عبادت اور اِلٰہ کا مفہوم

 مشرکینِ مکہ اور باقی ہر دور کے مشرکین نے ٹھیک یہی غلطی اپنے جھوٹے معبودوں کے  بارے میں کی تھی۔ انہوں نے اپنی پسندیدہ ہستیوں کو اسباب سے بلند مان کر انہیں نفع ونقصان کا مالک سمجھتے ہوئے ان سے رغبت، خوف اور اُمید رکھنا شروع کر دیا۔ جس کےنتیجےمیں ان کے اندر اُن ہستیوں کے لئے عاجزی، خشیت، تعظیم، توکل اور شوقِ قربت پیداہوگیا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے معاملات میں ان ہستیوں کو پکارنا، ان سے مدد طلب کرنااوران کا وسیلہ پکڑنا شروع کر دیا۔ یہی چیز ہے جو اصل میں عبادت کہلاتی ہے۔ اور جن جن ہستیوں کے لئے یہ اعمال و کیفیات رَوا رکھی جائیں وہ دراصل اِلٰہ یا معبود ہیں۔
اللہ ہی ہے جو، جو چاہے کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ کیونکہ وہی تمام اشیاء اور اسباب کاخالق،مالک اور حاکم ہے۔ صرف اُسی کا حق ہے کہ اس کے لئے عاجزی، ذلت، انکساری،خشیت، خوف، محبت اور اُمید اختیار کی جائے۔ صرف اور ہمیشہ اسی پر توکل رکھتےہوئے اس کو پکارا جائے، حد درجہ تعظیم کے ساتھ صرف اس سے مدد مانگی جائےاوراسکے پاک ناموں اور صفات کا وسیلہ پکڑا جائے۔ یعنی عبادت ہو تو صرف اللہ کی،کیونکہ صرف وہی اس کے لائق ہے۔ وہی سچا اِلٰہ ہے اور حقیقی معبود ہے۔ باقی تمام ہستیاں جن کی عبادت لوگ اللہ کو چھوڑ کر کرتے ہیں، وہ جھوٹے اِلٰہ اور معبودانِ باطلہ ہیں۔
لَا اِلٰہ اِلا اﷲنہیں ہے کوئی اِلٰہ (معبود) اللہ کے سوا
اللہ کی عبادت کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرنا شرک ہے جس کا مرتکب اسلام سے خارج اور (اگر پکی توبہ نہ کرے تو مرنے کے بعد) دائمی جہنمی ہے۔

زندگی کا اصل اور اولین مقصد

 صرف اللہ کو اِلٰہ ماننا، یعنی تمام اقسام کی عبادات (جیسے دعا، پکار، مدد طلب کرنا،نذر،قربانی،ذبیحہ، طواف، قیام، سجدہ وغیرہ) اور عبادات پر مبنی احساسات و کیفیات (مثلاًخوف، امید، توکل، محبت، تعظیم وغیرہ) کو اسی کے لئے خاص کرنا توحید ِاُلُوہیت یا توحیدِعبادت کہلاتا ہے۔ اسی توحیدِ عبادت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء علیہ السلام کو وقتاًفوقتاً دنیا میں بھیجا۔ بلکہ انسانوں اور جنوں کو بھی صرف اس لئے پیدا فرمایا کہ وہ توحید ِعبادت پر عمل و یقین رکھیں۔
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذاریات:۶۵)
‘’اور میں نے جن و انس اسی لئے تو پیدا کئے ہیں کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔’‘

کلمۂ طیبہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲمُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ کا بنیادی مفہوم

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی ہستی (نبی، ولی، جن و انس، شجر، حجر وغیرہ) ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی کسی ایک صفت یا خاصیت میں ذرہ برابر بھی حصہ رکھتی ہو۔ جسے وسائل اور اسباب کے بغیر کائنات کے ایک ذرہ پر بھی معمولی سی قدرت یا اختیار ہو۔ جوہروقت،ہرجگہ، ہر چیز کا علم رکھنے والی اور کنٹرول رکھنے والی ہو۔ لوگوں کی سب حاجات پوری کرنااورمشکلات دور کرنا جس کے بس میں ہو۔ جو دُور و نزدیک ہر جگہ سے لوگوں کی پکاریں سنتی ہو، اور پکارے جانے کے لائق ہو۔ ہر قسم کی نذر و نیاز اور قربانی جس کے نام پرکی جانا اُس کا حق ہو۔ جس کے واسطے اور وسیلے سے دعائیں مانگی جائیں۔ جسے حد درجہ تعظیم دی جائے۔ جس سے بے پناہ محبت، اُمید اور خوف رکھا جائے۔ جس کے حضور قیام، رکوع اور سجدہ ہو۔ قانون بنانا، حکم چلانا اور غیر مشروط و کامل اطاعت جس کا حق ہو۔ سب جس کے بندے اور محتاج ہوں۔ یقیناً ایسی کوئی ذات نہیں…۔ ایک اللہ کے سوا۔
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ کا مطلب یہ ہے کہ محمد مصطفی ﷺ، اللہ تعالیٰ کے آخری رسول،اسکےبندےاور بشر ہیں۔ زندگی کے ہر شعبہ میں ان کی ایک ایک سنت حرف ِ آخراورایک ایک حکم واجب الاطاعت ہے۔ ان کے قول و عمل کے مقابلے میں کسی کا قول وعمل ہرگزتوجہ کے قابل نہیں ہے۔ اور ان کے ہر قول و عمل کی وہی تعبیر معتبر ہےجوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔ دین کے نام پرکی جانے والی ہر چیز جو نبی کریمﷺاوران کے صحابہ سے ثابت نہ ہو، وہ بدعت، گمراہی اور قابل رد ّ ہے۔
ان عقائد کا حامل اور فاعل ہی کلمہ کے اقرار میں سچا سمجھے جانے کا مستحق اور جنت کااُمیدوارہونے کا حقدار ہے۔
Advertisements
1 comment
  1. Nauman said:

    Jazakallah,

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: