عظیم الشان،بلند و بالا عمارتیں:قیامت کی علامتیں، از:مُفتِی نَاصِر الدین مَظاہری:02

أَحْمَدُہٗ وَاُصَلِّی عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّابَعْدُ!۔۔۔۔۔
 اَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی تَقْویٰ مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ خَیْرٌأَمَّنْ أَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَاجُرُفٍ ھَارٍ فَانْھَارَ بِہٖ فِیْ نَارِجَھَنَّمَ وَاللّٰہُ لَا یَھْدِیْ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔ لَایَزَالُ بُنْیَانُھُمُ الَّذِیْ بَنَوْارِیْبَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ اِلَّا أَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔
بھلا جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اللہ سے ڈر نے پر اور اس کی رضامندی پروہ بہتر ہے یا جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی کنارہ پر ایک تھالی کے جو گرنے کو ہے پھر اس کو لے کر ڈھے پڑا دوزخ کی آگ میں اور اللہ راہ نہیں دیتا ظالم لوگوں کو،ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو انہوں نے بنائی تھی شبہ ان کے دلوں میں مگر جب ٹکڑے ہو جائیں ان کے دل کے اور اللہ سب  کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (جزء، ۱۱۔۲/۹۔۱۰۸)
خدا جانے کسی شاعر نے کس جذب و سرمستی میں ڈوب کر کہا تھا    ؎
جنہیں دن رات فکر آشیاں ہے
کریں گے کیا وہ تعمیرگلستاں
دیدہ زیب و خوشنما عمارات، بلند و بالا اور اعلیٰ و ارفع محلات، شاندار حویلیوں اور نقش و نگار، آرائش و زیبائش، ٹیپ ٹاپ اورنہایت خوبصورت مکانات بنا نے کا چلن عام ہو چکا ہے، امیر و غریب، فقیر و مفلس، شاہ و گدا، صنعت کار و کاشتکار سبھی کےذہن و دماغ پر ایک دوسرے سے اچھے مکانات بنانے اور رنگین و حسین نقش و نگار کرانے کا بھوت سوار ہے، اقتصادیات کا دیوالیہ ہو جائے، معیشت تباہ و برباد ہو جائے، آمدنی کے سار ے وسائل منجمد ہو جائیں، مالیات اور ذخائر سے بھرپور تجوریوں میں گرد و غبار اڑنے لگے، تجارت کو گھن لگ جائے اور غربت و مفلسی دستک دینے لگے پھر بھی عمدہ و اعلیٰ کوٹھیوں بلندوبالاحویلیوں اور اونچے اونچے فلک بوس مکانوں کے خوابوں کا تسلسل ٹوٹنے اور ٹوٹ کر بکھرنے کا نام نہیں لیتا۔

عبرت و بصیرت کا مرقع

تاریخ میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں، جن کی کل آمدنی پر تعیش مکانوں، لباسوں اور پر تکلف غذاؤں پر صرف ہو گئی، کل تک جن کے ناموں کے ساتھ دنیا نوابوں، راجاؤں، مہا راجاؤں اور سیٹھ و ساہوکاروں کے القاب لگانے پر مجبور تھی آج یہ حال ہےکہ: دنیا ان پر تھوکتی ہے، طعن و تشنیع کرتی ہے، ان کی پر تعیش زندگی کے پر ملامت تذکرے ہوتے ہیں، گلی گلی ایسےاشخاص کے تذکرے دلچسپی کے لئے نہیں ’’عبرت  و بصیرت کے لئے  سنائے جاتے ہیں۔

 عبرتناک تعمیرات

ہندوستان میں کئی سو سال تک سلطنت کرنے والے مغل حکمرانوں کی عبرتناک تعمیرات ’’آج ہر اس شخص کے لئے  ذلت ورسوائی، نکبت و پستی اور خود ان حکمرانوں کی پر تعیش زندگی سے نہ صرف دبیز پردے اٹھاتی ہیں بلکہ حالات اور ماحول سےناواقفیت، مستقبل کے بارے میں ان کی کوتاہ علمی اور آنے والی نسلوں کے لئے  ان کی بے رغبتی اور لاپرواہی ارباب عقل  و خرد کو جس بات کا پتہ دیتی ہیں اس کے تذکرہ سے ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔

 لمحوں نے خطا کی تھی

آگرہ کے تاج محل، لال قلعہ، دہلی کے قطب مینار، لال قلعہ، پرانا قلعہ اسی طرح لکھنؤ اور فتح پور سیکری سمیت  پورےہندوستان میں ہمارے ’’مستقبل نا شناس شاہوں کی دلچسپیوں ‘‘ کا خمیازہ آج پوری مسلمان قوم بھگت رہی ہے، لال قلعہ سمیت قسم قسم کے آثار قدیمہ جو ایک طرف ’’مسلم شاہوں اور حکمرانوں ‘‘ کی فضول خرچیوں کی منھ بولتی تصویر ہیں تو دوسری طرف خود انہی کی قوم اور نسل کے لئے نہ صرف بیکار ہیں بلکہ تاریخ کی ستم ظریفی کہئے کہ موجودہ حکومتوں کے سوتیلے سلوک، ان عمارتوں اور قلعوں پر اغیار کے قبضوں اور ان کے تقدس کی پامالی دیکھ کر آنکھیں خون کے آنسو رونےپرمجبورہیں۔

صدیوں نے سزا پائی

چشم بینا اور فکر دانا رکھنے والے حضرات بچشم خود دیکھ رہے ہیں کہ ’’آثار قدیمہ’‘ کے نام سے ہماری عبادت گاہیں بھی متعصب
ذہنیت رکھنے والی حکومت کی تحویل میں پہنچ کر اپنی ذلت و رسوائی پر ماتم کناں ہیں۔
وہ کل کے غم و عیش پہ کچھ حق نہیں رکھتا
جو آج خود افروز و جگر سوز نہیں ہے
وہ قوم نہیں لائق ہنگامۂ  فردا
جس قوم کی تقدیر میں اِمروز نہیں ہے
تاج محل سے مسلمانوں کو کیا فائدہ ہوا ؟آگرہ کے لال قلعہ نے مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو مزید واضح کیا، دہلی کے لال قلعہ پراغیار کے قبضے نے ہمارا منہ چڑایا، قطب مینار کی رفعت نے ہمیں اپنی اوقات یاد دلانے میں اہم کردار ادا کیا پرانے قلعوں میں واقع اسلامی عبادت گاہوں نے ہماری بے بسی و بے حسی کا رونا رویا، پھر کیا ضرورت تھی ایسی عمارات کو تعمیر کرنے کی جنکوان شاہوں اور بادشاہوں کی نسل آگے چل کر اگر دیکھنا بھی چا ہے تو دیگر لوگوں کی طرح دوسروں کے رحم و کرم اور’’ٹکٹ و چیکنگ ‘‘ کے مراحل سے گذر کر۔۔ہم اپنے ہی مکانوں کے لئے  غیر ہو گئے ، ہم سے ہمارے محلات چھین کرالٹےہماری شہریت پر انگلیاں اٹھنے لگیں ؟ ہماری حویلیاں ہمارے لئے باعث ننگ و عار ہو گئیں، اب لال قلعہ پر ہندوستانی علم، تاج محل کی پر شکوہ عمارت، پرانے قلعے کی ویرانی و بربادی، قطب مینا ر اور جامع مسجد کی رفعت و قدامت سے ہماری یہ نسل کوئی عبرت حاصل نہیں کرتی، انہیں اپنے اجداد کی ہزار سالہ خدمات اور قربانیوں کا اگر کوئی پھل یا بالفاظ دیگراپنےحکمرانوں کی ’’وراثت ‘‘ ملی ہے تو یہی آثار قدیمہ ہیں جن کے لئے  ہم غیر ہیں اور ہماری سوئی ہوئی غیرت ہمارےسوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کرنے میں یکسر ناکام ہے۔فیا أسفا
دل ہمارے یاد عہد رفتہ سے خالی نہیں
اپنے شاہوں کو یہ امت بھولنے والی نہیں
اشکباری کے بہانے ہیں یہ اجڑے بام و در
گریۂ پیہم سے بینا ہے ہماری چشم تر
حضرت مولانا عبدالماجد دریابادیؒ صحافت اور قلم کی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ہیں، انہوں نے اپنے سفرنامہ بمبئی کا والہانہ تذکرہ سپرد قلم فرمایا ہے اور جب بمبئی کے نہایت خوبصورت علاقہ مالابار ہل سے گزرے تو انہیں خستہ و بوسیدہ کھنڈرات اورکہنہ محلات نظر آئے۔۔ان محلات کی قدیم شان و عظمت کی کہانی مولانا دریابادی کی زبانی آپ بھی پڑھتے چلئے اور پھر مکینوں کے انخلاء کے بعد ان محلات کی داستان دلخراش پر چار چار آنسو بہائیے:
’’بمبئی کے ایک نہایت فیشن ایبل علاقہ مالابار ہل سے گزرتے ہوئے جگمگاتی ہوئی کوٹھیوں کے درمیان ایک ویرانہ پر گزرہوا،ایک چھوٹا سا ٹکڑا زمین کا ایسا نظر پڑا جس پر کبھی کوئی عمارت رہی ہو گی، رہبر نے بتایا کہ یہ جنحیرہ ہاؤس تھا یعنی وہ محل جس میں بیگم صاحبہ جنحیرہ مع اپنی دونوں بہنوں زہرا فیضی اور عطیہ فیضی کے ساتھ رہتی تھیں، اب کیا تھا کہ شبلی کےاس پرستار کے سامنے نفاست مجسم عطیہ فیضی اور ان کی ساری لطافتوں، نفاستوں اور نزاکتوں کا کیسا نقشہ پھر گیا، مکان کیساپررونق،دلکش اور سجا سجایا ہو گا اور اپنے انجام سے بالکل بے خبر، ابھی تصور کو اس تذکر و تفکر سے فراغت نہیں ہوئی تھی کہ ایک دوسرا پلاٹ بہت بڑا نظر کےسامنے آ گیا سر تا سر کھنڈر، ملبہ پر ملبہ اور رہبر نے جو بتایا اسے سننے کے لئےدل کسی طرح تیار نہ تھا، ہاتف غیب کے بجائے رہبر کی زبان سے نکلا ’’نظام حیدرآباد کا محل تھا’‘ یقین آئے یا نہ آئے بہرحال یقین کرناہی تھا، نظام عالی مقام جو رئیسوں کے رئیس اور امیر الامراء تھے، جن کا شمار ہندستان اور ایشیا ہی کے نہیں بلکہ دنیاکےمتمول ترین انسانوں میں تھا پھر سو برس بھی تو نہیں ہوئے، سقوط مملکت ۱۹۴۸ء میں ہوا ہے، پورے ۲۴برس کی مدت ہوئی، انقلاب
حال اور اس درجہ تیزی کے ساتھ عبرت کے ذخیرہ میں اپنی مثال آپ ہے ‘‘
بولی عبرت کہ ہوش میں آؤ
اے حریصان مال و شوکت و جاہ
مٹ گیا نقش حامد و محمود
رہ گیا لا الٰہ الا اللّٰہ
حضرت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی نے صحیح ترجمانی کی ہے:
’’دارالحکومت دہلی :جس کی سیکڑوں سال کی تاریخ پر مسلمانوں کی خدمات اور قربانیوں کے انمٹ نقوش پنہاں ہیں، اس شہرکاچپہ چپہ مسلمانوں کی شاندار ماضی کا گواہ ہے، جامع مسجد، لال قلعہ، قطب مینار اور سیکڑوں آثار قدیمہ کی شکستہ، منہدم عمارتیں مسلمانوں کی روشن تاریخ کو زبان حال سے دہرا رہی ہیں ‘‘ ۔
شکستہ منہدم دیوار و در ہیں
ہماری عظمت رفتہ کی یادیں
تہذیب اسلامی کے گہرے نقوش
مصر، الجزائر، نائیجیریا اور لیبیا وغیرہ افریقی ممالک ہیں لیکن آج ان کا شمار عربی ممالک میں ہوتا ہے، ایسا کیوں ہے؟جواب بالکل صاف اور واضح ہے کہ: مسلمان جہاں جہاں اور دنیا کے جس خطہ و علاقہ میں پہنچے اپنی زبان، تہذیب اور تعلیمات کےگہرےنقوش دیگر اقوام و ملل کے قلوب پر ایسے مرتسم کرتے چلے گئے کہ وہاں کی لغت و ثقافت سب کچھ بدل ڈالا لیکن ہندستان میں مغلیہ سلطنت کے عہدِ حکومت میں نہ تو یہاں کی زبان کو عربی کیا جا سکا، نہ ہی یہاں کی تہذیب و معاشرت پر اپنی تہذیب کے گہرے نقوش ثبت کئے جا سکے، نہ تو کوئی ایسا نصاب اور قانون وضع ہوا جس کی وجہ سے آنے والے کل ان کی مسلمان قوم در در کی ٹھوکریں کھانے سے محفوظ رہ سکتی۔

حضرت عالمگیرؒ کا علمی کارنامہ

حضرت عالمگیر ؒ نے اپنے دور حکومت میں علماء امت واَعیان مملکت کے ذریعہ فتاویٰ عالمگیری مرتب کرائی جو بلا شبہ اسلامی تاریخ کا ناقابل فراموش کارنامہ ہے، اسی طرح غرباء و مساکین کے تعاون میں ان بادشاہوں نے ہمیشہ سخاوت اور فیاضی کاعدیم النظیر مظاہرہ کیا ہے، جس کا ہمیں دل کی گہرائیوں سے اعتراف ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ: ان کی تمامتر صلاحیتیں تعمیرات کی نذر ہو گئیں ورنہ آج کی تاریخ میں ہندستان کا نقشہ ہی دوسرا ہوتا۔
ہمارے مغل حکمراں ہوں یا شاہانِ اودھ تعمیرات پر بے دریغ روپیہ خرچ کرنے کے بجائے اگر دینی تعلیم کے لئے  بڑے بڑے مدارس کھولتے، اسلامی احکامات اور فرامین جاری کرنے کے لئے  اس فن کے ماہر ین کی ٹیم تیار کر کے انہیں ان کی شایانِ شان سہولت فراہم کرتے، مختلف سماجی اور فلاحی ادار ے قائم کرتے تاکہ اس سے ان کی نسل آئندہ بھی فیضیاب ہو پاتی، اسلامی مراکز قائم کرتے تاکہ مسلم امت ان سے خاطرخواہ فائدہ اٹھا سکتی، اسلامی تعلیم اور عصری علوم کے لئے پورے ملک میں اسلامی یونیورسٹیاں بناتے تاکہ ان شاہوں کی علم پروری آئند ہ بھی کام دیتی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور وہ ہوا، جس سےمسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں مل سکتا !
علامہ اقبال نے پیرس کی ایک مسجد کو دیکھ کر بہت درد کے ساتھ فرمایا تھا:
مری نگاہ کمال و ہنر کو کیا دیکھ
کہ حق سے یہ حرم مغربی ہے بیگانہ
حرم نہیں ہے فرنگی کرشمہ بازوں نے
تنِ حرم میں چھپا دی ہے روح بت خانہ
یہ بت کدہ انھیں غارت گروں کی ہے تعمیر
دمشق ہاتھ سے جن کے ہوا ہے ویرانہ
ہمارے با ذوق ’’مغلوں ‘‘ کی عمارات و محلات سے خود ان کو یا ہم کو جو فائدہ ہو رہا ہے، گزشتہ سطور سے ظاہر ہے لیکن بڑی بڑی بلڈنگوں اور فلک بوس عمارتوں کی تعمیرات اِس زمانہ میں بھی کثرت کے ساتھ وجود پذیر ہو رہی ہیں، اس ابتلاء میں مبتلاافراد و شخصیات میں ہمارا کم پڑھا لکھا طبقہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے پیش نظر احادیثِ رسول، فرامین صحابہ اور اقوالِ اکابر ہیں شاید حالات زمانہ نے اس مقدس طبقہ کو بھی اس تلویث و آلودگی پر مجبور کر دیا ہے۔
تعمیرات کے سلسلے میں حد سے بڑھی ہوئی دلچسپیاں صرف مغل حکمرانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ایران سمیت ممالک عربیہ،افریقہ، اسپین اور یورپ وغیرہ مختلف خطوں اور علاقوں میں ہزاروں سال پہلے کی تعمیرات آج بھی سیاحوں کےلئےمرکزتوجہ ہیں۔
حیرت تو اس پر ہے کہ:’’ بحر میت ‘‘ اور ’’سدوم’‘ میں جو حضرت لوط ؑ کی نالائق اور نافرمان قوم آباد تھی اس بستی کو اللہ تعالیٰ نے الٹ دیا تھا تاکہ عقل والے عبرت پکڑ سکیں ؟لیکن آج وہاں سیاحوں کے قافلے جوق در جوق اور کارواں در کارواں پہنچ کراپنی خباثتوں، حرام کاریوں، عیاشیوں اور نیم برہنگیوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔یمن شام اور غسان وغیرہ میں اسلام کی آمدسےپہلے ایسی تعمیرات موجود تھیں جو اپنی کہنگی، قدامت، بوسیدگی اور اپنے معماروں و مکینوں کی داستانِ دلخراش بیان کررہی تھیں۔
۶۵۶ء مطابق ۱۲۵۸ء  میں مغلوں نے بغداد پر قبضہ کر کے قتل عام شروع کیا  اور آخری عباسی حکمراں معتصم باللہ ، ہلاکوخان کے ہاتھوں قتل ہوا، اس فساد میں جس طرح بغداد تہہ و بالا ہوا اور علوم و فنون کے ذخائر کو جس بے دردی اور شقاوت قلبی کے ساتھ ضائع کیا گیا اس کے تذکرہ ہی سے ہرآنکھ اشکبار اور ہر شخص دلفگار ہے۔
اس فتنہ و فساد کے بعد بغداد کی کیا حالت ہو گئی تھی، موسیو فلانڈین کی زبانی’’بہت سی گرد کے نیچے دبی دبائی ہوئی چند مکانات کی بنیادیں نکلی ہیں جن میں بہ مشکل ہارون الرشید اور زبیدہ کی یادگار نظر آتی ہے’‘  
قیامت قریب آ رہی ہےرسو ل اللہﷺ   نے با ر بار ارشاد فرمایا کہ: قیامت کے قریب:
٭مسجدوں کےاحاطےبڑےبڑےاورمنبر اونچے اونچے ہوں گے۔
٭مسجد کی محرابیں زر کاری سے مزین ہوں گی لیکن انکے دل ویران ہوں گے۔٭قرآن شریف کے نسخوں کو آراستہ کیاجائےگا۔
٭مسجدیں خوبصورت بنائی جائیں گی ان کے مینارے اونچے ا ونچے ہوں گے مگر دل ویران ہوں گے۔
٭لوگ انسان کی جان کی کوئی وقعت نہ سمجھیں گے اور اونچی اونچی عمارتیں بنائیں گے۔
٭مسجدوں میں بدکاروں کی آوازیں بلند ہوں گی۔وعلت اصوات الفسقۃ فی المساجد۔
٭لوگ مسجدوں کے اندر آئیں گے مگر د و رکعت پڑھنے کی توفیق نہ ہو گی۔حضرت عبد
اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ: آپﷺ  نےفرمایا:
ان یمرالرجل فی المسجد فلا یرکع رکعتین
قیامت کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ: آدمی مسجد سے گذر جائے گا مگر دو رکعت نماز(تحیۃ المسجد)بھی نہیں پڑھے گا۔ (الاشاعۃ لاشراط الساعۃ۱۵۲، ابوداؤد، جمع الفوائد)
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں:
وحتیّٰ تتخذالمساجد طرقاًفلا یسجد للہ فیہا۔
لوگ مساجد کو راستہ بنائیں گے مگر اللہ کے لئے اس میں سجدہ نہیں کریں گے۔
(الاشاعۃلاشراط الساعۃ ۱۵۳، طبرانی)
حضرت عمر ؓ نے آپﷺ  کا ارشا د گرامی بھی نقل کیا ہے :
یأتی علی الناس زمان یکون حدیثہم فی مساجدہم فی امر دنیاہم فلا تجالسوہم فلیس للہ فیہم حاجۃ (الاشاعۃ لاشراط الساعۃ۱۵۳، بیہقی)
لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مساجد میں دنیاداری کی باتیں ہوں گی پس ایسی مجالس میں مت بیٹھو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کواس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ رسول اکرمﷺکی شدید ممانعت اور وعید کے باوجود ’’تعمیرات ‘‘ کے نام پر کس قدر فضول خرچی اور بے دریغ رقوم ضائع ہو رہی ہیں، جگہ جگہ شاندار مسجدوں کی تعمیر، ایک بڑی مسجد سے قریب دوسری وسیع و عریض اور بلند و بالا مسجد کا وجود، ایسے علاقوں اور محلوں میں جہاں گنے چنے افراد نماز پڑھتے ہوں وہاں بلا ضرورت کشادہ اور فلک بوس مسجدوں کی تعمیر، محل وقوع کےاعتبارسے نامناسب جگہ پر مسجدوں کا وجود، مساجد کی تعمیر میں مقابلہ آرائی اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا ناپسندیدہ جذبہ، بڑی بڑی مسجدیں مگر نمازی ندارد، بڑے بڑے محراب نما مصلے مگر مصلی غائب، اونچے اونچےمنبر مگر لائق خطیب و امام نہیں، ایسی جگہوں پر شاندار مساجد قائم کرنا اور ان پراس قدر روپیہ پیسہ خرچ کرنا کہاں کی دانائی ہے ؟    ؎
مسجد تو بنا لی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

1 comment

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: