حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ

وہ پاکیزہ رو، خوش شکل، لاغر اندام اور سبک رفتار شخصیت کے مالک تھے۔ انہیں دیکھ کر آنکھوں کوراحت ملتی اور ان سےمل کر روح کو سکون اور دل کو قرار میسر آتا تھا۔ علاوہ ازیں وہ بے حد خوش اخلاق منکسر المزاج اور شرم وحیاکےپیکرتھے۔ لیکن جب کوئی سخت معاملہ پیش آتا یاکوئی کٹھن گھڑی سامنے آتی تو وہ ایک بپھرے ہوئے شیر کی مانندنظرآتے۔ وہ رونق و صفائی اور تیزی اور کاٹ میں تلوار کی دھار کے مشابہ تھے۔ یہ امت محمّدیہ ﷺ کے امین حضرت ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح فہری قریشی ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ ان کی تعریف کرتے ہوئےکہتے ہیں:
قریش کے تین آدمی سب سے زیادہ درخشندہ رو، سب سے زیادہ خوش اخلاق اور سب سے زیادہ باحیا ہیں۔ اگر وہ تم سےبات کریں گے تو کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے اور اگر تم ان سے بات کرو گے تو کبھی تمہاری تکذیب نہیں کریں گے۔ وہ ہیں ابوبکر صدیق ؓ، عثمان بن عفان ؓ اور ابوعبیدہ بن جراح ؓ۔
حضرت ابوعبیدہ ؓ السابقون الاولون میں سے تھے۔ وہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے مسلمان ہونے کے دوسرے دن انہیں کےدست مبارک پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔حضرت ابوبکر ؓ ان حضرت عبدالرحمن بن عوف کو ، حضرت عثمان بن مظعون اور حضرت ارقم بن ارقم کو لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے اور ان لوگوں نے آپ ﷺ کے روبروکلمہ حق کا اعلان کیا۔ یہ لوگ بنیاد کی وہ خشتِ اولیں تھے جس پر اسلام کی عظیم الشان عمات تعمیر کی گئی۔
اگرچہ حضرت ابوعبیدہ ؓ نے مکہ میں رہتے ہوئےشروع سے آخر تک ان شدید ترین آزمائشوں کو برداشت کرتے ہوئے زندگی گزاری جن میں مسلمانوں کو مبتلا کیاگیا۔ انہوں نے ابتدائی مسلمانوں کے ساتھ مصائب و آلام کی جوسختیاں جھیلیں روئےزمین پر کسی دین کے متبعین نے نہ جھیلی ہوں گی۔انہوں نے بڑی پامردی اور عزم و حوصلہ کے ساتھ ان ابتلاوں کامقابلہ کیا اور ہر موقع پر خدا اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ سچی محبت کا ثبوت دیا لیکن غزوہ بدر کے موقع پر وہ جس  آزمائش میں مبتلا ہوئے اس کی سختی ہرخیال و تصور سے بالا تر تھی۔
وہ جنگ بدر میں صفوں کے درمیان اس طرح بڑھ بڑھ کر اور پینترے بدل بدل کر حملہ کررہے تھے جیسے ان کو نہ تو موت کا کوئی ڈر ہے نہ ہلاکت کا کوئی اندیشہ۔ ان کے حملوں نے مشرکین پر ان کی ہیبت طاری کردی اور قریش کےبڑےبڑےسورما ان کاسامنا کرنے سے کترانے لگے لیکن ان میں سے ایک شخص ایسا تھا کہ  جو ہر وقت انکاسامناکرنےکی کوشش کرتا اور ہر موقع پران کے بالمقابل آجاتا مگر وہ اس کےراستے سے ہٹ جاتے اور اس کے ساتھ مقابلہ کرنے سےپرہیز کرتے۔ وہ شخص بار بار ان کے اوپر حملہ آور ہوتا اور وہ ہر بار کترا کر دوسری طرف نکل جاتے۔ آخر کارا اس نےان کے لیے سارے راستے مسدود کردیئے۔ ان کے سامنے آکھڑا ہوا اور ان کے اور ان کے دشمنوں کے درمیان حائل ہوگیا۔
جب اس کی یہ حرکتیں حضرت ابوعبیدہ ؓ کی قوت برداشت سے باہر ہوگئیں تو انہوں نے اس کے سر پرتلوار کا ایک بھرپورہاتھ مارا اس کی کھوپڑی کے دو ٹکڑے ہوگئے اور وہ بے جان ہوکر گر پڑا۔
یہ اندازہ لگانے کی کوشش نہ کریں کہ مرنے والا شخص کون ہوگا۔پہلے ہی بتایا جا چکا ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر حضرت ابوعبیدہ ؓ  کا امتحان ہرقسم کے خیال وگمان سےبلند تھا ۔آپ کا سر چکرا جائے گا جب یہ بات آپ کے علم میں آئے گی کہ حضرت ابوعبیدہ کے ہاتھ سے مارا جانے والا شخص کوئی اور نہیں خود ان کا والد عبداللہ بن جراح تھا۔ انہوں نےاپنےو الدکونہیں ان کی شخصیت میں پائےجانےو الے کفر کو قتل کیاتھا ۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوعبیدہ ؓ اور ان کےوالد کے متعلق قرآن مجید کی یہ آیت نازل کرتے ہوئے فرمایا:
آپ اُن لوگوں کو جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کبھی اس شخص سے دوستی کرتے ہوئے نہ پائیں گے جو اللہ اور اُس کے رسول (ﷺ) سے دشمنی رکھتا ہے خواہ وہ اُن کے باپ (اور دادا) ہوں یا بیٹے (اور پوتے) ہوں یا اُنکےبھائی ہوں یا اُن کے قریبی رشتہ دار ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اُس (اللہ) نے ایمان ثبت فرمادیاہےاورانہیں اپنی روح (یعنی فیضِ خاص) سے تقویت بخشی ہے، اور انہیں (ایسی) جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اﷲ (والوں) کی جماعت ہے، یاد رکھو! بیشک اﷲ (والوں) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے۔( سورۃ المجادلۃ:22)
 حضرت ابوعبیدہ ؓ کی طرف سے اس بات کا صادر ہونا کچھ حیرت انگیز اور تعجب خیز نہ تھا۔ وہ اپنی قوت ایمانی، دینی نصح  وخیرخواہی اور امت محمّد یہﷺ کے لیے امانت داری کے اس مقام بلند پر فائز تھےکہ بہت سے لوگوں کی رشک آمیزنگاہیں ان کی طرف اٹھتی رہتی تھیں۔
محمّد بن جعفر نے بیان کیاہے کہ ایک بار نصاریٰ کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ  کی خدمت میں باریاب ہوا اور اس نےآپﷺ سے درخواست کی کہ “ابو القاسم” آپ ہمارے ساتھ اپنے اصحاب میں سے کسی ایسےشخص کو بھیجئےءجسکوآپ ہمارے لیے پسند کرتے ہوں تاکہ وہ ہمارے درمیان ان جائیدادوں کا فیصلہ کرے جن کے بارے میں ہمارےاندراختلاف پیدا ہوگیا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: تم دن کے وقت مجھ سے ملو۔میں تمہارے ساتھ ایک امین کوروانہ کروں گا۔
حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں ظہر کی نماز کے لیے بہت جلدی پہنچا،اور یہ خواہش تھی کہ رسول اللہ ﷺ مجھے ہی جائیدادوں کے فیصلے کی ذمہ داری سونپیں۔ میرے دل میں امارت کی کبھی خواہش پیدا نہیں ہوئی اور اس موقع پر امارت کی یہ خواہش اس لیے پیدا ہوئی کہ ممکن ہےکہ رسول اللہ ﷺ کے بیان کردہ وصف کا میں ہی مصداق ٹھہروں۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوکر اپنے دائیں بائیں دیکھنے لگے تو میں اچک اچک کر خود کو نمایاں کرنے لگا تاکہ آپ ﷺ کی نظر میرےاوپر پڑ سکے لیکن آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہونے کی بجائے اپنی نگاہوں کو مجمع کے درمیان گردش دیتےرہےیہاں تک کہ آپ کی نظریں ابوعبیدہ بن جراح پر جا کرٹک گئیں۔آپ ﷺ نے ان کو اپنے پاس بلایااور اہل وفدکی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ان کے ساتھ جاو اور ان کے درمیان پیدا شدہ نزاعی معاملے کا برحق اور مبنی برانصاف فیصلہ کردو: یہ دیکھ کر میں نےاپنے دل میں کہا” ابوعبیدہ اس فضیلت کولے اڑے۔
حضرت ابوعبیدہ ؓ صرف صفت امانت ہی سے متصف نہ تھے وہ امانت داری کے ساتھ ساتھ زبردست قوت ایمانی کے مالک بھی تھے اور بہت سے مواقع پر ان کی اس قوت کا اظہار بھی ہوچکا تھا۔ اس قوت کا اظہار خاص کر اس وقت ہوا تھا جب رسول اللہ ﷺ نےصحابہ کرام کا ایک دستہ قریش کے تجارتی قافلے سےتعرض کرنے کے لیے روانہ فرمایا اور حضرت ابوعبیدہ کواس کا امیر مقرر کیا تھا۔ روانگی کے وقت آپ ﷺ نے کھجوروں سے بھری ہوئی ایک تھیلی ان کے حوالے کی تھی۔ انہیں زاد سفر کے طور پردینے کے لیے اس وقت اس کے علاوہ دوسری کوئی چیز آپ ﷺ کو میسر نہ تھی۔ حضرت ابوعبیدہ اپنے ساتھیوں میں سے ہر ایک کوروزانہ ایک ایک کھجور دیتے اورہر شخص اس کھجور کو اس طرح چوستا جس طرح شیر خوار بچہ ماں کی چھاتیوں کو چوستا ہے اور اوپر سے پانی پی لیتا تھا۔ اور یہی اس کی پورے ایک دن کی خوراک ہوتی تھی۔
ان کی قوت ایمانی کا اظہار اس وقت بھی ہوا جب غزوہ احد کے موقع پر مسلمانوں کو شکست اور ان کے میدان چھوڑکربھاگ جانے کے بعد مشرکین آوازیں لگا رہے تھے ۔ ” ہمیں بتاو! محمّد ﷺ کہاں ہیں ؟بتاو ہمیں کہاں ہیں محمّدﷺ؟تو حضرت ابوعبیدہ ان دس افراد میں سے ایک تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے لیےان کو چاروں طرف سےاپنے گھیرے میں لے رکھا تھا تاکہ آپ ﷺ کی طرف بڑھنے والے مشرکین کے نیزوں کو اپنے سینوں پرروک لیں۔جنگ ختم ہوئی تو آپ ﷺ کے سامنے کے دودانت شہید ہوچکے تھے۔ پیشانی مبارک زخمی ہوگئی تھی اور رخسار مبارک میں خود کی کڑیاں چبھ گئی تھیں ۔ حضرت ابوبکر ؓ نے ان کو رخسار مبارک سےنکالنا چاہا تو حضرت ابوعبیدہ نے انہیں قسم دےکر کہا کہ یہ کام آپ میرے لیے چھوڑ دیں اور انہوں نے چھوڑدیا کہ ابوعبیدہ ؓ یہ خدمت انجام دیں۔
حضرت ابوعبیدہ کویہ اندیشہ تھا کہ اگر وہ کڑیوں کو ہاتھ سےکھینچ کر نکالتے ہیں توآپ ﷺ کو تکلیف ہوگی۔ اس لیے انہوں نے ایک کڑی کودانتوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑا اور زور لگا کر کھینچاتو وہ باہر آگئی مگر ساتھ ہی ان کا ایک دانت بھی ٹوٹ گیا۔پھر انہوں نے دوسری کڑی کو بھی اپنے دانتوں کی مضبوط گرفت میں لے کر زور لگایا کڑی پیشانی سے نکل گئی مگرانکادوسرا دانت بھی ٹوٹ کر الگ ہوگیا۔ حضرت ابوبکر ؓ کہا کرتے تھے کہ :ابوعبیدہ ان لوگوں میں سب سے اچھے ہیں جنکےآگے کے دانت ٹوٹے ہوئے ہیں۔”
حضرت ابوعبیدہ ؓ شروع سے آخرتک تمام غزوات میں حضوراکرم ﷺ کے ہم رکاب رہے اور جب سقیفہ بنی ساعدہ کا موقع آیا(جس موقع پر ابوبکر صدیق ؓ کے دست مبارک پر خلافت کی بیعت کی گئی تھی) تو حضرت عمر بن خطاب ؓ  نے حضرت ابوعبیدہ سے کہا کہ ” اپنا ہاتھ بڑھائیے آپ کی بیعت کروں۔ اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ سے یہ کہتے سناہے کہ:ہر امت کا ایک امین ہوتا  ہے اور ہماری امت کے امین تم ہو۔تو انہوں نے جواب دیا کہ :میں اس شخص سے آگے بڑھنے کی جرات کیسےکرسکتا ہوں جس کورسول اللہ ﷺ نے ہم مسلمانوں کا امام بنایا اور آپ ﷺ کی وفات تک وہ ہماری امامت کرتا رہا۔اور اس کے بعد جب حضرت ابوبکر ؓ کے دست مبارک پر خلافت کی بیعت ہوگئی تو حضرت ابوعبیدہ حق و صداقت کے معاملہ میں ان کے بہترین خیر خواہ اور خیر و فلاح میں ان کے قابل اعتماد معاون ثابت ہوئے۔
پھرحضرت ابوبکر نے اپنے بعد حضرت عمر بن خطاب ؓ  کے لیے خلافت کی وصیت کی اور اس کی ذمہ داریاں ان کےسپردکیں تو حضرت ابوعبیدہ نے مکمل طور پر ان کی اطاعت کی اور ایک مرتبہ کے علاوہ کبھی ان کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی۔ وہ کون ساموقع تھا جب حضرت ابوعبیدہ نے خلیفۃ المسلمین کے حکم کی خلاف ورزی کی تھی؟
ہوایہ کہ جس زمانے میں وہ شام کے علاقے میں لشکر مجاہدین کی قیادت فرمارہے تھے اور یکے بعد دیگرے فتح و کامرانی کےجھنڈے گاڑتے ہوئے پورے علاقے کوفتح کرتے ہوئے ایک طرف مشرق میں دریائےفرات اور دوسری جانب شمال میں ایشیائے کوچک تک پہنچ گئے تھے۔ شام میں اچانک طاعون کی زبردست اور غیر معمولی وباء پھوٹ پڑی جس نےبےشمارانسانوں کو اپنےبھیانک خونی پنجوں میں جکڑ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان گنت انسان لقمہ اجل بن گئے۔ حضرت عمر ؓ کواس کا علم ہوا تو وہ سخت تشویش میں مبتلا ہوگئے اور انہوں نےایک قاصد کواس پیغام کے ساتھ ابوعبیدہ کی خدمت میں روانہ کیا کہ اچانک مجھے ایک ضرورت پیش آّگئی ہے جس میں میرے لیے آپ سے مشورہ کرنا ناگزیر ہے۔ میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ اگر میرا خط آپ کے پاس رات کے وقت پہنچے تو صبح کا انتظار کیے بغیر عازم سفر ہو جائیں اور اگر دن کوملےتوشام ہونےسےپہلے رخت سفر باندھ لیجئے”۔ حضرت ابوعبیدہ ؓ کوجب حضرت عمر کایہ خط ملا تو انہوں نے فرمایا:
مجھے معلوم ہے کہ امیر المومنین ؓ کو مجھ سے کیا ضرورت ہے ۔ وہ ایک ایسے شخص کو بچانا چاہتےہیں جو بچنے والا نہیں ہے۔
پھر انہوں نے ان کے جواب میں لکھا: امیر المومنین میں سمجھ گیا کہ آپ ؓ کو مجھے سےکیا ضرورت ہے۔ میں مسلمانوں کےلشکر میں اور اپنےدل میں اس قسم کی کوئی خواہش نہیں پاتا کہ میں اپنے آپ کو اس وباء سے محفوظ کرلوں جس میں یہ
لوگ مبتلا ہیں میں اس وقت تک ان سے الگ نہیں ہوسکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ میرے اور انکے بارے میں اپنا فیصلہ نافذنہیں کردیتا۔اس لیے جب میرا یہ خط آپ کو ملے تو آپ مجھے اپنی قسم سے بری کردیجئے اور مجھے یہاں ٹھہرنے کی اجازت مرحمت فرما دیجئے۔
حضرت عمر نے یہ خط پڑھا تو رونے لگے اور ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے۔ حاضرین نے ان کی شدت گریہ کو دیکھ کر پوچھا کہ کیا ابوعبیدہ کا انتقال ہوگیا؟تو انہوں نےجواب دیا کہ:
نہیں ان کا انتقال نہیں ہوا ہے مگر موت ان سے زیادہ دور نہیں ہے۔
اور حضرت عمر کا یہ اندیشہ غلط نہیں تھا۔ اس لیے کہ اس کے کچھ ہی دنوں بعد وہ طاعون میں مبتلا ہوگئے اور جب ان کی موت کی گھڑی قریب آگئی تو انہوں نے اپنی فوج کووصیت کرتے ہوئے فرمایا:میں تم لوگوں کوایک وصیت کررہا ہوں اگراس پر عمل کرو گے تو ہمیشہ خیر وفلاح پر قائم رہو گے۔ دیکھو!نماز قائم کرو، ماہ رمضان کے روزے رکھو،صدقہ وخیرات کرتے رہو،حج اور عمرہ اداکرو،آپس میں ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کیاکرو، اپنے امراء کے ساتھ خیر خواہی کرو،انکےساتھ خیانت اورفریب سے کام نہ لو اور دنیا تم کو دھوکے میں نہ ڈالے۔ اس لیے کہ اگر آدمی کو ہزاروں سال کی طویل زندگی بھی مل جائے تب بھی اس کے لیے اس انجام سے دوچار ہونا ضروری ہے جس سے اس وقت میں دوچارہوں۔والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
پھر انہوں نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کی طرف متوجہ ہوتے ہوئےفرمایا:معاذ!میرے بعد لوگوں کو نماز تم پڑھاوگے۔اورتھوڑی دیر بعد طائر روح قفس عنصری سے پرواز کر گیا۔ اِناللہ وَاِنا الیہ راجعون۔
انتقال کے بعد حضرت معاذ بن جبل نے ان کو خراج عقیدت پیش کرتےہوئے فرمایا:
لوگو!تم ایک ایسے شخص کی موت کے صدمے سے دوچار ہو کہ بخدا میں نے آج تک کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو اس سے زیادہ مخلص و پاک طینت اور اس سے زیادہ شر و کینہ سے دور ہو۔ نہ میں نے کسی ایسے شخص کودیکھا جواس سےزیادہ آخرت سے محبت کرنےو الا اور مسلم عوام کاخیر خواہ ہو۔ اس کے لیے اللہ تعالی سے رحم کی دعا کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر رحم فرمائے۔(آمین)

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: