ملکۂ صَباءکاعظیم الشان تخت

سونے سے منڈھا، مروا رید سے جڑا شاہکار تخت بلقیس جسے یمنی عرش بلقیں بھی کہتے ہیں ‘ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتاہےکہ حضرت سلیمان کا دربار لگا ہوا تھا۔ سب درباری موجود تھے جن میں جنات بھی شامل تھے ۔ جو حضرت سلیمان کے تابع فرمان تھے ۔اس کا ذ کر قرآن حکیم میں آیا ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’اور جنوں میں سے وہ تھے جو اس کے سامنے خد مت انجام دیتے تھے اس کے پرور د گار کے حکم سے اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم کے خلاف کج روی کرے ، ہم اسے د وزخ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے ۔ وہ (جن) اس کیلئے بناتے تھےجو وہ کہتا تھا۔ قلعوں کی تعمیر، ہتھیار، تصاویر اور بڑے بڑے لگن جو حوضوں کی مانند تھے اور بڑی دیگیں جو اپنی بڑائی کی وجہ سےایک جگہ جمی رہیں ۔ اے آل داؤد! شکر گزاری کے کام کرو اور میرے بندوں میں بہت کم شکر گزار ہیں ۔‘‘ (سورۂ سباآیات 13,12)
اس مجلس میں جب حضرت سلیمان کو ملکہ بلقیس کی آمد کا علم ہوا تو آپ نے تمام درباریوں کو مخاطب فرمایا:
 تم میں سے کون ہے جو ملکہ بلقیس کے تخت کو مجلس برخاست ہونے سے قبل یہاں لے آئے ؟ یہ سنتے ہی ایک جن آگےبڑھااور گویا ہوا، حضور! آج کا یہ دربار برخاست ہونے سے قبل میں اس کا تخت میں آپ کے قدموں میں لا کر ڈال سکتاہوں ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام فرمانے لگے ، نہیں تب تو بہت دیر ہو جائیگی۔ مجھے تو اس سے بھی بہت پہلے ملکہ کا تخت یہاں چاہئے ۔‘‘
ملکہ کے تخت کے بارے میں مختلف کتب میں مختلف روایات آئی ہیں ۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ :یہ وہی تخت ہےجوہدہدنےدیکھاتھااور واپس آ کر حضرت سلیمانؓ کو بتایا تھا اور اس کا فاصلہ حضرت سلیمان کی حدود مملکت بیت المقدس سےتقریباًڈیڑھ ہزار میل کے فاصلے پر تھا۔ اس تخت کے متعلق یہ بھی لکھا ہے کہ اس طول 80 ہاتھ اور عرض 40 ہاتھ تھااوراس کی اونچائی 30 ہاتھ تھی۔ اس میں سرخ یا قوت، سبز ز مرد اور کئی اقسام کے موتی جڑے ہوئے تھے ۔ (فتح القدیر)
 تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ :اس کا تخت نہایت ہی شان دار ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونےسےمنڈھاہواہےاورجڑاؤ۔ور مروارید کی اس پر کاری گری کی ہوئی ہے ۔ یہ 80 ہاتھ اونچا 40 ہاتھ چوڑا تھا۔ یہاں 600 عورتیں اس کی خدمت کیلئے ہر وقت کمر بستہ رہتی تھیں ۔ اس کا یہ دیوان خاص جس میں یہ تخت رکھا تھا بہت بڑا محل تھا۔ بلندو بالا، کشادہ و فراخ، پختہ و مضبوط اور صاف تھا جس کے شرقی حصے میں 360 طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں بھی تھے۔
اسے اس صنعت سے بنایا گیا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابل کے طاق میں غروب ہوتا۔ اہل دربارصبح و شام اسے سجدہ کرتے تھے ۔ حکمراں اور رعایا سب سورج پرست تھے ، توحید پرست ان میں کوئی ایک نہ تھا۔ اس عظیم الشان تخت کو حضرت سلیمان کے دربار میں لانے کی ذمے داری ایک قوی ہیکل سر کش جن کو زن نے لی۔ فرمایا کہ ٹھیک ہے جاؤ اور لے آؤ۔ اجازت ملتے ہی برخیاہ پلک جھپکتے ملکہ بلقیس کا تخت اٹھا لایا اور حضرت سلیمان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ اس کا ذکر قرآن حکیم میں بھی موجود ہے :
’’جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا وہ بولا، میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لا دیتا ہوں ۔ جوں ہی سلیمان نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا، فوراً بول اٹھا کہ یہ میرے رب کا فضل ہے ۔ ‘‘ (سورۂ النمل آیت 39)
ابن عباس کا قول ہے  کہ :وہ آصف تھے جو سلیمان کے کا تب تھے ۔ ان کے والد کا نام برکیا یا برخیاہ تھا۔ ایک اور روایت میں تخت لانے کا نام برخیاہ لکھا ہے ۔ ایک جگہ انہیں ولی اللہ لکھا ہے جو اسم اعظم بھی جانتے تھے ۔ مجاہد کہتے ہیں کہ ان کا نام اسطوم تھا۔ بلیخ مروی ہے کہ ان کا لقب ذوالنور تھا۔ جب تخت آ گیا تو حضرت سلیمان نے حکم دیا کہ اس کے تخت میں کچھ پھیر بدل کر دو، تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہ راہ پا لیتی ہے یا اس سے ہوتی ہے جو راہ نہیں پاتے ۔ ‘‘ (النمل آیت 41)
اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے مفسرین لکھتے ہیں کہ تخت کے رنگ، روپ یا ہیئت میں تبدیلی کی بناء پر وہ اپنے تخت کوپہچان پاتی ہے یا نہیں ، تخت میں طبیعیاتی تبدیلی ہو جانے کی وجہ سے اس نے صاف الفاظ میں اسکےاپنےہونےکااقراربھی نہیں کیا۔
رد و بدل کے باوجود انسان اپنی چیز کو پہچان ہی لیتا ہے ، اس لیے اپنے ہونے کی نفی بھی نہیں کی اور یہ کہا کہ ’’گویا وہی ہے ‘‘ اس میں اقرار ہے نہ نفی، بلکہ نہایت محتاط درمیانہ جواب ہے ۔ اصل الفاظ قرآن حکیم کے مطابق یہ ہیں ۔
’’پھر جب وہ آ گئی تو اس سے کہا گیا، ایسا ہی تیرا تخت ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ وہ گویا وہی ہے ۔ ہمیں اس سے پہلے ہی علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے ۔ ‘‘
(آیت 42 اس سے اگلی آیت میں فرمایا گیا: ’’اسے انہوں نے روک رکھا تھا جن کی وہ اللہ کے سوا پر ستش کرتی رہی تھی۔ یقینا وہ کافر لوگوں میں سے تھی۔‘‘ (النمل آیت 43)
حضرت سلیمان نے ملکہ بلقیس کی مہمان نوازی کے طور پر جنات سے ایک محل تعمیر کروایا جس کا فرش شفاف شیشےکاتھااورشیشے کے نیچے پانی سے بھر ا وسیع و عریض حوض تھا۔ اس پر چلنے والا یہ امتیاز نہیں کر سکتا تھا کہ وہ درحقیقت شیشےکےفرش پر چل رہا ہے ۔ چنانچہ یہی مغالطہ بلقیس کو بھی ہوا اور اس پر چلتے ہوئے اپنے پائینچے اوپر کر لیے جیسے وہ پانی پر سےگزر رہی ہو اور اپنے لباس کو گیلا ہونے سے بچا رہی ہو۔قرآن حکیم میں ارشاد ہے :’’اس سے کہا گیا کہ محل میں چلی چلو۔ اسے دیکھ کر یہ سمجھ کر کہ یہ حوض ہے ، اس نے اپنی پنڈ لیاں کھول دیں ، فرمایا، یہ تو شیشے سے منڈھی ہوئی عمارت ہے ۔ کہنے لگی، میرے پرورد گار! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی مطیع اور فرماں بردار ر بنتی ہوں ۔ ‘‘ (سورة النمل (آیت 44)
فرش کی حقیقت بلقیس پر ظاہر ہونے کے بعد اسے اپنی کوتاہی کا احساس ہو گیا اور اس نے اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہوئے ، مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔ کتب تواریخ اور مختلف مذاہب کی کتب میں جنوں کی تعمیرات سے متعلق کئی شواہد ملے ہیں ۔
حضرت داؤد نے بیت المقدس کی تعمیر کا سلسلہ شروع کیا، لیکن وہ اپنی زند گی میں اسے پایہ تکمیل کو نہ پہنچا سکے اور داعی اجل کو لبیک کہا۔ پھر ان کی اس ادھوری تعمیر کا بیڑا حضرت سلیمان نے اٹھایا۔ یہ ایک عجوبہ تھا جس کی شہادت قرآن حکیم ان الفاظ میں دیتا ہے ۔ ’’ پھر جب ہم نے ان پر موت کا حکم بھیج دیا تو ان کی خبر جنات کو کسی نے نہ دی سوائے اس گھن (دیمک) کے کیڑے کے جوان کے عصا کو کھا رہا تھا۔ پس جب (سلیمان) گر پڑے اس وقت جنوں نے جان لیا کہ اگر وہ غیب داں ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے ۔‘‘ (سورۂ سبا آیت 14)
مفسرین کا اجماع ہے کہ حضرت سلیمان بیت المقدس میں ہیکل کی تعمیر اپنے زیر تابع جنات سے کروا رہے تھے کہ فرشتہ اجل آپ کی موت کا پروانہ لے آیا۔ ابن کثیر اپنی تفسیر میں ایک اسرائیلی روایت کا حوالہ دیتے ہیں:
جب حضرت سلیمان کی خد مت میں فرشتہ اجل نے حاضر ہو کر یہ پیغام سنایا کہ ان کی موت میں چند ساعتیں ہاقی ہیں تو انہوں نے یہ سوچ کر کہ کہیں جن تعمیر کو ناقص نہ چھوڑ دیں فوراً جنوں سے آبگینے کا ایک حجرہ بنوایا جس میں دروازہ نہیں رکھا اور خود اس کے اندر بند ہو کر لاٹھی کے سہارے کھڑے ہوئے اور مشغول عباد ت ہو گئے ۔ اسی حال میں موت کے فرشتے نے اپنا کام پورا کر لیا۔ تقریباً ایک سال تک آپ اسی طرح کھڑے رہے اور جن اپنی تعمیرات میں مصروف رہے لیکن جوں ہی تعمیر کھل کر کے فارغ ہوئے تو سلیمان کی لاٹھی کو دیمک اندر سے بالکل چاٹ چکی تھی۔ پھر وہ حضرت سلیمان کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اور آپ زمین پر گر گئے ، تب جنوں کو معلوم ہوا۔‘‘ حضرت سلیمان نے ایک نہایت عالی شان محل تعمیر کروایا تھا جس کی اینٹیں سونے اور چاندی کی تھیں ۔ چھتوں پر یا قوت اور زمرد جڑے ہوئے تھے ۔ اس میں آپ کیلئے ایک تخت بھی بنا ہوا تھا۔ 36 کوس لمبے علاقے پر محیط اس محل میں رکھے ہوئے تخت کی لمبائی 3 کوس بتائی
جاتی ہے جو تمام ہاتھی کے دانت سے تیار کیا گیا تھا۔ اس میں بھی تمام اقسام کے لعل گوہر جڑے ہوئے تھے ۔ صرف یہی نہیں اس کے چاروں کو نوں پر درخت بنائے گئے تھے جن کی ڈالیاں سونے سے تیار کی گئی تھیں ۔ ہر ڈالی کے اندر ایک طوطی اور طاؤس بنا کر ان کے پیٹ میں مشک بھرا گیا تھا جس کے خوشے انگور کی مانند تھے ۔ تخت کے نیچے دائیں اوربائیں جانب سونے کی ایک ہزار کرسیاں لگائی گئی تھیں جن پر لوگ بیٹھتے تھے ۔ان کے پیچھے جنات اور انسانوں میں سےغلام کھڑے ہوتے تھے ۔ اس محل میں کئی محرابیں تھی جہاں عابد و زاہد اپنی عبادت میں مشغول رہا کرتے تھے ۔ اس روایت کو پڑھ کر اغلب گمان یہی ہوتا ہے کہ یہ محل میں جو دیگیں بتائی گئی ہیں وہ بہت بڑے بڑے پتھروں کو تراش کر بنائی گئی تھیں جنہیں ابر پانی سے بھرتے تھے اور اس میں پکے کھانوں سے ہزاروں کی تعداد میں مخلوقات شکم سیری کیا کرتی تھیں ، جب کہ حضرت سلیمان کے بارے میں آیا ہے کہ وہ اس میں سے ایک دانہ بھی تناول نہیں فرماتے تھے ۔ جن انسانوں کی طرح فنا ہونے والی مخلوق ہے اور انسانوں کی طرح ذی اختیار ہے ۔ یعنی جنوں کو خیر و شر کا انتخاب کرنے کی آزادی ہے ۔ وہ جزا اور سزا کے مکلف ہیں ۔ سریع الحرکت ہونے کی وجہ سے جن ایک جگہ سے دوسری جگہ چند لمحات میں پہنچ جاتے ہیں اور یہ اپنی شکلوں کو مختلف اشکال میں بھی ڈھال لیتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ان مقامات پر غیر محسوس طریقے سے نفوذ کر جاتے ہیں جہاں خاکی اجزاءسے بنی اشیاء نفوذ نہیں کر سکتیں ۔ ان کا نفوذ وہاں محسوس ہو جاتا ہے ۔ یہ سب امور بھی اسی وجہ سے ممکن اور ناقابل فہم ہیں کہ وہ دراصل آگ سے بنی مخلوق ہے جس میں مسلم اور کافر دونوں ہیں ۔ کافر جن زیادہ شریر ہوتے ہیں اور مشکل سے قابو میں آتے ہیں ۔ان میں نر اور مادہ دونوں ہیں ۔ یہ عالم بالا کی جانب پرواز کرتے ہیں ، مگر ایک حد تک! اس سے آگے ان کا گزر بھی ممکن نہیں ۔ یہ انسانوں کی طرح مل جل کر رہنے والی
قوم یا مخلوق ہے ۔ عام خیال ہے کہ جن اپنی سر گرمیاں اکثر رات کے اوقات میں کیا کرتے ہیں اور صبح ہوتے ہی انہیں تر کر دیتے ہیں ۔ اہل علم لکھتے ہیں کہ جنوں کے بارے میں قرآن حکیم رسید کیے جائیں گے ، مگر ان کے بہشت میں جانے کا یا ان نعمتوں کے ملنے کا جو اہل ایمان کو عطا کی جائیں گی۔ کہیں بھی ذکر نہیں ہے ۔ المام یوسف اور امام محمد کا قول ہے کہ جنوں کو اطاعت الٰہی پر ثواب بھی ملے گا اور وہ جنت میں بھی جائیں گے۔
3 comments
  1. لفظ سبا ہے صبا نہیں

    سورت سبا کی آیات 12 و 13 کا ترجمہ یہ ہے
    . اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے (ہم نے) ہوا کو (مسخّر کر دیا) جس کی صبح کی مسافت ایک مہینہ کی (راہ) تھی اور اس کی شام کی مسافت (بھی) ایک ماہ کی راہ ہوتی، اور ہم نے اُن کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا، اور کچھ جنّات (ان کے تابع کردیئے) تھے جو اُن کے رب کے حکم سے اُن کے سامنے کام کرتے تھے، اور (فرما دیا تھا کہ) ان میں سے جو کوئی ہمارے حکم سے پھرے گا ہم اسے دوزخ کی بھڑکتی آگ کا عذاب چکھائیں گے
    . وہ (جنّات) ان کے لئے جو وہ چاہتے تھے بنا دیتے تھے۔ اُن میں بلند و بالا قلعے اور مجسّمے اور بڑے بڑے لگن تھے جو تالاب اور لنگر انداز دیگوں کی مانند تھے۔ اے آلِ داؤد! (اﷲ کا) شکر بجا لاتے رہو، اور میرے بندوں میں شکرگزار کم ہی ہوئے ہیں
    آیت 39 کا ترجمہ یہ ہے
    ایک قوی ہیکل جِن نے عرض کیا: میں اسے آپ کے پاس لاسکتا ہوں قبل اس کے کہ آپ اپنے مقام سے اٹھیں اور بیشک میں اس (کے لانے) پر طاقتور (اور) امانت دار ہوں

    وما علینا الابلاغ

  2. میرا خیال ہے آپ کی تحاریر پڑھنا چھوڑ دوں ۔ قرآن شریف کے غلط حوالے پڑھ کر خواہ مخوا اذیت ہوتی ہے

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: