سیرتِ امام ابو حنیفہؒ از علّامہ شِبلی نُعمانیؒ-2

تعارف
اماماعظم ابوحنیفہؒ کی ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ انہیں کے مسلک کےپیروکاراور ماننے والے موجود ہیں،جو اپنےآپ کو حنفی کہتے ہیں،تقریباً تیرہ سو برس سے اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں پھیلےہوئے مسلمانامامِ اعظم ابو حنیفہؒ کے  اجتہادی مسائل سے استفادہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ دنیا کا غالب حصہ آپ کے مسائل کا پیرو ہے۔
بعض معتقدین نے جوشِ اعتقاد میں امام صاحبؒ کی ایسی تصویر کھینچی ہے جس سے انکی اصلی صورت پہچانی نہیں جاتی مثلاً تیس برس تک متصل روزے رکھنا، توراتمیں آپ کی بشارت کا  موجود ہونا، چالیس سال تک عشا کے وضو سے فجر کی نمازپڑھنا وغیرہ وغیرہ‘‘ بالکل اسی طرح کچھ حاسدین نے تقلید کی مخالفت اور بغضو عداوت میں آپ کی بلند بالا شخصیت کو مجروح اور داغدار بنانے کی کوشش بھیکی ہے، کچھ لوگوں نے تو (معاذ اللہ) آپؒ پر ملحد، گمراہ اور مخالفِ سنتِ
نبویﷺ کا الزام تک لگایا ہے۔ اس مدح سرائیاور الزام بازی کا سلسلہ آپؒ کے دور سے لے کر آج تک جاری ہے۔
امام اعظمؒ کی قوتِ ایجاد، جدتِ طبع، دقتِ نظر، وسعتِ معلومات، حیات وخدمات، شانِ اجتہاد اور ان کے ذریعہ سے مسلمانوں میں جو تفقہ فی الدین کاشعور بیدار ہوا اس کا مختصر خاکہ، حتی الوسع غیر مستند واقعات اور اختلافیروایات و مسائل سےگریزکرتے ہوئے مثبت انداز میں آپ کے شیوخِ حدیث،تلامذہ، تدوینِ فقہ کا پسِ منظر، فقہ حنفی کی ترجیحات،تلامذہ،تصنیفات،آپ کی امتیازی خصوصیات، حیرت انگیز واقعات، دلپذیر باتیں اور آپ کی زندگی کے آخری احوال مثلاًعہدۂ قضا کی پیش کش، ایک سازش اور قید خانہ میں دردناک موت وغیرہ وغیرہ کو ایک خاص اسلوب میں درج ذیل مضمون میں پیش کیا گیا ہے اس مضمون  کے ماخذ یہ 2 کتب ہیں : تذکرۃ النعمانجو کہ علامہ محمد بن یوسف دمشقیؒ اور سیرۃ النعمانجو علامہ شبلی نعمانیؒ کی تصنیف ہیں غرض اس عنوان میں ہم امام اعظم ابو حنیفہؒ کے تمام احوال و کمالات کا ایک مختصر علمی آئینہ ہےجوامام صاحبؒ کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔
تعلیم و تربیت
سلیمان کے عہدِ خلافت میں جب درس و تدریس کے چرچے زیادہ عام ہوئے تو آپ کے دل میں بھی ایک تحریک پیداہوئی،حسنِ اتفاق کہ ان ہی دنوں میں ایک واقعہ پیش آیاجس سے آپ کے ارادہ کو اور بھی استحکام ہوا۔ 
امام صاحبؒ ایک دن بازارجارہے تھے۔ امام شعبیؒ جو کوفہ کے مشہور امام تھے، ان کا مکان راہ میں تھا، سامنے سے نکلے تو انہوں نے یہ سمجھ کر کہ کوئی نوجوان طالب علم ہےبلا لیا اور پوچھا ’’کہاں جا رہے ہو؟‘‘ انہوں نے ایک سودا گر کا نام لیا۔ امام شعبیؒ نے کہا ’’میرا مطلب یہ نہ تھا۔ بتاؤ تم پڑھتے کس سے ہو؟‘‘ انہوں نے افسوس کے ساتھ جواب دیا ’’ کسی سےنہیں۔ ‘‘ شعبیؒ نے کہا ’’مجھ کو تم میں قابلیت کے جوہر نظر آتے ہیں، تم علماء کی صحبت میں بیٹھا کرو۔ ‘‘یہ نصیحت ان کے دل کو لگی اور نہایت اہتمام سے تحصیلِ علم پر متوجہ ہوئے۔
علم ِکلام کی طرف توجہ
علم ِکلام زمانۂ ما بعد میں اگر چہ مدون و مرتب ہو کر اکتسابی علوم میں داخل ہوگیا۔ لیکن اس وقت تک اس کی تحصیل کےلئےصرف قدرتی ذہانت اور مذہبی معلومات درکار تھیں۔ قدرت نے امام ابو حنیفہؒ میں یہ تمام باتیں جمع کر دیتھیں۔ رگوں میں عراقی خون اور طبیعت میں زور اور جدت تھی۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس فن میں ایسا کمال پیدا کیا کہ بڑے بڑے اساتذۂ فن بحث کر نےمیں ان سے جی چراتے تھے۔تجارت کی غرض سے اکثر بصرہ جانا ہوتا تھا جوتمام فرقوں کا دنگل اور خاص کر خارجیوں کا مر کز تھا۔ اباضیہ، صغزیہ،حشویہ وغیرہ سے اکثر بحثیں کیں اور ہمیشہ غالب رہے۔
بعد میں انہوں نے قانون میں منطقی استدلال اور عقل کے استعمال کا جو کمال دکھایا اور بڑے بڑےمسائل کو حل کرنے میں جوشہرت حاصل کی وہ اسی ابتدائی ذہنی تربیت کا نتیجہ تھا۔
علم فقہ کی تحصیل کا پسِ منظر
شروع شروع میں تو امام صاحبؒ علمِ کلام کے بہت دلدادہ رہے لیکن جس قدر عمر اور تجربہ بڑھتا جاتا تھا ان کی طبیعت رکتی جاتی تھی خود ان کا بیان ہے کہ ’’ آغازِ عمر میں اس علم کو سب سے افضل جانتا تھا، کیونکہ مجھ کو یقین تھاکہ عقیدہ ومذہب کی بنیادانہی باتوں پر ہے۔
لیکن پھر خیال آیا کہ صحابہ کبارؓ ان بحثوں سے ہمیشہ الگ رہے۔ حالانکہ ان باتوں کی حقیقت ان سے زیادہ کون سمجھ سکتا تھا۔ ان کی توجہ جس قدر تھی، فقہی مسائل پر تھی اور یہی مسائل وہ دوسروں کو تعلیم دیتے تھے۔ ساتھ ہی خیال گزرا کہ جو لوگ علمِ کلام میں مصروف ہیں ان کاطرزِعمل کیا ہے۔ اس خیال سے اور بھی بے دلی پیدا ہوتی کیونکہ ان لوگوں میںوہ اخلاقی پاکیزگی اور روحانی اوصاف نہ تھے جو اگلے بزرگوں کا تمغہ امتیازتھا۔ 
اسی زمانہ میں ایک دن ایک عورت نے آکر طلاق کے سلسلے میں مسئلہ پوچھا۔ امام صاحب خود توبتا نہ سکے۔ عورت کو ہدایت کی کہ امام حمادؒ جنکا حلقۂ درس یہاں سے قریب ہے جاکر پوچھے، یہ بھی کہہ دیا کہ حماد جو کچھ بتائیں مجھ سے کہتی جانا۔ تھوڑی دیرکے بعد آئی اور کہا کہ حماد نے یہ جواب دیا۔   امام صاحبؒ فرماتے ہیں۔ مجھ کو سخت حیرت ہوئی اسی وقت اٹھ کھڑا ہوا اور حمادکے حلقۂ درس میں جابیٹھا۔
حمادؒ کی شاگردی
 حمادؒکوفہ کے مشہور امام اور استادِ وقت تھے۔ حضرت انسؓ سے جو رسول اللہ ﷺ کےخادمِ خاص تھے،حدیث سنی تھی اور بڑے بڑے تابعین کے فیضِ صحبت سے مستفیدہوئے تھے۔ اس وقت کوفہ میں انہی کا مدرسہ مرجعِ عام سمجھا جاتا تھا۔ اس مدرسۂ فکر کی ابتداء حضرت علیؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد ان کے شاگرد شریحؒ، علقمہؒ اور مسروقؒ اس مدرسہ کے نامور ائمہ ہوئے جن کا شہرہ اس وقت تمام دنیائے اسلام میں تھا۔ پھر ابراہیم نخعیؒ اوران کے بعد حمادؒ تک اس کی امامت پہنچی۔
حضرت علیؓ و عبد اللہ بن مسعودؓ سے فقہ کا جو سلسلہ چلا آتا تھا اس کا مدار انہی پر رہ گیا تھا۔ ان وجوہ سے امام ابو حنیفہؒ نے علمِ فقہ پڑھنا چاہا تو استادی کے لئے انہی کو منتخب کیا۔ ایک نئے طالب علم ہونے کی وجہ سے درس میں پیچھے بیٹھتے۔ لیکن چند روز کے بعد جب حماد کو تجربہ ہو گیا کہ تمام حلقہ میں ایک شخص بھی حافظہ اور ذہانت میں اس کا ہمسر نہیں ہے تو حکم دے دیا کہ ’’ ابو حنیفہؒ سب سےآگے بیٹھا کریں۔
حضرت حمادؒ کے حلقۂ درس میں ہمیشہ حاضر ہو تے رہے۔ خود امام صاحبؒ کا بیان ہے کہ ’’میں دس برس تک حمادؒ کے حلقہ میں ہمیشہحاضر ہوتا رہا اور جب تک وہ زندہ رہے ان کی شاگردی کا تعلق کبھی نہیں چھوڑا۔ انہی دنوں حمادؒکا ایک رشتہ دار جو بصرہ میں رہتاتھا انتقال کر گیاتو وہ مجھے اپنا جانشین بنا کر بغرض تعزیت سفر پر روانہ ہوگئے۔
چونکہ مجھ کو اپنا جانشین مقرر کرگئے تھے، تلامذہ اور اربابِ حاجت نے میری طرف رجوع کیا۔ بہت سے ایسے مسئلے پیش آئےجن میں استاد سے میں نے کوئی روایت نہیں سنی تھی اس لئے اپنے اجتہاد سے جواب دیئے اور احتیاط کیلئے ایک یادداشت لکھتا گیا۔ دو مہینہ کے بعد حماد بصرہ سے واپس آئے تو میں نے وہ یادداشت پیش کی۔ کل ساٹھ مسئلے تھے، ان میں سے انہوں نے بیس غلطیاںنکالیں، باقی کی نسبت فرمایا کہ تمہارے جواب صحیح ہیں۔ میں نے عہد کیا کہ حمادؒ جب تک زندہ ہیں ان کی شاگردی کا تعلق کبھی نہ چھوڑوں گا۔
متعددطریق سے یہ بھی مروی ہے کہ آپؒ نے قرأت امام عاصمؒ سے سیکھی جنکا شمارقراءِ سبعہ میں ہو تا ہے اور انہیں کی قرأت کے مطابق قرآن حفظ کیا۔
حدیث کی تحصیل
حمادؒکے زمانہ میں ہی امام صاحبؒ نے حدیث کی طرف توجہ کی کیونکہ مسائلِ فقہ کی مجتہدانہ تحقیق جو امام صاحبؒ کو مطلوب تھی حدیث کی تکمیل کے بغیر ممکن نہ تھی۔ لہذا کوفہ میں کوئی ایسا محدث باقی نہ بچا جس کے سامنے امام صاحبؒ نےزانوئے شاگردی
تہ نہ کیا ہو اور حدیثیں نہ سیکھیں ہوں۔ ابو المحاسن شافعیؒ نے جہاں ان کے شیوخِ حدیث کے نام گنائے ہیں، ان میں ترا نوے (93) شخصوں کی نسبت لکھا ہے کہ وہ لوگ کوفہ کے رہنے والے یا اس اطراف کے تھے۔ اور ان میں اکثر تابعی تھے۔ 
مکہ کا سفر
امام ابو حنیفہؒ کو اگرچہ ان درسگاہوںسے حدیث کا بہت بڑا ذخیرہ ہاتھ آیا۔ تاہم تکمیل کی سند حاصل کر نے کے لئے حرمین جانا ضروری تھا جو علومِ مذہبی کے اصل مراکز تھے۔ جس زمانہ میں امام ابو حنیفہؒ مکہ پہنچے۔ درس و تدریس کانہایت زور تھا۔ متعدداساتذہ جو فنِ حدیث میں کمال رکھتے تھے اور اکثر صحابہؓ کی خدمت سے مستفید ہوئے،انکی الگ الگ درسگاہ قائم تھی۔ ان میں عطا ئؒ مشہور تابعی تھے جو اکثرصحابہؓ کی خدمت میں رہے اور ان کی فیضِ صحبت سے اجتہاد کا رتبہ حاصل کیا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، ابن عمرؓ، ابن زبیرؓ، اسامہ بن زیدؓ، جابر بن عبداللہؓ، زید بن ارقمؓ، ابو دردائؓ، ابوہریرہؓ اور بہت سے صحابہ سے حدیثیں سنی تھیں۔ مجتہدین صحابہؓ ان کے علم و فضل کے معترف تھے۔ عبداللہ بن عمرؓ فرماتے تھے کہ ’’عطاء بن رباح کے ہوتے ہوئے لوگ میرے پاسکیوں آتے ہیں؟‘‘
بڑے بڑے ائمہ حدیث مثلاً اوزاعی، زُہریؒ، عمرو بن دینارؒانہی کے حلقۂ درس سے نکل کر استاد کہلائے۔امام ابو حنیفہؒ استفادہ کی غرض سے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ روز بروز امام صاحبؒ کی ذہانت و طباعی کے جوہر ظاہر ہوتے گئے اور اس کے  ساتھ استاد کی نظر میں آپ کا وقار بھی بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ جب حلقۂ درس میں جاتے تو عطاء اوروں کو ہٹا کر امام صاحبؒ کو اپنے پہلو میں جگہ دیتے۔ عطائؒ 115ھ تک زندہ رہے اس مدت میں امام ابو حنیفہؒ ان کی خدمت میں اکثر حاضر رہےاورمستفید ہوئے۔ 
عطاؒ ء کے سوامکہ معظمہ کے اور محدثین جن سے امام صاحبؒ نے حدیث کی سند لی۔ ان میں عکرمہؒ کا ذکر خصوصیت سے کیا جاسکتا ہے۔ عکرمہؒ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کےغلام اور شاگرد تھے۔ انہوں نے نہایت توجہ اور کوشش سے ان کی تعلیم و تربیت کی تھی یہاں تک کہ اپنی زندگی ہی میں اجتہاد و فتویٰ کا مجاز کر دیا تھا۔ امام شعبیؒ کہا کرتے تھے کہ قرآن کا جاننے والا عکرمہؒ سے بڑھ کر نہیں رہا۔ سعید بن جبیرؒ سے کسی نے پوچھا کہ دنیا میں آپ سے بڑھ کر بھی کوئی عالم ہے فرمایا: ہاں! عکرمہؒ۔
مدینہ کا سفر
اسی زمانہ میں ابو حنیفہؒ نے مدینہ کا قصد کیا کہ حدیث کا مخزن اور نبوت کا اخیر قرار گاہ تھی۔ صحابہ کے بعد تابعین کے گروہ میں سے سات اشخاص علم فقہ و حدیث کے مرجع بنگئے تھے۔ امام ابو حنیفہؒ جب مدینہ پہنچے تو ان بزرگوں میں سے صرف دو
اشخاص زندہ تھے سلیمانؒ اور سالم بن عبد اللہؒ۔ سلیمان حضرت میمونہؓ کے جو رسولﷺکی ازواج مطہراتؓ میں سے تھیں،غلام تھے۔ اور فقہاء سبعہ میں فضل و کمال کے لحاظ سے ان کا   دوسرا نمبر تھا۔ سالمؒ حضرت فاروق اعظمؓ کے پوتےتھےاوراپنے والد بزرگوار سے تعلیم پائی تھی۔ امام ابو حنیفہؒ دونوں بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سےحدیثیں روایت کیں۔
امام ابو حنیفہؒ کیتعلیم کا سلسلہ اخیر زندگی تک قائم رہا اکثر حرمین جاتے اور مہینوں قیام کر تے تھے۔ آپ نے وہاں کے فقہاء ومحدثین سے تعارف حاصل کیا اور حدیث کیسند لی۔
امام صاحبؒ کے اساتذہ
امام ابو حفص کبیرؒ نے امام ابو حنیفہؒ کے اساتذہ کے شمار کرنے کا حکم دیا۔ حکم کے مطابق شمار کئے گئے توان کی تعدادچارہزارتک پہنچی۔ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں جہاں انکے شیوخِ حدیث کے نام گنائے ہیں اخیر میں لکھ دیا ہے ’’وخلق ٌکثیرٌ‘‘۔ حافظابو المحاسن شافعیؒ نے تین سوانیس(319) شخصیتوں کے نام بقیدِ نسب لکھےہیں۔
امام صاحبؒ نے ایک گروہِ کثیر سے استفادہ کیا جو بڑے بڑے محدثاور سند و روایت کے مرجعِ عام تھے۔ مثلاً
اما م شعبیؒ، سلمہ بن کہیلؒ،ابو اسحاق سبعیؒ، سماک بن حربؒ، محارب بن ورثائؒ، عون بن عبد اللہؒ،ہشام بن عروہؒ، اعمشؒ، قتادہؒ، شعبہؒ اور عکرمہؒ۔ ہم مختصراً آپؒ کے خاصخاص شیوخ کا ذکر کر رہے ہیں جن سے آپؒ نے مدتوں استفادہ کیا ہے۔
امام شعبیؒ۔ یہ وہی بزرگ ہیں جنہوں نے اول اول  امام ابو حنیفہؒ کو تحصیلِ علم کیرغبت دلائی تھی۔ بہت سے صحابہؓ سے حدیثیں روایت کی تھیں۔ مشہور ہے کہ پانسوصحابہؓ کو دیکھا  تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ان کو ایک بار مغازی کادرس دیتےدیکھاتوفرمایا کہ ’’ واللہ! یہ شخص اس فن کو مجھ سے اچھا جانتاہے‘‘۔ 106ھ میں وفات پائی۔
سلمہ بن کہیلؒ مشہور محدث اور تابعی تھے۔ ابن سعدؒ نے ان کو کثیر الحدیث لکھا ہے۔ ابن مہدیؒ کا قول تھا کہ کوفہ میں چاراشخاص سب سے زیادہ صحیح الروایت تھے: منصورؒ، سلمہ بن کہیلؒ، عمرو بن مرہؒ، ابو حصینؒ۔
ابو اسحاق سبیعیؒ کبارِ تابعین میں سے تھے۔ عبد اللہؓ بن عباسؒ، عبد اللہ بن عمرؓ، ابن زبیرؓ، نعمان بن بشیرؓ، زید بنارقمؓ سے حدیثیں سنی تھیں۔ عجلیؒ نے کہا ہے کہ اڑتیس صحابہؓ سے ان کوبالمشافہ روایت حاصل ہے۔
محاربؒ بن ورثاء نے عبد اللہ بن عمرؓ اورجابرؓ وغیرہ سے روایت کی۔ امام سفیان ثوریؒ کہا کر تے تھے کہ ’’ میں نےکسی زاہدکونہیں دیکھا جس کو محاربؒ پر ترجیح دوں‘‘۔
علامہ ذہبیؒ نے لکھاہے کہ ’’محاربؒ عموماً حجت ہیں۔ ‘‘ کوفہ میں منصبِ قضا پر معمور تھے۔ 116ھ میں وفات پائی۔
عونؒ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعودؓ، حضرت ابو ہریرہؓ اور عبد اللہ بن عمرؓ سے حدیثیں روایت کیں۔ نہایت ثقہ اور پرہیزگار تھے۔
ہشامبن عروہؒ معزز و مشہور تابعی تھے بہت سے صحابہؓ سے حدیثیں روایت کیں۔ بڑے بڑے ائمۂ حدیث مثلاً سفیان ثوریؒ،امام مالکؒ،سفیان بن عیینہؒ انکے شاگرد تھے۔
خلیفہ منصور ان کا احترام کیا کر تا تھا۔ ان کے جنازہ کی نماز بھی منصور نے ہی پڑھائی تھی ابن سعدؒ نے لکھا ہے وہ ثقہ اورکثیرالحدیث تھے۔
اعمشؒ کوفہ کے مشہور امام تھے۔ صحابہؓ میں سے انس بنمالکؓ سے ملے تھے اور عبدللہ بن اونیؒ سے حدیث سنی تھی۔ سفیان ثوریؒ اورشعبہؒ ان کے شاگرد ہیں۔
قتادہؒ بہت بڑے محدث اور مشہور تابعی تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ و عبد اللہ بن سرخسؓ و ابو الطفیلؓ اور دیگر صحابہ سےحدیثیں روایت کیں۔ حضرت انسؓ کے دو شاگرد جو نہایت نامور ہیں ان میں ایک ہیں۔ اس خصوصیت میں ان کو نہایت شہرت تھی کہ حدیث کو بعینہ ادا کرتے تھے۔ امام احمد بن حنبلؒ نے ان کی فقہ و واقفیتِ اختلاف و تفسیر دانی کی نہایت مدح کی ہے اور کہا ہے کہ ’’کو ئی شخص ان باتوں میں ان کے برا بر ہو تو ہومگر ان سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔
شعبہؒ بھی بڑے رتبہ کے محدث تھے۔ سفیان ثوریؒ نے فن حدیث میں ان کو امیر المومنین کہا ہے۔ عراق میں یہ پہلےشخص ہیں جس نے جرح و تعدیل کے مراتب مقرر کئے۔ امام شافعیؒ فرمایا کر تےتھے کہ شعبہؒ نہ ہو تے تو عراق میں حدیث کا رواج نہ ہوتا۔ شعبہؒ کا امام ابو حنیفہ کے ساتھ ایک خاص ربط تھا۔ غائبانہ ان کی ذہانت و خوبئ فہم کی تعریف کر تے تھے۔
ایک بار امام صاحبؒ کا ذکر آیا تو کہا جس یقین کے ساتھ میں یہ جانتا ہوں کہ آفتاب روشن ہے اسی یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ علم اور ابو حنیفہؒ روشن ہیں۔
یحیٰ بن معین (جو امام بخاریؒ کے استاذ ہیں)سے کسی نے پوچھا کہ آپ ابو حنیفہؒ کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں؟ فرمایا اسقدر کافی ہے کہ شعبہؒ نے انکو حدیث و روایت کی اجازت دی اور شعبہ آخر شعبہؒ ہی ہیں۔ بصرہ کے اور شیوخ جن سے ابو حنیفہؒ نے حدیثیں روایت کیں۔ ان میںعبد الکریم بن امیہؒ اور عاصم بن سلیمان الاحولؒ زیادہ ممتاز ہیں۔
استاد کی عزت
امام صاحبؒ کو طلبِ علم میں کسی سے عار نہ تھی۔ امام مالکؒ عمر میں ان سےتیرہ برس کم تھے۔ ان کے حلقۂ درس میں بھی اکثرحاضر ہوئے اور حدیثیں سنیں۔ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں لکھا ہے کہ امام مالکؒ کے سامنےابو حنیفہؒ اس طرح مؤدب بیٹھتے تھے جس طرح شاگرد استاد کے سامنے بیٹھتا ہے۔ اس کو بعض کوتاہ بینوں نے امام صاحبؒ کی کسرِ شان پر محمول کیا ہےلیکن ہماس کو علم کی قدر شناسی اور شرافت کا تمغہ سمجھتے ہیں۔
امام صاحبؒ کی قدر
امامصاحبؒ کے اساتذہ ان کا اس قدر ادب و احترام کرتے تھے کہ لوگوں کو تعجب ہوتاتھا۔ محمد بن فضلؒ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ امام ابو حنیفہؒ ایک حدیث کیتحقیق کے لئے خطیبؒ کے پاس گئے۔ میں بھی ساتھ تھا۔ خطیبؒ نے ان کو آتےدیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور نہایت تعظیم کے ساتھ لا کر اپنے برابر بٹھایا۔
عمرو بن دینارؒ جو مکہ کے مشہور محدث تھے۔ ابو حنیفہؒ کے ہوتے ہوئے حلقۂ درس میں اور کسی کی طرف خطاب نہیں کرتےتھے۔اماممالکؒ بھی ان کا نہایت احترام کرتے تھے۔ عبد اﷲ بن مبارکؒ کی زبانی منقول ہےکہ میں امام مالکؒ کے درسِ حدیث میں حاضر تھا۔ ایک بزرگ آئے جن کی انہوں نےنہایت تعظیم کی اور اپنے برابر بٹھایا۔ ان کے جانے کے بعد فرمایا ’’جانتےہویہ کون شخص تھا؟یہ ابو حنیفہؒ عراقی تھے جو اس ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ ‘‘ ذرا دیر کے بعد ایک اور بزرگ آئے امام مالکؒ نے ان کی بھی تعظیم کی لیکن نہ اس قدر جتنی ابو حنیفہؒ کی کی تھی، وہ اٹھ گئے تو لوگوں سے کہا
’’یہ سفیان ثوریؒ تھے۔ ‘‘
علمی ترقی کا ایک سبب
امامصاحبؒ کی علمی ترقی کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ ان کو ایسے بڑے بڑے اہل کمال کی صحبتیں میسر آئیں جن کا ابھی تذکرہ گزرا۔ اور جن شہروں میں ان کورہنے کا اتفاق ہوا یعنی کوفہ، بصرہ، مکہ اور مدینہ، یہ وہ مقامات تھےکہ مذہبی روایتیں
وہاں کی ہوا میں سرایت کر گئی تھیں۔ علماء سے ملنے اور
علمی جلسوں میں شریک ہو نے کا شوق امامؒ کی خمیر میں داخل تھا۔ ساتھ ہی انکی شہرت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ جہاں جاتے تھے استفادہ، ملاقات،مناظرہ کی غرض سے خود ان کے پاس ہزاروں آدمیوں کا مجمع رہتا تھا۔
تاریخِ بغدادکے حوالہ سے شیخ ابو زہرہ لکھتے ہیں۔ ’’ ایک روز امام ابو حنیفہؓ منصورکے دربار میں آئے وہاں عیسی بن موسی بھی موجود تھا اس نے منصور سے کہا یہاس عہد کے سب سے بڑے عالم دین ہیں۔
منصور نے امام صاحب کو مخاطب ہو کرکہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’نعمان ! آپ نے علم کہاں سے سیکھا؟‘‘ فرمایا ’’حضرت عمرؓ کےتلامذہ سے،نیز شاگردانِ علیؓ سے اور تلامذۂ عبداللہ بن مسعودؓ سے۔ ‘‘منصور بولا ’’ آپ نے بڑا قابلِ اعتماد علم حاصل کیا۔ ‘‘ (حیات حضرت امام ابو حنیفہؒ)

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: