سیرتِ امام ابو حنیفہؒ از علّامہ شِبلی نُعمانیؒ-5

فقہ حنفی کا اصولِ عقلی کے موافق اسرار اور مصالح

سب سے مقدم اور قابلِ قدر خصوصیت جو فقہ حنفی کو حاصل ہے وہ مسائل کا اسراراور مصالح پر مبنی ہونا ہے۔ تمام مہماتِ  مسائل کی مصلحت اور غایت خود کلامِالہی میں مذکور ہے۔
کفار کے مقابلہ میں قرآن کا طرزِ استدلال عموماً اسی
اصول کے مطابق ہے نماز کی مصلحت خدا نے خود بتائی کہ۔ ’’تنہی عن الفحشاءوالمنکر‘‘ روزہ کی فرضیت کے ساتھ ارشاد ہوا ’’لعلکم تتقون‘‘جہاد کی نسبت فرمایا ’’حتی لاتکون فتنۃ ‘‘اسی طرح اور احکام کےمتعلق قرآن اور حدیث میں جا بجا تصریحیں اور اشارے موجود ہیں کہ ان کی غرض و غایت کیا ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کا یہی مذہب تھا اور یہ اصول ان کے مسائلِ فقہ میں عموماً مرعیہے۔ اسی کا اثر ہے کہ حنفی فقہ جس قدراصولِ عقلی کے مطابق ہے اور کوئی فقہ نہیں۔ امام طحاویؒ نے جو محدث اور مجتہد دونوں تھے اس بحث میں ایک کتاب لکھی ہےجو’’شرح معانی الآثار‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اور جس کاموضوع یہ ہے کہ مسائلِ فقہ کو نصوص و طریقِ نظر سے مشابہ کیا جائے۔
مثلاًایک مسئلہ جس میں امام ابو حنیفہؒ اور دوسرے ائمہ مختلف ہیں یہ ہے کہ چارپاؤں والے جانور کی زکوٰۃ ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ امام ابو حنیفہؒ کےنزدیک زکوٰۃ میں جانور یا اس کی قیمت ادا کی جا سکتی ہے۔
امام شافعیؒ کے نزدیک قیمت ادا کرنے سے زکوٰۃ ہو ہی نہیں سکتی، حالانکہ زکوٰۃ کی غرض حاصل ہونے میں جانور اور اس کی قیمت دونوں برابر ہیں اس لئے شارع نے بھی کوئی تخصیص نہیں فرمائی۔ اور سینکڑوں مسائل ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حنفی مسائل میں ہر جگہ مصالح اور اسرار کی خصوصیت ملحوظ ہے لیکن ہم طوالت کے لحاظ سے ان سب کی تفصیل نہیں کرسکتےمعاملات کے مسائل میں یہ عقدہ زیادہ حل ہوجاتا ہے اور صاف نظر آتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا مذہب کس قدرمصالح اور اسرار کے موافق ہے۔

آسان اور سہل ہونا

دوسری خصوصیت فقہ حنفی کا آسان اور سہل ہونا ہے حنفی فقہ تمام اور فقہوں بالمقابل عمل کیلئےزیادہ آسان ہے۔ قرآن مجید میں متعدد جگہ آیا ہے کہ خدا تم لوگوں کے ساتھ آسانی چاہتا ہے ‘‘ سختی نہیں چاہتا ‘‘ رسول اﷲﷺ کا قول ہے کہ۔ ۔
’’میں نرماور آسان شریعت لے کر آیا ہوں۔ ‘‘ بلا شبہ اسلام کو تمام اور مذہبوں کےمقابلے میں یہ فخر حاصل ہے کہ وہ رہبانیت سے نہایت بعید ہے اس میںعباداتِ شاقہ نہیں ہیں اس کے مسائل آسان اور یسیر التعمیل ہیں۔ حنفی فقہ کوبھی اور فقہوں پریہی ترجیح حاصل ہے۔مثلاً سرقہ یعنی چوری کا مسئلہ جسمیں اس قدر تو سب کے نزدیک مسلم ہے کہ سرقہ کی سزا قطعِ ید یعنی ہاتھ کاٹنا
ہے۔ لیکن مجتہدین نے سرقہ کی تعریف میں چند شرطیں اور قیدیں لگائی ہیں جنکے بغیر قطعِ ید کی سزا نہیں ہو سکتی ان شروط کے لحاظ سے احکام پر جو اثرپڑتا ہے وہ ذیل کے جزئیات سے معلوم ہو گا جس سے یہ بھی معلوم ہو گا کہ امامابو حنیفہؒ کا مذہب کس قدر آسان اور تمدن و شائستگی کے کس قدر موافق ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے مسائلاوردیگر ائمہ کے مسائل

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک نصابِ سرقہ کم از کم ایک اشرفی ہے۔اور ائمہ کے نزدیک ایک اشرفی کا ربع۔امام ابو حنیفہؒ کےنزدیک اگر ایک نصاب میں متعدد چوروں کا ساجھا ہےتو کسی کاہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
امام احمدؒ کے نزدیک ہر ایک کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیکنادان بچہ پر قطعِ ید نہیں۔  
امام مالکؒ کے نزدیک ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک کفن چور پر قطع ید نہیں۔
اور ائمہ کے نزدیک ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک زوجین میں سے اگر ایک دوسرے کا مال چرائے تو قطعِ ید نہیں۔  
امام مالکؒ کے نزدیک ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک بیٹا باپ کا مال چرائے تو قطع ید نہیں۔
امام مالکؒ کے نزدیک ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک قرابتِ قریبہ والے مثلاً چچابھائی وغیرہ پر قطعِ ید نہیں۔
اور ائمہ کے نزدیک ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ایک شخص کسی سے کوئی چیز مستعار لے کر انکار کر گیا تو قطعِ ید نہیں۔
اور ائمہ کے نزدیک ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ایک شخص نے ایک چیز چرائی پھر بذریعہ ہبہ یا بیع اس کا مالک ہو گیا تو قطعِ ید نہیں۔
اور ائمہ کے نزدیک ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک غیر مذہب والے جو مستامن ہو کر اسلام کی عملداری میں رہتے ہیں ان پر قطعِ ید نہیں۔  
اور ائمہ کے نزدیک ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک قرآن مجید کے سرقہ پر قطعِ ید نہیں۔  
امام شافعیؒ و مالکؒ کے نزدیک ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک لکڑی یا جو چیزیں جلد خراب ہو جاتی ہیں سرقہ سے قطعِ ید لازم نہیں آتا۔
اور ائمہ کے نزدیک لازم آتا ہے۔
ان تمام مسائل میں امام ابو حنیفہؒ کا مذہب دوسرے ائمہ سے مخالف ہے جس سے صافظاہر ہوتا ہے کہ حنفی فقہ دوسرے فقہوں کی طرح تنگ اور سخت گیر نہیں ہے۔
تیسری خصوصی تفقہ حنفی میں معاملات کے متعلق جو قاعدے ہیں نہایت وسیع تمدن کے موافق ہیں۔
فقہ کا بہت بڑا حصہ جس سے دنیوی ضرورتیں متعلق ہیں معاملات کا حصہ ہے۔ اور یہیوہ موقع ہے جہاں ہرمجتہد کی دقتِ نظر اور نکتہ شناسی کا پورا اندازہہو سکتا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے زمانے تک معاملات کے احکام ایسے ابتدائیحالت میں تھے کہ متمدن اور تہذیب یافتہممالک کے لئے بالکل ناکافی تھے۔ نہ معاہدات کے استحکام کے قاعدے منضبط تھے نہ دستاویزات وغیرہ کی تحریر کااصول قائم ہوا تھا۔ نہ فصل و قضا، یا ادائے شہادت کا کوئی باقاعدہ طریقہ تھا۔امام ابو حنیفہؒ پہلے شخص ہیں جو ان چیزوں کوقانون کی صورت میںلائے۔ لیکن افسوس ہے کہ مجتہدین جو ان کے بعد ہوئے انہوں نے بجائے اس کے کہاس کو اوروسعت
دیتے اسی غیر تمدنی حالت کو قائم رکھنا چاہا جس کا منشاء
وہ زاہدانہ خیالات تھے جو علمائے مذہب کے دماغوں میں جاگزیں تھے۔
امامابو حنیفہؒ نے جس دقتِ نظر اور نکتہ شناسی کے ساتھ احکام منضبط کئے اس کاصحیح اندازہ تو اس وقت ہو سکتا ہے کہ معاملات کے چند ابواب کا ایک مفصل تبصرہ لکھا جائے۔ لیکن ایسی مفصل کتاب کے لئے نہ وقت مساعد ہے اور نہ ہیاس مختصر کتاب میں اس کی گنجائش ہے۔ تاہم مالایدرک کلہ لا یترک کلہ۔ اسلئے نمونہ کے طور پر ہم صرف نکاح کا ذکر کرتے ہیں جو عبادات اور معاملاتدونوں کا جامع ہے۔
قرآن مجید میں محرّمات کے نام تصریحاً مذکور ہیں۔ اس لئے اصل مسئلہ میں اختلاف پیدا ہو گیا انہیں مسائل میں حرمت یازناکامسئلہ ہے جو امام ابو حنیفہؒ اور امام شافعیؒ کے اختلاف کا ایک معرکۃالآراء مسئلہ ہے۔ امام شافعیؒ کا مذہب ہے کہ زناسےحرمت کے احکام نہیںپیدا ہوتے۔ مثلا باپ نے کسی عورت سے زنا کیا تو بیٹے کا نکاح اس عورت سےنا جائز نہیں۔
امام شافعیؒ نے اس کو یہاں تک وسعت دی کہ ایک شخص نےاگر کسی عورت کے ساتھ زنا کیا اور اس سے لڑکی پیدا ہوئی تو خود وہ شخص اسلڑکی سے نکاح کر سکتا ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ زنا ایک حرام فعل ہے اس لئے وہحلال کوحرام یا حرام کو حلال نہیں کر سکتا۔ امام ابو حنیفہؒ اس کے بالکلمخالف ہیں ان کے نزدیک مقاربت کے ذریعہ سے مرد اور عورت کے تعلقات پرجوفطری اثر پڑتا ہے وہ نکاح پر محدود نہیں ہے۔ اور یہ بالکل صحیح ہے محرماتکی حرمت جس اصول پر مبنی ہے۔ اس کو نکاح کے ساتھ خصوصیت نہیں۔ اپنے نطفہسے جو اولاد ہو، گو زنا ہی سے ہو، اس کے ساتھ نکاح و مقاربت کو جائز رکھنابالکل اصولِ فطرت کے خلاف ہے۔ باپ کی موطوءہ  کا بھی یہی حال ہے وعلی ہذا القیاس۔
دوسری بحث یہ ہے کہ معاملۂ نکاح کا مختار کون ہے؟ یہ ایکنہایت مہتم بالشان سوال ہے اور نکاح کے اثر کی خوبی اور برائی بہت کچھ اسیپر منحصر ہے۔ امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک عورت گو عاقلہبالغہ ہو نکاح کے بارے میں خود مختار نہیں ہے۔ یعنی کسی حال میں وہ اپنانکاح آپ سے نہیں کر سکتی بلکہ ولی کی محتاج ہے۔ ان بزرگوں نے ایک طرف تو عورتکو اس قدرمجبور کیا دوسری طرف ولی کو ایسے اختیارات دیئے ہیں کہ وہزبردستی جس شخص کے ساتھ چاہے باندھ دے۔ عورت کسی حال میں انکار نہیں کر سکتی۔امام ابو حنیفہؒ کےنزدیک بالغہ عورت اپنے نکاح کی آپ مختار ہے بلکہاگر نابالغی کی حالت میں ولی نےنکاح کر دیا ہو تو بالغ ہو کر وہ نکاح فسخکر سکتی ہے اس بحث میں امام شافعیؒ کا مدار محض نقلی دلیلوں پر ہے۔ لیکن اسمیدان میں بھی امام ابو حنیفہؒ ان سے پیچھے نہیں۔ اگر امام شافعیؒ کولانکاح الا بولی پر
استدلال ہے تو امام صاحب کی طرف الثیب احق بنفسہا من
ولیہا والبکر
تستاذن فی نفسہا موجود ہے لیکن اس بحث کا یہ موقع نہیں۔

ذمیوں کے حقوق

چوتھی خصوصیت جو حنفی فقہ کو حاصل ہے وہ یہ ہے کہ اس نے ذمیوں یعنی ان لوگوں کوجو مسلمان نہیں ہیں لیکن مسلمانوں کی حکومت میں مطیعانہ رہتے ہیں نہایتفیاضی اور آزادی سے حقوق بخشے۔ امام ابو حنیفہؒ نے ذمیوں کو جو حقوق دیئےہیں دنیا میں کسی
حکومت نے کبھی کسی غیر قوم کو نہیں دیئے۔ یورپ جس کو اپنے
قانونِ انصاف پر بڑا ناز ہے بے شک زبانی دعویٰ کرسکتاہےلیکن عملی مثالیںنہیں پیش کر سکتا۔ حالانکہ امام ابو حنیفہؒ کے یہ احکام اسلامی گورنمنٹوںمیں عموماً نافذ تھے۔ اورخاص کرہارون الرشید کی وسیع حکومت انہی احکامپر قائم تھی۔سب سے بڑا مسئلہ قتل و قصاص کا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ  کےنزدیک ذمیوں کا خون مسلمانوں کے خون کے برابر ہے۔ یعنی اگر مسلمان ذمی کوعمداً قتل کر ڈالے تو مسلمان بھی اس کےبدلے قتل کیا جائے گا اور اگر غلطیسے قتل کر دے تو جو خون بہا مسلمان کے قتل بالخطا سے لازم آتا ہے وہی ذمی کے قتل سےبھی لازم آئے گا۔
امام ابو حنیفہؒ نے ذمیوں کے لئے اور جوقواعد مقرر کئے وہ نہایت فیاضانہ قواعد ہیں۔ وہ تجارت میں مسلمانوں کی طرح آزاد ہیں ہر قسم کی تجارت کر سکتے ہیں اور ان سے اسی شرح سے ٹیکس لیا جائےگا جس طرح مسلمانوں سے لیا جاتا ہے۔ جزیہ جو ان کی محافظت کا ٹیکس ہے اسکی شرح، حسبِ حیثیت قائم کی جائے گی۔ مفلس شخص جزیہ سے بالکل معاف ہے اگرکوئی شخص جزیہ کا باقی دار ہو کر مر جائے تو جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ ذمیوں کےمعاملات انہی کی شریعت کے موافق فیصل کئے جائیں گے۔ یہاں تک کہ مثلاً اگرکسی مجوسی نے اپنی بیٹی سے نکاح کیا تو اسلامی گورنمنٹ اس نکاح کو اس کیشریعت کے موافق صحیح تسلیم  کرے گی۔ ذمیوں کی شہادت ان کے باہمی مقدمات میںقبول ہو گی۔
اب اس کے مقابلے اور ائمہ کے مسائل دیکھو۔ امام شافعیؒ کےنزدیک کسی مسلمان کو، گو بے جرم اور عمداً کسی ذمی کو قتل کیا ہوتا ہم وہقصاص سے بری رہے گا۔ صرف دیت دینی ہو گی۔ یعنی مالی معاوضہ ادا کرناہو گا۔ وہ بھی مسلمان کی دیت کی ایک ثلث اور امام مالکؒ کے نزدیک نصف۔ تجارتمیں یہ سختی ہے کہ ذمی اگر تجارت کا مال ایک شہرسےدوسرےشہرکولےجائےتوسال میں جتنی بار لے جائے ہر بار اس سے نیا ٹیکس لیا جائے گا۔ جزیہ کےمتعلق امام شافعیؒ کامذہب ہے کہ کسی حال میں ایک اشرفی سے کم نہیں ہو سکتااور بوڑھے، اندھے، اپاہج، مفلس، تارک الدنیا تک اس سے معاف نہیںہو سکتا۔ بلکہ امام
شافعیؒ سے ایک روایت ہے کہ جو شخص مفلس ہونے کی وجہ سے
جزیہ نہیں ادا کر سکتاوہ اسلام کی عملداری میں نہ رہنے پائے۔
خراججو ان پر حضرت عمرؓ کے زمانے میں مقرر کیا گیا تھا اس پر اضافہ ہو سکتا ہےمگر کمی نہیں ہو سکتی۔
ذمیوں کی شہادت گو فریقین مقدمہ ذمی ہوں کسی حالمیں مقبول نہیں اس مسئلہ میں امام مالکؒ و امام شافعیؒ دونوں متفق  الرائےہیں۔ ذمی اگر کسی مسلمان کو قصداً قتل کر ڈالے یا کسی مسلمان عورت کے ساتھزنا کا مرتکب ہو تواسی وقت اس کے تمام حقوق باطل ہو جائیں گے اور وہ کافرحربی سمجھا جائے گا۔
یہ تمام احکام ایسے سخت ہیں کہ جن کا تحمل ایکضعیف سے ضعیف محکوم قوم بھی نہیں کر سکتی۔ اور یہی وجہ ہے کہ امام شافعیؒ وغیرہ کا مذہب سلطنت کے ساتھ نہ نبھ سکا۔ مصر میں بے شبہ ایک مدت تکگورنمنٹ کا مذہب شافعیؒ تھا لیکن اس کا یہ نتیجہ تھا کہ عیسائی اور یہودیقومیں اکثر بغاوت کرتی رہیں۔

فقہی مسلک

خطیبؒ نے حمزہ سکری سےروایت کی ہے کہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ جب کسی مسئلے میں رسولِ پاک ﷺ کی حدیث ہو تو میں اسے چھوڑ کر کسی طرف نہیں جاتابلکہ اسی کو اختیارکرتا ہوں۔ اگر صحابہؓ کےآثارہوں اور مختلف ہوں توانتخاب کرتا ہوں اور اگر تابعین کی بات ہو تو ان کی مزاحمت کرتا ہوں۔ یعنیان کی طرح میں بھی اجتہاد کرتا ہوں۔
خطیبؒ نے ابوغسان سے روایت کیانہوں نے اسرائیل سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ نعمان بہترین آدمی ہیں۔ جس
حدیث میں کوئی فقہی حکم ہوتا ہے اس کے وہ حافظ تھے اور اس کے اندر ان کاغور و فکر اچھوتا تھا۔ اسی وجہ سےخلفاءوزراء اور امراء نے آپ کا اکرام کیا۔ جب کوئی آدمی ان سے کسی فقہی مسئلہ پر مباحثہ کرتا تو اسے اپنی ہی
جان
چھڑانی مشکل ہو جاتی تھی۔
ابوعبداﷲ محمد بن سفیان غنجار اپنی تاریخ میں نعیم بن عمر سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہؒ کوکہتے ہوئےسنا کہ لوگ بڑے عجیب ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں اپنی رائے سے فتویٰ دیتا ہوں حالانکہ میں آثار کے مطابق فتویٰ دیتا ہوں۔
ابوالمظفر سمعانی نےاپنی کتاب ’’ الانتصا ر‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں اور ابواسماعیل ہروس نے ’’ ذمالعظام ‘‘ میں نوح الجامع سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ سےعرض کیا کہ لوگوں نے اعراض اور اجسام جیسی نئی باتوں میں کلام
شروع کر رکھا
ہے آپ اس میں کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا یہ فلسفیوں کی باتیں ہیں۔ تم آثاراور طریقِ سلف کو اپنے لئے لازم کر لو اور ہر نئی چیز سے بچو کہ وہ بدعت ہے۔
ہروی نے امام محمد بن حسن شیبانیؒ سے نقل کیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے بد دعا دی کہ اﷲ کی لعنت ہو عمرو بن عبید پر (یہ اپنے زمانہ میں معتزلہ کا رئیس تھا) اس نے لوگوں کے لئے ایسے کلام کا راستہ کھول دیا جس میں انکا کوئی فائدہ نہیں۔
ابو عبداﷲ صیمریؒ سے اسماعیل بن حماد نے روایتکی کہ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا جس پر ہم ہیں وہ ایک رائے ہے کسی کو اس پر مجبور نہیں کرتے اور نہ یہ کہتے ہیں کہ اس کا قبول کرنا کسی پر واجب ہے۔ اگر کسی کے پاس اس سے بہتر رائےہوتواسےبیان کرنا چاہیے۔ ہم قبول کریں گے۔
خوارزمی نے حسن بن زیادؒ سے روایت کی ہے کہ امام صاحبؒ نےفرمایا کہ ’’کسی انسان کے لئے جائز نہیں کہ کتاب اﷲ اورسنتِ رسول اﷲﷺ اوراجماع صحابہؓ کے ہوتے ہوئے اپنی رائے سے کچھ کہے۔
جس باب میں صحابہؓ کا اختلاف ہو اس میں امام صاحبؒ ان کا قول لیتے ہیں جن کا قول قرآن اور سنت سے زیادہ قریب ہواور کوشش کرتے ہیں کہ اقرب کو حاصل کر لیں اور جب بات ان تینوں سے آگے چلی جاتی ہے تب اپنی رائے سےاجتہاد کرتے ہیں۔ اور انلوگوں کو پوری اجازت دیتے ہیں جو اختلاف اور قیاس کو جانتے ہیں کہ وہ اپنیرائے کا اظہار کریں۔
شعبیؒ نے مسروقؒ سے نقل کیا کہ جس نے کسی گناہکی نذر مانی اس پر کوئی کفارہ نہیں۔ امام ابو حنیفہؒ نے شعبیؓ سے عرض کیا
اﷲ تعالی نے ظہار میں کفارہ مقرر فرمایا اور معصیت قرار دیا چنانچہ ارشادہے ’’انہم یقولون منکراً من القول وزورا۔  ‘‘(المجادلۃ) شعبیؒ نے فرمایا ’’ أقیاس أنت؟‘‘
خوارزمی نے عبداﷲ بن مبارکؓ سے روایت کی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے کتاب و سنت سے دلیل کے بغیر کسی مسئلے میں لب کشائی نہیں کی۔
امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ قیاس میں سارے لوگ امام ابو حنیفہؒ کے محتاج ہیں۔
صیمرین ے حسن بن صالح سے روایت کی کہ امام ابو حنیفہؒ ناسخ اور منسوخ احادیث کیتلاش بہت زیادہ کرتے تھے تاکہ جب نبی کریم ﷺ سے اس کا ثبوت ہو جائے تو اس پرعملکریں۔ اہل کوفہ احادیث کے حافظ اور ان کے پکے متبع تھے۔ نیز کوفہمیں جو حدیثیں پہنچی تھیں ان میں رسول اللہﷺ کے آخری عمل کے بھی متبع تھے۔
حافظ معمر بن راشد سے روایت کی کہ ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر کسی شخص کو میںنہیں جانتا جو فقہ میں گفتگو کر سکے۔ اور اسے قیاس کرنے کا حق ہو۔ اورسمجھداری سے مسائل کا اخراج کر سکتا ہو اسی طرح ان سے زیادہ خوفِ خدا رکھنےوالا بھی نہیں  دیکھا۔ وہ خدا کے دین میں کوئی شک کی بات داخل کرنے سے اپنےلئے بڑا خوف محسوس کرتے تھے۔
زبیر بن معاویہ کہتے ہیں کہ میں امامابو حنیفہؒ کے پاس تھا اور ابیض بن الاغر کسی مسئلے میں ان کے ساتھ بحث
کر رہے تھے۔ اور آپس میں ایک دوسرے کے خلاف دلیلیں پیش کر رہے تھے۔ اچانکایک آدمی مسجد کے کنارے سے چیخا، غالباً وہ مدنی تھے۔ امام صاحب کی طرفاشارہ کر کے کہنے لگا ’’یہ قیّاس ہے اسے چھوڑ دو، کیونکہ سب سے پہلے جس نےقیاس کیا وہ ابلیس تھا۔ ‘‘ اس پر امام صاحبؒ اس کی طرف متوجہ ہوئے اورفرمایا ’’میاں! تم نے اپنی بات بے موقع کہی، ابلیس نے تو اﷲ کے حکم سےسرتابی کی تھی جب کہ ہم اپنے قیاس سے امرِ خداوندی کی اتباع تلاش کر رہےہیں اورہم اﷲ کی اتباع کے ارد گرد گھوم رہے ہیں تا کہ اﷲ کے حکم کی اتباعکریں۔ اور ابلیس نے جب قیاس کیا تو اﷲ کے امر کی مخالفت کی لہذا ہم دونوںبرابر کس طرح ہو گئے ؟‘‘ مرد حق شناس نے عرض کیا ابو حنیفہؒ ! مجھ سے غلطیہو گئی۔ اب میں نے توبہ کر لی اﷲ آپ کے قلب کو منور فرمائے۔ جیسا کہ آپ نےمیرے قلب کو منور کیا۔
ابن حزمؒ نے فرمایا کہ ابو حنیفہؒ کے تمام شاگردوں کا اتفاق ہے کہ امام صاحب کے نزدیک ضعیف حدیث قیاس اور رائے سے بہتر ہے۔

2 comments
  1. kauserbaig said:

    بہت عمدہ مضمون شیئر کیا .جزاک اللہ خیر
    اللہ پاک ہمارے قلب کو بهی منور فرمائے .آمین

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: