ذر ائع ابلاغ:

ذرائع ابلاغ کو عربی میں اعلام کہا جاتا ہے، ’’الاعلام نشاتہ وسائلہ مایؤثر فیہ‘‘ کے مصنف دکتور یوسف محی الدین اس کی تعریف کی ہے: ’’ہو نشر الحقائق و الاخبار و الافکار و الآراء فی وسائل الاعلام المختلفۃ‘‘یعنی میڈیا کہا جاتا ہے، حقائق، اخبار، افکار، آراء کومختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں تک پہنچانا۔ (ص۶)
 ذرائع ابلاغ کی تاریخ بہت قدیم ہے، ہر زمانہ میں لوگ مختلف طریقوں سے معلومات اور اخبار کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتے رہے، کبھی پرندوں کو استعمال کر کے، کبھی پمفلیٹوں کو دیواروں پر چسپاں کر، کبھی بآواز بلند لوگوں کو خبر دے کر، یہاں تک کہ صنعتی انقلاب کے بعد ذرائع ابلاغ میں زبردست تبدیلیاں واقع ہوئیں، یہاں تک کہ پچھلی صدی کو ’’ذرائع ابلاغ کے انقلاب‘‘ کی صدی کہا گیا، محی الدین عبدالحلیم نے عجیب بات کہی کہ ذرائع ابلاغ کے انقلاب کے بعد اب کوئی لمحہ چاہے رات کا ہو، چاہے دن کا، اس سے خالی نہیں ہوتا اور انسان بیدار ہونے کے فوراً بعد سے لے کر سونے تک ذرائع ابلاغ سے برابر ربط میں رہتا ہے، چاہے وہ سمعی ہو، چاہے مرئی ہو، چاہے مقروئی ہو، جس کی وجہ سے اس کی فکر اور نظریہ پر بڑا اثر مرتب ہوتا ہے۔ (الدعوۃ الاسلامیۃ و الاعلام الدولی:ص۱۴)

ذرائع ابلاغ کے انواع و اقسام:

 اتصال شخصی جیسے موبائل، ای میل، جی میل، فیکس، ٹیل فون، وغیرہ۔ پرنٹ میڈیا جیسے اخبارات، رسائل، جرائد، کتابیں۔ الیکٹرانک میڈیا پھر اس کی دو قسمیں ہیں : ذرائع ابلاغ سمعی جیسے ریڈیو، ٹیپ وغیرہ، ذرائع ابلاغ مرئی جیسے ٹیلی ویژن، ڈش، وغیرہ۔

ذرائع ابلاغ کی تاریخ:

 ریڈیو کی ایجاد امریکہ میں ۱۹۲۰ء میں ہوئی۔
ٹیلی ویژن پر تجربات کا آغاز ۱۸۲۸ء سے شروع ہوا، پہلے صرف تصاویر، پھر آواز، پھر نقل و حرکت، اس طرح ہوتے ہواتے ۱۹۸۹ء میں ڈائریکٹ ٹیلی کاست تک پہنچا۔
 پرنٹ میڈیا کی تاریخ تو بہت قدیم ہے، البتہ ۱۶۶۵ء میں باقاعدہ مشینی پرنٹ میڈیا کا آغاز ہوا۔
 انٹرنیٹ ۱۹۶۹ ء میں ایجاد کا آغاز ہوا، ۱۹۸۳ء تک کمال کو پہنچا۔
ٹیلی فون: فیکس:
وِلسن کاسن ایک موقع پر کہتا ہے کہ صحافت اورذرائع ابلاغ صرف اخبار اور آراءکولوگوں تک پہنچانے کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعہ لوگوں کی قوتِ فکرکوبدلاجاسکتاہے، اور لوگوں کے ذہنوں پر تسلط حاصل کیا جا سکتا ہے۔(اباطیل واسمار:ص۲۵۵)
 اسی لیے ایک مشہورِ زمانہ مستشرق ارجب کہتا ہے کہ لوگوں کے افکار کو بدلنے کے لیے صرف مغربی انداز کی تعلیم اور مغربی نظریات کا پڑھا دینا کافی نہیں ہے، بلکہ تعلیم تو صرف پہلا زینہ ہے۔ اصل تو ذرائع ابلاغ ہی ہے، کیوں کہ اس سے ہر کس وناکس، عالم و جاہل، پڑھا لکھا و اَن پڑھ، سب مستفید ہوتے ہیں، لہٰذا سب سے زیادہ محنت ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ہی کی جانی چاہئے، تا کہ لوگ مغرب کے دلدادہ ہو جائیں۔ (وجہۃ الاسلام للمستشرق جیب)
 ’’الاعلام والتیارات الفکریۃ المعاصرۃ‘‘ کے مصنف سعید عبد اللہ حارب نے ذرائع ابلاغ پر کو نسی کتنی مقدار میں نشر ہوتی ہے، کا ایک جائزہ لیا اور بڑی ہی ہلاکت خیز رپورٹ پیش کی ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں کہ یومیہ ۳۵فیصد وقت صرف ناچ گانا نشر کیا جاتاہے،اس کے تئیں ڈرامے، موسیقی اور کھیل کود ۲۵فیصد کا وقت اس کے لیے مختص ہے۔ ۲۱فیصد وقت نیوز اور اخبار کے مختص ہے۔ اور یہ رپورٹ تقریباً ۱۹۸۷ء کا ہے۔ اس کے بعد تو مزید اس میں اضافہ ہوا ہے، گویا ریڈیو، ٹیلی وژن وغیرہ پر تقریباً ستر فیصد وقت محض حرام، لغو اور فضول امور کے لیے مختص ہے۔ عورتوں میں بے راہ روی کو عام کرنے کے لیے مقابلۂ حسن، بچوں کے ذہنوں کو متاثر کرنے کے لیے کارٹونی کتابیں، فلمیں اور گیمس۔برائیوں کو مزید فروغ دینے کے لیے فلمی ستاروں کو آشکار اور بہترین ادا کاری کے ایوارڈ۔ اسی طرح کھیل عام کرنے کے لیے بڑی بڑی انعامیر سمیں وغیرہ وغیرہ۔
 غرضیکہ ذرائع ابلاغ فکرِ اسلامی ہی نہیں بل کہ انسان کو ہلاک و برباد کرنے لیے، اس وقت بہترین آلہ ہے اور ہر طرح کے ذرائع ابلاغ پر مکمل رسوخ یہود و نصاریٰ کو حاصل ہے۔ دنیا میں جتنی بڑی بڑی اخباری اجنسیاں ہیں،مثلاً: C.N.N, B.B.C وغیرہ، سب یہود و نصاریٰ ہی کے کنٹرول میں ہے۔ وہ اخبار کو توڑ مروڑ کر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بے جا الزام تراشی ان کا وطیرہ بن چکی ہے، کبھی اسلام کے خلاف، کبھی رسول اللہ ﷺ کے خلاف، کبھی قرآن کے خلاف، کبھی جہاد اسلامی کے خلاف، کبھی اسلامی طریقۂ حدود و تعزیرات کے خلاف، کبھی خلافتِ اسلامیہ کے خلاف، کسی نہ کسی طرح زہر افشانی ہوتی رہتی ہے۔ ’’مغربی میڈیا اوراس کے اثرات۔ نذر الحفیظ ندوی‘‘ میں مزید تفصیلات جانی جا سکتی ہے۔
 اسی پر بس نہیں بل کہ دنیا میں فحاشی اور عریانی کو عام کرنے کے لیے ہالی ووڈ، بالی ووڈ، ٹالی ووڈ کے نام سے بڑی بڑی فلم انڈسٹریاں قائم کر دی گئی ہیں، یہ جس میں عریانی قتل و غارت گیری، چوری، ڈکیتی، اغوا، ظلم وستم کے نئے نئے طریقے دکھائے جاتے ہیں، عقائد کو بگاڑنے کے لیے آواگون، باطل معبودوں کو فرضی طاقت، جادو گری وغیرہ کے مناظر دکھائے جاتے ہیں، انٹرنیٹ پر لاکھوں ایسی ویب سائٹس لانچ کی گئی جو جنسی انار کی کو پھیلانے میں لگی ہوئی ہے اور اب تو رہی سہی کسر موبائل نے پور ی کر دی، سیڈیCD، اور ڈی وی ڈیDVD کے ذریعہ بھی خرابیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
 غرض کہ ذرا ئع ابلاغ، گویا ذرائع ابلاغ جہنم بن چکے ہیں، خدارا، اے میرے مسلمان بھائیو! کچھ تو عبرت حاصل کرو اور بے جا لذت میں مبتلا ہو کر اپنی عاقبت اور آخرت برباد ہو نے سے بچاؤ۔
 اللہ ہم سب کو توفیق خیر عطا فرمائے، اور ہر طرح کے فتنے سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین !

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: