نظریاتی و فکریاتی تصادم

’’تصادم فکری‘‘ تخلیق آدم ہی سے شروع ہو چکی تھی، پھر زمین پر نزول آدم کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا،کیوں کہ شیطان نے کہا تھا ’’و لاغوین ہم من بین ایدیہم و عن ایمانہم و عن شمائلہم ولا تجدو اکثرہم شاکرین‘‘کہ میں نے انسان کو ضلالت اور گمراہی میں مبتلا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا رہوں گا، لہٰذا اس نے اس پر عمل درآمد زمین پر آتے ہی شروع کر دیا تھا، البتہ اسے کامیابی شروع شروع میں زیادہ نہ مل سکی،مگرآدم علیہ السلام کے انتقال کے بعد جب ایک عرصۂ دراز گذر گیا تو لوگوں کو ورغلا کر اس نے بڑے بزرگوں کی تصویریں بنوائی، پھر اس کی تعظیم کروائی، یہاں تک اس کی پرستش میں مبتلا کر دیا، جب صنم پرستی عروج پر پہنچی تو ایک روایت کے مطابق حضرت ادریس اور دوسری روایت کے مطابق سب سے پہلے حضرت نوح علیہماالصلوٰۃ و السلام کورسول بنا کر اللہ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا، اس کے بعد وقفہ وقفہ سے جہاں ضرورت محسوس ہوئی، اللہ نے فکرِ انسانی کو صحیح رَوِش پر لانے کے لیے بے شمار انبیاء مبعوث کیے، یہاں تک کہ اخیر میں خاتم الانبیاء و المرسلین کو مبعوث کیا، اور آپ کو مکمل شریعت دے کر بھیجا، آپ پر آخری کتاب اور ’’خاتم الکتب السماویۃ‘‘ بھی نازل کی گئی، اور ساتھ ہی خود نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے قرآن کی اور اس کے علاوہ دیگر ضروری امور کی مکمل وضاحت کر دی گئی، تمام اصول اور ضروری فروع کو بھی بیان کر دیا گیا، لہٰذا اب قیامت تک نہ کوئی نبی آسکتا ہے، نہ کوئی نئی شریعت آسکتی ہے، نہ کوئی دستورِ حیات آسکتا ہے، قرآن اور حدیث ہی کےمضامین کی اصول میں رہ کر تشریح و توضیح تو ہوسکتی ہے، مگر وہ تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا جو پہلی شریعتوں میں رونما ہوا۔
نظریاتی و فکریاتی جنگ ‘‘ ہر زمانہ میں حق و باطل کی ’’غیرعسکری‘‘ معرکہ آرائی کی صورت میں ہوتی رہی، خاص طور پر حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ہود علیہ السلام، حضرت صالح علیہ ا لسلام، جتنے انبیاء کا تذکرہ قرآن میں ہےسب کے زمانہ میں پائی جاتی رہی، البتہ حضرت نوح موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے زمانہ میں باطل نےاس کا زیادہ ہی استعمال کیا، مگر ہر محاذ پر اسے شکست سے دوچار ہونا ہی پڑا، کیوں کہ حضرت نوح اور ان کی قوم کے درمیان کوئی مسلح باقاعدہ جنگ نہیں ہوئی، بل کہ یہی کہ قوم نوح حضرت نوح علیہ السلام کے طرزِ عمل پر شدت سے نقطہ چینی کرتی رہی، سورۂ نوح میں قرآن کریم نے ’’مکالمہ‘‘ کے انداز میں اسے بیان بھی کیا، صرف سورہ نوح ہی نہیں، بل کہ اس کے علاوہ بھی بہت سی سورتوں میں اس کی تفصیلات ملتی ہے، اسی طرح موسیٰ علی نبینا علیہ السلام کے دور میں بھی ایسا ہی ہوا، کہ فرعون سے کوئی منظم جنگ نہیں ہوئی، حالاں کہ بنواسرائیل بہت
بڑی تعداد میں تھے، مگر یہی ’’فکری جنگ‘‘ ہوتی رہی، اور فرعون، قوم فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کے بھی بہت سے مکالمات اور محادثات کو قرآن نے بیان کیا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی ہوا۔ غالباً قرآن کریم میں ان کے واقعات کو بیان کرنے کی یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ جیسے ان مذکورہ انبیاء کے زمانہ میں ’’فکری جنگیں‘‘ ہوتی رہی، امت محمدیہ بھی اس سے دوچار ہو گی، مگر یہ امت قرآن کی وجہ سے وہ ہمیشہ ان کا مقابلہ کرتی رہے گی، اور بھی الحمد للہ ایسا ہی ہوا۔
ان واقعات نے ’’نظریاتیو فکریاتی تصادم ‘‘ کے لیے کافی و وافی مواد فراہم کر دیا، جس کی روشنی میں ہمیں جوابات تیار کرنا ہے اور ضعیف الایمان مسلمانوں اور دشمنوں کو یا تو خاموش کرنا ہے، یا حق پرلےآناہے،پھرجوتھوڑی بہت کمی رہ گئی تھی، اس کو نبی کریم ﷺ کے زمانہ کے اہل کتاب اور مشرکین کے ساتھ ہونےوالےمکالمات کی صورت میں بیان کر دیا گیا، مگر امت محمدیہ کا زمانہ دیگر امت کے مقابلہ میں طویل المدت ہے، اس لیے اس کو صرف ’’نظریاتی و فکریاتی تصادم ‘‘ ہی سے سابقہ نہیں پڑنے والا تھا، بل کہ ’’الغزوالعسکری‘‘ سے بھی سابقہ لازمی تھا، لہٰذا اس کے بھی احکام بیان کیے گئے، تاکہ قیامت تک فکری و عسکری دونوں یلغاروں پر معرکۂ آرائی میں اسے سہولت رہے، اور ’’علم وحی‘‘ کی روشنی میں وہ اپنے دونوں میدانوں میں کامیابی سے ہم کنار ہوسکے۔
 قرون اولیٰ میں جب اہل باطل کو ’’عسکری‘‘ میدان میں ہر موقعہ پر ’’ہزیمت‘‘ سے دوچار ہونا پڑا، تو انہوں نے’’نفاق کے لبادے‘‘ میں اسلام کے خلاف ایک ’’فکری محاذ‘‘ برپا کر دیا، جس نے اولاً تو دور نبوی ہی میں اختلاف و انتشار کی کوشش کی، اور پھر جب کچھ نہ بن پڑا تو خاص طور پر اہلِ کتاب نے، عام طورپر اہلِ باطل نےاعتراضات اور اشکالات کی گرم بازاری کا آغاز کیا، کبھی تحویل قبلہ پر اعتراض، کبھی ناسخ و منسوخ پر اور کبھی آمدِجبریل پر اعتراض، کبھی نبوت سلمانی پر اعتراض اس کے علاوہ اسلام کے دیگر امور پر بھی اعتراض کی بوچھار ہوتی رہی۔
 دورِ نبوی کے بعد دورِ صدیقی میں نبی کریم ﷺ کی وفات حسرت آیات کے فوراً بعد اہل کتاب اورچندرؤساءعرب نے ارتداد کو شہ دی، مختلف پروپیگنڈے کئے، کسی نے زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کیا، تو کسی نےدعوی نبوت کر کے لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی، جس میں مسلیمہ کذاب، اسود عنسی، طلیحہ ابن خویلد، سجاح بنت الحارث، ذوالتاج لقیط ابن ثمرہ کا خاص شمار ہوتا ہے، مگر حضرت ابوبکر صدیقؓ کی ہمت و استقلال، اور جرأت و شجاعت نیز حکمت عملی نے صرف ایک سال کے عرصہ میں اس پر قابو پالیا، اوردین کو ہر طرح کی تحریف سے محفوظ رکھا، اسی لیے حضرت مولانا علی میاں ندویؒ فرماتے تھے ’’ردۃ و لا ابا بکر لہا‘‘۔
 حضرت عمر ابن الخطابؓ کے دور میں جب ان کی شرارتوں کو بھانپ کر نبی کریم ﷺ کی وصیت کے مطابق انہیں جزیرۃ العرب سے باہر کر دیا گیا، تو ایک عرصہ تک ظاہری طور پر فتنہ ’’نظریاتی و فکریاتی تصادم ‘‘تھم گیا، کیوں کہ حضرت عمرؓ بڑے ہی دور بیں اور جرأت مند تھے، پوری جرأت اور حکمت عملی اور دور بینی کے ساتھ جاندار اور شاندار فیصلہ کرتے تھے، جس کی وجہ سے تمام فتنہ پرورمایوس ہو چکے تھے، اسی لیے باقاعدہ مجوسی فیروزاورہرمزان اور دیگر یہودی و نصرانی طاقتوں نے حضرت عمر ابن الخطاب کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا، جس کی پوری مکمل محققانہ مصر کے نامور مؤرخ الاستاذ جمال نے اپنی کتاب ’’اثر اہل الکتاب فی الحروب و الفتن الداخلیۃ فی القرن الاول‘‘ میں کی ہے، نبی کریم ﷺ نے بھی فتنوں کے آغاز کی نشاندہی مقتل عمر ہی سے کی تھی، جیسا کہ حضرت حذیفہؓ کی روایت سے ثابت ہوتا ہے، آپ نے فرمایا کہ ایک دروازہ جو توڑ دیا جائے گا اور فتنوں کاآغازہوجائے گا اگرچہ فتنوں سے دونوں فتنہ قتال بین المسلمین بھی اور فتنہ نظریاتی و فکریاتی تصادممرادہے،مگراس سے بھی اسی عظیم فتنہ کی طرف اشارہ ہوتا ہے، جو عبداللہ ابن سباء نے شروع کیا تھا، جس کے نتیجہ میں خوارج، رافضہ، قدریہ، معتزلہ، مرجئہ، جسدیہ جیسے مختلف فرقے قرنِ اول ہی میں وجود میں آ گئے۔
 حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی اور خلیفہ ثالث ہیں، جن کے بے شمار مناقب احادیث میں وارد ہوئے ہیں، بے شک آپ ہی حضرت عمر کے بعد خلافت کے حقدار تھے، اور آپ نے دورِ خلافت میں کوئی بھی خلافِ شرع اور نفسانیت پر مبنی کام نہیں کیا، مگر ’’فتنہ پروروں ‘‘ نے آپ کی نرم دلی اورعفوودرگذرسےغلط فائدہ اٹھایا، اور آپ پر بے بنیاد اَقرباء پروری کا الزام عائد کیا، جس کے محقق و مدلل جوابات ہمارےمؤرخین اور علما نے شواہد کی روشنی میں دیے ہیں، آپ کو علامہ ظفر احمد عثمانیؒ کے رسالہ ’’برات عثمان‘‘کاایک بار مطالعہ کر لینے سے اندازہ ہو جائے گا، کہ حقائق کیا ہیں، اور الزامات کی حقیقت کیا ہے؟
 مردود عبداللہ ابن سباء (جو ابن سودہ کے نام سے جانا جاتا تھا) نے پہلے بصرہ میں، پھر مصر میں چند لوگوں کوحضرت عثمان اور آپ کے عمال کے خلاف بھڑکایا، اور انہیں مدینہ کی طرف روانہ کیا، حضرت عثمان اگر صحابہ کوجنگ کی اجازت دے دیتے تو ان تمام بلوائیوں کی تکہ بوٹی ہوسکتی تھی، مگر آپ کے نزدیک حرمتِ خونِ مسلم یہ انتہائی مقدس تھا، آپ نے کسی کو بھی قتال کی اجازت نہ دی، البتہ آپ حق پر تھے، لہٰذا کسی بھی صورت میں خلافت سے دست برداری کے لیے آمادہ نہ ہوئے جس کے نتیجہ میں ان محروم القسمت بلوائیوں نے ایک دن موقعہ پاکر، آپ کو شہید کر دیا، رضی اللہ عنہ وارضاہ، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
 مگر حضرت عثمان ذو النورین نے یہ تو ثابت کر دیا کہ ’’اہل حق ‘‘ کو ثبات قدمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، حتی المقدورمسلمانوں کے خون کی حفاظت کرنی چاہیے، اس کے لیے اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے، آپ کے بعدحضرت عبد  اللہ ابن حنظلہ غسیل الملائکہ نے ’’واقعہ حرہ‘‘ کے موقع پر حضرت حسین نے ’’واقعہ کربلا‘‘ میں اور حضرت عبداللہ ابن زبیر اوراس کے بعد النفس الزکیہ نے اسی کو اسوہ بنایا، اور ثبات علی الحق کی بے مثال تاریخیں رقم کروائی، رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین!
 حضرت علیؓ کا دور تو داخلی خلفشار کا شکار ہو گیا، جس میں بھی عبداللہ ابن سباء کے پروردہ لوگوں نے اہم رول اداکیا، اور خلفشار سے نکلنے کی ہزاروں کوششوں کے باوجود کامیابی حاصل نہیں ہونے دی، اور پھر مسلمانوں کےباہمی انتشار سے فائدہ اٹھا کر ایک طرف ایک جماعت کو صحابہ کی تکفیر پر آمادہ کیا، جو ’’خوارج‘‘ سے یادکیےگئے،اوردوسری جانب ایک جماعت کو ان کے علم کی کمی وجہ سے حضرت علی کی ’’خلافت بالوصل’’ اور ’’وصی‘‘ اورآگےچل کر’’الہ‘‘ پر آمادہ کیا، جو روافض شیعہ کہے گئے، اور اس طرح انتشار کا سلسلہ شروع ہو گیا، جو آج بھی جاری وساری ہے۔
 خلفائے راشدین کے دور کے بعد تو وہ کھلے بندھوں آزاد ہو گئے، یہاں تک کہ قرنِ ثانی کے اوائل اور قرن اول کے اختتام پر چند لوگوں نے نبوت کے دعوے بھی کر دیئے، اور فتنہ دعوی نبوت آج تک رواں دواں ہے۔
 خلافت عباسیہ میں ’’نظریاتی و فکریاتی تصادم ‘‘ نے شدت اختیار کی، کیوں کہ دورِ بنوامیہ سے علوم یونان اورفلسفہ ہند وغیرہ کے جو عربی تراجم شروع ہوئے تھے، اس میں تیزی آئی اور لوگ ’’شریعیات‘‘ یعنی علوم نقلیہ شرعیہ کے مقابلہ ’’علوم عقلیہ‘‘ کی طرف زیادہ متوجہ ہونے لگے، ’’مامون الرشید‘‘ نے تو اس میں ضرورت سےزیادہ ہی دلچسپی کا مظاہرہ کیا، اور باقاعدہ ’’یونان‘‘ کے بادشاہ سے کتابیں منگوا کر اس کے عربی میں تراجم کروائے، ترجمہ کرنے والوں کو معاوضات دیے، یہاں تک کہ مامون خود ہی ’’عقلیات‘‘ سے متاثر ہو کر ’’اعتزال‘‘ کی طرف مائل ہو گیا، اورمعتزلہ کو گویا سرکاری سپوٹ اور تعاون حاصل ہو گیا، طاقت کے زور پر بعض خلفائےعباسیہ نے اعتزال کو فروغ دینا چاہا، مگر حضرت امام احمد ابن حنبل جیسے علما ء نےڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا، جس کی وجہ سے عوام الناس اس جیسے نظریہ زیادہ متاثر نہ ہوسکی۔
جب اندلس میں موسیٰ ابن نصیر اور طارق بن زیاد کے ہاتھوں اسلام پہنچا، اور اہل یورپ نے دیکھا کہ مسلمانوں کوعلوم کے ساتھ والہانہ تعلق ہے، جس کے نتیجہ میں وہ ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہیں، ان کی آنکھیں چندھیاگئیں، کیوں کہ ان کا حال یہ تھا کہ وہ کلیساؤں، پادریوں، اورکاہنوں اور اپنے بادشاہوں کی جانب سےہونےوالے جبر و تشدد کے زیر نگیں زندگیاں گذاررہے تھے، اسی وجہ سے مؤرخین یورپ نے خود اسے ’’تاریخ یورپ کا سیاہ باب‘‘ (Dark ages) سےتعبیر کیا، مسلمانوں کے دیکھا دیکھی انہیں بھی ترقی کی سوجھی،لہٰذامسلمانوں کی درسگاہوں میں فن و ہنر سیکھنے کی اجازت طلب کی، تو مسلمانوں نے وسعت ظرفی کامظاہرہ کیا،اورانہیں اجازت دے دی، انہوں نے علم حاصل کیا، مگر بغرض ہدایت نہیں بل کہ ’’بغرض مادیت‘‘، لہٰذا ایمان جیسی عظیم دولت سے تو وہ محروم رہے، البتہ مادی ترقی کی راہیں کھل گئیں۔
 اہلِ مغرب نے اب جب کچھ سیکھ لیا تو دنیا پر قیادت و سیادت کے خواب دیکھنے لگے، اور اس نے اسلام کے خلاف ایک زبردست ’’صلیبی‘‘ محاذ کھڑا کیا، گیارھویں صدی کے نصف سے لے کر تیرھویں صدی تک تقریباً دوسو سال میں ’’ مشرقِ اسلامی‘‘ پر ہلاکت خیز آٹھ حملے کیے، پہلا حملہ ۱۰۹۵ء میں ’’پوپ اور پان‘‘ نے ’’قدس‘‘ کو حاصل کرنے کے لیے ’’مقدس صلیبی جنگ‘‘ کا نام دے کر اس کو مذہبی رنگ دے کر لوگوں کو جنگ پر آمادہ کیا،اورپندرہ ہزار کا لشکر لے کر برطس نکلا، مگر سلاجقہ نے ان کا مقابلہ کیا اور وہ لوگ ’’قدس‘‘ پہنچنے سے پہلے ہی شکست کھا کربھاگے۔
 ۱۰۹۶ء سے ۱۰۹۹ء تک تیاری کر کے’’ غورفری‘‘ اور ’’پلودین‘‘ کی قیادت میں ۱۰۹۹ء میں فلسطین پر ایک زبردست حملہ کیا، اور وہ لوگ بیت المقدس پر قابض ہو گئے، جہاں انہوں ہزاروں اور لاکھوں مسلمانوں کو بے دریغ قتل کیا،خود ان کے مؤرخ ’’لویوی ریمونڈوا جیل‘‘ نے اس کا اعتراف کیا ہے اور لکھا ہے کہ ’’ہماری قوم یعنی صلیبیوں نے عرب کے ساتھ بڑا ظلم کیا اور ان کا قتل عام کیا صرف ’’مسجد عمر‘‘ میں دس ہزار مسلمانوں کو قتل کیا، اوراس حملہ میں تقریباً ستر ہزار بے گناہ مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ مسلمان انتشارکا شکار تھے اور چھوٹی چھوٹی مختلف ریاستوں میں تقسیم ہو گئے تھے، کہیں فاطمیوں کی حکمرانی تھی تو کہیں عباسیوں کی وغیرہ وغیرہ، البتہ عماد الدین زنگی نےصلیبیوں کا خوب جم کر مقابلہ کیا، اور ان کو شام کی جانب آگےبڑھنے سے روک دیا۔ ۱۱۲۸ء میں زنگی نے حلب کو صلیبیوں سے بچایا، اور ۱۱۴۴ء میں شہر ’’ھا‘‘ پر قبضہ کرلیا،مگر۱۱۴۶ء میں عماد الدین زنگی کی وفات ہو گئی اور صاحبزادہ نورالدین زنگی اس کا جانشین ہوا۔
 نورالدین زنگی میں شجاعت اس کے والد سے بھی زیادہ تھی، اس نے صلیبیوں کے ناک میں دم کر دیا،اور’’انطاکیہ‘‘، ’’طرابلس‘‘ اور کمانڈر ’’شیر کوہ‘‘ کی قیادت میں دمشق کو بھی فتح کر لیا، جس پر چند سال قبل صلیبیوں نے قبضہ کر لیا تھا، اس کے بعد ’’اسدالدین شیرکوہ‘‘ کی قیادت میں ایک لشکر مصر کی جانب فاطمیوں کےخلاف ارسال کیا، جس میں فاتح فلسطین صلاح الدین ایوبی بھی تھے، جو پہلی مرتبہ کسی جنگ میں حصہ لےرہےتھے۔ ۱۱۶۹ء میں مصر پر زنگی کا قبضہ ہو گیا اور ’’اسدالدین شیرکوہ‘‘ کو وزیر بنا دیا گیا، مگر دو ماہ کے بعد ہی اسدالدین کا انتقال ہو گیا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
 اسدالدین نے صلاح الدین کو اپنا جانشین ٹھہرایا، اور صلاح الدین ایوبی نے ’’بیت المقدس‘‘ کی آزادی کی تیاریاں شروع کر دی، یہاں تک کہ ۱۱۸۷ء میں صلیبیوں اور مسلمانوں کے درمیان ’’معرکۂ حطین‘‘ پیش آیا۔
 صلاح الدین ایوبی اور اسلامی لشکر نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور صلیبیوں کو شکست سےدوچارکردیا،اوراسطرح ’’بیت المقدس‘‘ کے قریب پہنچ گئے، اور آہستہ آہستہ ’’فلسطین‘‘ کے اردگرد کی بستیوں پر قبضہ شروع کردیا،اور’’شہرعکا‘‘ اور ’’ناصرہ، قیساریہ، حیف صیدا، بیروت‘‘ پرقبضہ ہو گیا، یہاں تک کہ مجبور ہوکر جب وہ گھیرےمیں آگئے اور ناامید ہو گئے، تو مسلمانوں کے ساتھ صلح پر آمادہ ہو گئے، اور الحمدللہ! عرصۂ درازکےبعدپھردوبارہ تکبیر کی صداؤں اور اذان کی نداؤں سے فضاء گونجنے لگی، مگر مسلمانوں نے ان ظالموں کی طرح ظلم نہیں کیا، ماضی میں مسلمان امن پسند رہا ہے، اور یہی لوگ ’’دہشت گرد‘‘ رہے ہیں، اور حال میں بھی یہی صورتِ حال ہے، یہ واقعہ اس پر شاہدِ عدل ہے۔
۱۱۸۹ء میں صلیبیوں نے جمع ہو کر پھر بیت المقدس کو قبضہ میں لینے کی کوشش کی، مگر چار سال کی محنت کےبعد۱۱۹۲ء میں صلح پر مجبور ہو گئے، اور ۱۱۹۳ء میں صلاح الدین وفات پا گئے۔ اناللہ و انا الیہ راجعون!
 ۱۲۰۲ء میں صلیبیوں نے چوتھا حملہ کیا، مگر یہ حملہ مصر پر قبضہ کرنے کے لیے تھا، لیکن ایطالین تاجروں نے جس حاکمِ مصر ’’ملک عادل‘‘ کے ساتھ معاہدہ تھا، انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا۔
۱۲۱۷ء میں مصر پر قبضہ کرنے کے لیے پانچواں حملہ کیا، مگر ملک عادل کے انتقال کے بعد اس کے جانشین ملک کامل نے انہیں نامراد واپس یورپ کی طرف جانے پر مجبور کیا۔
 ۱۲۲۸ء میں پھر چھٹا حملہ کیا، ملک کامل نے اپنے آپ کو کمزور سمجھ کر صلح کر لی، ۱۲۳۰ء میں صلیبیوں کو تسلط دے دیا، البتہ ۱۲۴۴ء میں پندرہ سال بعد دوبارہ تیاری کر کے حملہ کیا اور حاصل کر لیا۔
 ۱۲۴۸ء میں پھر ساتواں حملہ صلیبیوں کی جانب سے ہوا، ۱۲۴۹ء میں صلیبی لشکر ’’مصر‘‘ تک پہنچ گیا،اور’’دمیاط‘‘پرقبضہ کر لیا، البتہ ’’قاہرہ‘‘ میں نجم الدین ایوب نے ایک بڑے لشکر کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا،مگراسی دوران نجم الدین اچانک انتقال کر گئے، مگر ان کی ذہین بیوی ’’شجرۃ الدُرَر‘‘ نے ان کے وفات کی خبر کو راز میں رکھا، تاکہ لشکر ہمت نہ ہارے، اور ’’توران شاہ‘‘ کو ان کا جانشین بنا دیا، اور الحمدللہ اس کے ہاتھوں مسلمانوں کی فتح بھی ہوئی، لویس (Luves) التاسع گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد عالم اسلام دوہری مصیبت میں گرفتار ہو گیا،کیوں کہ ایک طرف تاتاریوں نے ۶۵۶ھ/۱۲۸۵ء میں بغداد کا محاصرہ کر لیا اور دولتِ عباسیہ کا سقوط ہو گیا، مگر جب وہ آگے بڑھے تو ’’ممالیک‘‘ نے ان کو ملک شام پر ہی رکنے پر مجبور کر دیا، اور اسلام کے مشہور بہادر ’’ظاہربیبرس‘‘کی قیادت میں ۱۲۶۰ء میں تاتاریوں کی ’’معرکۂ عین جالوت‘‘ میں شکست سے دوچار کیا، دوسری جانب صلیبیوں نے بھی انطاکیہ کی جانب سے حملہ کیا، مگر ’’ظاہربیبرسھھ نے انہیں ہزیمت پر مجبور کیا، ظاہر بیبرس کے ا نتقال کے بعدسلطان قلاووْن نے بھی صلیبیوں سے بہت سے علاقہ چھین لیے۔ ۱۲۹۱ء میں سلطان کے انتقال کےبعدانکےہونہارصاحبزادےجانشین ہوئے اور انہوں نے بیروت وغیرہ جو کچھ علاقہ صلیبیوں کے پاس رہ گیاتھا،اسےبھی واپس لے لیا۔
 ان جنگوں کے بعد اب صلیبی ہمت ہار گئے، اور انہوں نے دوبارہ یورپ کی جانب رخ کرنے ہی میں عافیت سمجھی،لہٰذا وہ یورپ لوٹ گئے، البتہ قلیل مقدار میں مسلمانوں کے درمیان سکونت اختیار کرنے پر راضی ہوگئےاوراسلام کے سایۂ عدل و مصالحت ہی میں انہوں نے اپنے آپ کو محفوظ پایا، تمام صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کی کامیابی کااصل راز مسلمانوں کی مسلسل جدوجہد، ان کا جہاد، ان کا جذبہ ایمانی، اور ان کے نیک و صالح سلاطین اور ان کی اسلام کے ساتھ بے پناہ محبت اور اس پر عمل در آمد، انہیں جنگوں کے طفیل صلاح الدین ایوبی، ظاہربیبرس، نورالدین زنگی، عمادالدین زنگی، اسدالدین شیرکوَہ، ملک عادل، ملک کامل، نجم الدین ایوب، توران شاہ، سلطان قلاوون، خلیل ابن قلاوون، محمد بن قلاوون، سلطان برسابی جیسے مشہور کامیاب جنرل ظاہرہوئے، جنہوں نے اسلام کی عظمت کےلیےسب کچھ قربان کر دیا، اور فتح و کامرانی کی عظیم مثالیں قائم کر دیں، آج ہمارے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان بے مثال مجاہدین کے نام تک نہیں جانتے۔
 دوسو سال تک ان پے در پے شکستوں کے بعد ’’لویس‘‘ جو فرانس کا بادشاہ تھا، اور آخری صلیبی جنگ میں صلیبیوں کی قیادت کر رہا تھا، ’’المنصورہ‘‘ میں صلیبیوں کی شکست کے بعد گرفتار ہو گیا، مگر مسلمانوں نے فدیہ لےکراسےچھوڑ دیا تھا، جب وہ فرانس پہنچا تو اس نے برملا یہ کہا کہ ’’یہ تلوار اور ہتھیار کی طاقت سے مسلمانوں کوکبھی زیر نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ ان کا عقیدہ ایمانی انتہائی مضبوط ہے، جو انہیں ہمیشہ جہاد پر آمادہ کرتاہے،اوردین کے خاطر ہر طرح کی قربانی کے لیے وہ تیار ہو جاتے ہیں، چاہے کتنی قیمتی چیز کیوں نہ قربان کرنی پڑے،یہاں تک کہ جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔
 لہٰذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ اب ہم اپنے اس طریقہ کو بدلیں، اور کوئی ایسا طریقہ اپنانے کی کوشش کریں جس سے ان کے عقیدہ راسخہ پر زد آئے، ان کا ایمان کمزور اور متذبذب ہو جائے، پھر اس نے چند تجاویز پیش کیں، جو یہ ہیں :
 (۱) سب سے پہلے ہمیں صحیح اسلامی فکر اور عقیدہ کو ضرب کاری لگانے کی ضرورت ہے، جس کے لیے ہمیں سب سے پہلے اسلام کا مطالعہ کرنا ہو گا۔
 (۲) اسلام کے مطالعہ کی غرض صرف یہ ہو کہ اس میں تحقیق اور ریسرچ کے نام پر اعتراضات کیے جائیں اورمسلمانوں کو اپنے عقیدے کے سلسلے میں شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیا جائے۔
 اس طرح صلیبی جنگ نے پانسا پلٹا، اور نئی کروٹ لی اور ’’عسکری میدان‘‘ سے ’’فکری میدان‘‘ کی طرف جنگ کارخ کر دیا گیا، اس کے لیے انہوں نے اسلام کا مطالعہ کیااور پھر قرآن، احادیث مبارکہ اور دیگر اسلامی علوم کواپنی زبانوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا، اور پھر ’’استشراق‘‘ کے نام پر مستقل ایک تحریک وجود میں آئی، جس نےشرقی لسانیات، مذاہب و علوم پر تحقیق کے لبادے میں اسلام پر زوردار حملے کا آغاز کر دیا۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: