حضرت سلیمان علیہ السلام-5

حضرت سلیمان علیہ السلام كا خط ملكہ سبا كے نام
حضرت سلیمان علیہ السلام نے غور سے ہدہد كى باتى سنیں اور سوچنے لگ گئے۔ممكن ہے ان كا زیادہ گمان یہى ہو كہ یہ خبرسچى ہے اور اس كے جھوٹا ہونے پر كوئی دلیل بھى موجود نہیں ہے لیكن چونكہ یہ بات معمولى نہ تھى بلكہ ایك ملك اورایك بڑى قوم كى تقدیر اس سے وابستہ تھى لہذا انھوں نے ایك فرد كى خبر پر اكتفاء نہیں كیا بلكہ وہ اس حساس موضوع پر مزید تحقیق كرنا چاہتے تھے۔لہذا اس طرح فرمایا :
ہم اس بارے میں تحقیق كریں گے اور دیكھیں گے كہ آیا تو نے سچ كہا ہے یا جھوٹوں میں سے ہے ۔( سورۂ نمل آیت27)
سلیمان علیہ السلام نے نہ تو ہدہد كو جھوٹا كہا او رنہ ہى بغیر دلیل كے اس كى بات كو تسلیم كیا بلكہ اس بارے میں تحقیقات كاحكم صادر فرمایا۔
بہر حال سلیمان علیہ السلام نے ایك نہایت مختصر لیكن جامع خط تحریر فرمایا اور ہدہد كو دے كر كہا:میرا یہ خط لےجاؤاورانكے پاس جاكر ڈال دو پھر لوٹ آؤ اور ایك كونے میں ٹھہر جاؤ اور دیكھو وہ كیا رد عمل كرتے ہیں ۔( سورۂ نمل آیت 28)
ملكہ سباء نے خط كھولا اور اسكے مندرجات سے آگاہى حاصل كى چونكہ اس نے اس سے پہلے سلیمان علیہ السلام كا نام اورشہرت سن ركھى تھى اور خط كے مندرجات سے بھى واضح ہوتا تھا كہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے سباء كے بارے میں سخت فیصلہ كرلیا ہے۔ لہذا وہ گہرى سوچ میں پڑگئی اور چونكہ ملك كے اہم ترین مسائل میں وہ اپنے مصاحبین سے مشورہ كیاكرتى تھى لہذا اس بارے میں بھى انھیں اظہار خیال كى دعوت دى اور ان سے مخاطب ہوكر كہا: اےسردارواوربزرگوایك نہایت ہى باوقار خط میرى طرف پھینكا گیا ہے ۔( سورۂ نمل آیت 29)( ملكہ نے یہ كیوں كہا كہ یہ بہت ہى باعظمت خط ہے یا تو اس لئے كہ اس خط كے مطالب بہت ہى گہرے تھے یا پھر اس لئے كہ اس كا آغاز خدا كے نام سے ہواتھااوراختتام پر حضرت سلیمان علیہ السلام كے صحیح دستخط تھے اور مہر لگى تھی۔ یا اس كا لكھنے والا باعظمت انسان تھا۔مفسرین نے یہ مختلف احتمالات ذكر كئے ہیں ممكن ہے كہ یہ سب احتمالات جامع مفہوم میں جمع ہوں كیونكہ یہ ایك دوسرے كے منافى نہیں ہیں ۔
یہ ٹھیك ہے كہ وہ لوگ سورج پرست تھے لیكن ہم جانتے ہیں كہ بہت سے بت پرست خدا پر بھى ایمان ركھتےتھےاوراسےرب الارباب كا نام دیتے تھے اور اس كا احترام كرتے تھے اور تعظیم بجالاتے تھے۔)
پھر ملكہ سباء نے خط كا مضمون سناتے ہوئے كہا یہ خط سلیمان علیہ السلام كى طرف سے ہے اور اس كے مندرجات یوں ہیں : رحمان و رحیم اللہ كے نام سے ۔( سورۂ نمل آیت 30و31)
میں تمھیں نصیحت كرتا ہوں كہ تم میرے مقابلے میں سركشى سے كام نہ لو او ر حق كے سامنے سر تسلیم خم كرتےہوئےمیرے پاس آجاؤ ۔( سورۂ نمل آیت 31و 32)( بعید معلوم ہوتا ہے كہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسى عبارت اور انہى عربى الفاظ میں خط لكھا ہو بنابریں ممكن ہے مندرجہ بالا جملے یا تو صرف معنى كو بیان كررہے ہیں یاپھرسلیمان علیہ السلام كے خط كا خلاصہ ہوں جسے ملكہ سباء نے ان افراد كے سامنے بیان كیا۔)
حضرت سلیمان علیہ السلام كے خط كا تذكرہ كرنے كے بعد اہل دربار كى طرف رخ كركے ملكہ نے یوں كہا اے سردارواس اہم معاملے میں تم اپنى رائے كا اظہار كرو،كیونكہ میں كوئی بھى اہم كام تمہارى شركت اور تمہارى رائے كے بغیر انجام نہیں دیتى ہوں ۔( سورۂ نمل آیت 32)
اس رائے طلبى سے وہ ان كے درمیان اپنى حیثیت ثابت كرنا چاہتى تھى اور ان كى نظر اور توجہ اپنى طرف مبذول كرناچاہتى تھی۔تا كہ اس طرح سے وہ ان كى رائے اور اپنے فیصلے كو ہم آہنگ كرسكے۔
اشراف قوم نے جواب میں كہا :
ہم بڑى طاقت والے اور جنگجو لوگ ہیں لیكن آخرى فیصلہ آپ كے ہاتھوں میں ہے دیكھئے،آپ كیا حكم دیتى ہیں ؟( سورۂ نمل آیت 33)
اس طرح سے انھوں نے ایك تو اس كے سامنے اپنى فرمانبردارى كا اظہار كردیا اور دوسرے اپنى قوت كاذكر كر كے میدان جنگ میں لڑنے كامشورہ بھى دے دیا۔
بادشاہ تباہى لاتے ہیں
جب ملكہ نے ان كا جنگ كى طرف رجحان دیكھا اور اندرونى طور پر اس كا قطعاً یہ ارادہ نہیں تھا تو ان كى اس جنگى پیاس كوبجھانے نیز صحیح حكمت عملى اختیار كرتے ہوئے انھیں قانع كرنے كے لئے كہا جب بادشاہ كسى آباد علاقے میں داخل
ہوتے ہیں تو انھیں تباہ برباد كردیتے ہیں اور وہاں كے باعزت لوگوں كو ذلیل كردیتے ہیں ۔( سورۂ نمل آیت 34)
كچھ كو مار ڈالتے ہیں ،كچھ كو قیدى بنالیتے ہیں اور كچھ كو بے گھر كردیتے ہیں ۔جہاں تك ان كے بس میں ہوتا ہے،لوٹ ماركرتے ہیں ۔ پھر اس نے تا كید كے طور پر بلكہ یقینى صورت میں كہا: جى ہاں وہ ایسا ہى كرتے ہیں ۔
در حقیقت ملكہ سباء خود بھى ایك بادشاہ تھى لہذا وہ بادشاہوں سے اچھى طرح واقف تھى كہ بادشاہوں كى جنگى حكمت عملى دو حصوں پر مشتمل ہوتى ہے ایك تباہى اور بربادى اور دوسرے باعزت افراد كو ذلیل كرنا كیونكہ انھیں تو صرف اپنے ہى مفادات عزیز ہوتے ہیں ۔قوم و ملت كے مفادات اور ان كى سربلندى سے انھیں كوئی سروكار نہیں ہوتا لہذا عمومى طور پریہ دونوں ایك دوسرے كى ضد ہوتے ہیں ۔
پھر ملكہ نے كہا:ہمیں سب سے پہلے سلیمان علیہ السلام اور اس كے ساتھیوں كو آزمانا چاہیئےور دیكھنا چاہیئےہ وہ واقعاً ہیں كیسےلوگ؟آیا سلیمان علیہ السلام بادشاہ ہے یا پیغمبر ہے؟
تباہ كار ہے یا مصلح،اقوام و ملل كو ذلیل كرتا ہے یا عزت بخشتا ہے؟تو اس كام كے لئے ہمیں تحفے تحائف سے استفادہ كرناچاہیئےہذا میں ان كى طرف كچھ معقول تحفے بھیجتى ہوں پھر دیكھوں گى كہ میرے قاصد ان كى طرف سے كیا رد عمل لاتے ہیں ۔( سورۂ نمل آیت 35)
بادشاہوں كو تحفے تحائف سے بڑى محبت ہوتى ہے اور یہ تحفے اور ہدیے ہى ان كى بہت بڑى كمزورى ہوتے ہیں ۔
انھیں تحفے دے كر جھكایا جاسكتا ہے ہم دیكھیں گے اگر سلیمان علیہ السلام نے ان تحائف كو قبول كرلیا تو معلوم ہوجائےگاكہ وہ بادشاہ ہے اور ہم بھى ڈٹ كر اس كا مقابلہ كریں گے اور اپنى پورى طاقت استعمال كریں گے كیونكہ ہم بہرحال  طاقتور ہیں اور اگر اس نے ان تحائف سے بے رخى كى اور اپنى باتوں پر ڈٹا رہا تو ہم سمجھ گے كہ وہ خدا كا نبى ہےتو ایسى صورت میں ہمیں بھى عقل مندى سے كام لینا ہوگا۔
ملكہ سباء نے حضرت سلیمان علیہ السلام كے لئے كیا تحائف بھیجے؟ اس بارے میں قرآن نے تو كچھ نہیں بتایا۔صرف كلمہ ہدیہ نكرہ كى صورت میں بیان كركے اس كى عظمت كو ضرور واضح كردیا ہے البتہ مفسرین نے اس بارے میں بہت كچھ كہاہے جن میں سے بعض باتیں مبالغہ آرائی اور افسانوى رنگ سے خالى نہیں ہیں ۔
بعض لوگوں نے لكھا ہے كہ پانچ سو بہترین غلام اور پانچ سو بہترین كنیزیں ان كے لئے بھیجى گئیں غلاموں كو زنانہ لباس میں اور كنیزوں كو مردانہ لباس میں ،غلاموں كے كانوں میں گوشوارے اور ہاتھوں میں كنگن اور كنیزوں كے سر پرخوبصورت ٹوپیاں تھیں ۔ملكہ نے اپنے خط میں لكھا كہ اگر آپ اللہ كے نبى ہیں تو غلاموں اور كنیزوں كو ایك دوسرے سے الگ كردیں ۔
انھیں زرو و جواہرات اور قیمتى زیورات سے آراستہ كركے بہترین سواریوں پر سوار كركے اور جواہرات كى معقول مقداردے كر حضرت سلیمان علیہ السلام كى خدمت میں بھیجا گیا۔
اور ساتھ ہى ملكہ نے قاصد كو یہ بات بھى سمجھادى كہ تمھارے دربار میں پہنچتے ہى اگر سلیمان علیہ السلام نے تمھیں خشم آلود اور غضب ناك نگاہوں سے دیكھا تو سمجھ لینا كہ یہ بادشاہوں كا انداز ہے اور اگر پیار بھرے انداز میں خندہ پیشانى كے ساتھ تمہیں شرف حضور بخشا تو سمجھ لینا كہ خدا كا نبى ہے۔
مجھے مال كے ذریعہ نہ ورغلاؤ
ملكہ سباء كے روانہ كئے ہوئے افراد نے سرزمین یمن كو خیر باد كہا اور شام اور حضرت سلیمان علیہ السلام كے مركز حكومت كى طرف چل دیئے۔دل میں یہى تصور لئے ہوئے كہ سلیمان علیہ السلام ان كے تحائف قبول كرلیں گے اور خوش ہوكرانھیں شاباش كہیں گے۔
لیكن جوں ہى وہ سلیمان علیہ السلام كے حضور پیش ہوئے تو وہاں پر عجیب و غریب منظر دیكھا سلیمان علیہ السلام نے نہ صرف ان كا استقبال نہیں كیا بلكہ ان سے یہ بھى كہا كیا تم یہ چاہتے ہو كہ(اپنے )مال كے ذریعے میرى مدد كرو؟حالانكہ یہ مال میرى نگاہ میں بالكل بے قیمت سى چیز ہے جو كچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے اس سے كئی حصے بہتر اور كہیں قیمتى ہے۔(سورۂ نمل آیت 36) نبوت،علم ودانش،ہدایت اور تقوى كے مقابلے میں مال كى كیاحیثیت ہے؟یہ تم ہو جو اپنےتحفے پر خوش ہوتے ہو ۔( سورۂ نمل آیت 36)
جى ہاں یہ تمہیں لوگ ہو كہ اس قسم كے حسین اور قیمتى تحفے اگر ایك دوسرے كے لئے بھى بھیجو تو اس قدر مسرورشادماں نظر آتے ہو كہ خوشى كى چمك تمہارى آنكھوں سے نمایاں ہوتى ہے لیكن میرى نگاہوں میں ان كى كوئی قدروقیمت نہیں ہے۔
اس طرح سے حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان كى اقدار اور معیار كى نفى كردى اور تحائف كو حقارت كے ساتھ ٹھكراكرثابت كردیا كہ ان كے نزدیك اقدار اور معیار كچھ اور ہیں ۔دنیا پرستو ں كے مقرر كردہ معیار ان كے سامنے ہیچ اوربے قیمت ہیں ۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے حق و باطل كے مسئلے میں اپنے اس عزم بالجزم كو ثابت كرنے كے لئے ملكہ سباء كے خاص ایلچى سے فرمایا: تم ان كى طرف واپس پلٹ جاؤ(اور اپنے یہ تحفے بھى ساتھ لے جاؤ)لیكن یہ ضرور یادركھو كہ ہم كئی لشكرلے كر ان كے پاس بہت جلد پہنچ رہے ہیں جن كے مقابلے كى طاقت ان میں نہیں ہوگی،اور ہم انھیں اس سرزمین سے ذلیل كركے نكال دیں گے اور وہ نہایت ہى حقیر ہوں گے۔ (سورۂ نمل آیت 37)
حضرت سلیمان علیہ السلام كى یہ دھمكى ان لوگوں كے نزدیك صحیح اور قابل عمل بھى تھى كیونكہ انھوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان كے جاہ و جلال اور فوج و لشكر كو نزدیك سے دیكھا تھا۔
چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان سے دو چیزوں كا تقاضا كیا تھا ایك تو بر ترى طلبى كو ترك كردیں اور دوسرے حق كے آگے جھك جائیں ۔
اہل سباء كا ان دونوں چیزوں كا مثبت جواب نہ دینا اور اس كى بجائے تحائف كا بھیجنا اس بات كى دلیل تھا كہ وہ حق كوقبول نہیں كرتے اور نہ ہى برترى طلبى سے باز آتے ہیں لہذا سلیمان علیہ السلام نے انھیں پر فوجى دباؤ ڈالنے كى كوشش كی۔
جبكہ ملكہ سباء اور اس كے درباریوں نے دلیل اور ثبوت یا معجزہ وغیرہ كامطالبہ كیا تھا لہذا انھیں موقع فراہم كیا كہ مزیدتحقیق كریں لیكن تحفوں كے بھیجنے سے معلوم ہوتا تھا كہ وہ انكار كرچكے ہیں ۔
یہ بات بھى ہمیں معلوم ہے كہ حضرت سلیمان علیہ السلام كو ہدہد نے جو ناخوشگوار خبر سنائی تھى وہ یہ كہ ملك سباء كےلوگ سورج پرست ہیں اور غیب و حضور كے جاننے والے سے روگردانى كئے ہوئے ہیں اور مخلوق كے آگے جھكے ہوئے ہیں ۔
حضرت سلیمان علیہ السلام كو اسى بات سے سخت دكھ پہنچا تھا اور ہم جانتے ہیں كہ بت پرستى ایك ایسى بات ہےجسكےسامنےكوئی بھى خدائی دین خاموش تماشائی نہیں بن سكتا اور نہ ہى بت پرستوں كو ایك مذہبى اقلیت مان سكتا ہےبلكہ بوقت ضرورت زبردستى بھى بت كدوں كو مسمار اور شرك و بت پرستى كو نیست و نابود كرسكتا ہے۔
مندرجہ بالا توضیحات سے بخوبى معلوم ہوتا ہے سلیمان علیہ السلام كى یہ دھمكى لا اكراہ فى الدین كے بنیادى اصول سے بھى متصادم نہیں ہے كیونكہ بت پرستى كوئی دین نہیں بلكہ ایك خرافات اور راہ حق سے انحراف ہے۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: