استشراق:02:Orientalism

استشراق کے مقاصد

استشراق کے دینی مقاصد:

 ٭استشراق کے پروان چڑھنے میں درپردہ دینی مقصد ہی کار فرما تھا۔ استشراق کے اس طویل سفر میں مندرجہ ذیل امور اس کے ساتھ تھے:
 ٭نبی کریم ﷺ کی رسالت کے صحیح ہونے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا، نیز یہ باور کرانا کہ احادیث نبویہ کومسلمانوں نے قرون ثلاثہ میں ایجادکیا ہے۔
 ٭قرآن کریم کے صحیح ہونے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا، نیز قرآن کریم میں طعن و تشنیع کرنا۔
 ٭اسلامی فقہ کی وقعت کو کم کرنا اور اسے رومن فقہ باور کرانا۔
 ٭عربی زبان کو ختم کرنا، نیز یہ باور کرانا کہ عربی زبان زمانے کی ترقی کا ساتھ نہیں دے سکتی ہے۔
 ٭اسلام کی اصل یہودیت اور نصرانیت کو قرار دینا۔
 ٭تبلیغ کرنا اور مسلمانوں کو عیسائی بنانا۔
 ٭اپنے افکار و نظریات کی تقویت کے لیے موضوع احادیث کا سہارا لینا۔

تجارتی مقاصد:

 ٭اسلامی ممالک کے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں اور ان معلومات پر نوٹ لکھنے والوں کو بادشاہِ وقت بے پناہ مال و دولت سے نوازا کرتا تھا۔
 ٭عالم اسلام پر مغربی قبضے سے قبل انیسویں، اور بیسویں صدی میں تجارتی مقصد زیادہ نمایاں تھا۔

سیاسی مقاصد:

 ٭مسلمانوں میں بھائی بندی کی فضا کو ختم کر کے ان میں تفرقہ ڈال کر ان پر غلبہ حاصل کرنا۔
 ٭عامی لہجے کو اہمیت دینا اور مروّجہ عادات کا مطالعہ کرنا۔
 ٭استعماری قوتیں اپنے وظیفہ خوروں کو نوآبادیاتی ممالک میں ان کی زبان، آداب اور ادیان کی تحقیق پرمامورکرتےتھے کہ یہ معلوم کرسکیں کہ ان ممالک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے کر وہاں کس طرح حکومت کی جاسکتی ہے۔
 ڈیڑھ سو سالوں کے دوران یعنی انیسویں صدی کے آغاز سے بیسویں صدی کے وسط تک مستشرقین کی تالیف کردہ کتابوں کی تعداد ساٹھ ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

کانفرنسیں و جمعیات

 ٭مستشرقین کی پہلی بین الاقوامی کانفرنس ۱۸۷۳ء میں پیرس میں منعقد ہوئی۔
 ٭اس کانفرنس کے بعد مسلسل عالمی سطح کی کانفرنس منعقد ہوتی رہیں چناں چہ اب تک صرف بین الاقوامی کانفرنسوں کی تعداد تیس ہو گئی ہے؛ یہ ان بین الاقوامی مجالس و اجتماعات کے علاوہ ہیں، جو ہر ملک کے ساتھ خاص ہیں،مثلاً۱۸۴۹ء میں جرمن مستشرقین کی کانفرنس، درسدن، جرمنی میں منعقد ہوئی؛ اس طرح کی کانفرنسیں آج تک مسلسل منعقد ہو رہی ہیں۔
 ٭مذکورہ کانفرنسوں میں ہر دفعہ سینکڑوں مستشرق علما حاضر ہوئے تھے، مثال کے طور پر آکسفورڈ کانفرنس کولےلیں جس میں ۲۵ممالک کی یونیورسٹیوں اور ۶۹علمی اداروں سے ۹۰۰ سو علما شریک ہوئے تھے۔
 ٭متعدد استشراقی جمعیتیں بھی ہیں۔ مثلاً ’’ایشائی جمعیت‘‘جس کی بنیاد۱۸۲۲ء میں پیرس میں رکھی گئی تھی، اور’’ایشیائی شاہی جمعیت‘‘جس کی بنیاد ۱۸۲۳ء میں برطانیہ و آئرلینڈ میں رکھی گئی تھی، اسی طرح ’’مشرقی جمعیت امریکہ‘‘ کی بنیاد۱۸۴۲ء میں اور ’’مشرقی جمعیت جرمنی‘‘ کی بنیاد ۱۸۴۵ء میں رکھی گئی تھی۔

استشراق استعمار کی خدمت میں

 ٭کارل ھینرس بیکر(KARL HEINRICH BEEKER)(وفات ۱۹۳۳ء)’’جریدہ اسلام جرمنی‘‘ کے بانی اس شخص نے ایسی تحقیقات کیں جو افریقہ میں استعماری مقاصد کی خدمت کرتی ہیں۔
 ٭بار ٹھولڈ(BARTHOLD)(وفات ۱۹۳۰ء)رسالہ’’روس اسلامی دنیا‘‘ کے بانی۔ انہوں نے بھی ایسی تحقیقات سرانجام دیں جو وسط ایشیا میں روسی قیادت کے مفادات کی خدمت کرتی ہیں۔
 ٭ہالینڈ کا باشندہ سنوک ھر گرونج(SNOUCK HURGRONJE) (۱۸۵۷ء۔۱۹۳۶ء)۔ یہ شخص ۱۸۸۴ء  میں عبد الغفار کے جعلی نام سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوا۔ نصف سال تک مکہ میں قیام کرنے کے بعد واپس چلا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ شرق اسلامی میں استعماری مقاصد کی خدمت میں تحقیقاتی رپورٹ لکھے۔
 ٭پیرس میں ۱۸۸۵ء ’’مشرقی زبانوں کا  ش خور
زہ توڈ، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبہد
ادارہ‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ مشرقی ممالک اور مشرق بعید کے ملکوں میں استعمار کی راہ ہموار کرنے کے لیے ان ممالک کے متعلق معلومات حاصل کی جائیں۔

استشراق کے خطرناک افکار:

 ٭جارج سیل G.SALEنے اپنی کتاب معانی قرآن کا ترجمہ (اشاعت۱۷۳۶ء)کے مقدمے میں اپنے خیالات کایوں اظہار کیا ہے: ’’قرآن، محمد(رسول اللہ ﷺ)کی اپنی ایجاد و تالیف ہے، اورایسامعاملہ ہے کہ اس میں جدل کی کوئی گنجائش نہیں ‘‘۔(گویااس شخص کے خیال میں یہ بات بالکل یقینی ہے)۔
 ٭ریچرڈبل(RICHARD BELL)کے اپنے زعم کے مطابق نبی محمد ﷺ نے قرآن کو یہود کی کتابوں،خاص طور پر ’’عہد نامہ قدیم، اور نصاریٰ کی کتابوں سے اخذ کیا ہے۔
 ٭دوزی(وفات ۱۸۸۳ء)کے زعم میں قرآن انتہائی بد ذوق کتاب ہے۔ اس میں بعض خاص چیزوں کے علاوہ کوئی نئی بات نہیں، نیز اس کا زعم ہے کہ قرآن بہت طویل اور ایک حد تک اکتا دینے والی کتاب ہے۔
 ٭برطانوی نوآبادیات کے وزیر ’’اومی غو‘‘ نے اپنی حکومت کے رئیس کے نام۹جنوری ۱۹۳۸ء میں ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’جنگ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ اسلامی اتحاد ہی سب سے بڑا خطرہ ہے لہٰذا سلطنت برطانیہ کو اس سےڈرنا چاہیے اور اس کے خلاف جنگ کرنا چائے۔ یہ خطرہ صرف سلطنت برطانیہ کے لیے نہیں فرانس کے لیےبھی ہے۔ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ خلافت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ میری خواہش یہ ہے کہ وہ دوبارہ واپس نہ آئے‘‘۔
 ٭شیلدون آموس لکھتا ہے کہ: شریعت محمد در اصل عرب ممالک کے سیاسی احوال کے موافق، مشرقی شہنشائیت کےرومن قوانین کا نام ہے‘‘۔ یہ شخص مزید لکھتا ہے کہ ’’قانون محمدی تو صرف عربی رنگ میں رنگے ہوئے قوانین ہیں ‘‘۔
 ٭رینان فرانسیسی لکھتا ہے کہ ’’عربی فلسفہ دراصل عربی حروف میں مکتوب یونانی فلسفہ ہے۔‘‘
 ٭رھا۔ لویس ما سینیون تو یہ شخص عربی زبان کو بازاری لہجے میں بولنے اور لاطینی حروف میں لکھنے کی تحریک کاقائدوشہسوار تھا۔

بنیادی عقائد وافکار:

 ٭استشراق در اصل صلیبیوں کے عہد میں شرق اسلامی اور غَرب نصرانی کے درمیان موجود تناؤ کی پیداوارہےنیزسفارتوں اور سفیروں کے ذریعے بھی اس نے پرورش پائی۔
 ٭استشراق کی بنیادی وجہ فلسفیانہ نصرانیت ہے، جس کا مقصد اسلام میں دخل اندازی کر کے، مسلمانوں کو فریب دے کر اور اسلام میں شکوک و شبہات داخل کر کے اسے اپنے اندر سے تباہ کرنا ہے، لیکن آخر میں استشراق نےان قیود سے آزاد ہونا شروع کر دیا ہے تا کہ خود کو صرف علمی روح کے قریب ترین کرسکے۔

مشہور اسلام دشمن مستشرقین:

 گولڈ زیہر (Goldizher) ۱۸۵۰ء-۱۹۲۰ء) ہنگری کا یہودی تھا۔ اس کی کتابوں میں سے ایک کتاب (تاریخ مذاہب التفسیر الاسلامی) ہے۔ گولڈ زیہر بلا اختلاف یورپ میں اسلامیات کا سربراہ مانا گیا (حالاں کہ تدوین حدیث، امام زہری پر سب سے پہلے اعتراض کرنے والا، یہی ہے)۔
 ٭جان مارینارڈ (J-Marynard) امریکی، بڑا متعصب تھا۔ رسالہ ’’اسلامی علوم‘‘ کے لکھاڑوں میں سے ہیں۔
 ٭ایس۔ ایم زویمر (S.M-Zweimer) یہ مستشرق عیسائی، امریکی رسالے ’’اسلامی دنیا‘‘ کا مؤسس تھا، ان کی کتاب ’’اسلام، عقیدے کو چیلنج کرتا ہے ‘‘۱۹۰۸ء میں شائع ہوئی۔ اس کی ایک اور کتاب کا نام ’’اسلام‘‘ہے۔ یہ کتاب متعدد مقالوں کا مجموعہ ہے، جسے عیسائی تبلیغی کانفرس دوئم۱۹۱۱ء لکھنؤ ہندوستان میں پڑھا گیا تھا۔
 ٭ جی وون غرونبادم (G. VON GRUN BAUN) جر من یہودی، امریکی یونیورسٹیوں کا استاذرہا ہے۔ اسکی کتابوں میں ’’محمدی عیدیں ۱۹۵۱‘‘اور ’’اسلامی ثقافی تاریخ کا مطالعہ‘‘۱۹۵۴ء قابل ذکر ہیں۔
 ٭ آئی۔جے۔ وینسک (I.J.WENSINK) یہ اسلام کا بڑا دشمن تھا، اس کی ایک کتاب کا نام ’’اسلامی عقیدہ۔۱۹۳۲ء‘‘ہے۔
 ٭کینیت کراج(K-GRAGG) متعصب امریکی اس کی ایک کتاب کا نام ’’دعوت اذان گاہ‘‘ ۱۹۵۶ء ہے۔
 ٭لوی ماسیشون(L.MASSIGON)فرانسیسی مبلغ۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے شعبۂ امور نو آبادیات شمالی افریقہ کے مشیر تھے، ان کی ایک کتاب کا نام ’’صوفی حلاج شہید اسلام میں ‘‘ہے جو ۱۹۲۲ء میں شائع ہوئی۔
 ٭ڈی۔بی۔ب میکڈونالڈ(D.B.MACDONALD)امریکی متعصب مبلغ۔ اس کی ایک کتاب ’’علم کلام فقہ اوردستوری نظریے کی ترقی‘‘ ۱۹۳۰ء میں شائع ہوئی۔ نیز اس کی ایک کتاب’’اسلام دینی موقف اور حیات‘‘۱۹۰۸ء میں شائع ہوئی۔
 ٭مایلزگرین(M.GREEN)سیکریڑی تحریر۔رسالہ ’’الشرق الاوسط‘‘۔
 ٭ڈی۔ایس۔ مارگولیوث(D.S.MARGOLIOTH)۱۸۰۵۔۱۹۴۰ء متعصب انگریز۔طہ حسین اور احمد امین کا ہم خیال تھا۔ اس کی ایک کتاب’’اسلام میں نئی ترقی‘‘ ۱۹۱۳ء میں شائع ہوئی۔ اس کی ایک اور کتاب ’’محمد اور طلوع اسلام‘‘۱۹۰۵ء میں شائع ہوئی، نیز اس کی ایک کتاب ’’الجامعۃ الاسلامیۃ‘‘ ۱۹۲۱ء میں شائع ہوئی۔
 ٭اے۔جے۔ آربری( A.J.ARBERRY) متعصب انگریز۔ اس کی کتابوں میں سے ایک کتاب’’اسلام آج‘‘۱۹۴۳ء میں اور ایک کتاب ’’تصوف‘‘ ۱۹۵۰ء میں شائع ہوئی۔
 ٭ بارون کارادی فو(BARON CARRADE VOUX)فرانسیسی متعصب۔ دائرہ معارف اسلامیہ کےبڑےمحررین میں سے تھے۔
 ٭ایچ۔ اے۔آر۔جب(H.A.R۱۹۶۵ء انگریز۔اس کی کتابوں میں ایک کتاب ’’محمدی مذہب‘‘۱۹۴۷ء میں اور’’اسلام میں نئی جہتیں ‘‘ ۱۹۳۷ء میں شائع ہوئی۔
 ٭آر۔اے۔ نیکولسن(R.A.NICKILSON)انگریز۔ یہ شخص اس بات کا انکار کرتا ہے کہ اسلام ایک روحانی مذہب ہے بل کہ وہ اسلام کو
مادیت اور انسانی ترقی کے مخالف مذہب سے تعبیر کرتا ہے اس کی کتاب ’’صوفیائے اسلام‘‘
۱۹۱۰ء میں اور ایک کتاب ’’عربوں کی ادبی تاریخ‘‘۱۹۳۰ء میں شائع ہوئی۔
 ٭ہزی لا منس مسیحی ۱۸۷۲۔۱۹۳۷ء(H.LAMMANS)متعصب فرانسیسی۔ اس کی ایک کتاب کانام’’اسلام‘‘اورایک دوسری کتاب کا نام ’’الطائف‘‘ ہے۔ نیز یہ دائرہ معارف اسلامیہ کے محررین میں سے تھا۔
 ٭جوزیف شاخت(J-SCHACHT)متعصب جرمن۔ اس کی ایک کتاب ’’اسلامی فقہ، کے اصول‘‘ ہے۔
 ٭بلاشیر:ان کو فرانسیسی وزارت خارجہ میں عربوں اورمسلمانوں کے امور کا ماہر سمجھا جاتا تھا، وہ اسی شعبہ میں اپنےفرائض منصبی انجام دیتا تھا۔
 ٭الفرڈجیوم(A.JEOM)متعصب انگریز۔ اس کی ایک کتاب کا نام ’’اسلام ‘‘ہے۔

پھیلاؤ اور اثر ورسوخ کے مقامات:

 ٭مغرب ہی وہ مناسب سر زمین ہے جس پر مستشرقین سر گرم رہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مستشرقین زیادہ ترجرمنی، برطانیہ، فرانس، ہالینڈ اور ہنگری کے باشندے ہیں۔ بعض مستشرقین اٹلی اور اسپین میں بھی نمودار ہوئے۔
 ٭حقیقت یہ ہے کہ استشراق کا سورج امریکہ میں زیادہ چمکا، چنانچہ امریکہ میں استشراق کے بہت سے مراکز ہیں۔
 ٭مغربی حکومتوں، کمپنیوں، کمیٹیوں، اداروں اور کلیساؤں نے استشراقی تحریک کی امداد و تائید کرنے اور یونیور سٹیوں میں انہیں کھلا چھوڑنے میں بالکل بُخل سے کام نہیں لیا۔ یہی وجہ ہے کہ مستشرقین کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے۔
 ٭درا صل استشراقی تحریک، استعمار و نصرانیت کی خدمت کے لیے مسخر تھی اور آخر میں یہودیت اور صیہونیت کی بھی خادمہ بن گئی۔ ان تمام قوتوں کا ہدف مشرقِ اسلامی کو کمزور کر کے براہ راست یا بالواسطہ اس پر تسلط جماناہے۔(مذاہب عالم کا انسائکلو پیڈیا)

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: