اللہ جو چاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے

اللہ تعالیٰ جب چاہے اور جس کے لئے چاہے ، یہ اصول ٹوٹ سکتے ہیں۔ ایک مردہ آدمی صرف اللہ کے اِذن اور چاہنے سے زندہ ہو سکتا ہے۔ اور ایک بوڑھا آدمی یا نومولود بچہ صرف اللہ کے چاہنے سے یکایک جوان ہو سکتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن چونکہ ایسے کام صرف اور صرف اللہ کی قدرت اور اختیار میں ہیں (کیونکہ اسباب صرف اسی کے محکوم ہیں اور وہ ان کے قوانین سے بالا ہے) اس لئے اگر ایسے کسی کام کا کہیں واقع ہونا ثابت ہو جائے تو ان کا کرنے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کومانناچاہیے۔

 

اسباب کی پابندی میں تمام انسان یکساں ہیں

 اللہ تعالیٰ نے کسی بھی قسم کی مخلوق کے لئے جو اسباب مقرر فرما دیے ہیں، وہ اس مخلوق کے تمام افراد کے لئے یکساں حیثیت  کے حامل ہوتے ہیں۔ انسانوں کے کاموں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو اسباب طے کر دیے ہیں وہ تمام انسانوں کے لئے ایک جیسےہیں۔ ان اسباب کو استعمال کرنے کی صلاحیت مختلف انسانوں میں کم زیادہ ضرور ہو سکتی ہے لیکن کوئی انسان ان اسباب سےکسی بھی معاملہ میں بالکل آزاد نہیں رہ سکتا۔ انبیاء علیہ السلام بھی انسان اور بشر تھے۔ وہ کھاتےتھے، پیتے تھے اور بازاروں میں اشیائے ضرورت کی خرید و فروخت کے لئے آتے جاتے تھے۔انہیں بھی تکالیف اور پریشانیاں محسوس ہوتی تھیں۔ بلکہ سب انسانوں میں سب سے زیادہ تکالیف انبیاء علیہ السلام نے ہی اٹھائی ہیں۔ اگر وہ اسباب کے بغیر زندگی گزارنے کی قوت رکھتےہوتے، یا اُن پر اپنی مرضی کے مطابق قدرت رکھتے ہوتے تو سب سے پہلے اپنے آپ کو کھانے پینے کی سےآزادکرتے،اورجن جن اسباب سے ان کو تکالیف پہنچتی تھیں ان کو اپنے سے دور کر دیتے۔ کون ہے جو طاقت رکھنےکےباوجود خواہ مخواہ تکلیفیں اور پریشانیاں اُٹھاتا رہے؟!
اللہ اپنے اختیار کا اظہار کس طرح کرتا ہے؟ البتہ بعض بہت ہی خاص حالات میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے اپنے برگزیدہ بندوں (انبیاء علیہ السلام اور اولیائے کرام) سے کچھ ایسے کام کروا دیتا ہے جو دراصل خود ان کی طاقت و اختیار سے باہرہوتےہیں، اور دنیا کے عام طبیعی قانون سے ہٹ کر واقع ہوتے ہیں۔ ایسے کام بہت شاذ و نادر ہوتے ہیں اور انکےہونےمیں ان ہستیوں کی مرضی اور چاہت کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ نہ ہی ان ہستیوں کو لازمی طور پر ان اُمور کے ہو جانے کا پہلے سے علم ہوتا ہے۔ ایسے کام اللہ تعالیٰ انبیاء علیہ السلام سے ظاہر کرائے تو وہ معجزات کہلاتے ہیں۔ اور اگر یہ دیگر نیک ہستیوں سےصادرہوں تو کرامات کہلاتے ہیں۔ معجزات و کرامات کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد بھی کرتا ہےاوردیگرلوگوں کو اپنی قدرت کی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ وہ اللہ پر ایمان لے آئیں۔
صرف انہی معجزات پر ایمان رکھنا ضروری ہے جو قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہوں۔ باقی رہیں کرامات، تو جب تک روایتوں کا سچا ہونا ثابت نہ ہو جائے، کسی کرامت کو بیان نہیں کرنا چاہیے۔ نیز، عمومی طور پر تو کرامات کے وقوع پر یقین رکھاجائے لیکن (خصوصاً موجودہ دور یا ماضی قریب کے) کسی خاص واقعے کی نسبت سے کسی کرامت پر ایمان رکھنا لازمی نہیں۔

معجزات انبیاء کے اختیار میں نہیں ہوتے

 معجزہ یا کرامت کا ہونا اس بات کی دلیل ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ جس ہستی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر کیا گیا ہے، وہ مادی اسباب کو استعمال کئے بغیر جو چاہے کر سکتی ہے، یا جو سبب جس خاص کام کے لئے بنایا گیا ہے وہ اس کے اندر سے اسکی تاثیرنکال سکتی ہے۔ یا یہ کہ اسباب اس کے محکوم ہیں اور وہ ہستی غیبی اختیارات رکھتی ہے۔ مثلاً آگ کا کام جلانا ہے۔ کوئی بھی شخص،چاہے وہ نبی ہو یا ولی یا عام آدمی، آگ سے جلانے کی تاثیر کوئی اور مادی سبب استعمال کئے بغیر ختم نہیں کر سکتا۔ جو بھی انسان عام حالات میں، کوئی کیمیکل یا مخصوص لباس استعمال کیے بغیر آگے میں داخل ہو گا، آگ اُسے ضرور جلائے گی۔ البتہ معجزہ یا کرامت کا واقع ہونا اس بات کی دلیل ضرور ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے کسی کام کو اس کے اسباب کے بغیر واقع کروا دے یا کسی کام کے لئے موجود سبب میں سے اس کی تاثیر نکال دے۔ مثلاً چاند کا دو ٹکڑے ہو کر دوبارہ جڑ جانا عام حالات میں کسی انتہائی غیر معمولی سبب کے بغیر ممکن نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس معجزے کو بغیر کسی سبب کے مشرکینِ مکہ کےسامنےرسول اللہ ﷺپر ظاہر فرمایا۔ اسی طرح آگ کا کام جلانا ہے۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا تو وہ اپنی جلانےکی تاثیر کھو بیٹھی اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی۔
اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی نبی علیہ السلامکو معجزہ پر قادر یا مختار نہیں بنایا ،کہ وہ جب چاہیں اپنی قوم کے سامنے اس کا مظاہرہ کرلیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو انبیاء علیہ السلام کے بغیر ہی اپنے معجزات لوگوں پر ظاہر کر دیتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت اور طریقہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ اس نے ہر قوم میں اپنی عبادت کی دعوت اسی قوم کے کسی فرد کو رسول بنا کر بھیجی۔اور ایک بھی حکم بغیر رسول کے نازل نہیں فرمایا۔پس یہ بھی اسی حکمت کا تقاضہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے معجزات کا اظہار اپنے رسولوں کے ذریعے فرمایا۔

اللہ اپنے اختیارات کسی کو نہیں دیتا

 غرض ایک بندہ کی مرضی اور چاہت ہے اور ایک اللہ کی مرضی اور چاہت۔ اور اسی طرح ایک بندہ کی قدرت واختیارہےاورایک اللہ کی قدرت و اختیار۔ اللہ کی قدرت و اختیار اس قدر وسیع ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اسی کا غلام اور محکوم ہے،اور وہ اپنی ہر مرضی اور چاہت پوری کر سکتا ہے۔ اور بندہ خواہ نبی ہو یا ولی، اس کا اختیار اس قدر محدود، بلکہ اس قدربےاختیار کہ مالک کے طے کردہ اسباب و قوانین کے تحت اسی کی غلامی کا پابند ہے۔ بھلا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کوکیا ضرورت کہ کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی اپنے کسی بندہ کو ایک ذرہ کے برابر بھی اپنے اختیار کے جیسا اختیار عطا فرمائے؟ اور اگر وہ ایساکر لیتا تو اس طرح تو پھر وہ اپنی مخلوق کو خود ہی اپنے ساتھ شریک کر لیتا۔ گو ایک چھوٹی سی چیز پر ہی سہی اور ایک ذرہ کےبرابر ہی سہی۔! (نعوذ باﷲ)۔ پھر اگر معاذ اللہ کسی ہستی کا ایک ذرہ کے برابر بھی کسی چیز کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کا شریک یا اس کے جیسا ہونا ممکن ہوتا تو پھر اس سے زیادہ ہونے میں بھلا کیا رکاوٹ تھی؟ جب یہ ممکن ہو سکتا تھا تو پھر یہ بھی ممکن ہوسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی ہستی (مثلاً نبی یا ولی)کو کسی چیز کے معاملے میں ‘’ہر طرح سے’‘ اپنے اختیار جیسا اختیار عطا فرما دیتا۔!!
پھر جب ایک ‘’ایک چیز کے معاملے میں’‘ کسی مخلوق کو اللہ کی طرف سے اس کے اپنے اختیار جیسا اختیار عطا ہو سکتا تھا تو پھر‘’تمام چیزوں کے معاملے میں’‘ اسی کے اختیار جیسا اختیار کیوں نہ عطا ہو سکتا تھا؟؟ اس طرح خالق اور مخلوق کے درمیان کیاخاص فرق باقی رہ جاتا؟ پھر اللہ تعالیٰ انبیاء علیہ السلام کو لوگوں کے پاس کس چیز کی دعوت دینے کے لئے بھیجتا؟؟
اسباب کو انبیاء علیہ السلام اور اولیاء کرام کا محکوم سمجھ لینا اور ان میں اللہ کے اختیار جیسے اختیارات (چاہے تھوڑے سے ہی ہوں) مان لینا، یہ سوچ لینے سے جائز اور ممکن نہیں ہو جاتا کہ ان انبیاء علیہ السلام اور اولیاء کو یہ تمام اختیارات اللہ تعالیٰ نےہی عطا کیے ہیں، انہوں نے اپنے اندر خود سے تھوڑی پیدا کیے ہیں!! اللہ تعالیٰ بہت بلند اور پاک ہے اس بات سے کہ وہ اپنی کسی مخلوق کو کسی معمولی چیز پر بھی اپنے اختیار جیسا اختیار یا کوئی اور صفت ذرہ برابر بھی عطا فرمائے۔ اور پھرانبیاء علیہ السلام کو بھی بھیج دے کہ وہ لوگوں کو شرک سے بچنے تلقین کریں!! کونسا شرک ہو گا اس کے بعد، جس سے انبیاء علیہ السلام لوگوں کو روکیں گے؟
وَ لَا یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖ اَحَدًا۔ ‘’اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔’‘ (الکہف:۶۲)۔

وہی ہوتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے

 اللہ تعالیٰ کا اختیار یہی تو ہے کہ زمین و آسمان کی ہر ایک مخلوق خواہ جاندار ہو یا بے جان، ہر طرح سے اللہ کے فرمان کی پابنداور اسی کی محکوم ہے۔ اس کے اختیار کی تو یہ شان ہے کہ وہ کام کو ہو جانے کا حکم فرماتا ہے تو کام ہو کر رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور چاہت ہو اور کام نہ ہو، یہ ہرگز ہرگز نہیں ہو سکتا، کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔ پھر کیا اللہ کے سوا کوئی اور ہستی ایسی ہے جس کی جب بھی، جو بھی چاہت ہو، وہ پوری ہو جائے؟
کیا انبیاء کرام جو چاہتے ہیں ہو جاتا ہے؟ رسول کریم ﷺسے زیادہ اللہ تعالیٰ کو کون محبوب ہو گا؟ تمام مخلوقات میں آپ ﷺسے زیادہ معزز و مکرم بھلا کون ہو گا؟ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺکی کئی چاہتیں پوری نہ ہو سکیں۔ صرف  وہی خواہشیں پوری ہو سکیں جن کا پورا ہونا خود اللہ تعالیٰ کو منظور تھا۔ رسول کریم ﷺنے آغازِ نبوت میں چاہا کہ مکہ کےسب لوگ اسلام لے آئیں۔ لیکن تیرہ سال تک دعوت دیتے رہنے کے باوجود مٹھی بھر چند افراد کے سوا کسی نے ایمان قبول نہیں کیا۔ یہاں تک کہ مکہ والوں کی بدسلوکیوں کی وجہ سے رسول اللہ ﷺکو اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ مدینہ ہجرت کرنا پڑی۔ اگر اسباب اللہ کے رسول ﷺکے محکوم ہوتے یعنی ان کے پاس اللہ کے اختیارات جیسے اختیارات (تھوڑےسےہی)ہوتےتوپھرمکہ کے تمام لوگ آپ ﷺکے خواہش کے مطابق اسلام قبول نہ کر لیتے؟؟ پھر کسی میں ہمت ہوتی کہ رسول کریمﷺاورانکےصحابہؓ کو کوئی تکلیف پہنچانے کا خیال بھی دل میں لاتا؟؟ پھر طائف کے کفار آپ ﷺکو پتھر مار مار کر زخمی کر دینے کی جرات کر سکتے تھے؟ پھر اُحد اور حنین وغیرہ کے میدانوں میں آپ ﷺکو کفار سے جنگیں لڑنے کی زحمت اورمشقت اٹھانا پڑتی؟ پھر اُحد کی جنگ میں رسول اکرم ﷺزخمی ہوتے؟ اور مسلمانوں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا؟؟ پھررسول اللہ ﷺکو اپنی تمام زندگی تکالیف اور آزمائشوں میں بسر کرنا پڑتی؟؟؟

نبی کریمﷺنے اختیارات کیوں نہیں استعمال کیے؟

اگر کوئی یہ کہے کہ رسول اللہ ﷺکے پاس اختیارات تو سب تھے لیکن وہ ان کو تب ہی استعمال کرتے تھے جب اور جہاں اللہ کا حکم ہوتا تھا۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ پھر ایسے اختیار کا کیا فائدہ؟ ایسا اختیار کس کام کا جسے آدمی اپنی مرضی اور منشاء کےمطابق  استعمال ہی نہ کر سکے؟ اور جب شروع سے آخر تک ہمیشہ یوں اللہ ہی کی مرضی اور اس کا حکم چلنا ہے تو پھر اللہ اپنا اختیار کسی کو عطا ہی کیوں فرمائے گا؟مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو دین میں ان کی طاقت کی حدود کے مطابق پابند کیا ہے۔ جو جس کام کا زیادہ اہل ہوتا ہے اس پر اس کام کی ذمہ داری بھی زیادہ ہوتی ہے۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ اگر جنگیں لڑےبغیرکفارپرقابوپانے کی طاقت اور اختیار رسول اللہ ﷺکے پاس ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسے استعمال میں کیوں نہ لانے دیتا؟یاکم از کم جنگ اُحد میں مسلمانوں کو شکست کھاتا دیکھ کر رسول اللہ ﷺاپنی غیبی طاقت کے ذریعے کفار کو پسپائی پر تو مجبور کر ہی سکتے تھے! مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی طاقت کبھی کسی کو ایک لمحہ کے لئے بھی عطا نہیں فرمائی۔

اختیار صرف اللہ کا ہے

 اللہ تعالیٰ اکیلا و تنہا لوگوں کی عبادتوں کا حقدار اور سزوار ہے۔ کیونکہ صرف وہی تمام طاقتوں، اختیارات اور اقتدار کا مالک ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کو اپنی جیسی طاقت یا اختیار ذرہ برابر بھی دیا ہوتا تو پھر اس کی عبادت کرنے سے بھی منع نہیں فرماتا۔کیونکہ اس نے اگرکسی کو اپنی صفات میں شا مل اور شریک کرنا تھا تو پھراُسے عبادت میں بھی اپنے ساتھ شریک کرواتا۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا کسی کی معمولی سی عبادت کرنے کو بھی انتہائی سختی سے منع فرمایا ہے۔ اور تمام انبیاء علیہ السلام کوبھی یہی دعوت دینے کے لئے بھیجا ہے۔ کیونکہ اس نے اپنے جیسا اختیار ذرا سا بھی کسی کو عطا نہیں فرمایا۔
اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ تَبَارَکَ اﷲُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ (الأعراف:۴۵)‘’
آگاہ رہو :پیدا کرنا اور حکم صادر کرنا اُسی کا حق ہے بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔’‘
اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلاَّ تَعْبُدُوْآ اِلَّاآ اِیَّاہُ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَـِــیّمُ وَ ٰلکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (یوسف:۰۴)
‘حکومت صرف اللہ کی ہے۔ اُسی نے حکم دیا ہے کہ تم صرف اُس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا دین ہے۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔’‘
کیا وفات کے بعد اختیارات میں اضافہ ممکن ہے؟ بعض لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ انبیاء علیہ السلام اور اولیاء کرام اپنی زندگیوں میں نہیں، تو وفات کے بعد ضرور بہت سے غیبی اختیارات اور قدرتوں کے مالک بن جاتے ہیں۔ پھر وہ دور و نزدیک ہر جگہ سے لوگوں کی پکاروں کو سنتے ہیں، ان کی مدد کو حاضر ہوتے ہیں اور مشکل کشائی فرماتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ غرض کئی معاملات میں جس طرح چاہتے ہیں، کرتے ہیں۔ گویا دنیا کے بہت سے اسباب و قوانین ان کے حکم کے غلام بن جاتے ہیں۔
یہ ایک اور نہایت تعجب خیز دعویٰ ہے، جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ اس بات کی تائید قرآن میں، رسول اکرم ﷺکے فرامین میں اور صحابہ کرامؓ کے اقوال وغیرہ میں کہیں بھی سرسری طور پر بھی نہیں ملتی۔ رسول کریم ﷺنے اپنی حیاتِ طیبہ میں توقطعاًایسی بات ارشاد نہیں فرمائی۔ آپ ﷺکی وفات کے بعد اب کسی زندہ شخص کی ملاقات آپ ﷺسے ممکن نہیں۔ پھرلوگوں کو عقیدے کے طور پر یہ بات کہاں سے ملی؟ درحقیقت یہ لوگوں کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں جو شیطان نے ان کےدلوںمیں ڈال دی ہیں، تاکہ انسانوں کو نجات کی راہ سے دور بھٹکا سکے۔

روحوں کو دنیا میں آنے کی ضرورت نہیں

 پھر انبیاء علیہ السلام اور اولیاء کرام جیسی انتہائی مکرم ہستیوں کی ارواحِ مبارکہ کو اللہ تعالیٰ کے پاس جنتوں میں جو نعمتیں نصیب ہیں اور جو راحتیں میسر ہیں، ان کے ہوتے ہوئے انہیں بھلا کیا ضرورت ہے کہ وہ دوبارہ اس مادی دنیا سے اپنا تعلق قائم کرنےکی فکر فرمائیں؟ اگر کوئی یہ کہے کہ ان انبیاء علیہ السلام اور اولیاء کی روحوں کا دنیا میں تشریف لانا، ان کی اپنی ضروریات کے لئے تو نہیں ہوتا البتہ وہ اپنے نام لیواؤں اور ماننے والوں کی مدد اور دستگیری کرنے اور انہیں برکات عطاکرنےکےلئےضرور تشریف لاتے ہیں۔ نیز گنہگار مسلمانوں کی فریادوں اور حاجات کو سن کر وہ انہیں اللہ کے دربار میں پیش بھی فرماتے ہیں، تو پھر ان لوگوں سے سوال یہ ہے کہ نعوذ باللہ کیا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی پکاریں، دعائیں، التجائیں اور فریادیں خود سننے کا کام چھوڑ رکھا ہے؟؟
اور اس کام کو انبیاء علیہ السلام اور اولیاء کی روحوں کے حوالے کر رکھا ہے؟؟ وہ، جس کا علم اور اختیار کائنات کےذرےذرےپر محیط ہے، وہ کیا لوگوں کے حالات اور ان کی مشکلات و پریشانیوں سے ہر وقت آگاہ و باخبر نہیں ہے؟ وہ ،جسکی نگاہ میں ایک گنہگار مسلمان بھی کسی کافر کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہے، اور جو کفار اور اپنے نہ ماننے والوں کو تو بِن مانگے ہی برابر رزق اور نعمتیں دیے جاتا ہے، وہ کیا اپنے ماننے والوں، مسلمانوں کی پکاروں اور التجاؤں کو بھی نہیں سنے گا؟ اورانہیں صرف اُسی سے مانگنے پر بھی عطا نہیں فرمائے گا؟؟

روحیں کسی کی مدد نہیں کر سکتیں

 یہ بھی بڑی ہی عجیب بات ہے کہ انبیاء علیہ السلام اور اولیاء جو نہ لوگوں کے خالق ہوں اور نہ مالک، جو لوگوں کو نہ پیداکرسکتےہوں، نہ انہیں موت دیتے ہوں، اور نہ انہیں رزق دیتے ہوں، بلکہ خود پیدا کئے گئے ہوں، وہ خود اپنی وفات کےبعدتودُور و نزدیک سے لوگوں کی پکاروں اور التجاؤں کو سن لیتے ہوں، اور ان کی ہر قسم کی مدد کے لئے ہر جگہ، ہر وقت حاضر ہو سکتے ہوں…،لیکن اللہ ربُّ العالمین، جو ہر ایک شے کا تنہا خالق و مالک ہو، جو لوگوں کو پیدا بھی کرتا ہو اور خود ہی اپنےاختیار سے انہیں موت دیتا ہو، جو اکیلا لوگوں کو رزق دیتا ہو اور انہیں کھلاتا پلاتا ہو، جس کے علم اور قدرت نے ہمیشہ سے کائنات کی ہر ایک شے کو ہر آن گھیرے میں لے رکھا ہو…، جو نہایت درجہ مہربان، بخشنے والا، معاف کرنے والا، رحم کرنےوالا اور عطا فرمانے والا ہو، اور خود سے مانگے جانے پر بہت ہی خوش ہوتا ہو، … وہ نہ تو اپنے بندوں کی فریادیں اور دعائیں سنے اور نہ مشکل وقت میں، دعا کرنے پر بھی، اپنے بندوں کی مدد و دستگیری فرمائے! بلکہ اس تمام کام کو فوت شدہ انبیاء علیہ السلام اور اولیاء پر چھوڑ دے!!!۔
سُبْحَانَکَھٰذَا بُھْتَانٌ عَظِیْمٌ۔ کیسی نادانی ،جہالت اور سراسر دھوکے اور خسارے کی بات ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔! اللہ انہیں ہدایت دے۔ آمین۔

روحوں کی واپسی ممکن ہی نہیں

 اصل بات یہ ہے کہ وفات کے بعد تمام انسانوں کی روحیں جس دنیا میں چلی جاتی ہیں وہ قطعاً غیر مادی، اور ہماری اس دنیاسےیکسر مختلف ہے۔ اُس دنیا کے اسباب و قوانین اِس دنیا کے اسباب و قوانین سے بالکل جدا اور مختلف ہیں۔ نہ اِس دنیا کی کوئی مخلوق اُس دنیا کے معاملات میں کوئی مداخلت کر سکتی ہے اور نہ اُس دنیا کی کوئی مخلوق اِس دنیا کے معاملات پر اپنا کوئی اثرڈال سکتی ہے۔ وفات کے ساتھ ہی بندہ کا مادی دنیا سے تعلق ختم ہو جاتا ہے اور اس کی ‘’آخرت’‘ شروع ہو جاتی ہے۔ اسلئےاس دوسری دنیا کو ‘’دنیائے آخرت’‘ یا ‘’اُخروی دنیا’‘ بھی کہا جا سکتا ہے۔ قبر میں بھی بندہ کی رُوح کا اس کے جسم کےساتھ جو تعلق ہوتا ہے وہ اُخروی دنیا کے قوانین کے مطابق ہی ہوتا ہے، نہ کہ ہماری اس مادی دنیا کے قوانین کے مطابق۔ اسی لئےاس تعلق کے باوجود مردہ، مردہ ہی رہتا ہے، زندہ نہیں ہو جاتا۔ نہ ہمیں اُس کے حال کی کچھ خبر ہوتی ہے کہ اُس پرکیاگزررہی ہے اور نہ اُسے ہمارے حالات کا کچھ پتہ ہوتا ہے (سوائے اس کے کہ اللہ خود ہی اپنی قدرت سے کچھ اُس کےعلم میں لے آئے۔ البتہ خود اُس کے پاس جاننے کی کچھ طاقت نہیں ہوتی)۔ ورنہ اگر روحوں کا اِس دنیا میں آنا اور اِس میں تصرفات کرنا ممکن ہوتا تو وہ اپنے اصل جسموں میں لوٹ کر پہلے کی طرح زندہ انسانوں کے روپ میں واپس آتیں۔ لیکن یہ تمام انسانوں کا متفقہ مشاہدہ ہے کہ کوئی انسان مرنے کے بعد زندہ نہیں ہوتا چاہے وہ نیک ہو یا بد۔ ورنہ آج دنیا میں قبرستان ہی نہ ہوتے۔
چنانچہ انبیاء علیہ السلام اور اولیاء کو ان کی زندگیوں میں غیبی اختیارات اور قدرتوں کا حامل ماننا جس قدر غلط ہے اس سے کہیں زیادہ غلط اور خطرناک ان کو وفات کے بعد انہی اختیارات کا مالک سمجھنا ہے۔
 

معجزات سے لوگوں کو غلط فہمی

 انبیاء کرام علیہ السلام اور اولیاء اللہ کی قدرت اور اختیارات کو ثابت کرنے کے لئے ان کی زندگیوں سے جتنے واقعات پیش کئے جاتے ہیں ان میں سے کئی ایک بے سند ہوتے ہیں اور باقی واقعات معجزات و کرامات کی قبیل سے ہوتے ہیں۔ جن کےبارے میں پیچھے بیان ہو چکا ہے کہ ایسے واقعات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے اِذن اور اختیار سے پیش آتے ہیں اور ان میں انبیاء کرام علیہ السلام اور اولیاء کے اختیار اور مرضی کا کچھ دخل نہیں ہوتا۔ تاہم کچھ لوگ معجزات و کرامات کے واقعات سے غلطی میں پڑ جاتے ہیں اور یہ نتیجہ نکال بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے یقیناً اپنے ان بندوں کو ایسی غیبی قوتیں عطا کر رکھی تھیں جنکی مدد سے وہ بعض کاموں کو اسباب کے بغیر سرانجام دے لیا کرتے تھے، یا بعض کاموں میں اسباب کے پابند نہیں تھے بلکہ اسباب ان کے محکوم تھے۔ اس بناء پر وہ ان ہستیوں کو بعض یا اکثر معاملات میں نفع و نقصان کا مالک سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یوں وہ خود بخود ان ہستیوں سے اُمّید، خوف اور حد درجہ تعظیم وابستہ کر لیتے ہیں۔ جس کا لازمی نتیجہ پھر یہ نکلتا ہے کہ مصائب اورمشکل حالات میں وہ ان ہستیوں کو پکارنا، ان پر توکل کرنا اور ان سے مدد طلب کرنا، نیز اللہ کی مدد کے لئے ان کا وسیلہ پکڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور اس طرح وہ شرکِ اکبر کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔ اس سب کی بنیاد ان کا یہ غلط نظریہ ہوتا ہے کہ اللہ کے نیک اور برگزیدہ بندے (خواہ وہ فوت ہی کیوں نہ ہو چکے ہوں) جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ یعنی وہ اسباب کےپابند نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ غیب کا علم رکھنے، لوگوں کے دلوں کا حال جان لینے اور ان کی پکاریں سن کر ہر جگہ ان کی مشکل کشائی اور مدد کرنے کی قدرت رکھنے ایسے کاموں کے لئے مادی دنیا میں کوئی سبب نہیں پایا جاتا۔ لہٰذا انبیاء کرام علیہ السلام اور اولیا اللہ کو ان صفات کا حامل سمجھنے والے اُنہیں اسباب سے بلند ہی مان رہے ہوتے ہیں۔
حالانکہ جو اسباب کا پابند ہوتا ہے وہ اپنی مرضی سے ہر قسم کا کام نہیں کر سکتا۔ اور جو اپنی مرضی سے سب کچھ کر سکتا ہے وہ اسباب کا پابند نہیں ہوتا۔ اور ایسی صرف اللہ کی ذات ہے۔ اور یہی فرق ہے خالق اور مخلوق میں۔
2 comments

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: