عظیم الشان،بلند و بالا عمارتیں:قیامت کی علامتیں، از:مُفتِی نَاصِر الدین مَظاہری:03

مسجد کے پاس دوسری مسجد

اگر کسی جگہ مسجد پہلے سے موجود ہے اور وہ مصلیوں کے لئے  کافی ہے تو اس سے قریب دوسری مسجدتعمیرکرناجائزاوردرست نہیں ہے۔
امداد الفتاویٰ کے حاشیہ میں یہ عبارت مرقوم ہے کہ:
’’اگر دوسری مسجد قریب ہو تو اور مسجد بنانا جائز نہیں ہے اس لئے کہ اس سے پہلی مسجد کی اضاعت لازم آتی ہے، لیکن اگر بن جاوے تو اس کا منہدم کرنا اور بے ادبی کرناجائز نہیں اور ایسی مسجد کی مثال ایسی ہے جیسے مغصوب کاغذپراگرقرآن لکھاجاوےتونہ اس کی بے ادبی درست ہے نہ اس میں تلاوت درست ہے’‘  (حاشیہ امدادالفتاویٰ ۲/۶۶۸)
مفتی ظفیر الدین صاحب مفتاحی مدظلہ تحریر فرماتے ہیں: :
’’ایک محلہ میں متعدد مسجدیں بنانا کسی حال میں ضرر سے خالی نہیں، یہ دوسری بات ہےکہ: محلہ کی آبادی اتنی دور میں پھیلی ہوئی ہو کہ دوسرے کنارے کے لوگ نہ پہنچ سکیں ورنہ پھر احتیاط اسی میں ہے کہ: ایک محلہ میں ایک سےزائدمسجدنہ ہو، یا چند بھی ہوں تو اس طرح کہ نزدیک  نزدیک نہ ہوں، جس سے ایک جماعت میں انتشار پیداہوجائے۔
ایک مسجد کے ہوتے ہوئے اس کی بغل میں دوسری مسجد اس وقت تک نہیں بنائی جا سکتی جب تک کوئی شرعی مجبوری درپیش نہ آئے مثلاً یہ کہ پہلی مسجد تنگ ہو جائے، اس کووسعت دینے کی گنجائش نہ ہو، یا ایک مسجد میں اجتماع سے کسی فتنہ کا اندیشہ ہو،بغیرکسی ایسی شرعی مجبوری کے دو مسجدیں بنا کر انتشار و تشتت پیدا کرنا اس اجتماعی نظام کے سراسر خلاف ہے کہ: اس سے شیرازۂ دینی بکھر جائے گا، عبادات کاعروۃ الوثقیٰ مضمحل ہو جائے گا اور مسجد کی رونق جاتی رہے گی۔ (اسلام کا نظام مساجد ص ۱۵۹)   

مکۃ المکرمۃ میں بلند و بالا عمارتیں

رسول اللہﷺ   کا ارشاد ہےکہ:
اذا رأیت مکۃ قد بعجت کظائم وساوی بناؤھا رؤس الجبال فاعلم ان الامرقداظلک فخذ حذرک ۔
جب تم دیکھو کہ مکۃ المکرمہ کا پیٹ چیر کر نہروں جیسی چیزیں بنا دی گئی ہیں اور مکہ کی عمارتیں پہاڑوں کی چوٹیوں کےبرابر اونچی ہو گئی ہیں تو سمجھ لو کہ معاملہ تمہارےسر پر آ چکا ہے اس لئے سنبھل کر رہو۔(غریب الحدیث ۱/۲۶۹)
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی اس حدیث کی وضاحت میں تحریر فرماتے ہیں: :
  ’’یہ حدیث صدیوں سے حدیث کی کتابوں میں نقل ہوتی آ رہی ہے لیکن اس کوپڑھنےوالےیہ بات پوری طرح نہیں سمجھ سکتے تھے کہ مکہ مکرمہ کے پیٹ چیرنےکاکیا مطلب ہےاور اس کا پیٹ چیر کر نہروں جیسی چیزیں کیسےبنا دی جائیں گی لیکن آج جس شخص کو بھی مکہ مکرمہ کی زیارت کا موقع ملا ہے وہ دیکھسکتا ہے کہ: مکہ مکرمہ میں واقع کتنے پہاڑوں اور چٹانوں کے پیٹ چیر کر زمین دوزراستےاورسرنگیں بنا دی گئی ہیں، آ ج مکہ مکرمہ کے شہر میں ان سرنگوں کا جال بچھا ہوا نظر آتا ہے اوران میں نہروں کی طرح شفاف سڑکوں پر کس طرح ٹریفک رواں دواں ہےاس کے علاوہ مکہ مکرمہ کی عمارتیں نہ صرف پہاڑ کی چوٹیوں کے برابر ہو گئی ہیں بلکہ بعض جگہ ان سےبھی اونچی چلی گئی ہیں ‘‘
عمارتوں پر بے دریغ دولت کے ضیاع اور ان کو منقش و مزین کرنے کے بارے میں آپﷺ
نے اپنی امت کو پوری سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔

پہاڑ کی چوٹیوں کے برابر عمارتیں

طبرانی میں یہ روایت موجود ہے کہ:
سیبلغ البناء سلعاًثم یأ تی علی المدینۃزمان یمر السفر علی بعض اقطارھا فیقول: قد کانت ھذہ مرۃ عامرۃ من طول الزمان وعفوالاثر۔ (الاشاعۃ، طبرانی )

پر شکوہ مساجد ویران قلوب

حضرت علی ؓ نے رسول اللہﷺ  کا یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے :
یوشک ان یاتی علی الناس زمان لا یبقی من الاسلام الا اسمہ ولا یبقی من القرآ ن الا رسمہ مساجد ھم عامرۃ وھی خراب من الھدی علما ؤ ھم شر من تحت ادیم السماء من عندہم تخرج الفتنۃ وفیھم تعود۔
(قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ: ) اہل مسجد ایک دوسرے کو ڈھکیلیں گےاور وہ امام نہیں پائیں گے جو ان کو نماز پڑھاوے مختلف جگہوں پر اور مختلف مساجد میں آج نمازپڑھانے کے لئے  امام میسر نہیں حتی کہ فرداً فرداً لوگ نماز پڑھ کر چلے جاتے ہیں۔ بیہقی ومشکوۃ)

بلند و بالا محل

حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کی ایک طویل روایت میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں :
وحتی تبنی الغرف ای القصورفتطاول
یہاں تک کہ بالا خانے بنائیں جائیں گے یعنی بلند و بالا محل تعمیر کئے جائیں گے۔ (الاشاعۃ لاشراط الساعۃ۱۵۱، ابن ابی الدنیا، طبرانی)

قرآن، مسجد اور اولاد کی شکایت

یجییُٔ یوم القیامۃ المصحف والمسجد والعترۃ فیقول المصحف یارب خرقونی ومزقونی ویقول المسجد یارب خربونی وعطلونی وضیعونی، وتقول العترۃ یارب طردونا وقتلونا وشردوناوأ جثوبرکبتی  للخصومۃ۔فیقول اللّٰہ تبارک وتعالیٰ، ذلک الیَّ وانا اولیٰ بذلک۔  (الاشاعۃ۱۵۵، دیلمی عن جابر، احمد والطبرانی عن ابی امامۃ)

آبادی کا پھیلا ؤ

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ: آپﷺ  نے فرمایاکہ:
لاتقوم الساعۃ حتی یبلغ البناء اہاب اویہاب۔
قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی  جب تک کہ اھاب یا  یھاب تک عمارتیں (آبادی)  نہ پہنچ جائے۔  (مسلم حدیث ۷۲۱۹، ۔الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ۲۹۵)
صاحب اشراط الساعۃ لکھتے ہیں کہ
اھاب یایھاب یہ حرۃ العربیۃ
کے قریب ایک بستی ہے اور یہاں تک آبادی پہنچنے والی ہے۔

بیکار مال

حضرت علی ؓ کی ایک اور روایت ہے کہ: رسول اللہﷺ   نے فرمایا:
اذا لم یبارک للعبد فی مالہ جعلہ فی الماء والطین۔ ( بیہقی، مشکوٰۃ۱۴۴)
جب انسان کے لئے  اس کے مال میں برکت نہیں دی جاتی ہے تو وہ اسے اینٹ گارے میں لگا دیتا ہے۔
حضرت خبابؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے ارشاد فر ما یا:
یؤجرالرجل فینفقتہ الا التراب۔
انسان جو کچھ خرچ کرتا ہے اس پر اجر ملتا ہے سوائے اس پیسے کے جو اس نے مٹی
(مکان ) میں خرچ کیا
 (ترمذی و ابن ماجہ )
اسی طرح کی ایک روایت حضرت حارثہ بن مضرب ؓ کی ہے جس کو ترمذی نے نقل فرمایاہے کہ:
یؤجرالرجل فینفقتہ الا التراب
آدمی کو مٹی میں خرچ کرنے کے سوا اور سب جگہ خرچ کرنے میں ثواب دیا جائے گا۔(ترمذی ۲/۷۱)
چنانچہ حضرت ابراہیم سے روایت ہے کہ: آپﷺ  نے فرمایا:
کل بناء وبال علیک قلت أرایت مالابدمنہ قال لا اجرولاوزر۔
ہر عمارت تجھ پر وبال ہے، پوچھا گیا اور جس کے بغیر چارہ نہ ہو ؟ جواب دیااس کا بناناباعث ثواب ہے نہ موجب گناہ۔ (ترمذی ۲/۷۵)
باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:
رجال لا تلہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللّٰہ۔
ایسے لوگ کہ جنہیں نہ تجارت غفلت میں ڈالتی ہے نہ (خریدو) فروخت اللہ تعالیٰ کی یادسے۔  (پ۱۴)
ترمذی شریف میں ایک روایت ہے کہ:
ان لکل امۃ فتنۃ وفتنۃ امتی المال
ہر امت کے لئے  ایک امتحان و فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کے لئے  آزمائش مال ہے۔ (ترمذی ص ۵۶ج۲)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ: آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ:
النفقۃ کلہا فی سبیل اللّٰہ الا البناء فلا خیر فیہ۔
خرچو اخراجات سب اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شمار ہوتے ہیں سوائے مکان و عمارت کےکہ اس میں کوئی خیر و بھلائی نہیں ہے۔ (ترمذی شریف ص۲/۷۵)

دنیا میں مسافر کی طرح رہو

  ہمارے اسلاف نے صرف اسی قدر تعمیرکو ضروری سمجھا جس میں ضرورت کے مطابق آرام کے ساتھ سر چھپانے کی گنجائش ہو چونکہ یہ دنیا ایک سرائے اور مسافر خانہ ہے جہاں سے کو چ کرنے کے لئے  ہر مسافر کو ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے۔
 کن فی الدنیا کأنک غریب أوعابر سبیل۔
تم دنیا میں پردیسی یا راہ گذر کی طرح زندگی گزارو۔ (ترمذی ۲/۵۷)
حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ کی روایت ہے کہ:
مالی والدنیا وانما مثلی ومثل الدنیاکمثل راکب صارفی یوم صائف فرفعت لہ شجرۃ فقال تحت ظلھا ساعۃ ثم راح وترکھا۔
مجھ کو دنیا سے کیا کام اور میری اور دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی سوارگرمی کےدن میں چلے اور اس کو کوئی پیڑ مل جائے اور اس کے سایہ کے نیچے ایک ساعت
سو رہے پھر چل دے اور اسے چھوڑ دے۔
(ترمذی، ابن ماجہ، حاکم)
اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت امام غزالی ؒ فرماتے ہیں:
’’جو کوئی دنیا کو اس نظر سے دیکھے کبھی اس کی رغبت نہ کرے اور نہ پرواہ کرےکہ دن کس طرح گزرتے ہیں تنگی میں یا فراخی میں رنج میں یا راحت میں اور اینٹ پراینٹ بھی نہ رکھے۔
آنحضرتﷺ  کو دنیا کی کیفیت خوب معلوم تھی اس لئے زندگی بھر نہ مکان اینٹ کا بنایا نہ لکڑی کا بلکہ بعض صحابہ کو لکڑی کا مکان دیکھ کر فرمایا ارے !الامر اعجل من ھذا (میں دیکھتا ہوں اس امر کو اس سے جلد تر(ابوداؤد و ترمذی) اور مکان کا بنوانا برا معلوم ہوا’‘ ۔
حضرت سعید بن مسیبؒ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا:
عن سعید بن المسیب قال:قیل یارسول اللہ لو بنیتہ یعنی المسجد؟قال؟لا، بل جرائدعلیٰ اعواد، الشأن اعجل من ذٰ لک۔
صحابۂ  کرام نے آپ ﷺسے پوچھا کہ کیا آپ کے لئے  ایک عمارت یعنی مسجد بنا دی جائے؟فرمایا:نہیں، بلکہ چٹائیوں اور بانس کی بناؤ!اور موت اس سے بھی قریب ہے۔(کتاب الزہد والرقاق ۵۵، جزء الرابع)

دنیا ایک پُل ہے 

حضرت عیسیٰ ؑ فرماتے ہیں:
’’دنیا ایک پل ہے اس پر گزر جاؤ اور عمارت نہ بنا ؤ ‘‘   (احیاء العلوم اردو۔۳/۳۱۶)
حضرت عیسیٰ ؑ کے اس ارشاد گرامی کی وضاحت کرتے ہوئے امام غزالی ؒ فرماتے
ہیں:
’’اور پل پر عمارت بنانی اور اقسام زینت سے آراستہ کرنا اور پھر چھوڑ کر چلے
جانا نہایت جہل اور ذلت ہے ‘‘(احیاء العلوم اردو۔
۳/۳۱۶)

فخریہ مساجد

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ:
ان من أشراط الساعۃ ان یتباہی الناس فی المساجد۔ (ابوداؤد، نسائی،دارمی، ابن ماجہ، مشکوۃ ۶۹)
قیامت کی علامتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ: لوگ باہم مسجد بنانے میں فخر کریںگے۔
حضرت انس ؓ سے ایک اور روایت منقول ہے کہ:
یتباہون بہا ثم لا یعمرونہا الاقلیلا   (بخاری)
وہ باہم ان عمارتوں کے ذریعہ ایک دوسرے پر فخر کرتے ہیں پھر ان کو بہت کم دن
آباد رکھ پاتے ہیں۔
حضرت انس ؓ کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ:
لاتقوم الساعۃ حتیٰ یتباہی الناس فی المساجد(ابن ماجہ)
ای یتفاخر کل واحد بمسجدی ارفع وازین واحسن واوسع۔ (عبارت بین السطور ابن ماجہ ۵۴)

ہر عمارت اپنے مالک کے لئے  وبال

ابو داؤد شریف میں حضرت انس ؓ کی ایک طویل روایت ہے کہ:
’’ ایک روز رسول اللہﷺ   نے ایک انصاری صحابی کے اونچے مکان کو دیکھ کر دریافت
فرمایا یہ کیا ہے؟ عرض کیا گیا کہ فلاں انصاری کی عمارت ہے۔ آپ نے توقف فرمایا،پھرایک روز وہ انصاری صحابی حاضر خدمت ہوئے اور سلام عرض کیا آپ نےاعراض فرمایا  انہوں نے پھر سلام کیا آ پ نے پھر بھی اعراض کیاتو انہوں نےدیگرساتھیوں سے معلوم کیا کہ آپ ﷺ کیوں خفا ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ آپﷺنےتمہارامکان دیکھ لیا ہے، وہ صحابی اپنے گھر پہنچے اور مکان کو گرا دیا۔۔۔۔ایک دن پھر آپﷺ  کا گزراس طر ف ہوا تو وہ مکان نہ دیکھ کر فرمایا کہ وہ مکان کیا ہوا عرض کیا گیا کہ مالک مکان نے آپ کے اعراض و بے توجہی کے باعث اس مکان کو گرا دیاتوآپ نے فرمایا: سن لو! ہر عمارت اپنے مالک کے لئے وبال بنے گی سوائے اس کےجوضروری اور لازمی ہو۔’‘
حضرت مولانا احسن نانوتوی ؒ نے احیاء العلوم (اردو)کے حاشیہ میں یہ روایت تحریرفرمائی ہے کہ:
’’عمارت بناؤ واسطے ویران ہونے کے اور بچے جنو واسطے فنا ہونے ‘‘ (احیاء ۳/۳۹۳)
ظاہر ہے یہاں جو بھی تعمیرات کی جائیں گی وہ یہیں رہ جائیں گی، ہمارے ساتھ نہ تو ہماری دولت جائے گی اور نہ ہی یہ بلند بالا عمارات اور محلات جائیں گے، ہاں !اگر کوئی چیزساتھ جائے گی تو وہ ہمارے اعمال ہیں۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: