استشراق:01:Orientalism

استشراق(Orientalism) اس فکری تحریک کو کہا جاتا ہے، جس کا ظاہری مقصد مشرق اوسط کے مختلف ادیان، آداب، زبانوں، اور ثقافتوں کا مطالعہ کر کے حقیقی مقصد، ’’ اسلام‘‘ کو مزعومہ علمی انداز میں مجروح کرنا ہے۔
 استشراق کے سلسلے میں ڈاکٹر برہان احمد فاروقی بہت عمدہ تجزیہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
 مغرب میں کلچر، خصوصاً اسلامی کلچر کا جو مطالعہ کیا گیا وہ اس تصوّر کے پیش نظر ہوا کہ ابتدا میں علوم طبعی مدون ہو گئے اور ان کےنظام ہائے علم بن گئے۔ اس کے بعد کے دو چیزیں سامنے آئیں : ایک انفرادی نفس اوردوسرے اجتماعی نفس۔ انفرادی نفس کا مطالعہ نفسیات کے سپرد ہوا اور وہ ایک نظام علم بنا، اور اجتماعی نفس کا مطالعہ عمرانیات یا Sociologyکے سپرد ہوا۔ قدیم تہذیبوں کا مطالعہ اس نظر سے کیا گیا کہ جو آثار قدیم تہذیبوں کے موجو د ہیں ان کے حوالے سے اجتماعی نفس کو سمجھنے کی سعی کی جائے۔ چناں چہ تمام تہذیبوں کی ابتداء مشرق ہی میں ہو ئی تھی، اس لیے ان کا مطالعہ کرنےوالےافراد مستشرقین کے نام سے یاد کئے گئے۔
مستشرقین میں چند گروہ ہیں۔ایک گروہ تو ان لوگوں کا ہے جن کا نقطۂ نظر خالص علمی
تھا او وہ تہذیب و ثقافت کو یا کلچر کو بحیثیت مظہر نفس اجتماعی سمجھنا چاہتے تھےلیکن ان کا ذہن یہ تھا کہ اسلام بھی نینوا، بابل، مصر اور ہند کی قدیم تہذیبوں کی طرح ایک مٹی ہوئی تہذیب ہے جس کے متعلق سوال یہ ہے کہ اسلامی تہذیب کے اسباب عروج وزوال کیا ہیں ؟ ان کے نزدیک اس کا جو جواب مسلم تھا اور جو مفروضہ انہوں نے اسلامی
تہذیب کے عروج کی توجیہ کے لیے اختیار کیا وہ میکانی اصول علمیت یعنی
Causation Hypothesis of Mechanicalکا مفروضہ تھا۔ اسلام کی توجیہ کو انہوں نے یہ صورت دی کہ اسلام سے پہلے کی جو تہذیبیں ہیں، ان کا اثر اسلامی تہذیب پر پڑا اور اسلامی تہذیب نتیجہ میں آئی، لہٰذا قبل اسلام قدیم تہذیبوں Pre-Islamic Cultures کا۔اس نقطۂ
نگاہ کے پش نظر انہوں نے معاشرت کو اور ادب کو جاہلیت کا نسلی ورثہ قرار دیا۔فلسفہ
اور حکمت کو یونانی افکار سے ماخوذ قرار دیا، فقہ یعنی قانون شریعت کو رومن لا(
Roman Law)یا یہودیت سے ماخوذ قرار دیا اور اخلاق و تصوف اور مذہب کومسیحیت سے ماخوذ جانا۔ اس طرح نقطۂ نظریہ قرار پایا کہ اسلام کے تہذیبی و ثقافتی پہلوؤں میں کوئی پہلواسلام کا اپنا نہیں ہے ہر چیز دوسرے نظامہائے کلچر افکار اور دوسری تہذیبوں سے مستعار لی ہوئی ہے۔جن مستشرقین نے اسلامی کلچر پر غور کیا، ان میں دوسرا گروہ ان مسیحی مبلغین کا تھا جنہوں نے تہذیب کے میدان میں اسلام کے خلاف محاذ کھول دیا۔خود ولیم میور کے بقول جب مسیحیوں کو صلیبی محاربات میں شکست ہو گئی تو انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام، مسیحیت کی مقبول ہونے کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے اور اسلام کو ناقابل قبول ثابت کرنے کی جب تک کامیاب کوشش نہیں کی جائے گی، مسیحیت مقبول نہیں ہو گی۔ چناں چہ مسیحی مبلغین نے اسلام کا مطالعہ اس نظر سے شروع کیا کہ اس کے خلاف نفرت پھیلائی جائے اور اس کےتمام ثقافتی اور تہذیبی فضائل کا سر چشمہ ماقبل اسلام تہذیبوں کو قرار دے کر یہ بتایا جائے کہ اسلام کا اپنا کچھ نہیں ہے، یہ سب انہوں نے ہم سے لیا ہے۔
 اس کے بعدمستشرقین کا ایک اور گروہ آیا جو یہودیوں پر مشتمل تھا۔ ان کے پیش نظر یہ تھا کہ وہ یہودیت کی تجدید کے لیے عبرانی کا مطالعہ کریں اور عبرانی زبان کا مطالعہ کرنے کے بعد ان پر یہ بات کھلی کہ مسلمانوں نے عبرانی ادب میں بھی بے اندازہ کام کیاہے۔ اس کا یہ اثر ہوا ا ہمت و استقلال، اور جرأ ہو جائےکہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو سمجھنے کے لیے عربی علم و ادب کے مطالعے کی طرف توجہ کی۔ انہوں نے یہ تہیہ کیا کہ اسلام کا مطالعہ اس کے اصلی ماخذ سے کیا جائے۔
چناں چہ انہوں نے عربی پڑھی اور عربی پڑھنے کے بعد انہوں نے اس عناد کے ساتھ، جو یہودیت ہی کا خاصہ ہو سکتا ہے، اسلامی عقائد، اسلامی تصورات، اسلامی شخصیات، اسلامی قانون،اسلامی ادارات، اسلامی روایات، اسلامی تحریکات، اسلامی مقامات اور اسلامی تاریخ میں جو واقعات تھے ان سب کا مطالعہ اس انداز میں پیش کیا کہ اس میں اسلام کی تنقیص پائی جائے اور جہاں کہیں ان میں سے کسی مستشرق میں فراخدلی نظر آتی ہے، اس کا بھی سبب یہ ہے کہ جب اسے منظور ہو آنحضرت کی تنقیص کرے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی تعریف کرتا ہے یا وہ جب بھی آنحضرت کی تنقیص کرنا چاہتا ہے توامام غزالی کی عظمت بیان کر کے اپنے لیے یہ موقع پیدا کر لیتا ہے۔ اس کے علاوہ مستشرق کا ایک اور گروہ ہے جس نے اسلامی تہذیب کا اور اسلامی کلچر کا مطالعہ کیا۔یہ گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو استعمار پرستی کے نمائندے ہیں اور ان کا مفاد یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے مختلف حصے اور مسلم اقوام جو ان کے مستعمراتی عزائم کی راہ میں رکاوٹ کی حیثیت رکھتی ہیں، انہیں دور کیا جائے، مسلمانوں کی قوت اور ان کے ضعف و قوت کے اسباب کو سمجھنے کے لیے انہوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور اس کے بعد اپنی تصانیف کے ذریعہ یہ اثر پیدا کرنے کی کو شش کی کہ مسلمانوں کا ماضی چاہے جتنا تابناک ہو مگر ان کا مستقبل بغیر مغربی اقوام کا سہارا لیے تاریک رہے گا۔
 مستشرقین کا ایک اور گروہ تھا جس کے پیش نظر یہ تھا کہ اسلامی تہذیب کے جو فضائل اور جو آثار باقی رہ گئے ہیں، انہیں اس انداز میں پیش کیا جائے کہ یہودیوں اور مسیحیوں کا عناد مسلمانوں کے خلاف پھر ایک بار مشتعل ہو اور وہ انہیں مٹانے کے لیے پوری شدت سے کام لیں۔
 مستشرقین کا ایک اور گروہ وہ ہے جو اس وقت مینک گل، پرنسٹن، کیمبرج، آکسفورڈ اور واشنگٹن وغیرہ میں کام کر رہا ہے، یعنی اسلامی کلچر پر ریسرچ میں مصروف ہے۔ ان لوگوں کا مدعا یہ ہے کہ قیادت تو مسیحیت کے ہا تھ سے نہ نکلے مگر اشتراکیت کے محاذ پر مسلمانوں کو اپنی موافقت میں کٹوانے کی تدبیر دریافت ہو سکے۔ وہ تمام مختلف محرکات، جن کی بناپر اسلامی کلچر کا مطالعہ مستشرقین نے پیش کیا ہے، اس مطالعے کو ایک بہت ہی متعصبانہ رنگ دے دیتے ہیں۔ یہ مطالعہ اسلام کا غیر جانبدارانہ مطالعہ نہیں اور ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہمارے ہر جدید تعلیم یا فتہ کی رسائی صرف انہی مآخذ تک ہے جو مستشرقین نے پیش کیے ہیں۔ (قرآن اور مسلمان اور کے زندہ مسائل: ص۱۰۷تا۱۰۹)
 بعض حضرات مستشرقین کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: ’’منصف مستشرقین اور متعصب مستشرقین‘‘۔ مگر فاروقی صاحب کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقسیم غلط ہے، اور میری ناقص رائے بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ بس اتنا فرق ہے کچھ مستشرقین زیادہ زہر افشانی کرتے ہیں، اور کچھ کم، ورنہ ان میں کوئی سراپا منصف ہمیں دکھائی نہیں دیتا، اور دکھائی بھی کیسے دے؟ کیوں کہ اس تحریک کا مقصد ہی ’’اسلام دشمنی‘‘ہے،اگرکبھی کوئی اچھی بات کرتا بھی ہے تو وہ ’’و لا تلبسوا الحق بالباطل‘‘ یعنی حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو، مگر اسی لیے ایسا کرتے ہیں، تاکہ حق ملتبس ہوجائے، یہی طریقہ یہود بھی نبی کریم ﷺ کی محفل میں اپناتے تھے کہ کچھ چیزوں کی تصدیق کرتے اور بعد میں کچھ کی تکذیب۔ اور مستشرقین انہیں کی اولاد ہیں۔

مستشرقین کی فریب کاری

 یہ حقیقت ہے کہ مستشرقین کی ایک بڑی تعداد نے قرآن مجید، سیرت، تاریخ، تمدن اسلام اور اسلامی معاشرہ کی تاریخ اور پھر اس کے بعد اسلامی حکومتوں کی تاریخ کا مطالعہ ایک خاص مقصد کے تحت کیا اور مطالعہ میں ان کی دور بیں نگاہیں وہ چیزیں تلاش کرتی رہیں، جن کو جمع کر کے قرآن، شریعت اسلامی،سیرت نبوی ﷺ، قانون اسلامی، تمدن اسلامی اوراسلامی حکومتوں کی ایک ایسی تصویر پیش کرسکیں، جسے دیکھ کر لوگ آنکھوں پر پٹی باندھ لیں، مستشر قین نے اپنی آنکھوں پر خورد بین لگا کر تاریخ اسلام اور تمدن اسلا می اور یہ کہ آگے بڑھ کر (خاکم بدہن )قرآن مجید اور سیرت نبوی ﷺ میں وہ ذرے وہ ریزے تلاش کر نے شروع کئے جن سے کوئی انسا نی جماعت، کوئی انسا نی شخصیت خالی نہیں ہو سکتی ہے اور ان کو جمع کر کے ایسا مجموعہ تیار کرنا چاہا جو ایک نہایت تاریک تصور ہی نہیں بل کہ تاریک تاثر اور تاریک جذبہ پیش کرتا ہے اور انہوں نے اس کام کو انجام دیا جو ایک بلدیہ کا ایک انسپکٹر انجام دیتا ہے کہ وہ شہر کے گندے علاقوں کی رپورٹ پیش کرے۔ (حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ)

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: