سیرتِ امام ابو حنیفہؒ از علّامہ شِبلی نُعمانیؒ-4

تدوین فقہ، طریقۂ تدوین اور اس مجموعہ کا رواج

تدوین فقہ کا سبب

یہ امر تاریخوں سے ثابت ہے کہ امام صاحبؒ کو تدوینِ فقہ کا خیال تقریباً120ھ میں پیدا ہوا یعنی جب ان کے استاد حمادؒنے  وفاتکی۔ امام ابو حنیفہؒ کی طبیعت مجتہدانہ اور غیر معمولی طور پر مقننانہ واقع ہوئی تھی۔ اس کےساتھ تجارت کی وسعت اور ملکی تعلقات نے ان کو معاملات کی ضرورتوں سے خبردار کر دیا تھا۔ اطراف و بلاد سے ہر روز جو سینکڑوں ضروری استفتاء آئے ہوتےتھے ان سے ان کو اندازہ ہوتا تھا کہ ملک کو اس فن کی کس قدر حاجت ہے۔ قضاۃاحکامِ فصل و قضایا میں جو غلطیاں کر تے تھے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے غرض یہ اسباب اور وجوہ تھے جنہوں نے انکو اس فن کی تدوین و ترتیب پرآمادہ کیا۔

تدوین فقہ میں شریک علماء

امام صاحبؒ نے جس طریقہ سےفقہ کی تدوین کا ارادہ کیا وہ نہایت وسیع اور پرخطر کام تھا اس لئےانہوں نے اپنے زمانہ کے علماء میں سے چند نامور اشخاص انتخاب کئے۔ جن میں سےاکثر خاص خاص فنون میں جو تکمیلِ فقہ کے لئے ضروری تھے استاذِ زمانہ تسلیم کئے جاتے تھے، مثلاً یحییٰ بن ابی زائدہؒ، حفص بن غیاثؒ، قاضی ابو یوسفؒ،داؤد السطانیؒ، حبانؒ، مندلؒ وغیرہ حدیث و آثار میں نہایت کمال رکھتےتھے۔ امام زفرؒ کو قوتِ استنباط میں کمال تھا۔ امام صاحبؒ نے ان لوگوں  کی شرکت سے ایک مجلس مرتب کی اور باقاعدہ طور سے فقہ کی تدوین شروع کی۔
امام طحاویؒ نے بسندِ متصل اسد بن فرات سے روایت کی ہے کہ ’’ابو حنیفہؒ کے زمانہ کے علماء جنہوں نے فقہ کی تدوین کی چالیس تھے۔ لکھنے کی خدمت یحییٰ سے متعلق تھی اور وہ تیس برس تک اس خدمت کو انجام دیتے رہے۔ فقہ کی تدوین میں کم و بیش تیس برس کا زمانہ صرف ہوا یعنی 121ھ سے 150ھ تک جوامام ابو حنیفہؒ کی وفات کا سال ہے۔

طریقۂ تدوین

تدوین کا طریقہ یہ تھا کہ کسی خاص باب کا کوئی مسئلہ پیش کیا جاتا تھا، اگر اس کے جواب میںسب لوگ متفق الرائےہوتےتھےتو اسی وقت قلم بند کر لیا جاتا ورنہ نہایت آزادی سے بحثیں شروع ہوتیں، کبھی کبھی بہت دیر تک بحث قائم رہتی۔ امامصاحب غور اور تحمل کے ساتھ سب تقریریں سنتے اور بالآخر ایسا جچا تلا فیصلہ کر تے کہ سب کو تسلیم کر نا پڑتا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ امام صاحب کےفیصلہ کے بعد لوگ اپنی اپنی رایوں پر قائم رہتے اس وقت وہ سب اقوال قلمبندکر لئے جاتے۔ اس کا التزام تھا کہ جب تک تمام شرکاء جلسہ جمع نہ ہو لیں کسی مسئلہ کو طے نہ کیا جائے۔
اس مجموعہ کی ترتیب یہ تھی: اول بابالطہارت، باب الصلوٰۃ، باب الصوم پھر عبادات کے اور ابواب، اس کے بعدمعاملات، سب سے اخیر میں باب المیراث۔ قلائدِ عقود العقیان کے مصنف نے کتابالصیانۃ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے جس قدرمسائل مدون کئےان کی تعداد ایک لاکھ نوے ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ امام محمدؒ کی جو کتابیں آج موجو د ہیں ان سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے۔  

اس مجموعہ کا رواج

امامصاحبؒ کی زندگی ہی میں اس مجموعہ نے وہ حسنِ قبول حاصل کیا کہ اس وقت کےحالات کے لحاظ سے مشکل سے قیاس میں آ سکتا ہے۔ جس قدر اس کے اجزاءتیار ہو جاتے تھے ساتھ ہی ساتھ تمام ملک میں اس کی اشاعت ہوتی جاتی تھی۔ امام صاحبؒ کی درسگاہ ایک قانونی مدرسہ تھا جس کے طلباء نہایت کثرت سےملکی عہدوں پر مامور ہوتے اور ان کی آئینِ حکومت کا یہی مجموعہ تھا۔
تعجب یہ ہے کہ جن لوگوں کا امام صاحبؒ سے ہم عصری کا دعوی تھا وہ بھی اس کتاب سے بے نیاز نہ تھے۔ زائدہؒ کا بیان ہے کہ میں نے ایک دن سفیان ثوریؒ کےسرہانے ایک کتاب دیکھی جس کا وہ مطالعہ کر رہے تھے۔ ان سے اجازت مانگ کرمیں اس کو دیکھنے لگا تو ابو حنیفہؒ کی کتاب ’’ کتاب الرہن‘‘ نکلی۔ میں نےتعجب سے پوچھا کہ ’’ آپ ابو حنیفہؒ کی کتابیں دیکھتے ہیں؟‘‘ بولے’’ کاش انکی سب کتابیں میرے پاس ہوتیں۔ ‘‘

سلا طین اکثر حنفی تھے

ایک خاصبات یہ ہے کہ عنانِ حکومت جن لوگوں کے ہاتھ میں رہی وہ اکثر حنفی فقہ کے ہی پابند تھے خلفاءِ عباسیہ میں عبد اللہ بن معتز جو فنِ بدیع کا موجدتھا اور خلفاءعباسیہ میں سب سے بڑ ا شاعر اور ادیب تھا وہ حنفی المذہب تھا۔ ( تاریخ ابن خلکان)۔
خلافتِ عباسیہ کے تنزل کے ساتھ جن خاندانوں کوعروج ہوا اکثر حنفی تھے۔ خاندانِ سلجوق جس نے ایک وسیع مدت تک حکومت کی اور جن کے دائرہ حکومت کی وسعت طول میں کاشغر سے لے کر بیت المقدس تک اورعرض میں قسطنطنیہ سےبلادِخرز تک پہنچی، حنفی تھا۔
محمود غزنوی جسکے نام سے ہندوستان کا بچہ بچہ واقف ہے فقہ حنفی کا بہت بڑ ا عالم تھا۔ فنفقہ میں اس کی ایک نہایت عمدہ تصنیف موجود ہے جسکا نام’’ التفرید‘‘ ہے اورجس میں کم و بیش ساٹھ ہزار مسئلے ہیں۔
نورالدین زنگی کا نام چھپا ہوانہیں ہے وہ ہمارے ہیروز میں داخل ہے۔ بیت المقدس کی لڑائیوں میں اول اسی نے نام حاصل کیا۔ صلاح الدین فاتحِ بیت المقدس اسی کے دربار کا ملازمتھا۔ دنیا میں پہلا دارالحدیث اس نے قائم کیا۔ وہ خود اور اس کاتمام خاندان مذہباً حنفی تھا۔ (الجوہر المضئیہ)۔
الملک المعظم عیسی بن الملکالعادل جو ایک وسیع ملک کا بادشاہ تھا۔ علامہ ابن خلقانؒ لکھتے ہیں کہ وہنہایت عالی ہمت،فاضل،ہوشمند، دلیر، پر رعب تھا اور حنفی مذہب میں غلورکھتا تھا۔ چراکسۂ مصر جو نویں صدی کے آغاز میں مصر کی حکومت پر پہنچے اورایک سو اڑتالیس برس تک فرماں روا رہے اور بہت سی فتوحات حاصل کیں خود حنفی تھے اور ان کےدربار میں اسی مذہب کا فروغ تھا۔
سلاطینِ ترک جو کم وبیش چھ سو برس سے روم کے فرماں رواں ہیں۔ آج انہی کی سلطنت اسلام کی عز تو وقار کی امید گاہ ہےعموماً حنفی تھے۔ خود ہمارے ہندوستان کے فرماں رواںخوانین اور آل تیمور اسی مذہب کے پابند رہے اور ان کی وسیع  سلطنت میں اسطریقہ کے سوا اور کسی طریقہ کو رواج نہ ہو سکا۔

فقہ حنفی اور قرآن و حدیث میں توافق

فقہ حنفی کے اصول

امامحنیفہؒ کے نزدیک مصادر و استنباط کی ترتیب اس طرح تھی: پہلے قرآن پھر حدیث پھر صحابہ کرامؓ کے متفقہ فتاویٰ، اگر صحابہ کرامؓ کے مابین کسی مسٔلہمیں اختلاف ہو تا تو کسی بھی ایک صحابی کی رائے کو ضرور اختیار فرماتے، سب سے ہٹ کر اپنی کوئی رائے نہیں رکھتے، البتہ تابعین کے اقوال کو اس بناءپر ترک فرما دیتے کہ وہ آپ کے ہم مرتبہ لوگ تھے۔ آپ کے خاص شاگرد امام محمدؒ فرماتے ہیں امام ابو حنیفہؒ کے تلامذہ قیاس کے باب میں کھل کر بحث ومباحثہ کر تے لیکن جب آپ دلیل استحسانی پیش کرتے تو سب لوگ خاموش ہو جاتے۔ ابنِ حزمؒ کا بیان ہے کہ’’ تمام اصحابِ ابو حنیفہؒ اس بات پر متفق ہیں کہامام صاحبؒ کا مذہب یہ تھا کہ ضعیف حدیث بھی اگر مل جائے تو اس کے مقابلہمیں قیاس اور رائے کو چھوڑ دیا جائے گا۔ ‘‘

نصوصِ شرعی کے مطابق

حنفیفقہ کی ایک سب سے بڑی خصوصیت ہے کہ جو احکام نصوص سے ماخوذ ہیں اور جن میں ائمہ کا اختلاف ہےان میں امام ابوحنیفہؒ جو پہلو اختیار کرتے ہیں وہعموماً نہایت قوی اور مدلل ہوتا ہے۔
لہذا اگر یہ ثابت ہو جائے کہ حنفیفقہ کے مسائل نصوصِ قرآن سے زیادہ مطابق ہیں تو مہمات مسائل میں فقہ حنفی
کی ترجیح بہ آسانی ثابت ہو جائیگی اور اس کے ساتھ یہ بھی ثابت ہو جائے گاکہ امام ابو حنیفہؒ کو حیثیتِ اجتہاد میں تمام ائمہ پرترجیح ہے کیونکہ اجتہاد کا دار و مدار زیادہ تر استنباط اور استخراج پر مبنی ہے۔

نصوصِ قرآنی سے استنباط

مثلاً امامابو حنیفہؒ کا مذہب ہے کہ وضو میں چار فرض ہیں۔ امام شافعیؒ دو فرض کا اوراضافہ کرتے ہیں یعنی نیت اور ترتیب۔ امام مالکؒ ان کے بجائے موالات(یعنی پہ در پہ) کو فرض کہتے ہیں۔ امام احمدؒ بسم اللہ کہنے کو بھی فرض قراردیتے ہیں۔ امام صاحب کااستدلال قرآن کی آیت ہے۔ ( فاغسلوا۔ ۔ ۔الخ) جسمیں بالاتفاق صرف چار حکم مذکور ہیں۔ اس لئے جو چیز ان احکام کےعلاوہ ہیں فرض نہیں ہو سکتی، نیت، موالات اور تسمیہ کا تو آیت میں کہیں وجودبھی نہیں ہے۔
دوسرا مسئلہ امام ابو حنیفہؒ کا مذہب ہے کہ اثنائے نمازمیں پانی مل جائے تو تیمم جاتا رہے گا۔ امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ اس کے مخالف ہیں امام صاحبؒ کا استدلال قرآن کی آیت لم تجدوا ماءًفتیمموا یعنی جب پانی نہ ملے تو تیمم کرو۔ صورتِ مذکورہ میں جب شرط باقی نہیں رہی۔ یعنی تیمم کی بقا کے لئے شرط ہے کہ پانی نہ ہو۔ جب پانی مل گیا تو مشروط یعنی تیمم بھی باقی نہیں رہا۔
اسی طرح مقتدی کے لئےقرأتِ فاتحہ کے مسئلہ میں،امام ابو حنیفہؒ کا استدلال اس آیت پر ہے : واذا قرئ القرآن ماستمعوا لہ و انصتوا۔
فقہ حنفی کے اس طرح کے سینکڑوں ترجیحی مسائل ہیں جن کو اختصار کی بنا پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

احادیثِ صحیحہ میں ترجیح

فقہ حنفی کے مسائل نصوصِ شرعیہ کے زیادہ قریب ہیں۔ جب ایک مسئلہ میں بہت سیاحادیث جمع ہو جاتی ہیں تو امام صاحبؒ ان میں جو روایتاً  و  درایتاً قوی ہوتیہے اس کو اختیار کرتے ہیں۔ مثلاً  ایک مشہور مسئلہ، مسئلہ رفع یدین کو لےلیجئے۔ مثلاً امام اوزاعیؒ جو ملکِ شام کے امام اور فقہ میں مذہبِ مستقلکے بانی تھے، مکہ معظمہ میں امام ابو حنیفہؒ سے ملے اور کہا کہ ’’عراق والوں سے نہایت تعجب ہے کہ رکوع اور رکوع سے سر اٹھانے کے وقت رفع یدین نہیں کرتے حالانکہ میں نے زہریؒ سے انہوں نے سالم بن عبد اللہؒ سے، انہوںنے عبد اللہ بن عمرؓ سے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان موقعوں پر رفع یدین فرماتے تھے۔
امام ابو حنیفہؒ نے اسکے مقابلہ میں حمادؒ، ابراہیم نخعیؒ، علقمہؒ اور عبد اللہ بن مسعودؓ کے سلسلہ سے حدیث روایت کی کہ آنحضرتﷺ ان موقعوں پر رفع یدین نہیں فرماتے تھے۔ امام اوزاعیؒ نے یہ سن کرکہا ’’سبحان اللہ!
میں تو زہریؒ، سالمؒ، عبد اللہ بن عمرؓ کے ذریعہ حدیث
بیان کرتا ہوں آپ اس کے مقابلہ حمادؒ، نخعیؒ، علقمہؒ کا نام لیتے ہیں۔
امام ابو حنیفہؒ نےکہا میرے رواۃ آپ کے راویوں سے زیادہ فقیہ ہیں اور عبد اللہ بن مسعودؓ کا رتبہ خود معلوم ہی ہے، اس لئےان کی روایت کوترجیح ہو گی۔
امام محمدؒ کتاب الحج میں لکھتے ہیں عبد اللہ بن مسعودؓ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں پوری عمر کو پہنچ چکے تھے۔ سفر و حضر میں ساتھرہتے تھے اور جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے کہ جماعت کی صفِ اول میں جگہ پاتےتھے بخلاف اس کے عبد اللہ بن عمرؓ کامحض آغاز تھا۔ پیچھے صف میں کھڑاہونا پڑتا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ کے حرکات و سکنات سے واقف ہو نے کے جومواقع عبد اللہ بن مسعودؓ کو مل سکے عبد اللہ بن عمرؓ کو کیونکر حاصل ہو سکتےتھے؟ امام محمدؒ کا یہ طرزِ استدلال حقیقت میں اصولِ درایت پر مبنی ہے۔ امام ابو حنیفہؒ نے امام اوزاعیؒ کے سامنے اپنی تقریر میں عبد اللہ بن مسعودؓ کی عظمت و شان کا جو ذکر کیا اس میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔

قیاس کا الزام اور اس کی تردید

عبداللہ بن مبارکؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے حج کیا تو ابو جعفرمحمد بن علی بن حسینؓ بن علی ابی طالبؓ کی زیارت کی۔ ابو جعفر نے امام صاحبؒ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ’’ تم وہی ہو جو عقل و قیاس کے ذریعےحدیثوں کی مخالفت کر تے ہو؟‘‘ ابو حنیفہ نے فرمایا ’’اللہ کی پناہ تشریف رکھئیے۔ آپ کی تعظیم ہم پر واجب ہے کیونکہ آپ سادات میں سے ہیں۔ ‘‘ ابوجعفر محمد بیٹھ گئے، امام صاحبؒ نے با ادب عرض کیا ’’حضرت! آپ سے صرف تین مسئلے دریافت کر رہا ہوں جواب عنایت فرمائیں۔ اول یہ کہ مرد زیادہ کمزور ہےیا عورت؟‘‘ فرمایا ’’عورت۔ ‘‘
امام صاحبؒ نے عرض کیا’’ مرد اور عورت کے کیاکیا حصے وراثت میں ہوتے ہیں؟‘‘ ابو جعفر نے فرمایا’’ عورت کا حصہ مردکےحصہ کا آدھا ہوتا ہے۔ ‘‘
امام ابو حنیفہؒ نے عرض کیا اگر میں قیاس سے کہتااور عقل کا استعمال کرتا تو اسکے برعکس کہتا کیونکہ عورت مرد سے کمزورہےلہٰذا اس کا دو حصہ ہو نا چاہیے تھا۔
دوسرا مسئلہ عرض یہ ہے کہ نمازافضل ہے یا روزہ؟ فرمایا ’’نماز‘‘ تب امام صاحبؒ نے عرض کیا اگر میں قیاس
سے کہتا تو دوسرا حکم دیتا اور کہتا کہ حائضہ عورت نماز کی قضا کرے، روزہکی نہیں، کیونکہ نماز روزہ سے افضل ہے۔
تیسرا مسئلہ امام صاحب نےدریافت کیا کہ پیشاب زیادہ نجس ہے یا منی؟ فرمایا’’ پیشاب زیادہ نجس ہے۔ ‘‘اس پر امام صاحبؒ نے
فرمایا کہ اگر میں قیاس سے کہتا تو یہ حکم دیتا کہ
پیشاب سے غسل واجب ہے، منی سے نہیں کیونکہ پیشاب زیادہ نجس ہے۔ اللہ کی پناہ کہ میں حدیث کے خلاف کوئی بات کہوں میں تو حدیث کے چاروں طرف پھرتا ہوں۔ یہ سن کر ابو جعفر محمد کھڑے ہو گئے اور ابو حنیفہ کا منہ چوم لیا۔

اصطلاحاتِ فقہ حنفیہ

فرض :حنفیہ کے نزدیک فرض وہ ہے جس کا مطالبہ ایسی دلیل کے ساتھ کیا جائےجو نزول اور دلالت دونوں میں قطعی ہو مثلاً آیتِ قرآنیہ اور وہ حدیثیں جونص ہونے کے ساتھ تواتر یا شہرت کے ذریعہ قطعی طور پر ثابت ہوں۔
واجب : وہ ہے جس کا مطالبہ ایسی دلیل کے ساتھ کیا جائے جو نزول یا دلالت یا دونوںطریقہ سے ظنی ہو۔ مثلاً دو رکعتوں میں قرآن مجید کی ممکن آیتوں کا پڑھنافرض اور ان دونوں رکعتوں میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اور فرض کےچھوڑنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نماز باطل ہو جائے گی، اور سہواً واجب کےچھوڑنے سے سجدۂ سہو لازم آئے گا۔
فرضِ کفایہ: شارع کے اس مطالبہ کانام ہے جس میں اس کا کرنے والا مقصود نہ ہو اس لئے اگر کسی مکلف نے اس کو
کر دیا تو باقی لوگ گناہ سے سبکدوش ہو گئے، لیکن اگر سب نے اس کو چھوڑ دیاتو سب کے سب گناہ گار ہونگے۔
شرط : جس مامور بہ پر اس کا غیر موقوف ہو، وہ اس کی حقیقت سے خارج ہو تو فقہا اس کو شرط کہتے ہیں مثلاً نماز کےلئے قبلہ کی طرف رخ کرنا اور اس کا جزو ہو تو اس کا نام رکن رکھتے ہیں مثلاً نماز میں رکوع۔
سنت: حنفیہ کی اصطلاح میں سنت اس کو کہتے ہیں جسکو رسولﷺ نے ہمیشہ کیا ہو، البتہ کبھی کبھی اس کو بلا ناغہ چھوڑ بھی دیاہواور مندوب اور مستحب وہ ہے جس کو آپﷺ نے ہمیشہ نہ کیا ہو، چنانچہ حنیفہ کے نزدیک حرام فرض کا مقابل، مکروہ تحریمی واجب کا مقابل اور مکروہتنزیہی سنت کا مقابل ہے اور شارع نے جس چیز کے کرنے یا نہ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ اس کو مباح کہتے ہیں۔ (تاریخِ فقہ اسلامی)

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: