حضرت اروی ؓ

حضرت اروی ؓ بنت کریز حضور اکرم کی پھوپھی زاد بہن تھیں اور حضرت عثمان غنی ؓ کی والدہ تھیں۔ آقائےنامدار حضور کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان ؓ کی بیویاں بنیں۔ اس لئے یہ حضور کی سمدھن بھی ہیں۔
حضرت اروی ؓ کریز کا خاندان بنو عبد شمس سے تھا۔ آپ کی والدہ کا نام اُمِّ حکیم بضاء ہے جو حضرت عبدالمطلب کی بیٹی تھیں۔
حضرت اروی ؓ کے بھائی عامر بن کریز ؓ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے۔ حضرت اروی ؓ کی بہن سعدی بنت کریزکاذکر بھی صحابیات میں ملتا ہے مگر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ سعدیٰ کی والدہ اُمِّ حکیم بیضا ہی تھیں یا کوئی اور تھی۔ سعدیٰ زمانہ جاہلیت میں کہانت سے شغف رکھتی تھیں اور اس کی بڑی ماہر تھیں۔ بعض روایات کے مطابق حضرت ارویؓابتداہی میں مسلمان ہوگئی تھیں۔ ابن حجر کے مطابق انہوں نے ہی سب سے پہلے اپنے بیٹے حضرت عثمان غنی ؓ کو اسلام کی طرف  راغب کیا تھا۔ شعر وشاعری میں بھی ادراک رکھتی تھیں۔
حضرت اروی ؓ کا پہلا نکاح عفان بن ابی العاص سے ہوا۔ عفان سے ایک بیٹے عثمان ؓ بن عفان اور ایک بیٹی آمنہ پیداہوئیں۔ عفان کی وفات کے بعد حضرت اروی ؓ کا دوسرا نکاح عقبہ بن ابی معیط سے ہوا۔ عقبہ قریش کے ممتاز آدمیوں  میں سے تھا۔ عقبہ سے حضرت اُمِّ کلثوم ؓ پیدا ہوئیں۔ عقبہ اسلام کا دشمن تھا، غزوۂ بدر میں حضرت عاصم بن ثابت کےہاتھوں مارا گیا تھا۔
جب حضور نے دعوت حق کا آغاز کیاتو عقبہ ابی معیط حضور کا جانی دشمن ہوگیا اور اس نے آپ کو ستانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی مگر اس کے باوجود عقبہ کی بیوی حضرت اروی ؓ اور بیٹی حضرت اُمِّ کلثوم ؓ نے نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ اس پر قائم رہیں اور مخالفت کی پرواہ نہ کی۔ بعض روایات کے مطابق حضرت اروی ؓ نے ابتدائی 3برسوں میں اسلام قبول کرلیا تھا۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: