حضرت سلیمان علیہ السلام-4

داؤد اور سلیمان علیہما السلام كا فیصلہ
قرآن میں دوسرى جگہ داؤد علیہ السلام و سلیمان علیہ السلام كى زندگى كے ایك حصہ كى طرف اشارہ ہورہا ہے۔ابتداء میں ایك فیصلہ كا ذكر ہے كہ جوحضرت داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام نے كیا تھا۔۔ایك اجمالى اشارہ كرتےہوئےفرمایاگیا :
اور داؤد علیہ السلام و سلیمان علیہ السلام كو یاد كرو كہ جس وقت وہ ایك كھیت كے بارے میں فیصلہ كررہے تھے كہ جسكوایك قوم كى بھیڑیں رات كے وقت چرگئی تھیں ،اورہم ان كے فیصلے كے شاہد تھے ۔( سورۂ انبیاء آیت 78)
اگر چہ قرآن نے اس فیصلے كا واقعہ كاملاًسر بستہ طور پر بیان كیا ہے۔اور ایك اجمالى اشارہ پر ہى اكتفا كیا ہے،اور صرف اسكےاخلاقى اور تربیتى نتیجہ پر كہ جس كى طرف ہم بعد میں اشارہ كریں گے قناعت كى ہے،لیكن اسلامى روایات اور مفسرین كے بیانات میں اس سلسلے میں بہت سى بحثیں نظر آتى ہیں ۔
كچھ مفسرین نے یہ بیان كیا ہے كہ وہ واقعہ اس طرح تھا:كہ بھیڑوں كا ایك ریوڑرات كے وقت انگوروں كے ایك باغ میں داخل ہوگیا اور انگوروں كى بیلوں اور انگوروں كے گچھوں كو كھا گیا اور انہیں خراب اور ضائع كردیا۔
باغ كا مالك حضرت داؤد علیہ السلام كے پاس شکایت لے كر پہنچا۔حضرت داؤد علیہ السلام نے حكم دیا كہ اس اتنےبڑےنقصان كے بدلے میں تمام بھیڑیں باغ كے مالك كو دے دى جائیں ۔
سلیمان علیہ السلام جو اس وقت بچے تھے باپ سے كہتے ہیں كہ،اے خدا كے عظیم پیغمبرآپ اس حكم كو بدل دیں اورمنصفانہ فیصلہ كریں باپ نے كہاكہ وہ كیسے؟
آپ علیہ السلام جواب میں كہتے ہیں كہ:بھیڑیں تو باغ كے مالك كے سپرد كى جائے تا كہ وہ ان كے دودھ اور اون سےفائدہ اٹھائے اور باغ كو بھیڑوں كے مالك كے حوالے كیا جائے تا كہ وہ اس كى اصلاح اور درستى كى كوشش كرے۔جس وقت باغ پہلى حالت میں لوٹ آئے تو وہ اس كے مالك كے سپرد كردیا جائے اور بھیڑیں بھى اپنے مالك كےپاس لوٹ جائیں گی(اور خدا نے سلیمان علیہ السلام كے فیصلہ كى تائید كی)۔
یہاں پر ایك اہم سوال باقى ہے: ان دونوں فیصلوں كى بنیاد او رمعیاركیا تھا؟
اس سوال كے جواب میں كہا جاسكتا ہے كہ معیار اور بنیاد خسارے اور نقصان كى تلافى كرنا تھا۔حضرت داؤد علیہ السلام نےغور كیا اور دیكھا كہ انگوروں كے باغ میں جو نقصان ہوا ہے،وہ بھیڑوں كى قیمت كے برابر ہے۔ لہذا انہوں نے حكم دیاكہ اس نقصان كى تلافى كرنے كے لئے بھیڑیں باغ كے مالك كو دے دى جائیں كیونكہ قصور بھیڑوں كے مالك كا تھا۔
(اس بات كى طرف توجہ رہے كہ بعض اسلامى روایات میں یہ بیان ہوا ہے كہ رات كے وقت بھیڑوں والے كى ذمہ دارى ہے كہ وہ اپنے ریوڑ كو دوسروں كے كھیتوں میں داخل ہونے سے روكے اور دن كے وقت حفاظت كى ذمہ دارى كھیتوں كےمالك كى ہے)۔
اور حضرت سلیمان علیہ السلام كے حكم كا ضابطہ یہ تھا كہ انہوں نے دیكھا كہ باغ كے مالك كا نقصان بھیڑوں كے ایك سال كے منافع كے برابر ہے۔ اس بناء پر فیصلہ تو دونوں نے حق و انصاف كے مطابق كیا ہے لیكن اس میں فرق یہ ہے كہ حضرت سلیمان علیہ السلام كا فیصلہ زیادہ گہرائی پر مبنى تھا،كیونكہ اس كے مطابق خسارہ ایك مشت نہیں كیا گیاتھا بلكہ اس طرح خسارہ تدریجى طور پر پورا ہوتا اور یہ فیصلہ بھیڑوں والے پر بھى گراں نہ تھا۔
علاوہ ازیں نقصان اور تلافى كے درمیان ایك تناسب تھا،كیونكہ انگور كى جڑیں ختم نہیں ہوئی تھیں ،صرف ان كا وقتى منافع ختم ہوتا تھا،اندازاً زیادہ منصفانہ فیصلہ یہ تھا كہ اصل بھیڑیں باغ كے مالك كو نہ دى جائیں ،بلكہ اسے ان كا منافع دیا جائے۔
بہر حال سلیمان علیہ السلام كے فیصلہ كى اس صورت میں تائید كى گئی ہے: ہم نے یہ فیصلہ سلیمان علیہ السلام كوسمجھادیاتھا۔( سورۂ انبیاء آیت 79)
اور ہمارى تائید سے اس نے اس جھگڑے كے حل كى بہترین راہ معلوم كرلی۔
لیكن اس كا یہ مطلب نہیں كہ حضرت داؤد علیہ السلام كا فیصلہ غلط تھا۔كیونكہ قرآن ساتھ ہى كہتا ہے: ہم نے ان دونوں میں سے ہر ایك كو آگاہى اور فیصلے كى اہلیت اور علم عطا كیا تھا ۔( سورۂ انبیاء آیت 79)
ہد ہد اور ملكہ سبا كى داستان
قرآن كے ایك حصے میں اللہ تبارک و تعالٰی حضرت سلیمان علیہ السلام كى حیرت انگیز زندگى كے ایك اور اہم واقعے كى طرف اشارہ فرماتاہے اور ہدہد اور ملكہ سباء كا قصہ بیان كرتا ہے،فرماتا ہے: سلیمان علیہ السلام كو ہدہد دكھائی نہ دیا تو وہ اسے ڈھونڈنے لگے ۔( سورۂ نمل آیت 20)
یہ تعبیر اس حقیقت كو اچھى طرح واضح كرتى ہے كہ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنى حكومت كے حالات اور ملك كى كیفیت كو اچھى طرح مد نظر ركھتے تھے یہاں تك كہ ایك پرندہ بھى ان كى آنكھوں سے اوجھل نہیں تھا۔
سلیمان علیہ السلام كو كیسے معلوم ہوا كہ ہدہدغیر حاضرہے؟بعض كہتے ہیں كہ اس وجہ سے كہ جب آپ علیہ السلام سفركرتے تو پرندے آپ علیہ السلام كے سر پر سایہ كئے رہتے تھے۔
چونكہ اس وقت اس سائبان میں اسكى جگہ خالى نظر آئی لہذا انھیں معلوم ہوگیا كہ ہدہد غیر حاضر ہے۔ بعض مفسرین كہتےہیں كہ سلیمان علیہ السلام كے نظم حكومت میں پانى كى تلاش كا كام ہدہد كے ذمہ تھا لہذا پانى كى ضرورت كے وقت جب اسے تلاش كیا گیا تو وہ نہیں ملا۔
بہر حال،اس گفتگو كى ابتداء میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: مجھے وہ دكھائی نہیں دے رہا ہے ،پھر فرمایا: یا یہ كہ وہ غائب ہے ۔
ممكن ہے یہ اس بات كى طرف اشارہ ہو كہ كیا وہ كسى معقو ل عذر كے بغیر حاضر نہیں ہے یا معقول عذر كى وجہ سے غائب ہے۔
بہر صورت ایك با استقلال منظم اور طاقت ورحكومت میں یہى ہوتا ہے كہ ملك میں جو بھى اتار چڑھاؤ ہو وہ سر براہ حكومت كى نظر میں ہو حتى كہ كسى پرندے كى حاضرى اور غیر حاضرى ایك عام ملازم كى موجودگى اور عدم موجودگى اس كے پیش نظرہو اور یہ ایك بہت بڑا درس ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے دوسروں كو درس دینے اور حكم عدولى پر سزادینے كى خاطر مندجہ ذیل جملہ كہا تاكہ ہدہد كى غیر حاضرى دوسرے پرندوں پر بھى اثر كرے چہ جائیكہ اہم عہدوں اور اعلى مناصب پر فائز انسان، فرمایا: میں یقیناًاسے سخت سزادوں گا ۔  یا اسے ذبح كر ڈالوں گا،یا پھر وہ اپنى غیر حاضرى كى میرے سامنے واضح دلیل پیش كرے ۔( سورۂ نمل آیت 21)
درحقیقت حضرت سلیمان علیہ السلام نے غیر حاضرى كى صورت میں یك طرفہ فیصلہ دینے كى بجائے خلاف ورزى ثابت ہوجانے پر سزا كى تنبیہ كى ہے اور اپنى اس تنبیہ میں بھى دو مراحل بیان كئے ہیں جو جرم كى نوعیت كے مطابق ہیں ایك مرحلہ بغیر موت كے سزا ہے اوردوسرا سزائے موت كا مرحلہ ہے۔ ساتھ ہى یہ بھى واضح كردیا ہے كہ انھیں اپنى
حكومت اور طاقت كا گھمنڈ نہیں ہے بلكہ اگر ایك كمزور ساپرندہ بھى معقول اور واضح دلیل پیش كرے تو وہ اسے قبول كرنے كے لئے تیار ہیں ۔
ہد ہد ایك اہم خبر كے ساتھ
ہد ہد كى غیر حاضرى كو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھاكہ ہد ہد واپس آگیا اور سلیمان علیہ السلام كى طرف رخ كركےكہنےلگا:مجھےایك ایسى چیز معلوم ہوئی ہے جس سے آپ علیہ السلام آگاہ نہیں ہیں ،میں آپ علیہ السلام كےلئےسرزمین سباء سے ایك یقینی(اور بالكل تازہ)خبر لایا ہوں ۔( سورۂ نمل آیت 22)
گویا ہد ہد نے حضرت سلیمان علیہ السلام كے چہرے پر غصے كے آثار دیكھ لئے تھے لہذا ان كى ناراضى دوركرنےكےلئےسب سے پہلے اس نے ایك ایسے اہم مطلب كى مختصر الفاظ میں خبردى جس سے حضرت سلیمان علیہ السلام اس قدر علم و دانش ركھنے كے باوجود بے خبر تھے،جب ان كا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے اس ماجرا كى تفصیل بیان كی۔( یہ بات بھى  قابل توجہ ہے كہ سلیمان علیہ السلام كے لشكروں والے حتى كہ پرندہ تك كو بھى جوان كے تابع فرمان تھے حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس قدر آزادی،امن وامان اور جسارت عطاكى ہوئی تھى كہ ہد ہد نے كھل كر ان سےكہہ دیا: مجھے ایسى چیز معلوم ہوئی ہے جس كى آپ علیہ السلام كو بھى خبر نہیں ہے ۔
اس كى گفتار كا طریقہ ایسا نہیں تھا جیسے چاپلوس درباریوں كا جابر بادشاہوں كے سامنے ہوتا ہے كہ كسى حقیقت كو بیان كرنے كے لئے مدتوں خوشامد كرتے رہتے ہیں اپنے آپ كو ذرہ ناچیز بتلاتے ہیں پھر چاپلوسى اور خوشامد كے ہزاروں پردوں میں كوئی بات بادشاہ سلامت كے قدموں پر نثار كرتے ہیں اور كبھى بھى اپنى بات كھو ل كر بیان نہیں كرتے بلكہ ہمیشہ پھول كى پتى سے بھى نازك كنایوں كا سہارا لیتے ہیں مبادا بادشاہ سلامت كى خاطر مبارك ملول ہوجائے۔
ہاں تو ہدہد نے واضح الفاظ كہہ دیا كہ میرى غیر حاضرى كسى دلیل كے بغیر نہیں تھی،میں ایك ایسى اہم خبر لایا ہوں جس سے آپ علیہ السلام بھى بے خبر ہیں ۔
ضمنى طور پر یہ تعبیرسب لوگوں كے لئے ایك بہت بڑا درس بھى ہے كیونكہ ہوسكتا ہے كہ ہد ہد جیسى ایك چھوٹى سى مخلوق ایسى با ت جانتى ہو جس سے اپنے دور كے بہت بڑے دانشور بھى بے خبر ہوں ۔انسان كو نہیں چاہیئےہ اپنے علم و دانش پرگھمنڈ كرے چاہے وہ نبوت كے وسیع علم كا مالك سلیمان علیہ السلام ہى كیوں نہ ہو۔ )
بہر حال ہد ہد نے ماجرے كى تفصیل بیان كرتے ہوئے كہا: میں سر زمین سباء میں چلا گیا تھا۔میں نے دیكھا كہ ایك عورت وہاں كے لوگوں پر حكومت كررہى ہے اسكے قبضے میں سب كچھ ہے خاص طور پر اس كا ایك بہت بڑا تخت بھى ہے۔(سورۂ نمل آیت 23)
ہد ہد نے ان تین جملوں میں ملك سباء كى تقریباًتمام خصوصیات بتادیں اور وہاں كے طرز حكومت سے بھى سلیمان علیہ السلام كو باخبر كردیا۔
پہلى خصوصیت تویہ ہے وہ ایك ایسا آباداور شاد ملك ہے جس میں ہر طرح كى نعمتیں اور سہولیات مہیا ہیں ۔
دوسرى یہ كہ ان لوگوں پر ایك عورت حكومت كررہى ہے جس كا ایك نہایت ہى آراستہ دربار ہے حتى كے سلیمان علیہ السلام كے دربار سے بھى زیادہ آراستہ كیونكہ ہدہدنے حضرت سلیمان علیہ السلام كا تخت دیكھا ہوا تھا اس كے باوصف ہونےكے باوجود اس نے ملكہ سباء كے تخت كو عرش عظیم كے عنوان سے یاد كیا۔
ان الفاظ كے ساتھ اس نے سلیمان علیہ السلام كو یہ بات جتلادى كہ كہیں ایسا نہ ہوكہ آپ علیہ السلام یہ تصور كرلیں كہ تمام جہان آپ علیہ السلام كے قلم روحكومت میں ہے اور صرف آپ علیہ السلام كا تخت باعظمت ہے۔
سلیمان ہدہد كى یہ بات سن كر ایك گہرى سوچ میں پڑگئے لیكن ہد ہد نے انھیں مزید سوچنے كى مہلت نہ دى اور فوراًہى ایك اور بات پیش كردی۔اس نے كہا: جو عجیب و غریب اور تكلیف دہ چیز میں نے وہاں دیكھى ہے وہ یہ كہ میں نےدیكھاكہ وہ عورت اور اس كى قوم خدا كو چھوڑ كر سورج كے سامنے سجدہ كرتے ہیں ۔
شیطان ان پر مسلط ہوچكا ہے اور اس نے ان كے اعمال كو ان كے لئے مزین كر ر كھا ہے ۔( سورۂ نمل آیت24)(لہذاوہ سورج كو سجدہ كرنے میں فخر محسوس كرتے ہیں )۔
(اس طرح سے) شیطان نے انھیں راہ حق سے روك ركھا ہے ۔( سورۂ نمل آیت 24) وہ بت پرستى میں اس قدر غرق ہوچكے ہیں كہ مجھے یقین نہیں كہ وہ آسانى سے اس راہ سے پلٹ جائیں ۔ وہ بالكل ہدایت نہیں پائیں گے ۔( سورۂ نمل آیت 24)
ہد ہد نے ان الفاظ كے ساتھ ان كى مذہبى اور روحانى حیثیت بھى واضح كردى كہ وہ بت پرستى میں خوب مگن ہیں ،حكومت آفتاب پرستى كو ترویج كرتى ہے۔اور لوگ اپنے بادشاہ كے دین پر ہیں ۔
ان كے بت كدوں اور دوسرے حالات سے واضح ہوتا ہے كہ وہ اس غلط راہ پر ڈٹے ہوئے ہیں اوراس كے ساتھ جنون كى حد تك محبت كرتے ہیں اور اپنى اس غلط روش پر فخر كرتے ہیں ایسے حالات میں جبكہ حكومت اور عوام ایك ہى ڈگر پرچل رہے ہیں ان كا ہدایت پانا بہت مشكل ہے۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: