حضرت سلیمان علیہ السلام-2

سلیمان علیہ السلام كى وسیع حكومت

اللہ نے سلیمان علیہ السلام كى درخواست قبول كرلى اور انھیں خصوصى امتیازات اور عظیم نعمات والى حكومت عطا كی۔ان امتیازات و نعمات كا پانچ حصوں میں خلاصہ كیا جاسكتا ہے۔
ہواؤں پر قبضہ
خدا كى پہلى نعمت تھى ہواؤں كا ایك رہوار اور سوارى كى طرح تابع ہونا۔ جیسا كہ فرمایا گیا ہے: ہم نے ہوا كو اس كے تابع  كردیا تا كہ اس كے حكم كے مطابق آرام سے چلے اور جہاں كاوہ ارادہ كرے جاسكے ۔( سورۂ ص، آیت 36)واضح ہے كہ ایك وسیع و عریض حكومت میں تیز رفتار رابطوں كى ضرورت ہوتى ہے تاكہ بوقت ضرورت سربراہ حكومت تیزى كےساتھ ملك كے تمام علاقوں میں آجاسكے۔ اللہ نے یہ امتیاز حضرت سلیمان علیہ السلام كو دے ركھا تھا۔(ہواكیسےانكےتابع فرمان تھی؟كتنى تیزى سے چلتى تھی؟ حضرت سلیمان علیہ السلام اوران كے ساتھى ہوا كے ذریعہ سفر كرتے ہوئے كس چیزپر سوار ہوتے تھے؟اور كون سے عوامل انھیں گرنے سے بچاتے تھے اور ہوا كے دباؤ كى كمى بیشى اوردیگر مشكلات كےمواقع پر ان كى حفاظت كرتے تھے؟
خلاصہ یہ كہ وہ كیسا اسرار آمیز وسیلہ تھا كہ جو اس زمانے میں حضرت سلیمان علیہ السلام كے قبضے میں تھا؟یہ ایسے سوالات ہیں جن كى جزئیات اور خصوصیات كے بارے میں جواب ہمارے سامنے واضح نہیں ہے ہم صرف یہ جانتے ہیں كہ یہ ایك معجزہ تھا جیسے معجزے نبى كے اختیار میں دیئےاتے تھے۔یہ ایك عام اور معمول كے مطابق بات نہ تھی۔
یہ ایك عظیم نعمت اور اعجاز تھا اور ایسا كرنا قدرت الہى كے لئے سادہ اور آسان كام ہے۔نیز ایسے بہت سے مسائل میں كہ اصولى طور پر توہم انھیں جانتے ہیں لیكن ان كى جزئیات سے ہم واقف نہیں ہیں ۔)
جنوں پر بھى حكومت
دوسرى نعمت اللہ تعالى نے حضرت سلیمان علیہ السلام كو یہ عطا كى تھى كہ سركش موجودات انكےلئےمسخركردیئےگئےتھےاور ان كے لئے اختیار میں دے دیئےئے تھے تاكہ آپ علیہ السلام ان سے مثبت كام لےسكیں ۔جیسا كہ قرآن میں فرمایا گیا: اور ہم نے شیطانوں كو اس كے لئے مسخر كردیا اور ان میں سےہر معمار اورغواص كو اس كا تابع فرمان بنادیا ۔( سورۂ ص، آیت 37)
تاكہ ان میں سے كچھ خشكى میں اس كے كہنے كے مطابق تعمیرات كریں اور كچھ دریا میں غواصى اور غوطہ زنى كے كام آئیں۔
اس طرح سے اللہ تعالى نے مثبت كاموں كے لئے موجود قوت ان كے اختیار میں دے دی۔شیطان كہ جن كے مزاج ہى میں سركشى ہے وہ ان كے لئے اس طرح سے مسخر ہوگئے كہ ان سے تعمیرى اور اصلاحى كام لیا جانے لگا اور گراں بہا منابع سے استفادہ كے لئے وہ استعمال ہونے لگے۔
قرآن مجید كى متعدد آیت وں میں اس امر كى طرف اشارہ ہے كہ شیطان حضرت سلیمان علیہ السلام كے تابع فرمان تھےاور ان كے حكم كے مطابق مثبت كام كرتے تھے۔البتہ بعض مقامات پر شیاطین كا لفظ ہے،جبكہ بعض مقامات پر جنكالفظ ہے۔
جن ایك ایسا موجود ہے جو ہمارى نظروں سےپوشیدہ ہے لیكن عقل و شعور اور طاقت كا حامل ہے۔ نیز جنوں میں مو من بھى ہیں اور كافر بھى اور اس میں كوئی مانع نہیں كہ حكم خدا سے وہ ایك نبى كے تابع فرمان ہوجائیں اور مفید كام انجام دیں۔( یہ احتمال بھى ہے كہ لفظ شیاطین كا ایك وسیع تر معنى ہو كہ جس میں سركش انسان بھى شامل ہوں اور ان كے علاوہ بھی۔لفظ شیطان كا اطلاق قرآن مجید میں اس وسیع مفہوم پر ہوا ہے۔(مثلاً سورۂ انعام كى آیت 12))
جنوں كے بارے میں لوگوں نے بہت سے بیہودہ افسانے اورداستانیں گھڑركھى ہیں ،لیكن اگر ہم ان خرافات كو ترك كردیں ،تو ان كا اصل وجود اور مخصوص صفات،جو قرآن میں جنوں كے لئے بیان ہوئی ہیں ،ایك ایسے مطلب كا حامل ہےجو علم و عقل سے قطعاً بعید نہیں ہے۔ بہر حال اللہ تعالى نے حضرت سلیمان علیہ السلام كو یہ طاقت دى تھى كہ وہ
تمام سركشوں كو اپنے سامنے جھكا سكیں ۔ جیسا كہ قرآن سے معلوم ہوتاہے كہ اس عظیم طاقت كى تسخیر بھى پروردگاركےفرمان سے ہى تھى اور جس وقت وہ اپنے وظائف اور ذمہ داریوں سے سرتابى كرتے تھے تو انہیں سزادى جاتى تھی ۔( سورۂ سباء آیت 12)
قرآن كریم واقعہ كو جارى ركھتے ہوئے جنوں كے اہم تولیدى كاموں كے ایك حصہ كى طرف(جو وہ سلیمان علیہ السلام كےحكم سے انجام دیتے تھے)اشارہ كرتے ہوئے كہتا ہے كہ:
سلیمان علیہ السلام جو كچھ چاہتے تھے وہ ان كے لئے ،عبادت خانوں ،تمثالوں ،حوض كے مانند بڑے بڑے كھانوں كےبرتنوں ں اور زمین میں ثابت(جمى ہوئی یا گڑى ہوئی)دیگوں سے،تیار كر كے دیتے تھے ۔( سورۂ سباءآیت 13)
ان میں سے ایك حصہ تو معنوى اورعبادت كے مسائل سے مربوط تھا،اور ایك حصہ انسانوں كى جسمانى ضروریات اورانكےعظیم لشكریوں اور كاركنوں كى جمعیت كے ساتھ تعلق ركھتاتھا۔
بہر حال سلیمان علیہ السلام كے یہ فعال اور چابك دست كارندے،بڑے بڑے باشكوہ عبادت خانے،كہ جو حكومت الہیہ اوراس كى مذہبى سلطنت كے لائق تھے، اس كے لئے بناتے تھے تاكہ لوگ راحت و آرام كے ساتھ اپنے عبادت كےفرئض كو انجام دے سكیں ۔
تماثیل كہ جسكا نام قرآ ن میں لیاگیا ہے تمثال كى جمع ہے۔ یہ بیل بوٹو اور تصویر كے معنى میں آیا ہے،اور مجسمہ كے معنى میں بھی، اس بارے میں كہ یہ مجسمے یا نقوش،كون سے موجودات كى صورتیں تھیں ،اور سلیمان علیہ السلام نے ان كى تیارى كا حكم كیوں دیا تھا،مختلف تفسیریں بیان كى گئی ہیں ۔
ممكن ہے كہ یہ زیب و زینت اور سجاوٹ كا پہلو ركھتے ہوں ،جیساكہ ہمارى اہم قدیمى بلكہ جدید عمارتوں میں بھى نظرآتاہے۔یا یہ ان عمارتوں كا رعب اور دبدبہ بڑھانے كے لئے ہو،كیونكہ كچھ حیوانات مثلاًشیركى تصویر،بہت سے لوگوں كے افكار میں رعب و دبدبہ پیدا كرنے والى ہے۔( كیا سلیمان علیہ السلام كى شریعت میں ذى روح موجودات كا مجسمہ بناناجائز تھا۔ جبكہ یہ اسلام میں ممنوع ہے؟
یا جو مجسمے وہ سلیمان علیہ السلام كے لئے بناتے تھے،غیر ذى روح كى جنس سے تھے،مثلاًدرختوں پہاڑوں،سورج،چانداورستاروں كى تصویریں ۔یا ان كے لئے صرف دیواروں پر نقش ونگار كیا كرتے تھے جیسا كہ قدیمى تاریخى آثار میں اكثر گلكاروں كى صورت میں نظر آتى ہیں ،اور ہم یہ جانتے ہیں كہ نقش ونگار چاہے جیسے بھى ہوں ،مجسمہ كے برخلاف،حرام نہیں ہیں ۔
یہ سب احتمالات ہیں ،چونكہ اسلام میں مجسمہ سازى كو حرام قرار دیا جاتا ہے ممكن ہے كہ بت پرستى كے مسئلہ كے ساتھ شدید مبارزہ كرنے اور اس كى بیخ كنى كى خاطر ہو،اور سلیمان علیہ السلام كے زمانے میں اس بات كى اتنى ضرورت نہ ہو،اوریہ حكم ان كى شریعت میں نہ ہو۔لیكن ایك روایت میں یہ بیان كیا گیا ہےکہ :سلیمان علیہ السلام كےحكم سے بنائی جانے والى تمثال مردوں اور عورتوں كے مجسمے نہ تھے،بلكہ درخت وغیرہ كى تصویریں تھیں ۔
پس معلوم ہواكہ ذى روح كا مجسمہ بنانا ان كى شریعت میں بھى حرام تھا۔)
شیاطین زنجیروں میں
تیسرى نعمت اللہ نے حضرت سلیمان علیہ السلام كو یہ عن آیت كى تھى كہ انھوں نے تخریب كار اور فسادى قوتوں پرقابوپاركھا تھا،كیونكہ بہر حال بعض شیاطین ایسے بھى تھے كہ جن سے ایك مفید او راصلاحى قوت كے طور پر كام نہیں لیاجاسكتا تھا اور اس كے علاوہ كوئی چارہ كار بھى نہ تھا كہ وہ قید بند میں رہیں تا كہ معاشرہ ان كى مزاحمت سےپیداہونےوالے شر سے محفوظ رہے۔جیسا كہ قرآن میں بیان ہوا ہے كہ: اور شیطانوں كا ایك اور گروہ اس كےقابومیں زنجیروں سے جكڑا ہوا تھا ۔( سورۂ ص ، آیت 38)( البتہ یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے كہ اگر شیاطین سے مراد شیاطین جن ہیں كہ جو فطرى طور پر جسم لطیف ركھتے ہیں او پھر زنجیر اور ہتھكڑیاں ان كے ساتھ مناسبت نہیں ركھتیں ۔اس لئے بعض نےكہا ہے كہ یہ تعبیر انھیں تخریبى كاروائیوں سے باز ركھنے كے معنى كے لئے كنایہ ہے۔) چوتھى نعمت اللہ تعالى نےحضرت سلیمان كو یہ دى تھى كہ انھیں بہت سے اختیارات دے ركھے تھے كہ جن كى وجہ سے كسى كو كچھ عطاكرنےاوریا نہ كرنے میں وہ صاحب اختیار تھے۔ جیسا كہ قرآن نے كہا ہے كہ: ہم نے اس سے كہا:یہ ہمارى عطاوبخشش ہے جسے تو(مصلحت كے مطابق) چاہتا ہے عطا كر اور جس سے تو(مصلحت كے مطابق) روكنا چاہتا ہے روك لے تجھ پركوئی حساب نہیں ہے ۔( سورۂ ص، 38) (بغیر حساب یا تو اس طرف اشارہ ہے كہ اللہ نے تیرے مقام عدالت كى بناءپرتجھےوسیع اختیارات دیئے ہیں اور تجھ سے پوچھ گچھ نہ ہوگی،یا اس كا معنى یہ ہے كہ عطا ئے الہى تجھ پر اس قدرہےكہ جس قدر بھى تو بخشش دے اس میں حساب نہیں ہوگا۔)
 پانچویں نعمت جو اللہ نے حضرت سلیمان علیہ السلام كو دى وہ ان كا روحانى مقام تھاكہ جو اللہ نے ان كى اہلیت و قابلیت كى بناء پر انھیں مرحمت فرمایا تھا۔ 
جیسا كہ زیر بحث گفتگو میں قرآن نے اس كى طرف اشارہ كیاہے: اس كے لئے ہمارے پاس بلند مقام اور نیك انجام ہے ۔( سورۂ ص، آیت 40)
یہ جملہ درحقیقت ان لوگوں كا جواب ہے جنھوں نے اس عظیم نبى كے مقام مقدس پر طرح طرح كى ناروا اور بے ہودہ تہمتیں لگانے میں موجودہ توریت كى پیروى كی۔
اس آیت میں قرآن حضرت سلیمان علیہ السلام كو تمام تہمتوں سے مبرا قرار دے رہا ہے اور خدا كے یہاں انكےمعززمقام كى خبر دے رہا ہے۔
یہاں تك كہ حسن ماب كہہ كر ان كے انجام بخیر كى خبر بھى دى گئی ہے۔ہوسكتا ہے یہ توریت میں آنے والى اس ناروانسبت كى نفى ہو كہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بت پرستوں میں شادى كى تھی۔
جس وجہ سے ان كا میلان بت پرستى كى طرف ہوگیا تھا۔موجودہ توریت یہاں تك كہتى ہے كہ انھوں نے بت خانہ بنایاتھا،لیكن قرآن حسن ماب كہہ كر ان تمام اوہام و خرافات پر خط بطلان كھینچ رہا ہے۔ 
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: