سیرتِ امام ابو حنیفہؒ از علّامہ شِبلی نُعمانیؒ-3

سلسلۂ تدریس و افتاء

درس کا آغاز

امام صاحبؒ کے خاص استاد حضرت حمادؒ نے 120ھ میں وفات پائی۔ چونکہ ابراہیم نخعیؒ کے بعد فقہ کا دارو مدار انہی پر رہ گیا تھا ان کی موت نے کوفہ کو بے چراغ کر دیا لہٰذا تمام بزرگوں نے متفقاً امام ابو حنیفہؒ سے درخواست کی کہ مسندِ درس کو مشرف فرمائیں۔ اس وقت امام صاحبؒ کی عمر چالیس سال تھی بنابریں جسم و عقل میں کامل ہو نے کے بعد آپ نے مسندِ درس کو سنبھالا۔
ابوالولیدؒ کا بیان ہے کہ لوگوں نے ان کے پاس وہ سب کچھ پایا جو ان کےبڑوں کے پاس نہیں ملا اور نہ ہی ان کے ہم عمروں میں چنانچہ لوگ آپؒ کی صحبت میں آ گئے اور غیروں کو چھوڑ دیا۔
 انہی دنوں میں امام صاحبؓ نےخواب دیکھا کہ پیغمبرﷺ کی قبرِ مبارک کھود رہے ہیں۔ ڈر کر چونک پڑے اورسمجھے کہ  ناقابلیت کی طرف اشارہ ہے۔ امام ابن سیرینؒ علمِ تعبیر کے استادمانے جاتے تھے انہوں نے تعبیر بتائی کہ اس سے ایک مردہ علم کو زندہ کر نامقصود ہے۔ امام صاحبؒ کو تسکین ہو گئی اور اطمینان کے ساتھ درس و افتاء میں مشغول ہو گئے۔

درس کے اوقات

معمول تھا صبح کی نماز کے بعد مسجدمیں درس دیتے، دور دور سے استفتا آئے ہوتے۔ ان کے جواب لکھتے۔ پھرتدوینِ فقہ کی مجلس منعقد ہو تی، بڑے بڑے نامور شاگردوں کا مجمع ہوتا۔ پھر ظہرکی نماز پڑھ کر گھر آتے گرمیوں میں ہمیشہ ظہر کے بعد سو رہتے۔ نمازِ عصر کےبعد کچھ دیر تک درس و تعلیم کا مشغلہ رہتا۔ باقی دوستوں سے ملنے ملانے، بیماروں کی عیادت، تعزیت اورغریبوں کی خبر گیری میں صرف ہوتا۔ مغرب کےبعد پھر درس کا سلسلہ شروع ہوتا اور عشاء تک رہتا۔ نمازِ عشاء پڑھ کر عبادت میں مشغول ہوتے اور اکثر رات رات بھر نہ سوتے۔

درس کی وسعت

اول اول حمادؒ کے پرانے شاگرد درس میں شریک ہوتے تھے۔ لیکن چند روز میں وہ شہرت ہوئی کہ کوفہ کی درسگاہیں ٹوٹ کرانکے حلقہ میں آ ملیں، نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود ان کے اساتذہ مثلاً مسعر بن کدامؒ، امام اعمشؒ وغیرہ ان سےاستفادہ کرتےتھے اور دوسروں کو ترغیب دلاتے تھے۔
ابن ابی لیلی،شریک، ابن شبرمہ آپ کی مخالفت کرنے لگے اور آپ کی عیب جوئی میں لگ گئےمعاملہ اس طرح چلتا رہا مگر امام صاحبؒ کی بات مضبوط ہوتی گئی۔ امراء کوآپ کی ضرورت پڑنے لگی اور خلفاء نے آپ کو یاد کرنا اور شرفاء نے اکرامکرنا شروع کر دیا۔ آپ کا مرتبہ بڑھتا چلا گیا شاگردوں کی زیادتی ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ مسجد میں سب سے بڑا حلقہ آپ کا ہوتا اور  سوالوں کے جواب میں بڑی وسعت ہوتی۔ لوگوں کی توجہ آپ کی طرف ہوتی گئی۔ امام صاحبؒ لوگوں کےمصائب میں ہاتھ بٹانے لگے، لوگوں کا بوجھ اٹھانے لگے اور ایسے ایسے کام کرنے لگے جن کو کرنے سے دوسرے لوگ عاجز تھے۔ اس سے آپ کو بڑی قوت ملی الغرض تقدیرِ خداوندی نے آپ کو سعید و کامیاب کیا۔
اسلامی دنیا کا کوئی حصہ نہ تھا جو ان کی شاگردی کے تعلق سے آزاد رہا ہو۔ جن جن مقامات کےرہنے والے ان کی خدمت میں پہنچے ان سب کا شمار ممکن نہیں لیکن جن اضلاع و ممالک کا نام خصوصیت کے ساتھ لیا گیا ہے وہ یہ ہیں: مکہ،مدینہ،دمشق،بصرہ،مصر،یمن،یمامہ،بغداد،اصفہان،استرآباد،ہمدان،طبرستان،مرجان،نیشاپور،سرخس،بخارا،سمرقند،کس،صعانیاں،ترمذ،ہرات،خوازم،سبستان،مدائن،حمص وغیرہ۔ مختصر یہ کہ ان کی استادی کے حدود خلیفۂ وقت کی حدودِ حکومت سے کہیں زیادہ تھے۔
پھر تو آپؒ کے شاگردوں میں بڑے بڑےامام ہوئے، بڑے بڑے علماء آپ کی صحبت میں حاضر ہوئے۔ یحیٰ بن سعیدؒ،عبداللہ  بن مبارکؒ، یحیٰ بن زکریاؒ، وکیع بن جراحؒ، یزید بن ہارونؒ، حفص بنغیاصؒ، ابو عاصمؒ عبد الرزاق بن ہمامؒ، داوٗد الطائیؒ جیسے  محدثین اورقاضی ابو یوسفؒ، محمد بن حسن الشیبانیؒ، زفرؒ، حسن بن زیادؒ جیسے فقہاءپیدا ہوئے۔
امام ابو حنیفہؒ ان لوگوں کو علمِ حدیث و فقہ کی تعلیم دیتےتھے۔ ان کا بڑا خیال رکھتے تھے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کامعاملہ فرماتےتھے۔ آپ کے نامور شاگردوں کا ذکر آئندہ باب میں آ رہا ہے۔

وفات اور کفن دفن

عہدۂ قضا سے انکار

خطیب بغدادی نے روایت کی ہے کہ یزید بن عمر بن ہیبر، والی عراق نے امام ابوحنیفہؒ کو حکم دیا کہ کوفہ کے قاضی بن جائیں لیکن امام صاحب نے قبول نہیں کیا تو اس نے ایک سو دس کوڑے لگوائے۔ روزانہ دس کوڑے لگواتا جب بہت کوڑےلگ چکے اور امام صاحب اپنی بات یعنی قاضی نہ بننے پر اڑے رہے تو اس نےمجبور ہو کر چھوڑ دیا۔
ایک دوسرا واقعہ یہ ہے کہ جب قاضی ابن لیلیٰ کا انتقال ہو گیا اور خلیفہ منصور کو اطلاع ملی تو اس نے امام صاحب کیلئےقضاکاعہدہ تجویز کیا امام صاحب نے صاف انکار کیا اور کہا کہ ’’میں اس کیقابلیت نہیں رکھتا ‘‘ منصور نے غصہ میں آ کر کہا ’’ تم جھوٹے ہو‘‘ امام صاحب نے کہا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ دعویٰ ضرور سچا ہے کہ میں عہدۂ قضاء کے قابل نہیں کیونکہ جھوٹاشخص کبھی قاضی نہیں مقرر ہو سکتا

ایک سازش

 خلیفہ ابو جعفر منصور نے دارالخلافہ کے لئے بغداد کا انتخاب کیا اور امام اعظمؒ کو قتل کرنے کے لئے کوفہ سےبغدادبلوایاتھاکیونکہ حضرت حسنؓ کی اولادمیں سے ابرہیم بن عبداللہ بن حسن بن حسن بن علیؓ نے خلیفہ منصور کے خلاف بصرہ میں علم بغاوت بلند کر دیا تھا امام صاحب ابرہیم کے علانیہ طرفدارتھے ادھر منصور کو خبر دی گئی کہ امام ابو حنیفہ ان کےحامی ہیں اور انہوں نے زرِ کثیر دے کر ابراہیم کی مد د بھی کی ہے۔
خلیفہ منصور کو امام صاحب سے خوف ہوا۔ لہٰذا ان کو کوفہ سے بغداد بلا کر قتل کر نا چاہا مگربلا سبب قتل کر نے کی ہمت نہ ہوئی اس لئے ایک سازش کر کے قضا کی پیشکش کی۔ امام صاحب نے قاضی القضاۃ کا عہدہ قبول کر نے سے انکار کر دیا اورمعذرت کر دی کہ مجھ کو اپنی طبیعت پر اطمینان نہیں، میں عربی النسل نہیں ہوں،اس لئے اہل عرب کو میری حکومت ناگوار ہو گی، درباریوں کی تعظیم کرنی پڑےگی اور یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا‘‘۔

وفات

منصور نے قاضی القضاۃ کے عہدہ قبول نہ کر نے کی وجہ سے امام صاحب کو اس وقت یعنی 146ھ میں قید کر ڈالا۔ لیکن ان حالات میں بھی اس کو ان کی طرف سے اطمینان نہ تھا۔ امام صاحب کی شہرت دور دور تک پہنچی ہوئی تھی۔ قید کی حالت نےان کےاثر اور قبولِ عام کو کم کر نے کے بجائے اور زیادہ کر دیا تھا۔ قید خانہ میں ان کا سلسلۂ تعلیم بھی برابر قائم رہا۔
امام محمد نے جو فقہ کےدستِ بازو ہیں قید خانہ ہی میں ان سے تعلیم پائی۔ ان وجوہ سے منصورکو امام صاحب کی طرف سے جو اندیشہ تھا وہ قید کی حالت میں بھی رہا جس کیآخری تدبیر یہ کی کہ بے خبری میں ان کو زہر دلوا دیا۔ جب ان کو زہر کااثرمحسوس ہوا تو سجدہ کیا اور اسی حالت میں قضا کی اور اپنے رب سے جا ملے۔(انا للہ وانا الیہ راجعون)
آپ80ھ میں پیدا ہوئے اور 150ھ میں وصال فرمایا تب آپ کی عمر مبارک 70 سال تھی، وفات کے وقت حمادکےسواانکےکوئی اولاد موجود نہ تھی۔

کفن دفن

انکے مر نے کی خبر جلد تمام شہر میں پھیل گئی اور سارا بغداد امڈ آیا۔ حسنبن عمارہ نے جوقاضی شہر تھے غسل دیا،نہلاتےتھےاور کہتے جاتے تھے ’’ واللہ !تم سب سے بڑے فقیہ، بڑے عابد، بڑے زاہد تھے، تم میں تمام خوبیاںپائی جاتی تھیں۔  غسل سے فارغ ہو تے
ہوئے لوگوں کی یہ کثرت ہو ئی کہ
پہلی بار نمازِ جنازہ میں کم و بیش پچاس ہزار کا مجمع تھا اس پر بھی آنےوالوں کا سلسلہ
قائم تھا۔ یہاں تک کہ چھ بار نمازِ جنازہ پڑھی گئی اور عصر
کے قریب جاکر لاش دفن ہو سکی۔ لوگوں کا یہ حال تھا کہ تقریباً بیس دن تک انکی نماز جنازہ پڑھتے رہے۔
امام صاحبؒ نے وصیت کی تھی کہ خیزران میں دفن کئے جائیں۔ کیونکہ یہ جگہ ان کے خیال میں مغضوب نہ تھی اس وصیت کےموافق خیزران کے مشرقی جانب ان کا مقبرہ تیار ہوا۔ سلطان الپ ارسلانسلجوقی جو عادل ہونے کے ساتھ ساتھ بہت فیاض بھی تھا اس نے 459ھ میں ان کیقبر کے قریب ایک مدرسہ تیار کرایا جو مشہدِ ابو حنیفہؒ کے نام سے مشہورہے۔  

امام صاحبؒ کی اولاد

امام صاحبؒ کی اولاد کا مفصل حال معلوم نہیں مگر اس قدر یقینی ہے کہ وفات کے وقت حماد کے سوا کوئی اولاد نہ تھی۔ حمادبڑے رتبہ کے فاضل تھے بچپن میں ان کی تعلیم نہایت اہتمام سے ہوئی تھی۔ چنانچہ جب الحمد ختم کی تو انکےپدرِبزرگوارنے اس تقریب میں معلم کوپانچ سو درہم نذر کیئے۔ بڑے ہوئے تو خود امام صاحبؒ سے مراتبِ علمی کی تکمیل کی۔ علم و فضل کے ساتھ بے نیازی اور پرہیز گاری میں بھی باپ کے خلفالرشید تھے۔ تمام عمر کسی کی ملازمت نہیں کی نہ شاہی دربار سے کچھ تعلق پیدا کیا۔ ذیقعدہ 176ھ میں قضا کی۔ چار بیٹے چھوڑے عمر، اسمعیل، ابو حیاناور عثمان۔امام صاحبؒ کے پوتے
اسمعیلؒ نے علم و فضل میں نہایت شہرت
حاصل کی۔ چنانچہ مامون الرشید نے اُن کو عہدۂ قضا پر مامور کیا جس کوانہوں نے اس دیانت داری اور انصاف سے انجام دیا کہ جب بصرہ سے چلے تو ساراشہر ان کو رخصت کرنے کو نکلا اور سب لوگ اُن کےجان و مال کو دعائیں دیتےتھے۔امام صاحبؒ کی معنوی اولاد تو آج تمام دنیا میں پھیلی ہو ئی ہےاور شاید چھ سات کروڑ سےکم نہ ہو گی اور خدا کے فضل سے علم فضل کا جوہربھی نسلا بعد نسل اُ ن کی میراث میں چلا آتا ہے۔

اظہارِ افسوس!

اسوقت ان ممالک میں بڑے بڑے ائمہ مذہب موجود تھے۔ جن میں بعض خود امام صاحبؒ کے استاد تھے۔ سب نے ان کےمرنے کا رنج کیا اور نہایت تاسف آمیز کلماتکہے۔ ابن جریح مکہ میں تھے، سن کر کہا’’ انا للہ بہت بڑا علم جاتا رہا۔ ‘‘شعبہ بن الحجاج نے جو امام ابو حنیفہؒ کے شیخ اور بصرہ کے امام تھے، نہایتافسوس کیا اور کہا ’’ کوفہ میں اندھیرا ہو گیا‘‘۔ اس واقعہ کےچندروز کےبعد عبد اللہ بن المبارکؒ کو بغداد جانے کا اتفاق ہوا۔ امام صاحبؒ کی قبرپر گئے اور روکر کہا: ابو حنیفہؒ ! خدا تم پررحم کرے۔ ابراہیمؒ مرے تواپنا جانشین چھوڑ گئے۔ حمادؒ مرے تو اپنا جانشین چھوڑ گئے افسوس تم نے اپنےبرابر تمام دنیا میں کسی کو اپنا جانشین نہ چھو ڑا۔
ایک دن امام شافعی نے صبح کی نماز امام ا بو حنیفہ کی قبر کے پاس ادا کی تو اس میں دعاےقنوت نہیں پڑھی جب ان سے عرض کیاگیا تو فر مایا اس قبر والے کے ادب کیوجہ سے دعاء قنوت نہیں پڑھی۔

حافظ الحدیث و بانی فقہ

امام ابوحنیفہؒ کا شمار بڑے حفاظِ حدیث میں ہو تا ہے۔ امام صاحبؒ نے چار ہزارمحدثین سے حدیث پڑھی ہے ان میں سے بعض شیوخِ حدیث تابعی تھے اور بعض تبعتابعی۔ اسی لئے علامہ ذہبیؒنے امام صاحبؒ کا شمار محدثین کے طبقۂ حفاظ میں کیا ہے۔
امام صاحبؒ کے شاگردوں نے خود ان سے سیکڑوں حدیثیں روایتکی ہیں۔ مؤطاء امام محمدؒ، کتاب الآثار، کتاب الحج جو عام طور پرمتداول ہیں ان میں بھی امام صاحب سے بیسیوں حدیثیں مروی ہیں۔
غور کرلیجئے کہ جس شخص نے بیس برس کی عمر سے علمِ حدیث پر توجہ کی ہو اور ایک مدتتک اس شغل میں مصروف رہا ہو، جس نے کوفہ کے مشہور شیوخِ حدیث سے حدیثیں سیکھیں ہوں، جو حرمِ محترم کی درسگاہوں میں بر سوں تحصیلِ حدیث کر تارہا ہو، جس کو مکہ و مدینہ کے شیوخ نے سندِ فضیلت دی ہو، جس کے اساتذۂحدیث عطاء بن ابی رباحؒ،نافع بن عمرؒ، عمر بن دینارؒ، محارب بن و رثاؒ،اعمش کوفیؒ، امام باقرؒ، علقمہ بن مرثدؒ، مکحول شامیؒ، امام اوزاعیؒ،محمد بن مسلمؒ، ابو اسحٰق السبیعیؒ، سلیمان بن یسارؒ، منصورالمعتمرؒ، ہشام بن عروہ رحمہم اللہ وغیرہ ہوں جو فنِ روایت کے ارکان ہیں اور جن کیروایتوں سے بخاری ومسلم مالا مال ہیں، وہ حدیث میں کس رتبہ کا شخص ہو گا؟
اسکے ساتھ امام صاحبؒ کے شاگردوں پر غور کرو یحیٰ بن سعید القطانؒ جو فن جرحو تعدیل کے امام ہیں، عبد الرزاق بن ہمامؒ جن کی جامع کبیر سے امام بخاریؒنے فائدہ اٹھایا ہے، یزید بن ہا رون جو امام احمد بن حنبلؒ کے استاد تھے،وکیع بن الجراح جن کی نسبت امام احمد بن حنبلؒ کہا کر تے تھے حفظِ اسناد وروایت میں میں نے کسی کو انکا ہم عصر نہیں دیکھا، عبد اللہ بن مبارکؒ جوفن حدیث میں امیر المومنین تسلیم کئے گئے ہیں، یحیٰ بن زکریاؒ جن کو علی بنالمدنیؒ (استاد بخاری) منتہائے علم کہتے ہیں۔
یہ لوگ برائے نام امام صاحب کے شاگرد نہ تھے بلکہ برسوں ان کے دامنِ فیض میں تعلیم پائی تھی اوراس انتساب سے انکوفخرو ناز تھا، عبد اللہ بن مبارکؒ کہا کر تے تھے کہ ’’ اگر خدا نے ابو حنیفہؒ سے میری مدد نہ کی ہوتی تو میں ایک معمولی آدمی ہو تا‘‘۔ (تہذیب  التہذیب) وکیعؒ اور یحیؒ ابن ابی زائدہ امام صاحبؒ کیصحبت میں اتنی مدت تک رہے تھے کہ ’’صاحب ابی  حنیفہؒ‘‘ کہلاتے تھے۔ کیااس رتبہ کے لو گ جو خود حدیث و روایت کے پیشوا اور مقتدا تھے کسی معمول یشخص کےسامنےسرجھکاسکتے تھے؟ انہیں تمام خصوصیات اور وجوہات کی بنا پرعلامہ ذہبیؒ نے امام ابو حنیفہؒ کو حفاظِ حدیث میں شمارکیاہے۔

مسانید امام اعظمؒ

ایسی 17 مسانید ہیں جن میں محدثین نے امام صاحبؒ کی روایات کو جمع کیااور وہ درجہ ذیل ہیں  :
1. تخریج حافظ محمد عبداللہ بن محمد بن یعقوب بن حارث الحارثی بخاریؒ۔
2.خریج حافظ ابوالقاسم طلحہ بن محمد بن جعفر الشاہدؒ۔
3.تخریج ابوالحسن محمد بن مظفر بن مو سی بن عیسیؒ۔
4. تخریج حافظ ابو نعیم احمد بن عبداللہبن احمد اصفہانی شافعیؒ۔
5.تخریج حافظ قاضی ابو بکر محمد بن عبدالباقیانصاریؒ۔
6. تخریج حافظ ابو احمد عبداللہ بن عدی جرجانی شافعیؒ۔
7.تخریج ابو الحسن محمد بن ابراہیم بن جیش من سماعات حسن بن زیاد اللؤلؤیصاحبِ ابی حنیفہؒ
8.تخریج قاضی ابو الحسن عمر بن حسن اشنانیؒ۔
9.تخریج ابو بکر احمد بن محمد بن خالد بن حلی کلاعیؒ۔
10.تخریج حافظ ابو عبدللہ حسین بن محمد بن خسروبلخیؒ۔
11.تخریج بعض محدثین از امام ابویوسفؒ۔
12.تخریج بعض محدثین از امام محمد بن حسن شیبانیؒ۔
13.تخریج بعض محدثین از حماد بن ابو حنیفہؒ۔
14.تخریج امام محمدبن حسن شیبانیؒ (الآثار)۔
15.تخریج ابوالقاسم عبداللہ بن محمد بن ابی العوامؒ (مناقب)۔
16.تخریج حافظ ابو بکر بن المقریؒ۔
17.تخریج حافظ ابو علی البکریؒ۔
علام ہمحمد بن یو سفؒ دمشقی نے ان سب مسندوں کی سندیں بھی ذکر فرمائی ہیں جس کےلئے اصل کتاب ’’عقودالجمان ‘‘ کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔
امام صاحبؒ کی مرویات کم کیوں ہیں؟
امام صاحب نے روایت کے متعلق جو شرطیں اختیار کیں کچھ تو وہی ہیں جو اور محدثین کے نزدیک مسلم ہیں کچھ ایسی ہیں جن میں وہ منفرد ہیں یا صرف امام مالکؒاور بعض اور مجتہدین ان کے ہم زبان ہیں۔ ان میں سے ایک یہ مسئلہ ہے کہ ’’صرف وہ حدیثیں حجت ہیں جس کو راوی نے اپنے کانوں سے سنا ہو، اور روایتکے وقت تک اس کویاد رکھا ہو۔‘‘
یہ قاعدہ بظاہر نہایت صاف جس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا لیکن اس کی تفریعیں نہایت وسیع اثر رکھتی ہیں اورعام محدثین کو اُن سے اتفاق نہیں ہے۔ محدثین کے نزدیک ان پابندیوں سےروایت کا دائرہ تنگ ہو جا تا ہے لیکن اما م صاحبؒ نےروایت کی وسعت کی نسبت احتیاط کو مقدم رکھا ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ امام صاحبؒ کا اشتغال مسائل کو دلائل سے استنباط کر نے میں زیادہ رہا جیسے کہ کبارِ صحابہؓ حضرتابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ عمل میں مشغول رہے اسی وجہ سے ان کی مرویات کم ہیں اس کے برخلاف جو صحابہؓ ان سے کم مر تبہ ہیں ان  کی روایات ان اکابرصحابہؓ کی بہ نسبت زیادہ ہیں۔
یہ تمام باتیں اس بات کی شاہد ہیں کہ علمِ حدیث میں امام ابو حنیفہؒ کا کیا پایہ تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انباتوں نے امام ابو حنیفہؒ کو امام ابو حنیفہؒ نہیں بنایا۔ اگر وہ حافظ الحدیث تھے تو اور لو گ بھی تھے۔ اگر انکے شیوخِ حدیث کئی سو تھے تو بعض ائمہ سلف کے شیوخ کئی کئی ہزار تھے۔ اگر انہوں نے کوفہ و حرمین کی درسگاہمیں تعلیم پائی تھی تو اوروں نے بھی یہ شرف حاصل کیا تھا۔ ابو حنیفہ کوجس بات نے تمام ہم عصروں میں امتیاز دیا وہ اور چیز ہے جو ان سب باتوں سےبا لا تر ہے یعنی احادیث کی تنقید اور بلحاظِ ثبوت احکام، ان کے مرا تب کی تفریق۔امام ابو حنیفہؒ کے بعد علمِ حدیث کو بہت ترقی ہوئی غیرمرتباورمنتشرحدیثیں یکجا کی گئیں۔ صحت کا التزام کیا گیا۔ اصولِ حدیث کامستقل فن قائم ہو گیا جس کے متعلق سینکڑوں بیش بہاکتابیں تصنیف ہوئیں۔ زمانہاس قدر ترقی کر گیا تھا کہ باریک بینی اور دقتِ آفرینی کی کو ئی حد نہیںرہی۔ تجربہ اوردقتِ نظر نے سیکڑوں نئے نقطے ایجاد کئے لیکن تنقیدِاحادیث، اصولِ درایت، امتیازِ مراتب میں امام ابو حنیفہؒ کی تحقیق کی جو حدہےآج بھی ترقی کا قدم اس سے آگے نہیں بڑھتا۔

بانی فقہ

اسلامی علوم مثلاً تفسیر، فقہ، مغازی ان کی ابتدا گرچہ اسلام کے ساتھ ساتھ ہوئی لیکن فن کی حیثیت سے دوسری صدی کےاوائل میں تدوین و ترتیب شروع ہوئی۔ اور جن لوگوں نے تدوین و ترتیب کی وہ ان علوم کے بانی کہلائے۔ چنانچہ بانی فقہ کا لقب امام ابو حنیفہؒ کو ملا جو در حقیقت اس لقب کے سزاوار تھے۔ اگر ارسطوعلم منطق کا موجد ہے تو بلاشبہ امام ابو حنیفہؒ بھی علمِ فقہ کے موجد ہیں۔
امام صاحبؒ کی عملی زندگی کا بڑا کارنامہ فقہ ہی ہے اس لئے ہم اس پرتفصیلی بحث کرنا چاہتے ہیں لیکن اصل مقصد سے پہلےضروری ہے کہ مختصر طورپر علمِ فقہ کی تاریخ سمجھ لیں جس سے ظاہر ہو کہ یہ علم کب شروع ہوا اورکیو نکر شروع ہو ا؟
اور خاص کر یہ کہ امام ابو حنیفہؒ نے جب اس کو پایا
تو اس کی کیا حالت تھی؟
شاہ ولی اللہ صاحبؒ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مسائل کی جو صورتِ حال تھی اس کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ صحابہؓ کے سامنے وضو فرماتے تھے اور کچھ نہ بتا تے کہ یہرکن ہے، یہ واجب ہے، یہ مستحب ہے، صحابہؓ آپﷺ کو دیکھ کر اسی طرح وضو کرتے تھے۔ نماز کا بھی یہی حال تھا یعنی صحابہؓ فرض واجب وغیرہ کی تفصیل و تدقیق نہیں کیا کرتے تھے جس طرح رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا خود بھی پڑھ لی۔

مجتہدین صحابہؓ

آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد فتوحات کو نہایتوسعت ہوئی اور تمدن کا دائرہ وسیع ہو تا گیا۔ واقعات اس کثرت سے پیش آئےکہ اجتہاد و استنباط کی ضرورت پڑی اور اجمالی احکام کی تفصیل پر متوجہ ہونا پڑا۔ مثلاً کسی شخص نے غلطی سے نماز میں کوئی عمل ترک کر دیا اب بحث یہ پیش آئی کہ ’’ نماز ہوئی یا نہیں؟ ‘‘ صحابہؓ کو ان صورتوں میں استنباط،تفریع، حمل النظیرعلی النظیر اور قیاس سے کام لینا پڑا۔ اس اصول کے طریقےیکساں نہ تھے اس لئے ضروری اختلاف پیدا ہوئے۔ غرض صحابہؓ ہی کے زمانہ میںاحکام اور مسائل کا ایک دفتر بن گیا۔ اور جدا جدا طریقے قائم ہو گئے۔  
صحابہؓ میں سے جن لوگوں نے استنباط و اجتہاد سے کام لیا اور مجتہد یا فقیہ کہلائےان میں سے چار بزرگ نہایت ممتازتھےحضرت علیؓ، عبد اللہ بن مسعودؓ،حضرت عمرؓ، عبد اللہ بن عباسؓ۔حضرت علیؓ اور عبد اللہ بن مسعودؓ زیادہتر کوفہ میں رہے۔ اور وہیں ان کے مسائل و احکام کی زیادہ ترویج ہوئی اس تعلق سے کوفہ فقہ کا دارالعلوم بن گیا، جس طرح کہ حضرت عمرؓ و عبد اللہ بن عباسؓ کے تعلق سے حرمین کو دارالعلوم کا لقب حاصل ہوا تھا۔

حضرت علیؓ

حضرت علیؓ بچپن سے رسول اﷲﷺ کی آغوشِ تربیت میں پلے تھے اور جس قدر ان کوآنحضرت ﷺ کے اقوال سے مطلع ہونے کا موقع ملا تھا اور کسی کو نہیں ملا۔ ایکشخص نے ان سے پوچھا کہ آپ اور صحابہؓ کی نسبت کثیر الروایت کیوں ہیں؟فرمایا کہ میں آنحضرتﷺ سے کچھ دریافت کرتا تھا تو بتاتے تھے۔ اور چپ رہتاتھا تو خود ابتدا کرتے تھے۔
اس کے ساتھ ذہانت، قوتِ استنباط، مل کۂ استخراج ایسا بڑھا ہوا تھا کہ عموماً صحابہؓ اعتراف کرتے تھے۔ حضرت عمرؓکا عام قول تھا کہ خدا نہ کرے کہ کوئی مشکل مسئلہ آن پڑے اور علیؓ ہممیں موجود نہ ہوں۔ عبداﷲ بن عباسؓ خود مجتہد تھے مگر کہا کرتےتھے کہ جبہم کو علیؓ کا فتویٰ مل جائے تو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔

عبداﷲ بن مسعودؓ

عبداﷲبن مسعودؓ بھی حدیث و فقہ دونوں میں کامل تھے۔ رسول اﷲﷺ کے ساتھ جس قدرجلوت و خلوت میں وہ ہمدم و ہمراز رہے تھے بہت کم لوگ رہے ہوں گے۔ صحیح مسلم میں ابوموسیٰ سے روایت ہے کہ ہم یمن سے آئے اور کچھ دنوں تک  مدینہ میں رہے، ہم نے عبداﷲ بن مسعودؓ کو رسول اﷲ ﷺ کے پاس اس کثرت سے آتے جاتے دیکھا کہہم ان کو رسول  اﷲﷺ کے اہل بیت ہو نے کا گمان کرتے رہے۔
عبداﷲ بن مسعودؓ کا دعویٰ تھا کہ ’’ قرآن مجید میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کی نسبت میں یہ نہ جانتا ہوں کہ کس باب  میں اتری ہے۔ ‘‘ وہ کہا کرتے تھے کہ اگرکوئی شخص قرآن مجید کا مجھ سے زیادہ عالم ہوتا تو میں اس کے پاس سفر کر کےجاتا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ انہوں نے ایک مجمع میں دعویٰ کیا تھا کہ تمامصحابہؓ جانتے ہیں کہ میں قرآن کا سب سے زیادہ عالم ہوں۔ شقیقؒ اس جلسہ  میں موجود تھے وہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد اکثر صحابہؓ کے حلقوں میں شریک ہوا مگر کسی کو عبداﷲ بن مسعودؓ کے دعوے کا منکر نہیں پایا۔

مجتہدین تابعین

عبداللہ بن مسعودؓ باقاعدہ طور پر حدیث و فقہ کی تعلیم دیتے تھے اور ان کی درسگاہ میں بہت سے تلامذہ کا مجمع رہتا تھا جن میں سے چند اشخاص یعنیاسودؒ، اور علقمہؒ نہایت نامور ہوئے۔ علقمہؒ و اسودؒ کے انتقال کے بعدابراہیم نخعیؒ مسند نشیں ہوئے اور فقہ کو بہت کچھ وسعت دی یہاں تک کہ انکو فقیہ العراق کا لقب ملا۔ امام شعبیؒ نے جو علامۃ التابعین کے لقب سےممتاز ہیں ان کی وفات کے وقت کہا کہ ’’کوئی شخص ان سے زیادہ علم والا نہیںرہا۔
ابراہیم نخعیؒ کے  عہد میں مسائلِ فقہ کا ایک مختصر مجموعہ تیار ہو گیا تھا جسکا ماخذ حضرت علیؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓکےفتاویٰ تھے۔ پھر یہ مجموعہ حمادؒ کے پاس جمع ہو گیا جو ابراہیم نخعیؒ کےنہایت ممتاز شاگرد تھے چنانچہ ان کے مرنے کےبعد فقہ کی مسندِ خلافت بھی انہی کو ملی اور ابراہیمؒ کے مجموعۂ فقہ کے بہت بڑے حافظ تھے حمادؒ کاتذکرہ ’’حماد کی شاگردی‘‘ کے عنوان سے گزر چکا ہے۔حمادؒ نے120ھ میں وفات پائی اور لوگوں نے ان کی جگہ امام ابو حنیفہؒ کو فقہ کی مسند پر بٹھایا۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: