شوال کے چھے روزوں کی حکمت

ماہ شوال کے ان روزوں  کی حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ ابن رجب حنبلی رقم طراز ہیں:أفضل التطوع ما کان قريبا من رمضان قبله و بعده و ذلک يلتحق بصيام رمضان لقربه منه و تکون منزلته من الصيام بمنزلة السنن الرواتب مع الفرائض قبلها و بعدها فيلتحق بالفرائض في الفضل و هي تکملة لنقص الفرائض و کذلک صيام ما قبل رمضان و بعده فکما أن السنن الرواتب أفضل من التطوع المطلق بالصلاة فکذلک صيام ما قبل رمضان و بعدهأفضل من صيام ما بعد منه رمضان سے پہلے اوررمضان کے بعدسب سے بہترنفل وہ ہے جوماہ رمضان کے بالکل قریب ہو،رمضان سے قریب ترہونے کی وجہ سے انہیں  رمضان کے روزوں  کے ساتھ ملادیاگیا،اورانہیں  رمضان کے روزوں  کے فورابعد ہونے کی وجہ سے فرائض کے پہلے وبعد والی سنتوں  کامقام دیاگیا، لہٰذا افضلیت میں  یہ فرائض کے ساتھ ملادی گئییں  اوریہ فرائض کی کمی پوری کرنے والی ہو ں  گی اوررمضان سے پہلے اوربعد روزہ رکھنابھی اسی طرح افضل ہے جس طرح فرض نمازوں  کے پہلے وبعد والی سنتیں  مطلق نوافل پڑھنے سے بہترہیں (لطائف المعارف  1381)
ٹھیک یہی بات شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے چنانچہ آپ حجة اللہ البالغہ میں  لکھتے ہیں   والسر في مشروعيتها أنها بمنزلة السنن الرواتب في الصلاة ان چھ روزوں  کی مشروعیت کاراز یہ ہے کہ جس طرح نماز کے سنن ونوافل ہوتے ہیں  جن سے نمازکافائدہ مکمل ہوتاہے،اسی طرح یہ چھ روزے بھی روزوں  کے سنن ونوافل کے قائم مقام ہیں (حجة اللہ البالغة  176)
رمضان کے بعد چھہ روزو ں  کے لئے ماہ شوال ہی کوکیوں  منتخب کیاگیا؟اس سلسلے میں  علامہ عبدالرؤف المناوی فرماتے ہیں وخص شوال لأنه زمن يستدعي الرغبة فيهإلي الطعام لوقوعه عقب الصوم فالصوم حينئذ أشق فثوابهأکثران چھہ رورزوں  کے لئے ماہ شوال کو اس لئے خاص کیاگیاکیونکہ یہ ایک ایسامہینہ ہے جس میں  لوگ کھانے پینے کی طرف زیادہ راغب رہاکرتے ہیں  کیونکہ وہ ابھی ابھی رمضان کے روزوں  سے ہوتے ہیں  ،لہٰذاجب کھانے کاشوق وخواہش شدت پرہو اوراس حالت میں  روزہ رکھاجائے تواس کاثواب بھی زیادہ ہوگا”(فیض القدیر 1616)
اور علامہ ابن القیم لکھتے ہیں:وَقَالَ آخَرُونَ   لَمَّا کَانَ صَوْم رَمَضَان لَا بُدّ أَنْ يَقَع فِيهِ نَوْع تَقْصِير وَتَفْرِيط , وَهَضْم مِنْ حَقِّهِ وَوَاجِبِهِ نَدَبَ إِلَي صَوْم سِتَّةأَيَّام مِنْ شَوَّال , جَابِرَةٍ لَهُ , وَمُسَدِّدَة لِخَلَلِ مَا عَسَاهُ أَنْ يَقَع فِيهِ . فَجَرَتْ هَذِهِ الْأَيَّام مَجْرَي سُنَن الصَّلَوَات الَّتِي يُتَنَفَّل بِهَا بَعْدهَا جَابِرَة وَمُکَمِّلَة , وَعَلَي هَذَا   تَظْهَر فَائِدَة اِخْتِصَاصهَا بِشَوَّال , وَاللہ أَعْلَمبعض اہل علم کاکہناہے کہ رمضان کے روزوں  کے حقوق وواجبات میں  کچھ نہ کچھ کوتاہی وکمی ہوہی جاتی ہے ،اس لئے شوال کے چھہ روزے مستحب قراردئے گئے ہیں  تاکہ ان کوتاہیوں  اورکمیوں  کی تلافی ہوسکے گویاکہ یہ روزے فرض نمازوں  کے بعد والی سنتوں  کے قائم مقام ہیں  جونمازوں  میں  واقع کمی وکوتاہی کودورکرنے کے لئے ہوتی ہیں  ،اس سے ظاہرہوتاہے کہ ماہ شوال ہی کے ساتھ شوال کے چھے روزوں  کی تخصیص کافائدہ کیاہے (تہذیب سنن أبی داود ویضاح مشکلاتہ 4901)
Advertisements
1 comment

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: