حضرت عائشہ ؓصدیقہ ؓ:02

رُخصتی

حضرت عائشہؓ کی رُخصتی شوال میں ہوئی۔ عرب کے لوگ شوال میں شادی کرنے کو برا سمجھتے تھے۔ حضرت عائشہؓ نےاِس جہالت کی تردید کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا: کہ رسول اللہ نے مجھ سے شوال میں نکاح کیا اور شوال میں میری رُخصتی ہوئی تو اَب بتاؤ مجھ سے زیادہ کونسی بیوی آپ کی چہیتی تھی۔(جب آپ نے مجھ سے نکاح بھی شوال میں کیااوررُخصتی بھی شوال میں کی تو اَب اِس کے خلاف چلنے کا کسی مسلمان کو کیا حق ہے۔ اسی جہالت کو توڑنے کے لیے)حضرت عائشہؓ چاہا کرتی تھیں کہ شوال کے مہینے میں عورتوں کی رُخصتی کی جائے۔(البدایہ عن الامام احمد)
بخاری شریف میں ہے کہ سیدِ عالم نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا: کہ تم مجھ کو خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص تم کو ریشم کے بہترین کپڑے میں اُٹھائے ہوئے ہے۔ میں نے کھول کر دیکھا تو تم نکلیں ،میں نے(دل میں ) کہا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے دکھا یا گیا ہے تو اللہ ضرور اِس کی تعبیر پوری فرما دیں گے۔ دُوسری روایت سےمعلوم ہو تا ہے کہ فرشتہ بصورت اِنسان ریشم کے کپڑے میں اِن کو لے کر آیا تھا۔( بخاری شریف ج ٢ ص ٧٦٨)
رُخصتی کی پوری کیفیت اِس طرح ہے کہ حضرت صدیقِ اکبرؓ نے بار گاہِ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ آپ اپنی بیوی کو گھر کیوں نہیں بلا لیتے۔ آپ نے فرمایا: اِس وقت میرے پاس مہر ادا کرنے کے لیے رقم نہیں ہے۔ حضرت صدیقِ اکبرؓ نے عرض کیا کہ میں (بطورِ قرض ) پیش کر دیتا ہوں۔ چنانچہ آپ نے اِن کی پیشکش قبول فرمائی اور بیوی کے باپ ہی سے قرض لے کر مہر ادا کر دیا۔
مسلم شریف میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدِ عالم کی بیویوں کا مہر (عموماً) ساڑھے بارہ اَوقیہ یعنی پانچ سو درہم تھا۔ آج کل مہر میں ہزاروں روپے مقرر کیے جاتے ہیں اور مہر کی کمی کو باعثِ ننگ و عار سمجھتے ہیں حالانکہ حضرت صدیقِ اکبرؓ سے بڑھ اُمت میں کوئی بھی معزز نہیں ہے۔ اُن کی بیٹی کا مہر پانچ سودرہم تھا جس سے اُن کی عزت کو کچھ بھی بٹّہ نہ لگا اور دینے والے سید عالم تھے۔ آپ نے مہر نہ ہونے کی وجہ سے کم مقرر کرنے کو ذرا بھی عار نہ سمجھا۔ حضرت عائشہؓ کے واقعۂ رُخصتی سے اَدائیگی مہر کی اہمیت بھی معلوم ہو گئی کیونکہ مہر کے اَدا کرنے کو آنحضرت نے اِس قدرضروری سمجھا کہ مہر کی اَدائیگی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے رُخصت کر لینے میں تامل فرمایا:۔ اُمت کے لیے اِن باتوں میں نصیحت ہے۔
حضرت عائشہؓ واقعۂ رُخصتی کو اِس طرح ذکر فرماتی تھیں کہ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی کہ میری والدہ  نے آ کر مجھے آواز دی۔ مجھے خبر بھی نہ تھی کہ کیوں بلا رہی ہیں۔ میں اُن کے پاس پہنچی تو میرا ہاتھ پکڑ کر لے چلیں اورمجھے گھر کے دروازہ کے اَندر کھڑا کر دیا۔ اُس وقت (اُن کے اچانک بلانے سے ) میرا سانس پھول گیا تھا۔ ذرا دیر بعدسانس ٹھکانے سے آیا۔ گھر کے اَندر دَروازہ کے پاس والدہ صاحبہ نے پانی لے کر میرا سر اور منہ دھویا۔ اِس کے بعد مجھے گھر میں اَندر داخل کر دیا۔ وہاں اَنصار کی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں ، اُنہوں نے دیکھتے ہی کہا
عَلَی الْخَیْرِ وَالْبَرْکَةِ وَعَلٰی خَیْرٍ طَائِرٍ(تمہارا آنا خیرو برکت ہے اور نیک فال ہے) میری والدہ نے مجھے اُن عورتوں کے سپرد کردیا (اور انہوں نے میرا بناؤ سنگھار کر دیا اُس کے بعد وہ عورتیں علیحدہ ہو گئیں ) اور اَچانک رسولِ خدا میرے پاس
تشریف لے آئے یہ چاشت کا وقت تھا۔ اِس وقت آنحضرت
نے اپنی نئی بیوی سے ملاقات فرمائی۔ (بخاری شریف و جمع الفوائد)
غور کیجئے کس سادگی سے یہ شادی ہوئی۔ نہ دُلہا گھوڑے پر چڑھ کر آیا نہ آتش بازی چھوڑ ی گئی نہ اور کسی طرح کی دھُوم دھام ہوئی، نہ تکلف ہوا، نہ آرائشِ مکان ہوئی ،نہ فضول خرچی ہوئی اور یہ بھی قابلِ ذکر بات ہے کہ دُلہن کے گھر ہی میں دُلہا دُلہن مل لیے۔ آج اگر ایسی شادی کر دی جاوے تو دُنیا نکّو بنا دے اور سونام دھرے، خدا بچائے جہالت سے اور پنے رسول پاک کا پورا پورا اتباع نصیب فرمائے۔

حضرت عائشہ ؓنے مصاحبتِ رسول سے خوب فائدہ اُٹھایا

حضرت عائشہؓ نے سید عالم ﷺکی مصاحبت میں ٩ سال گزارے اور اِن ٩ سال میں خوب علم حاصل کیا۔ آنحضرت ﷺکا احترام پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے سوالات کر کے علم بڑھا تی رہیں اَور آپ ﷺخود بھی اُن کو علوم سے بہرہ وَرفرمانے کا خیال فرماتے رہے۔
حضرت امام زہری نے فرمایا: کہ اگر آنحضرت ﷺکی تمام بیویوں اور اُن کے علاوہ باقی تمام عورتوں کا علم جمع کیاجائےتوحضرت عائشہؓ کا علم سب کے علم سے بڑھا ہوا رہے گا۔ حضرت مسروق تابعی فرماتے تھے جو حضرت عائشہؓ کےخاص شاگرد تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکے اکابر صحابہ کو دیکھا جو عمر میں بوڑھے تھے وہ حضرت عائشہؓ سےفرائض کے بارے میں معلومات کیا کرتے تھے۔ (جمع الفوائد ۔ الاصابہ۔ البدایہ)
حضرت ابوموسیٰ نے فرمایا: کہ ہم اصحابِ رسول اللہ ﷺکو جب کبھی علمی اُلجھن پیش آئی اور اُس کے متعلق حضرت عائشہؓ سے سوال کیا تو اُن کے پاس اُس کے متعلق ضرور معلومات ملیں (جس سے مشکل حل ہوئی) ۔(جمع الفوائد ولاصابہ والبدایہ)روایت حدیث میں تابعینِ کرام کے علاوہ بہت سے صحابہ بھی حضرت عائشہؓ کے شاگرد ہیں ۔

آنحضرت سے سوالات

حضرت عائشہؓ برابر آنحضرت ﷺسے سوالات کرتی رہتی تھیں ۔ ایک مرتبہ سوال کیا یا رسول اللہ!میرے دو پروسی ہیں ۔ فرمائیے میں ہدیہ دینے میں دونوں میں سے کس کو ترجیح دُوں ؟ آپ ﷺنے اِرشاد فرمایا: اِلٰی اَقْرَبِھِمَا مِنْکِ بَاباً (کہ دونوں میں سے جس کے گھر کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو اُس کو ترجیح دو )۔ (بخاری شریف )
ایک مرتبہ سید عالم ﷺنے دُعا کی اَللّٰہُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَاباً یَّسِیْراً (اے اللہ مجھ سے آسان حساب لیجیے) یہ دُعا سن کر حضرت عائشہؓ نے سوال کیا یا نبی اللہ !آسان حساب کی کیا صورت ہو گی؟ آپ ﷺنے فرمایا: اعمال نامہ دیکھ کردرگزرکردیاجائےگا (یہ آسان حساب ہے پھر فرمایا: کہ ) یقین جانو! جس کے حساب میں چھان بین کی گئی اے عائشہ وہ ہلاک ہو گیا۔ (رواہ احمد)۔ (کیونکہ جس کے حساب میں چھان بین ہو گی وہ حساب دے کر کامیاب نہیں ہوسکتا )۔
حضرت عائشہؓ روایت فرماتی ہیں کہ ایک روز میں نے اور حفصہ نے (نفلی) روزہ رکھ لیا پھر کھانا مل گیا جو کہیں سے ہدیہ آیا تھا۔ ہم نے اُس میں سے کھا لیا۔ تھوڑی دیر کے بعد سید عالم ﷺتشریف لائے (میرا اِرادہ تھا کہ آپ ﷺسے سوال کروں مگر مجھ سے پہلے (جرأت کر کے ) حفصہ نے پوچھ لیا۔ جرأت میں وہ اپنے باپ کی بیٹی تھیں ۔ یہ پوچھا کہ یا رسول اللہ !میں نے اور عائشہ نے نفلی روزہ کی نیت کی تھی پھر ہمارے پاس ہدیةً کھا نا آگیا جس سے ہم نے روزہ توڑ دیا (فرمائیے اِس کاکیاحکم ہے؟ ) سید عالم ﷺنے فرمایا: کہ تم دونوں اِس کی جگہ کسی دُوسرے دن روزہ رکھ لینا۔(جمع الفوائد)
ایک مرتبہ سیّدِ عالم ﷺنے فرمایا: کہ قیامت کے روز لوگ ننگے پاؤں ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے اُٹھائے جائیں گے(جیسے ماں کے پیٹ سے دُنیا میں آئے تھے) ۔یہ سن کر حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ!(یہ تو بڑے شرم کا مقام ہو گا ) کیا مرد عورت سب ننگے ہوں گے، ایک دُوسرے کو دیکھتے ہوں گے؟ اِس کے جواب میں سیّدِ عالم ﷺنے فرمایا: :اے عائشہ (قیامت کی سختی اِس قدر ہو گی اور لوگ گھبراہٹ اور پریشانی سے ایسے بدحال ہوں گے کہ کسی کو کسی کی طرف دیکھنےکاہوش ہی نہ ہو گا ) مصیبت اتنی زیادہ ہو گی کہ کسی کو اِس کا خیال بھی نہ آئے گا۔ (الترغیب والترہیب)
ایک مرتبہ سیّدعالم ﷺنے دُعا کی:
اَلّٰلھُمَّ اَحْیِنِیْ مِسْکِیْناً وَّ اَمِتْنِیْ مِسْکِیْناً وَّاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَةِ الْمَسَاکِیْنِ اے اللہ ! مجھے مسکین زندہ رکھ اَور حالتِ مسکینی میں مجھےدُنیاسے اُٹھا اور قیامت میں مسکینوں میں میرا حشر کیجٔو۔
یہ دُعا سن کر حضرت عائشہؓ نے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے ایسی دعا کیوں کی؟ آپ ﷺنے فرمایا:
(اِس لیے کہ) بلاشبہ مسکین لوگ مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے(اِس کے بعد فرمایا: کہ اےعائشہ)اگر مسکین سائل ہو کر آوے تو مسکین کو کچھ دیے بغیر واپس نہ کر اور بھی کچھ نہیں تو کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دے دیاکر۔ اے عائشہ !مسکینوں سے محبت کر اور اُن کو اپنے سے قریب کر جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تجھے قیامت کے روز اپنے سےقریب فرمائیں گے۔ (ترمذی )
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے پوچھا کہ یہ جو اللہ جل شانہ نے (قرآن مجید میں )فرمایا: ہے :وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَا اٰتَوْا وَقُلُوْبُھُمْ وَجِلَة اَنَّھُمْ اِلٰی رَبِّھِمْ رَاجِعُوْنَ اور وہ لوگ (اللہ کی راہ میں ) جو دیتے ہیں اور اُن کے دِل اُس سے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں تو اُن خوف زدہ لوگوں سے (کون مراد ہیں ) کیا وہ لوگ مراد ہیں جو شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں ؟ آنحضرت ﷺنے فرمایا: اے صدیق کی بیٹی نہیں !(ایسے لوگ مرادنہیں ہیں بلکہ اِس آیت میں خدا نے اُن لوگوں کی تعریف فرمائی ہے) جو روزہ رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ
دیتے ہیں اور (اِس کے باوجود) اِس بات سے ڈرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ یہ اعمال قبول ہی نہ کیے جائیں ۔ اِن ہی لوگوں کےبارے میں اللہ جل شانہ نے فرمایا: ہے
اُوْلٰئِکَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرَاتِکہ یہ لوگ نیک کاموں میں تیزی سےبڑھتےہیں۔(مشکٰوة شریف)
ایک مرتبہ سید عالم ﷺنے اِرشاد فرمایا: کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کی ملاقات کو محبوب رکھتے ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو نا پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کی ملاقات کو نا پسند فرماتے ہیں ۔ یہ سن کر حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ (یہ تو آپ نے بڑی گھبرا دینے والی بات سنائی کیونکہ ) موت ہم سب کو (طبعاً) بری لگتی ہے(لہٰذااِس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہم میں سے کوئی شخص بھی اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند نہیں کرتا اللہ تعالیٰ بھی ہم میں سےکسی شخص کی ملاقات کو پسند نہیں فرماتے)۔ اِس کے جواب میں سیّدِ عالم ﷺنے فرمایا: اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جسےطبعی طور پر موت بری لگے اللہ کو اُس سے ملاقات ناپسند ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب مومن کی موت کا وقت آپہنچتاہےتو اُس کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اللہ کی طرف سے اعزازو اکرام کی خوشخبری سنائی جاتی ہے لہٰذااُس کے نزدیک کوئی چیزاُس سے زیادہ محبوب نہیں جو مرنے کے بعد اُسے پیش آنے والی ہے۔ اِس وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کوچاہنےلگتاہےلہٰذا اللہ تعالیٰ بھی اُس کی ملاقات کو چاہتے ہیں ۔ اور بلا شبہ کافر کی موت کا جب وقت آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کےعذاب اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا ملنے کی اُس کو خبر دی جاتی ہے، لہٰذا اُس کے نزدیک کوئی چیز اِس سے زیادہ ناپسندنہیں ہوتی جو مرنے کے بعد اُس کے سامنے پیش آنے والی ہے۔ اِسی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہےچنانچہ اللہ تعالیٰ بھی اُس کی ملاقات کو ناپسند فرماتے ہیں ۔ (مشکوة شریف عن البخاری والمسلم)
ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ نے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺکیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: ہاں عورتوں پرایسا جہاد ہے جس میں جنگ نہیں ہے یعنی حج اور عمرہ ۔(مشکوة شریف )
ایک مرتبہ آنحضرت ﷺسے حضرت عائشہؓ نے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ(یہ تو واقعہ ہے ) کوئی شخص بغیر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے جنت میں داخل نہ ہو گا۔ آنحضرت ﷺنے فرمایا: (ہاں ) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر کوئی بھی جنت میں نہ جائے گا تین مرتبہ یوں ہی فرمایا: ۔ حضرت عائشہؓ نے دوبارہ سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺآپ بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہ ہوں گے؟ آپ ﷺنے ماتھے پر مبارک ہاتھ رکھ کر فرمایا: وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ مِنْہُ بِرَحْمَتِہ (میں بھی جنت میں داخل نہ ہوں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لیوے)تین مرتبہ یہی فرمایا:(مشکوٰة شریف)
ایک مرتبہ سیّدِ عالم ﷺسے حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! یہ تو فرمائیے اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ لیلة القدر کون سی ہے (یعنی یہ علم ہو جائے کہ آج لیلة القدر ہے ) تو دُعا میں کیا کہوں ! آنحضرت ﷺنے فرمایا: یوں کہنا اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْاے اللہ بلاشبہ تو معاف کرنے والا ہے معاف کرنے کو پسند کرتا ہے لہٰذا تو مجھے معاف فرما۔ (مشکوٰة)۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: