واقعۂِ غَزوَۂ بَدَر:17رمضان المبارک 2ھ مطابق مارچ 624 ؁

(واقعہ جنگ بدر سورۂ انفال آیات 5 تا 18كے ذیل میں بیان ہوئی ہے)
جنگ بدركى ابتداء یہاں سے ہوئی كہ مكہ والوں كا ایك اہم تجارتى قافلہ شام سے مكہ كى طرف واپس جارہا تھا اس قافلے كو مدینہ كى طرف سے گزرنا تھا اہل مكہ كا سردار ابوسفیان قافلہ كا سالار تھا اس كے پاس ہزار دینار كا مال تجارت تھا پیغمبر اسلام نے اپنے اصحاب كو اس عظیم قافلے كى طرف تیزى سے كوچ كا حكم دیا كہ جس كے پاس دشمن كا ایك بڑا سرمایہ تھا تاكہ اس سرمائے كو ضبط كركےدشمن كى اقتصادى قوت كو سخت ضرب لگائی جائے تاكہ اس كا نقصان دشمن كى فوج كو پہنچے ۔( پیغمبراور ان كے اصحاب ایسا كرنے كا حق ركھتے تھے كیونكہ مسلمان مكہ سے مدینہ كى طرف ہجرت كركے آئے تو اہل مكہ نے ان كے بہت سے اموال پر قبضہ كرلیا تھا جس سے مسلمانوں كو سخت نقصان اٹھانا پڑا لہذا وہ حق ركھتے تھے كہ اس نقصان كى تلافى كریں ۔اس سے قطع نظر بھى اہل مكہ نےگذشتہ تیرہ برس میں پیغمبر اسلام ﷺ اور مسلمانوں سے جو سلوك رواركھا اس سے بات ثابت ہوچكى تھى وہ مسلمانوں كو ضرب لگانے اور نقصان پہنچانے كے لئے كوئی موقع ہاتھ سے نہیں گنوائیں گے یہاں تك كہ وہ خودپیغمبر اكرم ﷺ كو قتل كرنے پر تل گئے تھے ایسا دشمن پیغمبر اكرم ﷺ كے ہجرت مدینہ كى وجہ سے بے كار نہیں بیٹھ سكتا تھا واضح تھا كہ وہ قاطع ترین ضرب لگانے كے لئے اپنى قوت مجتمع كرتا پس عقل ومنطق كا تقاضا تھا كہ پیش بندى كے طورپر ان كے تجارتى قافلے كو گھیر كر اس كے اتنے بڑے سرمائے كو ضبط كرلیا جاتا تاكہ اس پر ضرب پڑے اور اپنى فوجى اور اقتصادى بنیاد مضبوط كى جاتى ایسے اقدامات آج بھى اور گذشتہ ادوار میں بھى عام دنیا میں فوجى طریق كار كا حصہ رہے ہیں ،جولوگ ان پہلوئوں كو نظر اندازكركے قافلے كى طرف پیغمبر كى پیش قدمى كو ایك طرح كى غارت گرى كے طور پر پیش كرنا چاہتے ہیں یاتو وہ حالات سے آگاہ نہیں اور اسلام كے تاریخى مسائل كى بنیادوں سے بے خبر ہیں اور یا ان كے كچھ مخصوص مقاصد ہیں جن كے تحت وہ واقعات وحقائق كو توڑمروڑكر پیش كرتے ہیں)
بہرحال ایك طرف ابوسفیان كو مدینہ میں اس كے ذریعے اس امر كى اطلاع مل گئی اور دوسرى طرف اس نے اہل مكہ كو صورت حال كى اطلاع كے لئے ایك تیز رفتار قاصد روانہ كردیا كیونكہ شام كى طرف جاتے ہوئے بھى اسے اس تجارتى قافلہ كى راہ میں ركاوٹ كا اندیشہ تھا ۔
قاصد ،ابوسفیان كى نصیحت كے مطابق اس حالت میں مكہ میں داخل ہوا كہ اس نے اپنے اونٹ كى ناك كوچیر دیا تھا اس كے كان كاٹ دیئے تھے ، خون ہیجان انگیز طریقہ سے اونٹ سے بہہ رہا تھا ،قاصد نے اپنى قمیض كو دونوں طرف سے پھاڑدیا تھا اونٹ كى پشت كى طرف منہ كركے بیٹھا ہوا تھا تاكہ لوگوں كو اپنى طرف متوجہ كرسكے ، مكہ میں داخل ہوتے ہى اس نے چیخنا چلانا شروع كردیا :
اے كا میاب وكامران لوگو اپنے قافلے كى خبر لو، اپنے كارواں كى مدد كرو ۔ لیكن مجھے امید نہیں كہ تم وقت پر پہنچ سكو ، محمّد اور تمہارے دین سے نكل جانے والے افراد قافلے پر حملے كے لئے نكل چكے ہیں ۔
اس موقع پر پیغمبر ﷺ كى پھوپھى عاتكہ بنت عبدالمطلب كا ایك عجیب وغریب خواب تھا مكہ میں زبان زد خاص وعام تھا اور لوگوں كے ہیجان میں اضافہ كرہا تھا ۔ خواب كا ماجرایہ تھا كہ عاتكہ نے تین روزقبل خواب میں دیكھاكہ :
ایك شخص پكاررہا ہے كہ لوگو اپنى قتل گاہ كى طرف جلدى چلو، اس كے بعد وہ منادى كوہ ابوقیس كى چوٹى پر چڑھ گیا اس نے پتھر كى ایك بڑى چٹان كو حركت دى تو وہ چٹان ریزہ ریزہ ہوگئی اور اس كا ایك ایك ٹكڑا قریش كے ایك ایك گھرمیں جاپڑا اور مكہ كے درے سے خون كا سیلاب جارى ہوگیا ۔
عاتكہ وحشت زدہ ہوكر خواب سے بیدار ہوئی اور اپنے بھائی عباس كو سنایا ۔ اس طرح خواب لوگوں تك پہنچاتو وہ وحشت وپریشانى میں ڈوب گئے ۔ ابوجہل نے خواب سنا تو بولا : یہ عورت دوسرا پیغمبر ہے جو اولادعبدالمطلب میں ظاہر ہوا ہے لات وعزى كى قسم ہم تین دن كى مہلت دیتے ہیں اگر اتنے عرصے میں اس خواب كى تعبیر ظاہر نہ ہوئی تو ہم آپس میں ایك تحریر لكھ كر اس پر دستخط كریں گے كہ بنى ہاشم قبائل عرب میں سے سب سے زیادہ جھوٹے ہیں تیسرا دن ہوا تو ابوسفیان كا قاصد آپہنچا ، اس كى پكار نے تمام اہل مكہ كو ہلاكرركھ دیا۔
اور چونكہ تمام اہل مكہ كا اس قافلے میں حصہ تھا سب فوراً جمع ہوگئے ابوجہل كى كمان میں ایك لشكر تیار ہوا ، اس میں 950جنگجو تھے جن میں سے بعض انكے بڑے اور مشہور سردار اور بہادر تھے 700اونٹ تھے اور 100گھوڑے تھے لشكر مدینہ كى طرف روانہ ہوگیا ۔
دوسرى طرف چونكہ ابو سفیان مسلمانوں سے بچ كر نكلنا چاہتاتھا ،لہذا اس نے راستہ بدل دیا اور مكہ كى طرف روانہ ہو گیا۔
313وفادار ساتھی
پیغمبر اسلام ﷺ 313 افراد كے ساتھ جن میں تقریباً تمام مجاہدین اسلام تھے سرزمین بدركے پاس پہنچ گئے تھے یہ مقام مكہ اور مدینہ كے راستے میں ہے یہاں آپ كو قریش كے لشكر كى روانگى كى خبر ملى اس وقت آپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ كیا كہ كیا ابوسفیان كے قافلہ كا تعاقب كیا جائے اور قافلہ كے مال پر قبضہ كیا جائے یا لشكر كے مقابلے كے لئے تیار ہواجائے؟ ایك گروہ نے دشمن كے لشكر كامقابلہ كرنے كو ترجیح دى جب كہ دوسرے گروہ نے اس تجویز كو ناپسند كیا اور قافلہ كے تعاقب كو ترجیح دى ،ان كى دلیل یہ تھى كہ ہم مدینہ سے مكہ كى فوج كا مقابلہ كرنے كے ارادہ سےنہیں نكلے تھے اور ہم نے اس لشكر كے مقابلے كے لئے جنگى تیارى نہیں كى تھى جب كہ وہ ہمارى طرف پورى تیارى سے آرہا ہے ۔
اس اختلاف رائے اور تردد میں اس وقت اضافہ ہوگیا جب انہیں معلوم تھاكہ دشمن كى تعداد مسلمانوں سے تقریبا تین گنا ہے اور ان كا سازوسامان بھى مسلمانوں سے كئی گنا زیادہ ہے، ان تمام باتوں كے باوجود پیغمبر اسلام ﷺ نے پہلے گروہ كے نظریے كو پسند فرمایا اور حكم دیا كہ دشمن كى فوج پر حملہ كى تیارى كى جائے ۔
جب دونوں لشكر آمنے سامنے ہوئے تودشمن كو یقین نہ آیا كہ مسلمان اس قدر كم تعداد اور سازو سامان كے ساتھ میدان میں آئے ہوں گے ،ان كا خیال تھا كہ سپاہ اسلام كا اہم حصہ كسى مقام پر چھپاہوا ہے تاكہ وہ غفلت میں كسى وقت ان پر حملہ كردے لہذا انہوں نے ایك شخص كو تحقیقات كے لئے بھیجا، انہیں جلدى معلوم ہوگیا كہ مسلمانوں كى جمعیت یہى ہے جسے وہ دیكھ رہے ہیں ۔
دوسرى طرف جیسا كہ ہم نے كہا ہے مسلمانوں كاایك گروہ وحشت وخوف میں غرق تھا اس كا اصرار تھا كہ اتنى بڑى فوج جس سے مسلمانوں كا كوئی موازنہ نہیں ، خلاف مصلحت ہے، لیكن پیغمبراسلامﷺ نے خدا كے وعدہ سے انہیں جوش دلایا اور انہیں جنگ پر اُبھارا، آپ نے فرمایا :كہ خدا نے مجھ سے وعدہ كیا ہے كہ دوگرو ہوں میں سے ایك پر تمہیں كا میابى حاصل ہوگى قریش كے قافلہ پر یا لشكر قریش پراور خداكے وعدہ كے خلاف نہیں ہوسكتا ۔ خدا كى قسم ابوجہل اور كئی سرداران قریش كے لوگوں كى قتل گاہ كو گویا میں اپنى آنكھوں سے دیكھ رہا ہوں ۔اس كے بعد آپ نے مسلمانوں كو حكم دیا كہ وہ بدر كے كنوئیں كے قریب پڑا ئو ڈالیں ۔
رسول اللہ ﷺ نے پہلے سے خواب میں اس جنگ كا منظر دیكھا تھا، آپ نے د یكھا كہ دشمن كى ایك قلیل سى تعداد مسلمانوں كے مقابلہ میں آئی ہے، یہ در اصل كامیابى كى ایك بشارت تھى آپ نے بعینہ یہ خواب مسلمانوں كے سامنے بیان كردیا، یہ بات مسلمانوں كے میدان بدر كى طرف پیش روى كے لئے ان كے جذبہ اور عزم كى تقویت كا باعث بنی۔
البتہ پیغمبر اكرم ﷺ نے یہ خواب صحیح دیكھا تھا كیونكہ دشمن كى قوت اور تعداد اگرچہ ظاہراً بہت زیادہ تھى لیكن باطناً كم، ضعیف اور ناتواں تھی، ہم جانتے ہیں كہ خواب عام طور پر اشارے اور تعبیر كا پہلو ركھتے ہیں ، اور ایك صحیح خواب میں كسى مسئلے كا باطنى چہرہ آشكار ہوتا ہے۔
قریش كا ایك ہزار كا لشكر
اس ہنگامے میں ابوسفیان اپنا قافلہ خطرے كے علاقے سے نكال لے گیا ۔اصل راستے سے ہٹ كردریائے احمر كے ساحل كى طرف سے وہ تیزى سے مكہ پہنچ گیا ۔ اس كے ایك قاصدكےذریعےلشكركوپیغام بھیجا:
خدانے تمہارا قافلہ بچالیا ہے میرا خیال ہے كہ ان حالات میں محمّد كامقابلہ كرنا ضرورى نہیں كیونكہ اس كے اتنے دشمن ہیں جو اس كا حساب چكالیں گے ۔
لشكر كے كمانڈرابوجہل نے اس تجویز كو قبول نہ كیا ، اس نے اپنے بتوں لات اور عزى كى قسم كھائی كہ نہ صرف ان كا مقابلہ كریں گے بلكہ مدینہ كے اندر تك ان كا تعاقب كریں گے یا انہیں قیدكرلیں گے اور مكہ میں لے آئیں گے تاكہ اس كامیابى كا شہرہ تمام قبائل عرب كے كانوں تك پہنچ جائے ۔ آخر كارلشكر قریش بھى مقام بدر تك آپہنچا، انہوں نے اپنے غلام كوپانى لانے كے لئے كنویں كى طرف بھیجے ،اصحاب پیغمبر نے انہیں پكڑلیا اور ان سے حالات معلوم كرنے كے لئے انہیں خدمت پیغمبر ﷺ میں لے آئے حضرت نے ان سے پوچھا تم كون ہو ؟ انہوں نے كہا : ہم قریش كے غلام ہیں ، فرمایا: لشكر كى تعداد كیا ہے ؟ انہوں نے كہا : ہمیں اس كا پتہ نہیں ، فرمایا : ہرروز كتنے اونٹ كھانے كے لئے نحركرتے ہیں ؟ انہوں نے كہا : نو سے دس تك، فرمایا: ان كى تعداد
9سوسے لے كر ایك ہزار تك ہے (ایك اونٹ ایك سو فوجى جوانوں كى خواراك ہے ) ۔
ماحول پُر ہیبت اور وحشت ناك تھا لشكر قریش كے پاس فراواں جنگى سازوسامان تھا ۔ یہاں تك كہ حوصلہ بڑھانے كے لئے وہ گانے بجانے والى عورتوں كو بھى ساتھ لائے تھے ۔ اپنے سامنے ایسے حریف كو دیكھ رہے تھے كہ انہیں یقین نہیں آتا تھا كہ ان حالات میں وہ میدان جنگ میں قدم ركھے گا۔
مسلمانو!فرشتے تمہارى مدد كریں گے
پیغمبر اكرم ﷺ دیكھ رہے تھے كہ ممكن ہے آپ كے اصحاب خوف ووحشت كى وجہ سے رات میں آرام سے سونہ سكیں اور پھر كل دن كو تھكے ہوئے جسم اور روح كے ساتھ دشمن كے مقابل ہوں لہذاخدا كے وعدے كے مطابق ان سے فرمایا: تمہارى تعداد كم ہوتو اس كا غم نہ كر، آسمانى فرشتوں كى ایك عظیم جماعت تمہارى مدد كے لئے آئے گی، آپ نے انہیں خدائی وعدے كے مطابق اگلےروز فتح كى پورى تسلى دے كر مطمئن كردیا اور وہ رات آرام سے سوگئے۔
دوسرى مشكل جس سے مجاہدین كو پریشانى تھى وہ میدان بدر كى كیفیت تھى ،ان كى طرف زمین نرم تھى اور اس میں پائوں دھنس جاتے تھے اسى رات یہ ہوا كہ خوب بارش ہوئی ،اس كے پانى سے مجاہدین نے وضو كیا ، غسل كیا اور تازہ دم ہوگئے ان كے نیچے كى زمین بھى اس سے سخت ہوگئی ،تعجب كى بات یہ ہے كہ دشمن كى طرف اتنى زیادہ بارش ہوئی كہ وہ پریشان ہوگئے ۔
دشمن كے لشكر گاہ سے مسلمان جاسوسوں كى طرف سے ایك نئی خبر موصول ہوئی اور جلد ہى مسلمانوں میں پھیل گئی ، خبریہ تھى كہ فوج قریش اپنے ان تمام وسائل كے باوجود خو فزدہ ہے گویا وحشت كا ایك لشكر خدا نے ان كے دلوں كى سرزمین پر اتار دیا تھا ،اگلے روز چھوٹا سا اسلامى لشكر بڑے ولولے كے ساتھ دشمن كے سامنے صف آراء ہوا، پیغمبر اكرم ﷺ نے پہلے انہیں صلح كى تجویز پیش كى تاكہ عذر اور بہانہ باقى نہ رہے، آپ نے ایك نمائندے كے ہاتھ پیغام بھیجا كہ میں نہیں چاہتا كہ تم وہ پہلا گروہ بن جائو كہ جس پر ہم حملہ آور ہوں ، بعض سردار ان قریش چاہتے تھے یہ صلح كا ہاتھ جوان كى طرف بڑھایا گیا ہے اسے تھام لیں اور صلح كرلیں ، لیكن پھر ابوجہل مانع ہوا۔
سترقتل ستر اسیرآخركار جنگ شروع ہوئی ،اس زمانے كے طریقے كے مطابق پہلے ایك كے مقابلے میں ایك نكلا ،ادھر لشكر اسلام میں رسول اللہ ﷺ كے چچا حمزہ اور حضرت على ؓ جوجو ان ترین افراد تھے میدان میں نكلے، مجاہدین اسلام میں سے چند اور بہادر بھى اس جنگ میں شریك ہوئے ،ان جوانوں نے اپنے حریفوں كے پیكر پر سخت ضربیں لگائیں اور كارى وار كئے اور ان كے قدم اكھاڑدیئے ،دشمن كا جذبہ اور كمزور پڑگیا ،یہ دیكھا تو ابوجہل نے عمومى حملے كا حكم دے دیا ۔
ابوجہل پہلے ہى حكم دے چكا تھا كہ اصحاب پیغمبر ﷺ میں سے جو اہل مدینہ میں سے ہیں انہیں قتل كردو ، مہاجرین مكہ كو اسیر كرلو مقصدیہ تھا كہ ایك طرح كے پر وپیگنڈا كے لئے انہیں مكہ لے جائیں ۔
یہ لمحات بڑے حساس تھے، رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں كو حكم دیا كہ جمعیت كى كثرت پرنظر نہ كریں اور صرف اپنے مد مقابل پر نگاہ ركھیں دانتوں كو ایك دوسرے پرركھ كر پیسیں ، باتیں كم كریں ، خدا سے مدد طلب كریں ، حكم پیغمبر سے كہیں رتى بھر سرتابى نہ كریں اور مكمل كامیابى كى امید ركھیں ، رسول اللہ ﷺ نے دست دعا آسمان كى طرف بلند كئے اور عرض كیا : ”پالنے والے اگر یہ لوگ قتل ہوگئے تو پھر تیرى عبادت كوئی نہیں كرے گا”۔
دشمن كے لشكر كى سمت میں سخت ہوا چل رہى تھى اور مسلمان ہوا كى طرف پشت كركے ان پر حملے كررہے تھے ۔ ان كى استقامت ، پامردى اور دلاورى نے قریش كا ناطقہ بندكردیا ابوجہل سمیت دشمن كے ستر آدمى قتل ہوگئے ان كى لاشیں خاك وخون میں غلطاں پڑى تھیں سترا فراد مسلمانوں كے ہاتھوں قید ہوگئے مسلمانوں كے بہت كم افراد شہید ہوئے ۔ اس طرح مسلمانوں كى پہلى مسلح جنگ طاقتور دشمن كے خلاف غیر متوقع كامیابى كے ساتھ اختتام پذیزر ہوئی ۔
جنگ بدر میں مسلمانوں كى تعداد تین سو تیرہ تھی، ان میں 77 مہاجر تھے اور دوسو چھتیس (236) انصار، مہاجرین كا پرچم حضرت على ؓ كے ہاتھ میں تھا، اور انصار كا پرچم بردار” سعد بن عبادہ” تھے، اس عظیم معركہ كے لئے ان كے پاس صرف 70 اونٹ دو گھوڑے، 6 زرہیں اور آٹھ تلواریں تھیں ، دوسرى طرف دشمن كى فوج ہزار افراد سے متجاوز تھی، اس كے پاس كافى ووافى اسلحہ تھا اور ایك سو گھوڑے تھے، اس جنگ22 مسلمان شہید ہوئے ان میں چودہ مہاجر او ر8 انصار تھے، دشمن كے ستر(70) افراد مارے گئے اور ستر ہى قیدى ہوئے، اس طرح مسلمانوں كو فتح نصیب ہوئی اور یوں مكمل كامرانى كے ساتھ وہ مدینہ كى طرف پلٹ گئے۔ واقعاً یہ عجیب و غریب بات تھى كہ تواریخ كے مطابق مسلمانوں كے چھوٹے سے لشكر كے مقابلہ میں قریش كى طاقتور فوج نفسیاتى طور پر اس قدر شكست خودرہ ہوچكى تھى كہ ان میں سے ایك گروہ مسلمانوں سے جنگ كرنے سے ڈرتا تھا، بعض اوقات وہ دل میں سوچتے كہ یہ عام انسان نہیں ہیں ، بعض كہتے ہیں كہ یہ موت كو اپنے اونٹوں پر لادكر مدینہ سے تمہارے لئے سوغات لائے ہیں۔”سعدبن معاذانصارى ”نمائندہ كے طور پر خدمت پیغمبر میں حاضر ہوئے اور عرض كرنے لگے:میرے ماں پاپ آپ پر قربان اے اللہ كے رسول ہم آپ پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے آپ كى نبوت كى گواہى دى ہے كہ جو كچھ آپ كہتے ہیں خدا كى طرف سے ہے، آپ جو بھى حكم دینا چاہیں دیجئے اور ہمارے مال میں سے جو كچھ آپ چاہیں لے لیں ، خدا كى قسم اگر آپ ہمیں حكم دیں كہ اس دریا ( دریائے احمر كى طرف اشارہ كرتے ہوئے ،جووہاں سے قریب تھا ) میں كود پڑو تو ہم كو د پڑیں گے ہمارى یہ آرزو ہے كہ خدا ہمیں توفیق دے كہ ایسى خدمت كریں جو آپ كى آنكھ كى روشنى كا باعث ہو۔روز بدر رسول اللہ ﷺ زمین سے مٹى اور سنگریزوں كى ایك مٹھى بھر كے مشركین كى طرف پھینك دیا اور فرمایا: ”شاہت الوجوہ”(تمہارے منھ قبیح اور سیاہ ہوجائیں )لكھا ہے كہ معجزانہ طور پر گرد و غبار اور سنگریزے دشمن كى آنكھوں میں جا پڑے اور سب وحشت زدہ ہوگئے۔مجاہدین كى تشویق ابن عباس سے منقول ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ بدر كے روز مجاہدین اسلام كى تشویق كے لئے كچھ انعامات مقرركیے مثلاً فرمایا كہ جو فلاں دشمن كو قید كر كے میرے پاس لائے گا اُسے یہ انعام دوں گا ان میں پہلے ہى روح ایمان وجہاد موجود تھى اوپر سے یہ تشویق بھی، نتیجہ یہ ہو اكہ جوان سپاہى بڑے افتخار سے مقابلہ كےلئےآگےبڑھےاوراپنےمقصدكى طرف لپكے بوڑھے سن رسیدہ افراد جھنڈوں تلے موجودرہے جب جنگ ختم ہوئی تونوجوان اپنے پر افتخارانعامات كے لئے بارگاہ پیغمبر اكرم ﷺ كى طرف بڑھے، بوڑھے ان سے كہنے لگے كہ اس میں ہمارابھى حصہ ہے كیونكہ ہم تمہارے لئے پناہ اور سہارے كاكام كررہے تھے اور تمہارے لئے جوش وخروش كا باعث تھےاگر تمہارا معاملہ سخت ہوجاتاہے تو تمہیں پیچھے ہٹنا پڑتا تو یقیناً تم ہمارى طرف آتے اس موقع پر دو انصاریوں میں تو تومیں میں بھى ہوگئی اور انہوں نے جنگى غنائم كے بارے میں بحث كی۔اس اثناء میں سورۂ انفال كى پہلى آیت نازل ہوئی جس میں صراحت كے ساتھ بتایا گیا كہ غنائم كا تعلق پیغمبر ﷺ سے ہے وہ جیسے چاہیں انہیں تقسیم فرمائیں ، پیغمبراكرمﷺ نے بھى مساوى طور پر سب سپاہیوں میں غنائم تقسیم كردیئے اور برادران دینى میں صلح ومصالحت كا حكم دیا ۔
جنگ كا خاتمہ اور اسیروں كا واقعہ جنگ بدر كے خاتمہ پر جب جنگى قیدى بنالئے گئے اور پیغمبر اكرم ﷺ نے یہ حكم دیاكہ قیدیوں میں سے دو خطر ناك افراد عقبہ اور نضر كو قتل كردیاجائے تو اس پر انصار گھبراگئے كہ كہیں ایسا نہ ہو كہ یہ حكم تمام قیدیوں كے متعلق جارى ہوجائے اور وہ فدیہ لینے سے محروم ہوجائیں ) لہذا انہوں نے رسول اللہ كى خدمت میں عرض كیا : ہم نے سترآدمیوں كو قتل كیا ہے اور سترہى كو قیدى بنایا ہے اور یہ آپ كے قبیلے میں سے آپ ہى كے قیدى
ہیں ،یہ ہمیں بخش دیجئے تاكہ ہم ان كى آزادى كے بدلے فدیہ لے سكیں (رسول اللہ اس كے لئے وحى آسمانى كے منتظرتھے) اس موقع پروحى الہى نازل ہوئی اورقیدیوں كى آزادى كے بدلے فدیہ لینے كى اجازت دیدى گئی ۔اسیروں كى ازادى كے لئے زیادہ سے زیادہ چار ہزار درہم اور كم سے كم ایك ہزار درہم معین كى گئی، یہ بات قریش كے كانوں تك پہونچى تو انھوں نے ایك ایك كے بدلے معین شدہ رقم بھیج كرا سیروں كو ازاد كرالیا۔تعجب كى بات یہ ہے كہ رسول اللہﷺ كا داماد ابوالعاص بھى ان قیدیوں میں تھا ،رسول ﷺ كى بیٹى یعنى زینب جو ابولعاص كى بیوى تھى نے وہ گلوبندجوخدیجہ ؓؓنے ان كى شاد ى كے وقت انہیں دیا تھا فدیہ كے طور پررسول اللہ ﷺ كے پاس بھیجا،جب پیغمبراكرمﷺ كى نگاہ گلو بند پر پڑى تو خدیجہ ؓؓجیسى فداكار اور مجاہدہ خاتون كى یاد یں ان كى آنكھوں كے سامنے مجسم ہوگئیں ،آپﷺ نے فرمایا:خدا كى رحمت ہو خدیجہ ؓپر ،یہ وہ گلو بند ہے جو اس نے میرى بیٹى زینب كو جہیز میں دیاتھا(اوربعض دوسرى روایات كے مطابق خدیجہ ؓؓكے احترام میں آپ ﷺ نے گلو بند قبول كرنے سےاحرازكیااورحقوق مسلمین كو پیش نظر كرتے ہوئے اس میں ان كى موافقت حاصل كی)۔اس كے بعد پیغمبر اكرم ﷺ نے ابوالعاص كو اس شرط پر آزاد كردیا كہ وہ زینب كو (جواسلام سے پہلے ابوالعاص كى زوجیت میں تھیں )مدینہ پیغمبر ﷺ كے پاس بھیج دے ، اس نے بھى اس شرط كو قبول كرلیا او ربعد میں اسے پورا بھى كیا۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: