حضرت سلیمان علیہ السلام-3

حضرت سلیمان علیہ السلام وادی نمل میں
قرآنى آیات سے یہ بات بخوبى سمجھى جاتى ہے كہ حضرت سلیمان علیہ السلام كى داستان حكومت كوئی عام ساواقعہ نہیں ہے۔
درحقیقت اللہ تبارک و تعالٰی نے ایسى عظیم حكومت كے قیام اور اتنى عظیم طاقتیں حضرت سلیمان علیہ السلام كےلئےمسخركركے اپنى قدرت كا مظاہرہ فرمایا ہے اور ایك موحد انسان كے نزدیك قدرت خدا كے آگے یہ كام بالكل آسان ہے۔قرآن میں سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: سلیمان علیہ السلام كے پاس جنوں ،انسانوں اور پرندوں كے لشكركےجمع ہوگئے ۔( سورۂ نمل آیت 17)
لشكروالوں كى تعداداس قدر زیادہ تھى كہ نظم و ضبط كو برقرار ركھنے كے لئے حكم دیا جاتا كہ اگلى صفوں كو روكے ركھیں اورپچھلى صفوں كو چلاتے رہیں تاكہ سب مل كر حركت كریں ۔( سورۂ نمل آیت 17)
حضرت سلیمان علیہ السلام نے كسى علاقے پر لشكر كشى كى تھى لیكن اس لشكر كشى كى تفصیل واضح طور پر معلوم نہیں ہے۔چونكہ قرآن وادى نمل كے بارے میں گفتگوكرتى ہے۔ لہذبعض مفسرین نے یہ سمجھا ہے كہ وہ وادى النمل (چیونٹیوں كى سرزمین)طائف كے قریب كا علاقہ ہے اور بعض نے كہا ہے كہ وہ شام كے نزدیك كى سرزمین ہے۔ بہر حال حضرت
سلیمان علیہ السلام اس عظیم لشكر كے ساتھ چلے حتى كہ چیونٹیوں كى سرزمین پر پہنچ گئے ۔( سورۂ نمل آیت 18)
یہاں پرچیونٹیوں میں سے ایك چیونٹى نے دوسرى چیونٹیوں سے مخاطب ہوكر كہا: اے چیونٹیو اپنے اپنے بلوں میں چلى جاؤتا كہ سلیمان علیہ السلام اور ان كا لشكر تمھیں بے خبرى میں پامال نہ كردے۔ (البتہ ضمنى طور پر اس جملے سے یہ استفادہ ہوتا ہے كہ سلیمان كى عدالت چیونٹیوں تك پر آشكار ہوگئی كیونكہ اس جملے كا مفہوم یہ ہے كہ اگر وہ اس بات كى طرف متوجہ ہوں تو ایك كمزور سى چیونٹى كو بھى پامال كرنا گوارا نہیں كرتے چنانچہ اگر وہ پامال كرتے ہیں تو ان كى اس طرف توجہ نہیں ہوتی)
سلیمان علیہ السلام یہ سن كر مسكرادیئےور ہنسے ۔( سورۂ نمل آیت 18)
حضرت سلیمان علیہ السلام كس وجہ سے ہنسے؟ اس بارے میں مفسرین كے درمیان اختلاف ہے۔
ظاہر امر یہ ہے كہ بذات خود یہ قضیہ ایك عجیب چیز تھى كہ ایك چیونٹى اپنے ساتھیوں كو سلیمان علیہ السلام كے عظیم لشكرسے آگاہ كرے اور اس كى بے توجہى كا ذكركرے اور یہى عجب امر حضرت سلیمان علیہ السلام كےہنسنےاورمسكرانےكاسبب بنا۔
بعض مفسرین نے یہ بھى كہا ہے كہ آپ علیہ السلام كى یہ ہنسی،خوشى كى ہنسى تھى كیونكہ آپ علیہ السلام كو معلوم ہوگیاكہ چیونٹى تك كى مخلوق ان كى اوران كے لشكروالوں كى عدالت اور تقوى كا اعتراف كرتى ہے۔
بعض مفسرین كہتے ہیں كہ آپ علیہ السلام كى خوشى كا سبب یہ تھا كہ اللہ تبارک و تعالٰی نے انھیں ایسى قدرت عطا فرمائی ہے كہ لشكر عظیم كے شور و غل كے باوجود وہ چیونٹى جیسى مخلوق كى آواز سے غافل نہیں ہیں ۔
بہر حال وجہ خواہ كچھ بھى ہو،اس موقع پر حضرت سلیمان علیہ السلام علیہ السلام نے اللہ كى بارگاہ میں چند معروضات پیش كیں ۔
پہلى یہ كہ خداوندجو نعمتیں تونے مجھے اور میرے والدین كو عطافرمائی ہیں ان كا شكر كرنے كا طریقہ مجھے سكھادے ۔( سورۂ نمل آیت 19)
دوسرى یہ كہ مجھے توفیق عطا فرماتا كہ ایسا نیك عمل بجالاؤں كہ جس سے تو راضى ہو ۔( سورۂ نمل آیت 19)
آخر میں تیسرى عرض داشت یہ پیش كى كہ پروردگارامجھے اپنى رحمت كے ساتھ اپنے صالح بندوں كے زمرے میں شامل فرما ۔( سورۂ نمل آیت 19)
حضرت سلیمان علیہ السلام كا جانوروں كى بولى جاننا
حیوانات كى دنیاكے بارے میں ہمیں زیادہ معلومات نہیں ہیں اور اس بارے میں تمام ترقى كے باوجود ابھى تك اس پر شك و ابہام كے پردے پڑے ہوئے ہیں ۔ البتہ بہت سے كاموں میں ہم ان كى فہم،سمجھ اور مہارت كے آثار ضرور دیكھتےہیں۔
شہد كى مكھیوں كا گھر بنانا،شہدكے چھتے كا منظم و مضبوط كرنا،چیونٹیوں كاموسم سرما كى ضروریات كے لئے اپنى غذا كو ذخیرہ كرنا،جانوروں كا دشمن سے اپنا دفاع كرنا،حتى كہ ان كا بہت سى بیماریوں كے علاج سے باخبر ہونادور دراز كے فاصلوں سےاپنے آشیانوں اوربلوں تك واپس لوٹ آنا،لمبے اور طویل فاصلے طے كر كے منزل مقصود تك پہنچنا،آئندہ حوادث كےبارے میں پیشگى اندازہ لگا لینا وغیرہ ایسى چیزیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے كہ حیوانات كى پر اسرار زندگى كےبارےمیں ابھى تك بہت سے مسائل ایسے ہیں جو قابل حل نہیں ۔ان تمام باتوں سے ہٹ كر بہت سے جانور ایسے ہیں كہ اگر انھیں سدھایا جائے اور ان كى تربیت كى جائے تو وہ ایسے ایسے عجیب و غریب كارنامے انجام دیتے ہیں جو انسا ن كے بھى بس میں نہیں ہوتے۔
لیكن پھر بھى اچھى طرح معلوم نہیں كہ وہ انسانى دنیا سے كس حد تك باخبر ہیں ؟كیا وہ واقعاً یہ جانتے ہیں كہ ہم(انسان)كون لوگ ہیں اور كیا كرتے ہیں ؟ہوسكتا ہے ہمیں ان میں اس قسم كے ہوش اور سمجھ كے آثار نہ ملیں لیكن اس كا مطلب یہ بھى نہیں ہے كہ ان میں ان چیزوں كا فقدان ہے۔اسى بناء پر اگر ہم نے مندجہ بالا داستان میں یہ پڑھاہے كہ چیونٹیوں كو حضرت سلیمان كے اس سر زمین میں آنے كى خبر ہوگئی تھى اور انھیں اپنے بلوں میں گھس جانےكاحكم ملا تھا تا كہ وہ لشكر كے پاؤں تلے كچلى نہ جائیں اورسلیمان علیہ السلام بھى اس بات سے باخبر ہو گئے تھے تو زیادہ تعجب كى بات نہیں ہے۔
اس كے علاوہ،سلیمان علیہ السلام كى حكومت غیر معمولى اور معجزانہ امور پر مشتمل تھى اسى بناء پر بعض مفسرین نےاپنےنظریہ كا اس طرح اظہار كیا ہے كہ سلیمان علیہ السلام كے دور حكومت میں بعض جانوروں میں اس حد تك آگاہى كا پایا جانا ایك اعجاز اور خارق عادت بات تھى لہذا اگر دوسرے ادوار میں اس قسم كى باتیں جانوروں میں نہیں ملتیں تو اس میں كوئی حرج كى بات نہیں ہے۔ان كى اس قسم كى گفتگو كا مقصد یہ ہے كہ ہمیں سلیمان علیہ السلام اور چیونٹیوں یاسلیمان علیہ السلام اور ہد ہد كى داستان كو كنایہ،مجاز یا زبان حال وغیرہ پر محمول كرنے كى كوئی ضرورت نہیں ہے۔ كیونكہ ظاہرامركى حفاظت اور حقیقى معنى پر محمول كرنے كا امكان بھى موجود ہے۔
سلیمان علیہ السلام اپنى فوجى طاقت كامظاہرہ دیكھتے ہیں
قرآن میں موجود مختلف قرائن سے مجموعى طور پر نتیجہ نكلتا ہے كہ ایك روز حضرت سلیمان علیہ السلام اپنےتیزرفتارگھوڑوں كا معائنہ كررہے تھے كہ جنھیں میدان جہاد كے لئے تیار كیا گیا تھا۔ عصر كا وقت تھا۔ مامورین مذكورہ گھوڑوں كے ساتھ مارچ كرتے ہوئے ان كے سامنے سے گزر رہے تھے۔
ایك عادل اور با اثر حكمران كے لئے ضرورى ہے كہ اس كے پاس طاقتور فوج ہو اور اس زمانے میں لشكر كے اہم ترین وسائل میں سے تیز رفتار گھوڑے تھے لہذا حضرت سلیمان علیہ السلام كا مقام ذكر كرنے كے بعد نمونے كے طورپر گھوڑوں كا ذكر آیا ہے۔
قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے كہ وہ وقت یاد كر جب وقت عصر انھوں نے چابك اور تیز رفتار گھوڑے اسكےسامنےپیش كئے ۔( سورۂ نمل آیت 31)
اس موقع پر یہ واضح كرنے كے لئے كہ طاقتور گھوڑوں سے ان كا لگاؤ دنیا پرستى كى وجہ سے نہیں حضرت سلیمان علیہ السلام نے كہا:  ان گھوڑوں كو میں اپنے رب كى یاد اور اس كے حكم كى بنا پر پسند كرتا ہوں ۔( سورۂ ص ، آیت 32)
میں چاہتا ہوں كہ ان سے دشمنوں كے خلاف جہاد میں كام لوں ۔  سلیمان علیہ السلام كہ جو دشمن كے خلاف جہاد كے لئے آمادہ ان تیز رفتار گھوڑوں كامعائنہ كررہے تھے بہت خوش ہوئے۔ آپ علیہ السلام انھیں یوں دیكھ رہے تھے كہ نظریں ان پر جم كر رہ گئیں یہاں تك كہ وہ ان كى نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ (سورۂ ص ، آیت 32)
یہ منظر نہایت دلكش اور عمدہ تھا اور حضرت سلیمان علیہ السلام جیسے عظیم فرماں روا كے لئے نشاط انگیز تھا۔ آپ علیہ السلام نے حكم دیا ان گھوڑوں كو واپس میرے پاس لاؤ ۔( سورۂ ص ، آیت 33)
جب مامورین نے اس حكم كى اطاعت كى اور گھوڑوں كو واپس لائے تو سلیمان علیہ السلام نے خود ذاتى طور پر ان پر نوازش كى اور ان كى پنڈلیوں اور گردنوں كو تھپتھپایااور ہاتھ پھیرا۔ (سورۂ ص ، آیت 33)
یوں آپ علیہ السلام نے ان كى پرورش كرنے والوں كى بھى تشویق اور قدردانى كی۔  معمول ہے كہ جب كسى سوارى كى قدردانى كى جاتى ہے تو اس كے سر،چہرے گردن یا اس كى ٹانگ پر ہاتھ پھیرا جاتا ہے اور یہ دلچسپى اور پسندیدگى كے اظہار كا اہم ذریعہ ہے۔
كہ جس سے انسان اپنے بلند مقاصد میں مدد لیتا ہے لہذا حضرت سلیمان علیہ السلام جیسے نبى كاایسا كرنا كوئی تعجب انگیزنہیں۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: