سراجاً منیرا-02

ہر امر کا ظہور اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادے سے ہوتا ہے کیونکہ خالق وہی ہے، باوجوداس کے اس نے تمام دنیا کو سلسلہ اسباب سے جکڑا ہوا ہے کہ ایک چیز کو دوسری کے ظہور و پیدائش کا سبب بنا دیا ہے اگر ایک کو دوسری کا معاون ومددگاربنایا ہے۔ توتیسری کو اس کا مانع و مزاحم بھی کر دیا ہے۔ حقیقت میں یہ سارا سلسلہ اسباب ظاہر بینوں کی نظرکےسامنے ایک پردہ لٹکادیاہے۔ ورنہ کرتا سب کچھ وہ خود ہے جب کسی چیز کو کرنا چاہتا ہے۔ تو اس کے اسباب مہیاکردیتا ہے اور جملہ رکاوٹیں اورمزاحمتیں دور کر دیتا ہے اور جس چیز کو نہیں چاہتا اس کے بنے ہوئے اسباب بھی بیکارکر دیتاہے اور انسان اوراسکےمقصودکے سامنے ایک ایسی حکمی سدذوالقرنینی کھڑی کر دیتا ہے کہ یا جو ج ما جوج کے حال کی طرحفما اسطا عوان یظھر وہ وما اسطاعو الہ نقبا ( سورہ کہف 16)
کی صورت ہو جاتی ہے۔ مثلاً جسمانی جنم کے لئے ماں باپ کو وسیلہ بنایا ہے۔ لیکن بہت سے مرد و  عورت ہیں کہ ان کہ کے ہاں اولاد نہیں ہوتی اور حضرت مریم ؑ کو فرزند دینا چاہا تو بغیر خاوند کے دید یا۔ اسی طرح روحانی جنم کےلئےمرشدذریعہ ہوتا ہے۔ لیکن بہت سے بد قسمت ہیں کہ باوجود مدتوں مرشد کامل کی صحبت میں رہنے کے بے نصیب رہتے ہیں۔ اسی معنی میں کہا گیاہے۔
 ؎تہید ستان قسمت را چہ سود از رہبر کامل کہ خضر از آب حیواں تشنہ می آرد سکندررا
یعنی بد قسمتوں کو مرشد کامل سے بھی فائدہ نہیں پہنچتا۔ جیسے کہ سکندر بادشاہ حضرت خضرؑ جیسے مرشد کامل کی رہنمائی کےباوجودبھی آب حیات سے پیاساواپس آیا۔
(اس شعر میں خواجہ حافظ نے جو سکندر کو حضرت خضر ؑ کا رفیق سفر کہاہے تو بناء بر عام مشہور قول کےکہاہےجس میں سکندر یونانی کو ذو القرنین نہیں سمھا گیا ہے لیکن تحقیق یہ ہے کہ یہ شخص سکندر یونانی نہیں تھاکیونکہ ذوالقرنین نبی اللہ یا صاحب الہام ولی اللہ تھے اور سکندر یونانی تو بت پرست تھا۔ ہم نے سورۂ کہف کی تفسیر میں اس مسئلہ کو باتفصیل بیان کیا ہے۔ طالب راعب اس کا مطالعہ کرے)
چونکہ اپنی خوش قسمتی یا بد قسمتی کسی کو معلوم نہیں۔ اسلئے ہم کو عالم اسباب میں رہتے ہوئے اللہ عزوجل کے فضل و کرم  پرنظررکھ کر ان اسباب کے ذریعے اپنی قسمت آزمائی کرنی چاہیے۔ جو اس نے ہمارے اختیار میں کئے ہیں۔جسطرح جسمانی جنم کے بعد جسمانی پرورش کی نگہداشت اور کفالت مہربان ماں باپ کرتے ہیں۔ اسی طرح روحانی جنم یعنی بیعت کےبعدروحانی پرورش و اصلاح کی نگہداشت مرشد مشفق کرتا ہے۔ پس جس طرح بچہ جسمانی پرورش کے زمانہ میں ماں  باپ پراعتمادکرکےجوانی کی عمر کو پہنچتا ہے۔ اسی طرح مرید کو بھی چاہیے کہ وہ روحانی تربیت کے زمانہ میں یعنی جبکہ وہ مرشد کی زیرنگرانی روحانی عملیات مسنونہ کی مشق کرتا ہو۔ اپنے مرشد سے خلوص و عقیدت رکھے اور اس کی تعلیم کردہ ہدایتوں پر عمل کرتا رہے تاکہ اپنی قسمت و کو شش کی مقدر منزلت کو حاصل کر سکے۔ اللہ نے ہر شخص اورہرشےکےلئے اپنے علم ازلی میں ایک اندازہ مقرر رکھا ہے۔ وہی اس کی قسمت، وہی اس کی تقدیر ہے۔ اس اندازےمیں کمی پیشی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ فرمایا :۔
وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا۔ (فرقان پ ۱۸)
’’یعنی اس نے پیدا کیا ہر شے کو، پس اسے ایک مقرر اندازے پر رکھا۔ ‘‘
حضرت شیخ اکبر ؒ اپنی تفسیر صغیر میں جو ظاہر تفسیر کے علاوہ ارشادات صوفیا کرام ؒ کے متعلق ہے آیت ومن یتو کل علے اللہ حسبہ (الطلاق پ ۲۸)
” یعنی جو کوئی تو کل کرتا ہے خدا پر پس وہ اس کے لئے کافی ہے ” کے ذیل میں فرماتے ہیں۔
کا فیہ یو صل الیہ ما قدر لہ و یسوق الیہ ما قسم لا جلہ من الضباء الدنیا والاخرۃ (مطبوعہ جلد ۱۶۳)
"خدا اس کے لئے کافی ہے اسے ضرور پہنچائے گا جو کچھ اس نے اس کے لئے مقدر کیا ہے اور چلائے گا اس کی طرف وہ کچھ جو اس کی قسمت میں لکھا ہے دنیا اور آخرت کے نصیبوں میں”
اس طرح اس سے اگلی آیت قد جعل اللہ لکل شیء قدرا یعنی بیشک مقرر کر رکھا ہے اللہ نے ہر شے کے لئےایک اندازہ‘‘ میں فرماتے ہیں۔
ای عین لکل امر حد ا معینا وو فتا معینا فی الا زل لا یذید بسعی ساع ولا ینقص بمنع ما نع و تقصیر مقصر ولا یتا خر عن و قتہ ولا یتقدمعلیہ (۱۶۳جلد ۲)
’’اس نے ازل میں ہر امر کے لئے ایک حد اور وقت مقرر کر رکھا ہے۔ کسی کو شش کرنے والے کی کو شش سے اس میں زیادتی نہیں ہو سکتی اور کسی روکنے والے کے روکنے سے اور کوتاہی کرنے والے کی کوتاہی سے اس میں کمی نہیں ہو سکتی اوروہ امر اپنے وقت مقرر سے نہ پیچھے ہو سکتا ہے اور نہ وقت سے پہلے حادث ہو سکتا ہے ‘‘
اسی معنی میں آنحضرتﷺ کی دعا ہے۔ جو آپﷺ ہر فرض نماز سے سلام پھیر نے سے پہلے پڑھا کرتے تھے :
اللھم لا ما نع لما اعظیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذالجدمنک الجد۔ (بخاری ؒ وغیرہ)
’’اے اللہ ! جو تو عطا کرے اسے کوئی روکنے ولا نہیں اور جو تو روکے اس کا دینے والا کوئی نہیں اور کسی کو شش والے کو اس کو شش تیرے (مقرر کردہ) سے (زیادہ) نفع نہیں بخش سکتی۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: