کلمۂِ توحید-02

ایک ہونے کے صحیح تصور کی وضاحت
کسی شے یا ہستی کا ‘’اللہ تعالیٰ کے جیسا نہ ہونے ‘‘اور’’ اس کا ہم سر نہ ہو نے ‘‘کا مطلب جہاں یہ ہے کہ کوئی شے ‘’مکمل طور سے’‘ اللہ تعالیٰ جیسی اور اس کے برابر نہیں ہے،وہاں یہ بھی ہے کہ کوئی شے یا ہستی کسی بھی لحاظ سے، کسی بھی درجے میں (کم یا زیادہ)اللہ کے جیسی نہیں ہے، اس کی کسی صفت کی حامل نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ‘’سننا’‘ ہے، مخلوق کا سننا کسی بھی طرح، کسی بھی درجے میں اللہ کےسننے کی طرح نہیں ہو سکتا۔ نہ کم نہ برابر۔ ذرہ برابر بھی کسی مشابہت یا مماثلت کا تصورمحال ہے۔ محض لفظی مُشابہت ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ‘’دیکھنا’‘ ہے۔ مخلوق کا دیکھنا کسی بھی لحاظ سے، کسی بھی درجے میں اللہ تعالیٰ کے دیکھنے کی طرح نہیں ہو سکتا۔ نہ تھوڑا نہ زیادہ۔
اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ‘’جاننا’‘ ہے۔ مخلوق کا جاننا کسی بھی طور سے، کسی بھی درجے میں اللہ تعالیٰ کے جاننے جیسا نہیں ہو سکتا۔ نہ محدود نہ غیر محدود۔
اللہ تعالیٰ کی ایک صف ‘’قدرت اور اختیار رکھنا’‘ ہے۔ مخلوق کا قدرت اور اختیار رکھنا کسی بھی انداز سے، کسی بھی درجے میں اللہ تعالیٰ کے قدرت رکھنے کی مانند نہیں ہو سکتا۔ نہ معمولی طور پر نہ غیر معمولی طور پر۔ صرف لفظی مُماثلت ہے۔
یہی معاملہ اللہ تعالیٰ کی باقی تمام صفات کا ہے۔ کسی مخلوق کی کوئی صفت کسی بھی درجے میں اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کے جیسے نہیں ہو سکتی۔ کوئی بھی ایک صفت یا خصوصیت اللہ تعالیٰ اوراس کی مخلوق میں کسی بھی طرح مشترک (Common or Similar) نہیں ہے۔ ایک ذرّے کے برابر بھی نہیں۔

خالق و مخلوق کی صفات کا اصل فرق

 خالق اور مخلوق کی صفات کے درمیان جو اصل فرق ہے وہ کم زیادہ، یا محدود لا محدود کا نہیں ہے، جیسا کہ کچھ لوگ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اللہ کی صفات لامحدود اور وسیع ہیں اور ان میں سے فلاں فلاں صفات، فلاں مخلوق (مثلاً انبیاء علیہ السلام اور اولیاءوغیرہ)
میں بھی پائی جاتی ہیں، مگر ان میں وہ محدود اورغیروسیع ہیں۔!! اللہ کی صفات بے شک لامحدود اور وسیع ہیں، مگر ان کا کسی مخلوق میں پایا جانا سرے سے ہی ناممکن ہے، ان کامحدودہو جانا تو دور کی بات ہے۔
قرآن مجید میں ہے:
اِنَّمَآ اَمْرُہٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ (یٰس:۲۸)
‘’وہ (اللہ) جب کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو بس اتنا کرتا ہے کہ اس کام کو حکم فرما دیتا ہےکہ ‘’ہو جا’‘ تو وہ کام خود ہی ہو جاتا ہے۔’‘
اِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ (آل عمران:۷۴)
‘’وہ (اللہ) جب کسی کام کا فیصلہ کر لیتا ہے تو بس اس کو حکم فرما دیتا ہے کہ ‘’ہو جا’‘ تو وہ کام ہو جاتا ہے۔’‘

اللہ اسباب سے بے نیاز ہے

 یہ ہے اللہ کی بے مثال صفات اور قدرت کی ایک مثال۔ اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ فرماتا ہے، اس کے لئے اس کو اسباب، سامان، وسائل، ذرائع اور راستوں وغیرہ کی ضرورت قطعاًپیش نہیں آسکتی۔ وہ ان سب سے بے نیاز، بلند اور غنی ہے۔ کیونکہ یہ اسباب وغیرہ تو خود اس کے اپنے پیدا کردہ ہیں۔ جنہیں اس نے اپنی مخلوق کے لئے پیدا فرمایا ہے۔ البتہ اسباب و وسائل کسی کام کو تکمیل تک پہنچانے میں خود اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو تو کوئی سبب جس مقصد کے لئے بنایا گیا ہے، کارآمد ہو ہی نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ کاارادہ ہوتا ہے تو تمام اسباب خود بخود اللہ کے حکم کی تعمیل میں لگ جاتے ہیں۔

تمام مخلوقات اسباب کی پابند ہیں

 البتہ انسان اور دیگر تمام مخلوقات کے افعال اور کوششیں اسباب و وَسائل کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو جو اسباب مقرر فرما دیے ہیں، انہیں اپنے کاموں کوسرانجام دینے کے لئے ان اسباب کو جمع کرنا اور انہیں بروئے کار لانا پڑتا ہے۔ غرض مخلوق کے ہر کام کے لئے اسباب مقرر ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے کاموں میں ہر ایک سبب سے بے نیاز ہے۔

مخلوق کی صفات کی حدود

 خالق کی صفات کے لامحدود ہونے کی وجہ یہی ہے کہ وہ ہر سبب سے آزاد اور پاک ہیں۔ جبکہ مخلوق کی صفات کچھ خاص اسباب کی قید میں جکڑے ہونے کی بناء پر ایک محدوددائرےسے باہر اپنا اثر نہیں رکھتیں۔ جو مادی اسباب کی اثر پذیری کا دائرہ ہے، وہی مخلوق کی صفات کی اثر پذیری کی حدود کو ظاہر کرتا ہے۔

فرق کی وضاحت

 انسان سنتا ہے۔ اگر سننے کے بہت سارے اسبا ب میں سے صرف ایک سبب’’ ہوا’‘ـ موجودنہ ہو تو انسان ہرگز نہیں سن سکتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے سننے میں تمام اسباب سےبےنیازہے۔پھر،ہوااور سننے کی صلاحیت کے ہوتے ہوئے بھی انسان اور ہر مخلوق کےسننےکی طاقت کا ایک مخصوص دائرہ ہے ،جس کے باہر کوئی انسان کچھ اضافی اسباب مثلاً مخصوص آلات اور ایجادات کےبغیر ہرگز نہیں سن سکتا۔ جن کی اپنی کچھ حدود ہیں۔ جیسےٹیلی فون وغیرہ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کو، سننے کے لئے ان میں سے کسی چیز اور سبب کی سرےسےضرورت ہی نہیں۔ وہ تمام کائنات کی چھوٹی بڑی ہر ایک آواز کو سنتا ہے، ہر وقت سنتا ہے، اور براہِ راست کسی واسطہ، وسیلہ، ذریعہ سبب اور آلے کے بغیر سنتا ہے۔
انسان دیکھتا ہے۔ اگر دیکھنے کے بہت سارے اسباب میں سے محض ایک سبب ‘’روشنی’‘ موجودنہ ہو تو انسان ہرگز نہیں دیکھ سکتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے دیکھنے میں تمام اسباب سےبلندترہے۔ پھر روشنی اور دیکھنے کی صلاحیت کے ہونے کے باوجود انسان اور ہر مخلوق کے دیکھنےکی قوت کاایک خاص اور محدود دائرہ ہے۔ جس کے باہر کوئی انسان کچھ مخصوص آلات مثلاًدوربین،کیمرہ، سیٹلائٹ وغیرہ کے بغیر دیکھنے سے قاصر ہے، جن کی پھر اپنی حدود ہیں۔
جبکہ اللہ تعالیٰ دور و نزدیک، کائنات کے ایک ایک ذرّے کو ہر وقت دیکھتا ہے۔ اور بغیر کسی واسطہ، وسیلہ اور سبب کے دیکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی صفات کو بروئے کار لانے میں ہر سبب سے بالا اور ماوراء ہے۔
بس یہی فرق ہے خالق کی صفات اور مخلوق کی صفات میں۔
اس فرق کا واضح ہونا، اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کا مطلب واضح ہونے کے لئے لازمی ہے۔
مخلوق کو کسی کام میں اسباب سے آزاد و بے نیاز سمجھنا ،یا اسباب کو اس کا محکوم سمجھنا، اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کے نظریے کی مخالفت ہے۔
اسباب سے کیا مراد ہے؟ مادی یا ظاہری اسباب سے مراد وہ اشیاء، چیزیں یا عناصر وغیرہ ہیں جو اس دنیا میں زندگی گذارنے کے لئے انسان کے لئے لازم ہیں یا لازم ہو سکتے ہیں۔ ان میں
بنیادی اہمیت ان چار کو حاصل ہے
 آگ، پانی، مٹی اور ہوا۔ تمام مادی اشیاء یا چیزیں (جنہیں یہاں اسباب کہا جا رہا ہے) انہی چاربنیادی عناصر سے حاصل ہوتی ہیں یا انہی کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔

اسباب کا اثر مخصوص اصولوں کے تحت ہوتا ہے

 پھر ان اشیاء اور ان سے حاصل ہونے والے دیگر اشیاء کے عمل کرنے کے کچھ مخصوص اصول و قوانین ہیں جنہیں قادرِ مطلق نے اپنی حکمت کے تحت مقرر فرما دیا ہے۔ ان اصول و قوانین کو لوگ، طبیعی یا سائنسی قوانین کہتے ہیں۔ اشیاء کے خواص اور ان کا عمل یا تعامل یاتفاعل کرنا انہی ازل سے طے شدہ طبیعی قوانین کے تحت ہوتا ہے، خواہ وہ قوانین لوگوں نے سب کے سب دریافت کر لئے ہوں یا نہ۔ جمادات (بے جان اشیاء) نباتات (پودےدرخت وغیرہ)، حیوانات اور انسانوں کے اپنے افعال یا ان پر کیے گئے افعال کےظاہری نتائج اور اثرات ان قوانین کی حدود سے باہر نہیں ہوتے۔ مثلاً ہوا سے بھاری اشیاء اگر ہوا میں آزاد چھوڑ دی جائیں تو وہ ہمیشہ نیچے زمین کی طرف گریں گی۔ نہ تو وہ اوپرکوجائیں گی اور نہ ہوا میں معلق ہی رہیں گی۔ یہ ایک طبیعی قانون ہے۔ لیکن اگر کچھ اورطبیعی قوانین، مثلاً قوت کے طبیعی قوانین کو مناسب طور پر عمل میں لایا جائے تو بھاری اشیاء ہوا میں معلق بھی رکھی جا سکتی ہیں، پرواز بھی کرائی جا سکتی ہیں اور نیچے سے اوپر بھی بھیجی جا سکتی ہیں۔ لیکن یہ کام بھی طبیعی قوانین کے تحت ہی انجام دیے جا سکتے ہیں۔

انسان کی قوت و اختیار کی حدود

 انسان کی تمام تر طاقت اور اختیار کی حدود اِن طبیعی قوانین کے اندر اندر ہی ہوتی ہیں۔ کوئی انسان اگر یہ چاہے کہ وہ کوئی طبیعی قوت استعمال کیے بغیر کسی شے کو ہوا میں معلق کردے،یا اُڑانا شروع کر دے ،یا خود پرواز کرنے لگ جائے، تو یہ اس کے لئے قطعاً ناممکن ہے۔ یہی مطلب ہے انسان کے اسباب کا پابند ہونے کا۔

اسباب و قوانین اللہ کے محکوم ہیں

 البتہ اللہ اگر چاہے تو طبیعی قوانین خواہ کچھ بھی ہوں، ہر چیز واقع ہو سکتی ہے۔ بھاری چیزیں بغیر کسی مادی سبب کے ہوا میں پرواز کر سکتی ہیں، پانی چلنے کے لئے فرش کی مانندہوسکتاہے،جمادات (بے جان اشیاء) خود بخود حرکت کر سکتی ہیں، وغیرہ۔ لیکن ایسے کام صرف اور صرف اللہ کی قدرت اور اختیار میں ہیں۔ لہٰذا ان کی نسبت صرف اور صرف اللہ کی طرف کی جانی چاہیے، جبکہ ایسے کسی کام کا کہیں واقع ہونا ثابت ہو جائے۔ کیونکہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اسباب اور ان کے قوانین سے پاک اور بلند ہے، اور سب اسباب و قوانین اس کی مخلوق اور اس کے حکم کے پابند ہیں۔

کچھ اور سائنسی قوانین

 دیگر مسلمہ سائنسی قوانین میں کچھ طبی اصول بھی شامل
ہیں۔ مثلاً یہ کہ ایک مردہ آدمی نہ تو خود سے زندہ ہو سکتا ہے اور نہ کوئی اسے زندہ
کر سکتا ہے۔ کوئی بوڑھا آدمی یا نومولود بچہ یکایک جوان نہیں ہو سکتا، طویل عرصے تک
کوئی شخص خوراک، پانی اور آکسیجن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، وغیرہ وغیرہ۔ میڈیکل سائنس
کے تسلیم کردہ ان اصولوں سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ تمام انسان یکساں طور
پر اللہ کے طے کردہ ان اصولوں کے سامنے مجبور ہیں، خواہ وہ نیک ہوں یا بد۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: