حضرت عائشہ ؓصدیقہ ؓ:03

آنحضرت کو حضرت عائشہؓ سے محبت

حضرت عائشہؓ سے آنحضرت کو دیگر تمام بیویوں کی بہ نسبت زیادہ محبت تھی۔ حضرت عَمر و بن العاص نے ایک مرتبہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ آپ کو سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ آپ نے فرمایا:
عائشہ ،اُنہوں نے مکرر سوال کیا یا رسول اللہ مردوں میں سب سے زیادہ آپ کو کون محبوب ہے؟ فرمایا: عائشہ کے والد۔ سائل نے سہ بار سوال کیا کہ اُن کے بعد؟ فرمایا: عمر۔ لیکن اِس قدر محبت کے باوجود کسی دُوسری بیوی کی ذرا حق تلفی نہیں فرماتےتھے۔ سب کے حقوق اور دِلداری اور شب باشی میں برابری رکھتے تھے ۔چونکہ طبعی محبت اختیاری نہیں ہے اِس لیےبارگاہِ خداوندی میں آپ
نے یہ دُعا کی تھی اَللّٰہُمَّ ھٰذَا قَسْمِیْ فِیْمَا اَمْلِکُ فَلَا تَلُمْنِیْ فِیْمَا تَمْلِکُ وَلَا اَمْلِکُ (اے اللہ !یہ میری تقسیم ہے میرے اختیار کی چیزوں میں لہٰذا مجھے ملامت نہ کیجئے اُس چیز میں جس کے آپ مالک ہیں اور میرے قبضہ کی نہیں ہے) یعنی طبعی محبت غیر اختیاری ہے اِس میں برابری کرنا میرے اختیار سے باہر ہے۔(جمع الفوائد)
حضورِ اقدس کو اللہ جل شانہ نے معلم بنا کر بھیجا تھا اِس لیے آپ کو اللہ کی طرف سے ایسے حالات میں مبتلا کیا گیا جن سے اُمت کو راہ مل سکے۔ چونکہ اُمت کو چار بیویوں تک رکھنے کی اجازت ہے اِس لیے جو اُمتی اِس پر عمل کرےاُسکےلیےآنحضرت کی زندگی سے سبق مل گیا کہ ایک بیوی سے طبعی محبت زیادہ ہو تو اِس پر مواخذہ نہیں لیکن حق کی ادائیگی میں سب کو برا بر رکھنا فرض ہے اِس میں کوتاہی کی تو پکڑ ہو گی۔ ترمذی شریف میں ہے کہ آنحضرت نےفرمایا: کہ جب  ایک مرد کے پاس دو بیویاں ہوں اور وہ اُن کے درمیان برابری کا خیال نہ رکھے تو قیامت کے روز اِس حال میں آئے گا کہ اُس کا ایک پہلو گرا ہوا ہو گا۔ (ترمذی بحوالہ مشکوٰة شریف)

تربیت کا خاص خیال

سیّدِ عالم کو اگرچہ حضرت عائشہ ؓسے بہت محبت تھی اَور اُن کی تربیت کا بھی خاص خیال فرماتے تھے اَور اللہ تعالیٰ سے ڈراتے رہتے جہاں لغزش نظر آتی فوراً آگاہ فرماتے اور سرزنش فرماتے۔ حضرت عائشہؓ روایت فرماتی ہیں کہ آنحضرت ایک غزوہ میں تشریف لے گئے میں نے پیچھے ایک اچھا سا پردہ لٹکا دیا جب آپ تشریف لائے تو اُس پردہ کو اِس زور سے پکڑ کر کھینچا کہ اُس کو پھاڑ دیا پھر فرمایا: بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو یہ حکم نہیں دیا کہ پتھروں کو اَور مٹی کو لباس پہناویں ۔ (مشکوٰة عن البخاری و ا لمسلم )
ایک مرتبہ چند یہودی آپ کے پاس آئے اور اُنہوں نے دبی زبان سے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے بجائے اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ کہا۔   سَامْ   موت کو کہتے ہیں اُن کا مطلب بددُعا دینا تھا۔ آنحضرت نے اِس کے جواب میں وَعَلَیْکُمْ فرما دیا (یعنی تم پر موت ہو )۔ آنحضرت نے تو اِسی قدر فرمایا: لیکن حضرت عائشہؓ سخت برہم ہوئیں اور غصہ سے اُنہوں نے فرمایا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ وَلَعَنَکُمُ اللّٰہُ وَغَضِبَ عَلَیْکُمْ (تم پر موت ہو اور خدا کی لعنت ہو اور خدا کا غضب ٹوٹے ) یہ سن کر سیّدِ  عالم نے فرمایا: : اےعائشہ ٹھہر نرمی اختیار کر اور بدکلامی سے بچ۔ عرض کیا آپ نے سنا نہیں اُنہوں نے کیا کہا ہے۔ سیّدِ  عالم نے فرمایا: اَور تم  نے نہیں سنا میں نے کیا جواب دیا؟ اُن کی بات میں نے اُن پر لُٹا دی۔ اَب اللہ تعالیٰ میری بد دُعا اُن کے حق میں قبول
فرمائیں گے اور اُن کی بد دُعا میرے حق میں قبول نہ ہو گی۔ (مشکوٰة)
ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ نے حضرت صفیہؓ کی بُرائی کرتے ہوئے کہہ دیا کہ صفیہ اِتنی سی ہے یعنی پستہ قد ہے۔ آنحضرت نے فوراً ٹوکا اور فرمایا: کہ یقین جان ! تو نے ایسا کلمہ کہہ دیا کہ اِسے اگر سمندر میں ملا دیا جائے تو اُسے بھی بگاڑ دے۔ (مشکوٰة شریف)
ایک روز حضرت عائشہؓ نے آٹا پیس کر چھوٹی چھوٹی روٹیاں پکائیں اِس کے بعد اُنکی آنکھ لگ گئی۔ اِسی اثناء میں پڑوسن کی بکری آئی اور روٹیاں کھا گئی۔ آنکھ کھلنے پر حضرت عائشہؓ اُس کے پیچھے دوڑیں یہ دیکھ کر حضور اقدس نے فرمایا:اے عائشہ! ہمسایہ کو اُس کی بکری کے بارے میں نہ ستاؤ۔

مختلف نصائح

حضورِ اقدس اکثر زُہد اور فکرِ  آخرت اور خدا ترسی کی نصیحتیں فرماتے رہتے تھے۔ایک مرتبہ آنحضرت نےحضرت عائشہؓ کو نصیحت فرمائی اے عائشہ چھوٹے گناہوں سے (بھی) بچ کیونکہ اللہ کی طرف سے اِن کے بارے میں مواخذہ کرنےوالا موجود ہے۔ (مشکوٰة شریف )
ایک مرتبہ سیّد عالم نے نصیحت فرمائی کہ اے عائشہ اگر تو (آخرت میں ) مجھ سے ملنا چاہتی ہے تو تجھے دُنیا میں سےاِتناساسامان کافی ہونا چاہیے جتنا مسا فر اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے اور مالداروں کے پاس بیٹھنے سے پر ہیز کر اور کسی کپڑےکوپرانا سمجھ کر پہننا مت چھوڑ جب تک تو اُس کو پیوند لگا کر نہ پہن لیوے۔ حضرت عروہ بن زُبیرؓ فرماتےتھے کہ خالہ جان اِس نصیحت پر عمل کر تے ہوئے نیا کپڑا اُس وقت تک نہیں بنا تی تھیں جب تک کہ پہلےبنائےہوئےکپڑےکوپیوندلگاکرنہیں پہن لیتی تھیں اور جب تک کہ وہ خوب بوسیدہ نہ ہو جاتا۔ (الترغیب والترہیب)
کثیر بن عبید کا بیان ہے کہ میں ام المؤمنینؓ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ اُس وقت اپنے کپڑے میں پیوند لگا رہی تھیں مجھ سے فرمایا: ذرا ٹھہرو (ابھی بات کروں گی) اِس کام سے فارغ ہو جاؤں ۔ چنانچہ میں نے توقف کیا۔ پھرجب گفتگو شروع ہوئی تو میں نے عرض کیا اے ام المؤمنینؓ ! اگر میں باہر جا کر لوگوں سے کہوں کہ ام المؤمنینؓ پیوند لگا رہی تھیں تو لوگ آپ کو بخیل سمجھیں گے۔ اِس کے جواب میں فرمایا: کہ سمجھ کر بات کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ جس نے پرانا کپڑا نہ پہنا اُسے نیا کپڑا پہننے میں کیا لطف آئے گا۔

کلماتِ حکمت و موعظت

حضرت عائشہؓ بڑی صاحبِ  حکمت و موعظت تھیں ۔ بڑے پتہ کی بات فرمایا: دیا کرتی تھیں ۔ بعض صحابہ بھی اُن سےنصیحت کرنے کی فرمائش کیا کر تے تھے۔ زیادہ کھا نے کے متعلق حضرت عائشہؓ نے فرمایا: کہ نبی کریم کےدُنیاسے تشریف لے جانے کے بعد سب سے پہلی مصیبت یہ اُمت میں پیدا ہوئی کہ پیٹ بھر کر کھانے لگے۔ جب پیٹ بھرتے ہیں تو بدن موٹے ہو جاتے ہ یں اور دِل کمزور ہو جاتے ہیں اور نفسانی خواہشیں زور پکڑ لیتی ہیں ۔ (صِفة الصفوة )
ایک مرتبہ فرمایا: کہ گناہوں کی کمی سے بہتر کوئی پونچی ایسی نہیں ہے جسے لے کر تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو۔ جسے یہ خواہش ہو کہ عبادت میں محنت سے اِنہماک رکھنے والے سے بازی لے جاوے اُسے چاہیے کہ اپنے کو گناہوں سے بچائے۔ (صِفة الصفوة )
حضرت معاویہؓ نے ایک خط حضرت عائشہؓ کے نام اِرسال کیا جس میں اپنے لیے مختصر نصیحت کر نے کی فرمائش کی ۔ حضرت عائشہؓ نے اِس کے جواب میں فرمایا:
سَلَامُ عَلَیْکَ اَمَّا بَعْدُ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَنِ الْتَمَسَ رِضَی اللّٰہِ بِسَخَطِ النَّاسِ کَفَاہُ اللّٰہُ مُؤْنَةَ النَّاسِ وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَی النَّاسِ بِسَخَطِ اللّٰہِ وَکَّلَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی اِلَی النَّاسِ۔ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ ۔ (مشکوٰة شریف )
تم پر سلام ہو۔بعد سلام کے واضح ہو کہ میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ جو شخص لوگوں کی ناراضگی کا خیال نہ کرتےہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب ہو اللہ تعالیٰ لوگوں کی شرارتوں سے (بھی )اُسے محفوظ فرماتے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو ناراض کر کے لوگوں کو راضی رکھنا چاہتا ہو اللہ تعالیٰ (اُس کی مدد نہیں فرماتے بلکہ) اُسے لوگوں کے حوالے کر دیتے ہیں (وہ اُس کو جیسے چاہے استعمال کریں اور جس طرح چاہے اُس کا دلیہ بنائیں ) وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ ۔
ایک مرتبہ حضرت معاویہؓ کو ( غالباً اُن کی درخواست پر) یہ بھی لکھ بھیجا کہ:اَمَّابَعْدُ فَاِنَّ الْعَبْدَ اِذَا عَمِلَ بِمَعْصِیَةِ اللّٰہِ تَعَالٰی عَادَ حَامِدُہ مِنَ النَّاسِ ذَاماً۔( صِفة الصفوة )
یعنی جب بندہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا کام کرتا ہے تو اُس کو اچھا کہنے والے بھی اُسے برا کہنے لگتے ہیں ۔

نَشْرُ الْعُلُوْم

سیّدِعالمﷺ  کی وفات کے بعد حضرت عائشہؓ نے بڑی مستعدی سے علمِ دین کی اشاعت کی۔ اُن کے شاگردوں کی بڑ ی بھاری تعداد( جو دو سو کے لگ بھگ ہے) کتابوں میں لکھی ہے جن میں صحابہ کرام بھی ہیں اور تابعین حضرات بھی(ؓاجمعین)۔ اِن کی وفات ٧٨ ھ میں ہوئی۔ اِس حساب سے سیّدِ عالمﷺ  کے بعد اُنہوں نے ٤٨ سال مسلسل علمِ  دین پھیلایا۔ محدثینِ کرام نے اُن کی روایات کی تعداد ٢٢١٠ بتلائی ہے۔
حضرت عائشہؓ نے بڑی فیاضی کے ساتھ علمِ دین کی اشاعت کی۔ لڑکے اور عورتیں اور جن مردوں سے اُن کا پردہ نہ تھا  پردہ کے اَندر مجلسِ تعلیم میں بیٹھتے تھے اَور باقی حضرات متعلمین پردہ کے پیچھے بیٹھ کر اُن سے دینی فیض حاصل کر تے تھے۔ مختلف قسم کے سوالات کیے جاتے تھے اَور وہ سب کا جواب دیتی تھیں ۔ اور بعض مرتبہ کسی دُوسرے صحابی یا اُمہات المومنین میں سے کسی کے پاس سائل کو بھیج دیتی تھیں ۔ دینی مسائل معلوم کر نے میں کوئی شرماتا تو فرما تی تھیں کہ شرماؤ مت کھل کر پوچھ لو۔
ہر سال حجِ بیت اللہ کے لیے تشریف لے جاتی تھیں اور ہر طرف سے مختلف شہروں سے برا بر لوگ آتے تھے اور حضرت  عائشہؓ کے خیمے کے باہر ٹھہر کر دینی سوالات کر تے تھے اور وہ جواب دیتی تھیں ۔ مکّہ معظمہ میں زمزم کے قریب پردہ ڈال کر تشریف فرما ہو جا تی تھیں اور فتوے طلب کر نے والوں کی بھیڑ لگ جاتی تھی۔
حضرت عائشہؓ کا شمار اُن جلیل القدر صحابہ میں کیا گیا ہے جو مستقل مفتی تھے۔ حضرت عائشہؓ اپنے والد ماجد ہی کےزمانہ ٔ خلافت سے مفتی ہو گئی تھیں اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ تو خود آدمی بھیج کر اُن سے مسائل معلوم کراتے تھے۔حضرت امیر معاویہؓ اپنے زمانۂ ا َمارت میں دمشق میں مقیم تھے اور وقتِ ضرورت قاصد بھیج کر حضرت عائشہؓ سے مسئلہ معلوم کر کے عمل کر تے تھے۔ قاصد شام سے چل کر مدینہ منورہ آتا اور حضرت عائشہؓ کے مسکن  کے دروازے کےسامنے کھڑے ہو کر سوال کا جواب لے کر واپس چلا جاتا تھا۔( ماخوذ من ابن سعد)
بہت سے لوگ خطوط لکھ حضرت عائشہؓ سے دینی معلومات حاصل کر تے تھے اور وہ اُن کو جواب لکھا دیتی تھیں ۔ عائشہ بنت طلحہ جو حضرت عائشہؓ کی خصوصی شاگرد ہیں فرماتی ہیں:
وَیَکْتُبُوْنَ اِلَیَّ مِنَ الْاَمْصَارِ فَاَقُوْلُ لِعَائِشَةَ یَاخَالَةُ ھٰذَا کِتَابُ فُلانِ وَھَدْیَتُہ فَتَقُوْلُ لِیْ عَائِشَةُ اَیْ بُنَیَّةُ اَجِیْبِیْہِ وَاَثِیْبِیْہِ۔
لوگ مجھے دُور دُور کے شہروں سے خطوط لکھتے تھے (اور ہدایا بھیجتے تھے ) میں عرض کرتی تھی کہ جان یہ فلاں شخص کا خط اوراُس کا ہدیہ ہے(فرمایئے اِس کا کیا جواب لکھوں ) وہ فرما دیتی تھیں کہ اے بیٹا اِسے (یہ) جواب لکھ دو اور ہدیہ کا بدلہ دےدو۔
حدیث شریف کی کتابوں میں حضرت عائشہؓ کے فتاویٰ بکثرت آتے ہیں ۔ لوگ اُن سے خصوصیت کے ساتھ آنحضرتﷺ  کی اَندرونِ خانہ زندگی کے متعلق معلومات کیا کرتے تھے اور وہ بہت بے تکلفی کے ساتھ جواب دیا کر تی تھیں ۔ چونکہ آنحضرتﷺ  سب کچھ سکھانے اور عمل کر کے دِکھانے کے لیے اللہ رب العزت کی طرف سے بھیجے گئے تھے اِس لیے آپ کی زندگی کے کسی پہلو کو آپ کی اَزواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نہیں چھپا تی تھیں ۔ حضرت اَسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓسے سوال کیا کہ رسول اللہﷺ  اپنے گھر میں کیا کر تے تھے؟ اُنہوں نے فرمایا: اپنے گھر کے کام کاج میں مشغول رہتے تھے اور جب نماز کا وقت ہو جاتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ (بخاری شریف)
ایک مرتبہ اُنہوں نے ذرا تفصیل سے یوں بیان فرمایا: کہ آنحضرتﷺ  اپنی جوتی کی مرمت خودکیاکرتےتھےاوراپناکپڑاخودسی لیتے تھے اور اپنے گھر میں اِس طرح خانگی کام کاج میں مشغول رہتے تھے جیسے تم لوگ اپنے گھروں میں کام کرتےہو۔ حضرت عائشہؓ نے یہ بھی فرمایا: آنحضرتﷺ  اِنسانوں میں سے ایک اِنسان تھے۔ اپنے کپڑوں میں جوں خود دیکھ لیتے تھےاوراپنی بکری کا دُودھ خود دَوہ لیتے تھے اور اپنی خدمت خود کر لیتے تھے۔ (ترمذی شریف )
ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: کہ رسول اللہﷺ  لوگوں کی طرح بات میں بات نہیں پروتے چلے جاتے تھے بلکہ  آپ کا کلام ایسا سُلجھا ہوا ہوتا تھا کہ ایک ایک کلمہ علیحدہ علیحدہ ہو تا تھا جسے پاس بیٹھنے والا با آسانی یاد کر لیتا تھا۔ (ترمذی شریف)
ایک مرتبہ سیّدِ عالمﷺ  کے ہنسنے کے متعلق حضرت عائشہؓ نے فرمایا: کہ میں نے آپ کو کبھی پورے دانتوں اور  داڑھوں کے ساتھ ہنستے ہوئے نہیں دیکھا جس سے آپﷺ کے مبارک حلق کا کوّا دیکھا جاوے آپ تو بس مسکراتے تھے۔ (بخاری شریف )
آنحضرتﷺ  کی توصیف میں حضرت عائشہؓ نے یہ بھی فرمایا: کہ آپ نے کبھی کسی کو اپنے دستِ مبارک سے نہیں مارانہ کسی بیوی کو نہ کسی خادم کو۔ ہاں اللہ کی راہ میں جہاد کر تے ہوئے (اللہ کے دُشمن کو) مارا تو وہ دُوسری بات ہےاورآپﷺ  کوکسی سے کچھ کسی قسم کی اَذیت پہنچی تو اُس کا بدلہ کبھی نہیں لیا۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کسی سے  کوئی کام ہوجاتاتو آپ اللہ کے لیے اُس کو سزا دیتے تھے۔(مشکوة )
حضرت سعد بن ہشام فرما تے ہیں کہ میں حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یاام المؤمنینؓ رسول اللہﷺ  کے اَخلاق و عادات کے متعلق اِرشاد فرمائیے کیسے تھے؟ اِس پر اُنہوں نے فرمایا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں ۔ فرمایا: آنحضرتﷺ  کی زندگی قرآن ہی تھی۔ (مشکوٰة شریف )یعنی اللہ رب العزت نےقرآن مجید میں جن اَحکام کا حکم فرمایا: ہے اور جن اَخلاق کو اختیار کرنے کا حکم فرمایا: ہے وہ سب پورے آنحضرتﷺ  کی ذاتِ گرامی میں موجود تھے۔
حضرت عبد العزیز بن جریج روایت فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہؓ سے دریافت کیا سید عالمﷺ  کن سورتوں سےنمازِ وتر اَدا فرماتے تھے۔ اِس کے جواب میں حضرت عائشہؓ نے فرمایا: کہ پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ اوردُوسری رکعت میں قُلْ یٰآ اَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ اور تیسری رکعت میں قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدُ پڑھا کر تے تھے۔ (مشکوة عن الترمذی وابی داود و النسائی)
حضرت عفیف بن الحارثؓ بیان فرما تے ہیں کہ حضرت عائشہؓ سے میں نے عرض کیا یہ تو فرمایئے کہ آنحضرتﷺ  پر غسل واجب ہوتا تھا تو اَوّل رات ہی میں غسل فرما لیتے تھے یا آخری رات میں ؟ اُنہوں نے فرمایا: کبھی آپ نے اَوّل وقت ہی غسل فرما لیا اور کبھی آخری رات میں غسل فرما لیا۔ یہ سنتے ہی میں نے کہا اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِی الْاَمْرِ سَعَةً (اللہ
اکبر سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اِس بارے میں گنجائش رکھی ہے )۔ اِس کے بعد میں نے عرض کیا یہ تو فرمائیے کہ آپ رات کے اَوّل وقت میں وتر اَدا فرما لیتے تھے یا رات کے پچھلے حصہ میں ؟ اِس کے جواب میں اُنہوں نے اِرشاد فرمایا:کبھی آپ نے اَوّل رات میں وتر اَدا فرمائے اور کبھی آخری رات میں ۔ یہ سنتے ہی میرے منہ سے پھر وہی الفاظ نکلے
اَللّٰہ اَکْبَرُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِی الْاَمْرِ سَعَةً۔ (ابو داود) اِس کے بعد میں نے سہ بار سوال کیا کہ (رات کو جب نفل اَدا فرماتے تھے تو)آپ قرأت زور سے پڑھتے یا آہستہ؟ اِس کے جواب میں حضرت عائشہؓ نے فرمایا: کہ کبھی آپ نے زور سے قرأت پڑھی اورکبھی آہستہ پڑھی۔ یہ سن کر میرے منہ سے پھر (بے ساختہ) وہی کلمات نکلے اَللّٰہ اَکْبَرُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِی الْاَمْرِ سَعَةً۔
حضرت عائشہؓ جانتی تھیں کہ سیّد عالمﷺ  کی زندگی ساری اُمت کے لیے نمونہ ہے۔ اِس لیے آنحضرتﷺ  کی ہر بات اَور ہر حرکت وسکون کو اُنہوں نے اچھی طرح محفوظ رکھا تھا۔ سیّدِ عالمﷺ  کے اَندرونی احوال اور رات کے اعمال حضرت عائشہؓ سے بہت مروی ہیں ۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: کہ سیّدِ عالمﷺ  (نمازِ تہجد سے فارغ ہو کر ) جب فجر کی دو سنتیں پڑھ لیتے تھے تو میں جاگتی ہوتی تو (نماز کے لیے مسجد کو جانے تک) مجھ سے باتیں فرماتے رہتے تھے ورنہ (ذرا دیر د ا ہنی کروٹ پر)لیٹ جاتے تھے۔(مسلم شریف )
حضرت عائشہؓ نے یہ بھی بیان فرمایا: کہ سیّدِ عالمﷺ  جب رات کو نماز (نفل ) پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو پہلے مختصر سی دو رکعتیں پڑھ لیتے تھے (اِس کے بعد لمبی سورتوں سے نماز اَدا فرماتے تھے ۔
حضرت عائشہ ؓنے یہ بھی بیان فرمایا: کہ سیّدِعالمﷺ  غیر فرض نمازوں میں جس قدر فجر کی دو رکعتوں کا خاص اِہتمام فرماتے تھے اَور کسی غیر فرض نماز کا اِس قدر اِہتمام نہیں فرماتے تھے۔ (مسلم شریف) یہ بھی روایت فرماتی تھیں کہ سیّدِعالمﷺ  نے فرمایا: کہ رَکَعَتَا الْفَجْرِ خَیْر مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا یعنی فجر کی دو سنتیں ساری دُنیا اور جو کچھ اِس میں ہے سب سے بہتر ہیں ۔(مسلم شریف)۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: