہیں کہ جس دور میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ نے اسلام قبول کیا اس وقت کوئلوں کی آگ پر چلنا آسان تھا پر دعوت اسلام کو قبول کرنا انتہائی مشکل اور کٹھن تھا۔ اس لیے جب کوئی شخص حضور اکرم کی دعوت اور تبلیغ کے جواب میں مسلمان ہوتا تو قریش مکہ کی طرف سے اس پر ظلم و ستم اور اذیت و عقوبت کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے اور اسے تنگ کرنے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔
چنانچہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا جب آپ حلقہ بگوش اسلام ہوئے تو سب سے پہلے ان کا حقیقی بھائی عثمان بن عبیداللہ ان کے خلاف حرکت میں آیا یہ عثمان بن عبیداللہ سخت مزاج ظالم اور سخت طبیعت کا مالک تھا اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کو مختلف طریقوں سے اذیتیں دینا شروع کر دیں اور ایک روز تو اس نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو ایک ہی
رسی سے باندھ کر خوب مارا تاکہ وہ اس نئے مذہب کو اس کے تشدد اور اذیت ناکی کی وجہ سے ترک کر دیں لیکن حضور اکرم
کی تبلیغ اور اسلام کی محبت بھی وہ محبت تھی کہ اس محبت کو کسی قسم کا تشدد اور ظلم کی درشتی ختم نہ کر سکتی تھی لہٰذا بے پناہ ظلم و تشدد کے باوجود بھی اسلام سے محبت اور اسلام کے لیے جانثاری کا جذبہ ان کے دل میں گہرا ہوتا چلا گیا تھا۔
حلقہ بگوش اسلام ہونے کے بعد حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ نے مکہ میں بڑی خاموشی اور ایک طرح سے گوشہ گیری کی حالت میں زندگی بسر کرنا شروع کر دی تھی آپ کیونکہ تاجر تھے لہٰذا تجارت کے سلسلے میں اکثر و بیشتر آپ کو مصروف رہنے کے ساتھ ساتھ مکہ سے باہر بھی وقت گزارنا پڑتا تھا اسی ایک تجارتی سفر کے دوران جس وقت آپ ؓ تجارت مکمل کر کے واپس مکہ کا رخ کر رہے تھے تو اس وقت حضوراکرماورحضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے راستے ہی میں حضرت طلحہ ؓ کی حضور اکرم اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ملاقات ہوئی اسی ملاقات ہی کے دوران حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ نے حضور اکرم پر انکشاف کیا کہ مدینہ منورہ کے لوگ بڑی بے چینی سے دونوں حضرات کاانتظارکررہے ہیں چنانچہ انہی کی اطلاع پر حضور اکرم نے نہایت عجلت کے ساتھ مدینہ کی طرف بڑھنا شروع کر دیا تھا یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات کے دوران حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ نے حضور اکرم اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ دونوں کی خدمت میں کچھ  شامی کپڑے بھی پیش کیے تھے۔
اس تجارتی سفر سے لوٹنے کے بعد آپ ؓ مکہ پہنچے بڑی سرعت کے ساتھ اپنے تجارتی کاروبار سے فراغت حاصل کی اور اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور رسول اللہ کی خدمت میں مدینہ پہنچ گئے۔
مسلمانوں اور کفار میں احد کے مقام پر معرکہ کارزار گرم تھا۔ اس جنگ میں بھی کفارکومسلمانوں کے ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ گئے اور مسلمان ان کے تعاقب میں نکلے اور ان کے پیچھے پیچھے ان کے خیموں تک جا پہنچے تھے۔ اس تعاقب کی وجہ سے حضور اکرم کے پاس ان کی حفاظت کی غرض سے صرف چند مجاہد رہ گئے تھے۔
مورخین لکھتے ہیں کہ جس وقت مسلمان فتح حاصل کرنے کے بعد کفار کے تعاقب میں لگ گئے تھے حضور اکرم کی حفاظت کے لیے صرف نو محترم حضرات باقی تھے ان نو میں سے سات کا تعلق انصار سے اور دو مہاجرین میں سےتھے جو مہاجرین میں سے تھے وہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ تھے۔
جنگ کے شروع میں کیونکہ حضور اکرم نے ایک دستہ جبل احد کے ایک دامن میں مقرر کیا تھا۔ دامن میں متعین اس دستے ہی کی اکثریت نے ایک ایسی خوفناک غلطی کی جس نے ان کی فتح کو شکست میں تبدیل کر رکھ دیا اور اسلامی لشکر کو سخت نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ حضور اکرم کو بھی اذیت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا جو ناقابل بیان ہے۔
اس دامن کو چھوڑنے سےمجاہدین کو اس وقت اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ کتنی بڑی خوفناک غلطی کر رہے
تھے اور انہیں اس وقت اس بات کا بھی احساس نہیں تھا کہ دشمن کے لشکر کے اندر خالد
ؓ بن ولید شامل تھے جو
جنگ کا بہترین تجربہ رکھتے تھے چنانچہ انہوں نے خالی دامن کو بھانپ لیا اور اس
دامن کے ذریعے چند دستوں کو لے کر مسلمانوں پر حملہ آور ہو گئے۔
اب کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت تو فتح حاصل کرنے کے بعد کفار کے تعاقب میں تھی دامن کو عبور کر کے اہل قریش حضور اکرم کی طرف بڑھے اس لیے کہ ان کا ہدف تو اب حضور اکرم کی ذات محترم تھی اور آپ کو گھیر لیا گیا۔جب حملہ آور حضور اکرم کے بالکل قریب پہنچ گئے تو آپ نے آواز دی۔’’کون ہے جو ان کو ہم سے دفع کرے اور اس کے لیے جنت ہے۔‘‘
اس آواز کا سننا تھا کہ سات انصاری صحابی ؓ  حضور اکرم کی حفاظت کےلیےکفارپرٹوٹ پڑے اور باری باری آپ کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت کےرتبےسے ہمکنار ہو گئے۔
آخری انصاری صحابی جو حضور اکرم کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے وہ زیادؓتھے اب باقی صرف دو حضرات رہ گئے تھے۔ جو حضور اکرم کی حفاظت کےلیےمامور تھے ایک حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ اور دوسرے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ۔
اس نازک موقع پر جہاں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے تاریخ عالم میں اپنی جانبازی،جانثاری اور اپنی وفاداری کا بہترین ثبوت دیا وہاں حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ نے بھی بے مثال خلوص کا مظاہرہ کیا۔
حضرت طلحہ ؓ بھی ماہر تیر اندازاور شمشیر زن تھے حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کی بہادری اور شجاعت، جرأت مندی اور جاں بازی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں۔
جب مشرکین نے سرکار دو عالم کو جا لیا تو آپ نے فرمایا:’’کون ہے جو ان لوگوں سے نبٹے۔‘‘
اس پر حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ نے چھاتی تان کر کہا۔’’اے اللہ کے رسول میں حاضر ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ آگے بڑھے اور حضور اکرم پر حملہ آور ہونے والے کئی کفار پر حملہ کر کےانہیں موت کے گھاٹ اتار دیا یہاں تک کہ کفار کے کسی فرد کی تلوار آپ ؓ کے ہاتھ پر پڑی جس سے ان کی انگلیاں کٹ گئیں۔ مورخین لکھتے ہیں کہ اس موقع پر ان کے منہ سے سسکی کی آواز نکلی اس آواز کو حضور اکرم نے بھی سنا اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کو مخاطب کر کے فرمایا:
’’اے ابن عبیداللہ اس کے بجائے تم بسم اللہ کہتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے۔‘‘
غزوہ احد میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ نے بے نظیراور بے مثل شجاعت اور جواں مردی اور ہمت مردانہ کا مظاہرہ کیا آپ کی اس شجاعت ہی کودیکھتےہوئےحضوراکرمنے فرمایا:
’’جو شخص کسی شہید کو کرہ ارض پر چلتا ہوا دیکھنا چاہے وہ طلحہ بن عبید اللہ ؓکودیکھ لے۔‘‘
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ،حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کی جنگ احد کے موقع پر شجاعت اور بہادری کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی تھیں۔
’’میرے والد محترم حضرت ابوبکر صدیق ؓ جب جنگ احد کا تذکرہ فرماتے تو کہتے۔’’یہ جنگ کل کی کل طلحہ ؓ عبید اللہ کے لیے تھی۔‘‘
جنگ احد کے دوران جس وقت کفار حضور اکرم پر حملہ آور ہوئے تھے حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ نے اپنا پہلو اور اپنا شانہ حضور اکرم کے لیے وقف کردیااورحضوراکرمکی طرف آنے والے تیروں کواپنےشانےاوراپنےپہلوپرروکتےتھےچنانچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا بیان ہے۔’’ہم نے احد کے دن طلحہ ؓ کے جسم پرستر سے زیادہ زخم دیکھے۔‘‘
جنگ احد میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کی کارگزاری پر فاروق اعظم ؓ حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کو ’’صاحب احد‘‘ کہہ کر مخاطب فرمایا کرتے تھے اور خود حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ کو بھی حضور اکرم کی حفاظت کرنے اور اپنے اس کارنامے پر بڑا ناز تھا اور ہمیشہ لطف و انبساط کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ  فرماتی ہیں: ’’ان کے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرمایا کرتے تھے۔ احد کے روز جس وقت تمام صحابہ کرام دشمن کے تعاقب میں نکلے ہوئے تھے اور اگلی صفوں سے بھی آگے تھے سب سے پہلا شخص میں تھا جو پلٹ کر حضور اکرم کی حفاظت کے لیے آیا تھا میں نے دیکھا آپ کے سامنے ایک آدمی تھا جو آپ کی مدافعت میں اپنی جان سے کھیل رہا تھا میں نے اسے مخاطب کر کے کہا۔
’’تم طلحہ ؓ ہو میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔‘‘
حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ اتنے میں ایک طرف سے حضرت عبیدہ بن جراحؓ بھی بھاگتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت
عبیدہ بن جراح
ؓ اس طرح دوڑ رہے تھے گویا چڑیا دوڑ رہی ہو جب ہم دونوں بھاگتے ہوئے حضور اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ طلحہ بن عبید اللہ ؓ آپ کے سامنے سینہ سپر تھے حضور اکرم نے ہمیں دیکھ کر فرمایا:
’’اپنے بھائی کو سنبھالو اس نے اپنے لیے جنت واجب کر لی ہے۔‘‘ چنانچہ ہم طلحہ ؓ کی طرف متوجہ ہوئے انہیں سنبھالا اس وقت ان کے جسم پر متعدد زخم تھے۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: