ایک جہاندیدہ ملکہ:ملکۂِ بلقیس

آثار قدیمہ کی جدید تحقیق کے سلسلے میں یمن سے 3000 مخطوطے برآمد ہوئے ہیں جو اس قوم کی اہم تاریخ پر روشنی ڈالتےہیں مثلاً 650 ق م میں یہاں کے بادشاہ کا لقب مکرب تھا جو مقرب کا ہم معنیٰ تھا۔ یہ کاہن بادشاہ کہلاتے تھے اور ان کا اس وقت پایہ تخت صرواح تھجس کے معنیٰ بادشاہ ہیں ۔ یہی لفظ آج بھی کئی ملکوں میں رائج ہے جس کے معنی یہ بتائے گئے کہ حکومت میں مذہب کی بجائے سیاست اور سیکولرازم کا رنگ غالب آ گیا ہے ۔ ماضی کی گہرائیوں سے پتہ چلتا ہے کہ ملکہ سبا کا اصل نام بلقیس تھا۔ وہ نہایت خوبصورت اور ذہین خاتون تھیں ۔ ان کے والد شرجیل بن مالک یمن کے بادشاہ تھے ۔
بعض نے ان کا نام الہد ہاد بن شرجیل بھی لکھا ہے ۔ بادشاہ کا سرکاری مذہب سورج کی پرستش تھی جو عوام نے بھی اختیار کی ہوئی تھی۔ باپ کی موت کے بعد بلقیس نے عنان حکومت سنبھالی۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے نہایت سرسبز تھا جہاں ہر طرف لہلہاتے کھیت اور باغات تھے ۔ ان کا زمانہ حضرت سلیمان کی نبوت کا تھا۔ بلقیس کا ذکر زلیخا کی طرح قرآن حکیم میں بغیر نام لیےآیا ہے ۔ یہ ذکر بہت مختصر مگر جامع ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ ہد ہد آ موجود ہوااور کہنے لگا کہ مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہےجس کی آپ کو خبر نہیں ۔ اور میں آپ کے پاس شہر سبا سے ایک یقینی خبر لایا ہوں ۔ میں نے ایک عورت دیکھی جوان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے اور ہر چیز اسے میسر ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے ۔ میں نے دیکھاکہ وہ اور اس کی قوم خدا کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال آراستہ( کر کے ) دکھائے ہیں اور انہیں راستےسے روک رکھا ہے ۔ پس وہ راستے پر نہیں آتے ۔ (نہیں جانتے ) اس خدا کو جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کر دیتا اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال کو جانتا ہے ہم اسے کیوں سجدہ نہ کریں ۔
خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ وہی عرش عظیم کا مالک ہے ۔ (سلیمان نے ) کہا، ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہاہے یا تو جھوٹا ہے ۔ یہ میرا خط لے جا اور ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے واپس آ اور بتا کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔ ملکہ نے کہا کہ دربار والو! میری طرف ایک نامہ گرامی ڈالا گیا ہے جو سلیمان کی طرف سے ہے اور (مضمون یہ ہے ) کہ شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سر کشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔ کہنے لگی کہ اے اہل دربار! اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔ جب تک تم حاضر نہ ہو، میں کسی کام کام فیصلہ نہیں کروں گی۔
وہ بولے ہم بڑے زور آور اور جنگجو ہیں اور آپ کو حکم دینے کا اختیار ہے ۔ آپ سوچ لیجئے کہ ہمیں کیا حکم دینا ہے ۔ اس نے کہا، جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کر دیتے ہیں اور وہاں کے عزت والوں کو ذلیل کردیاکرتےہیں ، اسی طرح یہ بھی کریں گے اور میں ان کی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیاجواب لاتے ہیں ۔ جب (قاصد) سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا، کیا تم مجھے مال سے مد د دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ خدانےمجھےعطا کیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے تحفے سے تم ہی خوش ہوتے ہو گے ۔ ان کے پاس واپس جاؤ۔ ہم ان پر ایسے لشکر لے کر حملہ کریں گے جن کے مقابلے کی ان میں طاقت نہ ہو گی۔ اور انہیں وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے ۔‘‘ (سورة النمل آیات 20 تا 30)
 قرآن حکیم میں سبا، قوم سبا یا علاقہ سبا کے نام سے جو اشارات دیے گئے ہیں ‘ انہیں سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ معلومات بھی ہماری نگاہ میں رہیں جو اس قوم یا علاقے کے متعلق دوسرے تاریخی ذرائع یا دینی کتب سے فراہم ہوئی ہے ۔ سبا ایک شخص کے نام پر ایک قوم کا بھی نام تھا اور ایک شہر کا نام بھی جو موجودہ ملک یمن کے دارالحکومت
صنعا سے (اس وقت) تین دن کے فاصلے پر تھا۔ یہ شہر مارب یمن کے نام سے بھی معروف ہے ۔ بیت المقدس سے مارب کا فاصلہ ڈیڑھ ہزار میل دور ہے ۔ (فتح القدیر)
تاریخ کی رو سے سبا جنوبی عرب کی ایک بہت بڑی قوم کا نام ہے جو چند بڑے بڑے قبائل پر مشتمل تھی۔ امام احمد بن حنبل، ابن جریر، ابن حاتم، ابن عبدالبر اور ترمذی نے حضور پاک ﷺسے ایک روایت نقل کی ہے کہ سبا عرب کےایک شخص کا نام تھا جس کی نسل سے یہ قبیلے پیدا ہوئے : کندہ، حمیرہ ازدر، اشعرین، مذجج، انمار (اس کی دو شاخیں خثعم
اور بجیلہ تھیں ) عاملہ، جذام ، لخم اور غسان۔ ان میں سے کچھ اقوام آج بھی سعودی عرب میں آباد ہیں ۔ ملکہ سبا کا یہ عہدعتیق و جدید اور یہودی روایات میں مختلف طریقوں سے آیا ہے ۔ سلاطین میں لکھا ہے ، ’’ اور جب سبا کی ملکہ نےخداوندکے نام کی بابت سلیمان کی شہرت سنی تو وہ آئی، تاکہ مشکل سوالوں سے اسے آزمائے اور وہ بہت بڑےجلوکےساتھ یروشلم میں آئی۔ جب سلیمان کے پاس پہنچیں تو انھوں نے ان سب باتوں ے بارے میں جو ان کےدل میں تھیں ، ان سے گفتگو کی۔ سلیمان نے ان سب کا جواب دیا اور جب سبا کی ملکہ نے سلیمان کی ساری حکمت اور اس محل کو جو اس نےبنایا تھا اور اس کے دستر خوان کی نعمتوں اور اس کے ملازموں کی نشست اور اس کے خادموں کے حاضر باشی اور ان کی پوشاک اور ساقیوں اور اس سیڑھی کو جس سے وہ خداوند کے گھر جا یا کرتا تھا دیکھا تو ان کےہوش اڑ گئے اور انھوں نےبادشاہ سے کہا کہ وہ سچی خبر تھی جو میں نے اپنے ملک میں سنی تھی۔ مگر یقین نہیں کیا جب تک کہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیا اور مجھے تو نصف بھی نہیں بتایا گیا تھا، کیونکہ آپ کی حکمت اور اقبال مندی اس شہرت سے جو میں نے سنی بہت زیادہ ہے ۔ خوش نصیب ہیں آپ کے لوگ اور خوش نصیب ہیں آپ کے یہ ملازم جو برابر آپ کے حضور کھڑےرہتےہیں اور آپ کی حکمت سنتے ہیں۔ خداوند آپ کاخدا مبارک ہو جو آپ سے ایسا خوش ہوا کہ آپ کواسرائیل کے تخت پر بٹھایا اور انھوں نے بادشاہ کو 120 قنطار سونا اور مسالے کا بہت بڑا انبار دیا اور جواہرات بھی دئیےاور جیسے مسالے سبا کی ملکہ نے سلیمان کو دئیے پھر کبھی ایسی بہتات کے ساتھ نہ آئے اور سلیمان بادشاہ نے سبا کی ملکہ کو سب کچھ جس کی وہ مشتاق ہوئیں اور جو کچھ انھوں نے مانگا دیا۔ پھر وہ اپنے ملازموں سمیت اپنی مملکت کو لوٹ
گئیں ۔ (کتاب مقدس باب 10 آیات 1 تا 30) اس سے کیا فائدہ کہ سبا سے لبان اور دور دور سے لوگ میرےحضورلائے جاتے ہیں ۔ (یرمیاہ باب 6 آیت 20) سبا اور عماہ کے سودا گر آپ کے ساتھ سودا گری کرتے تھے وہ ہر قسم کے نفیس مسالے اور ہر طرح کے قیمتی پتھر اور سونا آپ کے بازاروں میں لا کر خریدو فروخت کرتے تھے ۔ حزان اور کنہ اور عدن اور سبا کے سود اگر اور اسکور اور کلمد کے باشندے آپ کے ساتھ سودا گری کرتے تھے۔ (حزقی ایل باب 27 آیات 23-22) مورخین نے سبا کو ایک قوم تسلیم کیا ہے ۔ یونان اور روم کے تاریخ دانوں اور جغرافیہ کے ماہر تھیوفراسٹس نے بھی 288 قبل مسیح میں اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ قوم یمن میں آباد تھی اوراس کے عروج کا زمانہ 1100 قبل مسیح ہے ۔ اس کا شہرہ حضرت داؤد کی نبوت کے وقت سے ہی پھیلا ہواتھا۔ آغاز میں یہ قوم سورج پرست تھی، لیکن بعد میں نہ جانے کب سے اس میں بت پرستی کا غلبہ آ گیا۔ اگرچہ ان کی ملکہ نے حضرت سلیمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا تھا اور اس کی رعایا کی غالب اکثریت بھی ان کے ساتھ مسلمان ہو گئی تھی۔ آثارقدیمہ کی جدید تحقیق کے سلسلے میں یمن سے 3000 مخطوطے برآمد ہوئے ہیں جو اس قوم کی اہم تاریخ پر روشنی ڈالتے ہیں مثلاً 650 ق م میں یہاں کے بادشاہ کا لقب مکرب تھا جو مقرب کا ہم معنیٰ تھا۔ یہ کاہن بادشاہ کہلاتےتھےاوران کا اس وقت پایہ تخت صرواح تھا جس کے معنیٰ بادشاہ ہیں ۔ یہی لفظ آج بھی کئی ملکوں میں رائج ہےجسکےمعنی یہ بتائے گئے کہ حکومت میں مذہب کی بجائے سیاست اور سیکولرازم کا رنگ غالب آ گیا ہے ۔اس وقت کےملوک نے اپنا دارالخلافہ صرواح کو چھوڑ کر مارب کو بنا لیا اور اسے ترقی کیاعلیٰ منازل تک پہنچا دیا۔ یہ مقام صنعاسے60میل کی دوری پر مشرق کی جانب واقع ہے جو سطح سمندر سے 3900 فٹ بلند ہے ۔ 115 ق م کےبعدسےاس خطے پر حمیر غالب آ گئے ۔
انہوں نے مارب کو اجاڑ کر ریدان کو دارالحکومت بنایا جو بعد میں ظفار شہر کے نام سے مشہور ہوا۔ آج کل موجودہ شہر قبیلہ حمیر کے نام سے آباد ہے جسے دیکھ کر کوئی شخص تصور بھی نہیں کر سکتا کہ یہ اسی رقوم کی یادگار ہے ۔ اسی زمانے میں سلطنت کے ایک حصے کی حیثیت سے پہلی مرتبہ لفظ یمنت یا یمنات کا استعمال ہوا اور پھر رفتہ رفتہ پورا علاقہ یمنت سےیمن ہو گیا۔ اس کے بعد آغاز اسلام تک کا دور قوم سبا کی تباہی کا دور ہے ۔ اس دور میں انکے یہاں مسلسل خانہ جنگیاں ہوئیں اور بیرونی مداخلت کا زور ہوا جس کی بناءپر ان کی معیشت برباد ہو گئی اور زراعت نے دم توڑ دیا۔ 340سے378 تک حبشیوں نے یمن کی حالت اور بھی تباہ کر دی جس کا ذکر قرآن حکیم میں بھی ہے ،
’’آخر کار ہم نےان پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا۔ ’’ (سبا آیت 16) کہا جاتا ہے کہ اس سیلاب کی وجہ سے جو آبادی منتشرہوگئی تھی، وہ آج تک مجتمع نہ ہو سکی۔ آبپاشی اور زراعت کا جو نظام درہم برہم ہوا، وہ اب تک بحال نہیں ہو سکا۔ 523میں یمن پر یہودی حکومت قائم ہو گئی۔ یہودی بادشاہ ذوالنواس نے نجران کے عیسائیوں پر وہ ظلم و ستم برپا کیا جس کا ذکر قرآن حکیم میں اصحاب الاخدود کے نام سے کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ’’خندقوں والے ہلاک کیے گئے ۔‘‘ (بروج آیت 14) ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے ایمان لانے والوں کو آگ کے بڑے گڑھوں میں یعنی خندقوں میں پھینکا تھا۔ جن کی تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ تھی۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ یہ واقعہ 528 میں پیش آیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعدنجاشیوں نے یمن پر حملہ کر کے ذوالنواس اور اس کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ یمن کے ایک حبشی وائسرائے ابرہہ نےکعبے کی مرکزیت ختم کرنے اور عرب کے پورے مغربی علاقے کو رومی حبشی اثر میں لانے کیلئے 570 میں حضور ﷺکی پیدائش سے چند روز قبل مکہ معظمہ پر حملہ کر دیا۔ ابراہہ کی فوج پر وہ تباہی آئی جس کا ذکر قرآن حکیم میں اصحاب الفیل کے نام سے آیا ہے : ’’کیا تونے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا؟ کیا ان کا داؤ غلط نہیں کر دیا اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دئیے جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے ۔ پس انہیں کھائے ہوئے بھو سے کی طرح کر دیا۔ ’’ (سورة الفیل)
یمن سے شام تک سبائیوں کی نو آبادیاں مسلسل قائم ہوتی جارہی تھیں ۔ انہی حدود میں ان کے تجارتی قافلے سفرکرتےتھے ۔ ایک ہزار برس تک یہ قوم مشرق و مغرب کے درمیان تجارت کا واسطہ بنی رہی۔ ان کی بندرگاہوں میں چین کا ریشم انڈونیشیا اور مالا بار کے گرم مسالے ، ہندوستان کے کپڑے اور تلواریں ، مشرقی افریقہ کے زنگی غلام،بندراورشتر مرغ کے پر اور ہاتھی دانت پہنچتے تھے ۔ جہاں سے یہ مال رومان اور یونان تک روانہ کیا جاتا تھا۔ ان کےعلاقے میں لوبان، عود، عنبر اور مشک غرض ہر خوش بو دار شے پیدا ہوتی تھی جسے مصر، شام، روم اور یونان ہاتھوں ہاتھ لیتے تھے ۔ یہ لوگ جلانے کی لکڑی کے بجائے صندل اور دار چینی استعمال کرتے تھے ۔
یہ اس وقت دنیا کی مال دار ترین قوم تھی جس کا انجام نہایت ہی درد ناک ہوا۔ روئے زمین پر آج ایک بھی اس قوم کا فرد نہیں ملتا۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: