عدل و انصاف کا ایک دلچسپ مقدمہ

سلطان محمد شاہ تغلق کا دورِ حکمرانی (۱۳۲۵-۱۳۵۱ء) ہندوستان کی رعایا کے لئے حرمان نصیبی اور مصائب و آلام کا دور رہا ہے ۔ اگرچہ محمد شاہ تغلق نے انتظامی اور مالی لحاظ سے ایک مضبوط سلطنت ورثے میں پائی تھی لیکن اس کی حماقتوں اور شاہ خرچی کی وجہ سے چند سالوں کے اندر اندر ہی خزانۂ عامرہ خالی ہو گیا اور خوشحال سلطنت پر افلاس کے بادل منڈلانے لگے ۔ محمد شاہ تغلق عربی اورفارسی کا زبردست عالم تھا ، مروّجہ علوم طبیعات ، ریاضیات پر بڑی دسترس رکھتا تھا۔ علم طب میں ید طولیٰ کاحامل تھا اس کے علاوہ اونچے درجے کا ادیب و شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کا بہترین خطاط بھی تھا لیکن علم و آگہی نے کسی بھی طرح محمد شاہ تغلق کے دل میں مودت و رحمت کا جذبہ پیدا نہ کیا۔ عالم و فاضل ہونے کے باوجوداس کی طبیعت ہر وقت خونریزی اور قتل و غارت گری پر آمادہ رہتی تھی۔مشکل سے ہی کوئی دن ایسا گزرتا تھا جب بادشاہ کے دروازے پر کسی کو قتل نہ کیا جاتا تھا۔ معمولی معمولی خطاؤں پر لوگوں کو ہاتھیوں کے پیروں تلے کچلوا دیا جاتا۔محمد شاہ تغلق اتنا سفاک تھا کہ زندہ جسموں سے کھال اُتار کراس میں بھوس بھروا دیتا۔ سنگدلی اور سفاکی میں اپنے پرائے میں بھی کوئی فرق نہیں کرتا تھا۔ اس نےاپنے سگے بھائی مسودخان کو بے رحمی سے قتل کرایا اور اس کی لاش بازار میں پھینکوا دی۔ تین روز تک مسعود خان کی لاش بے گور و کفن پڑی رہی۔ محمد شاہ تغلق ہر ہفتے کسی نہ کسی عالم ، فاضل ،مفتی ، قاضی یا صوفی کو ضرور موت کے گھاٹ اُتار دیتا۔ جب محمد شاہ تعلق نے دِلّی کی بجائے دولت آباد(دکن)کو پایۂ تخت بنانے کا ارادہ کر لیا تو دلّی والوں کو حکم ہوا کہ جلد ازجلد دلّی خالی کر کے دولت آباد میں جابسیں ۔ دلّی والوں نے لیت و لعل سے کام لیا تو حکم ہوا کہ تین دن کے اندر اندر دلّی کو خالی کیاجائے اس کے بعد جو شخص بھی دلّی میں ملے گا اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ دلّی کے اکثر لوگوں نے اپنا ساز وسامان چھوڑکردلّی سے فرار اختیار کیا لیکن کچھ معذور اور مجبور لوگ پھر بھی دلّی میں پڑے رہ گئے ۔ بادشاہ نے ان کو گرفتار کر کے سخت سزائیں دیں ۔پسماندگان میں ایک نابینا شخص بھی تھا۔ اس کے لئے حکم دیا کہ اس کی ایک ٹانگ میں رسّی باندھ کر اسے دولت
آباد گھسیٹ کر لے لیا جائے ۔ حکم کی تعمیل ہوئی ،راستے میں نابینا کے جسم کے پرخچے اڑ گئے اور رسّی کے ساتھ بندھا صرف ایک پاؓں ہی دولت آباد پہنچ سکا۔ اس کے بعد دلّی بالکل ویران ہو گئی۔سلطان محمد شاہ تعلق شام ڈھلنے کے بعد محل کےبالاخانےپر چڑھ گیا اور شہر کے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ جب دیکھا کہ نہ کہیں دھواں اٹھ رہا ہے اور نہ ہی کہیں روشنی نظر آ رہی ہے تو کہا ’’اب میرے جگر کو ٹھنڈک پہنچ گئی ‘‘۔ کچھ عرصہ کے بعد سلطان کو احساس ہوا کہ دلّی کو ویران کر کے اس نےحماقت کی اور پھر دلّی کو دوبارہ آباد کرنے کی کوشش بھی کی لیکن دلّی عرصہ دراز تک آباد نہ ہو سکی۔
یہاں تک یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ محمد شاہ تغلق کی حماقتوں کا سلطنت کشمیر پر کوئی اثر نہ ہوا کیونکہ کشمیر ان دنو ں بھی ایک آزاد اور مضبوط خودمختار سلطنت تھی۔ محمد شاہ تغلق کی حماقتوں او رسفاکیت کے نتیجے میں ملک ہند کے کونے کونےمیں بغاوتوں نے سر اٹھایا۔ کئی مسلم و غیر مسلم عمال نے رعایا کو بادشاہ کے خلاف اکسانا شروع کر دیا۔ بعض صوبوں کےامراءنے ہندوستان کی مرکزی حکومت سے الگ ہو کر خودمختار ی کا اعلان کر دیا۔محمد شاہ تغلق کی تقریباً ساری زندگی ان بغاوتوں کودبانے کی نذر ہو گئی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد شاہ تغلق نے فوج کشی کر کے بہت سے باغی حکومتوں کی بساط الٹ دی لیکن کچھ خودمختار سلطنتیں اپنا علیحدہ وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں ۔ انہی میں سے ایک (متحدہ) سلطنت بنگال بھی ہے ۔ بنگال کی خودمختار مسلم سلطنت کا بانی سلطان شمس الدین بھنگرہ تھا۔ جس نے
۱۳۴۲میں سارے بنگال (آج کے بنگلہ دیش اورمغربی بنگال وغیرہ) پر قبضہ کر کے اسی سلطنت کی داغ بیل ڈالی۔ سلطان شمس الدین بھنگرہ نے سولہ سال تک حکومت اور1357ءمیں اس کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا سلطان سکندر شاہ تخت پر بیٹھا۔ سلطان سکندر شاہ کے انتقال پر 1366ء میں اس کافرزند سلطان غیاث الدین تخت شاہی کا وارث ٹھہرا۔ (سلطان شمس الدین بھنگرہ اورسلطان سکندر شاہ اوسط درجے کے حکمران رہے ہیں ۔یہ بات یاد رہنی چاہئے کہ اس دور کےاوسط درجے کے مسلم حکمرانوں کے ساتھ آج کل کے نام نہاد چنے گئے حکمرانوں کا کسی
طور بھی تقابل نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ رشوت نام کی کوئی چیز محمد تغلق جیسے سفاک حکمران کے دور میں بھی نہ تھی۔ مذاہب کےنام پر بھید بھاؓ اور فسادات کا کوئی تصور نہیں تھا۔ رعایا کی معصوم لڑکیوں کی عصمت ریزی کا تصور نہیں کیاجاسکتاتھااورغیرمسلح بزرگوں اور خواتین کو جیلوں میں ٹھونسنے کا رواج نہیں تھا)۔ سلطان غیاث الدین کا دور حکمرانی(1366ء تا1377ء )بنگال کی مسلم سلطنت کا سنہری دور تھا۔ سلطنت میں ہر طرح امن و امان اور خوشحالی کا دور دورہ تھا۔ سلطان غیاث الدین اعلیٰ پایہ  کا منتظم ، عالم با عمل ، زاہد بے ریا اور جودوسخا کا پیکر تھا۔اس کے ساتھ ساتھ سلطان دفاع سلطنت سے ہرگزغافل نہ تھا۔ موقع بہ موقعہ جنگی مشقوں کا انعقاد بھی سلطان کے طریق جہانبانی میں شامل تھا۔ ایک دن تیز اندازی کی مشق ہو رہی تھی۔ سلطان نے بھی نشانہ باندھ کر کئی تیر چھوڑے ، ناگاہ ایک تیر کا نشانہ خطا ہو گیا اور یہ تربیتی احاطے سے باہر جا گرا۔ اتفاق سےیہ تیر ایک غریب عورت کے بچے کو لگا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔سلطان کو اس حادثے کی خبر نہ ہوئی اور مشق مکمل ہونے کے بعد تھکا ماندہ اپنے عملے کے ساتھ قصر شاہی کی طرف کوچ کر گیا۔ قاضی شہر (
City Judge) قاضی سراج الدین دن بھر کی عدالتی کام کاج کو سمیٹ کر اُٹھنے ہی والے تھے کہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک کمزور خاتون حاضر ہو گئی اور قاضی  صاحب سے فریاد کی کہ ’’قاضی صاحب ، میں ایک بیوہ ہوں بادشاہ کے تیر سے میرا لخت جگر ابدی نیند سوگیا، ازروئے قانونِ شریعت میری داد رسی کیجئے ‘‘۔ قاضی صاحب کچھ دیر کسی سوچ میں پڑ گئے اور پھر ایک درہ مسند قضا کے نیچے چھپا کر رکھ دیا۔ جوابِ دعویٰ کے ساتھ حاضر ہونے کے لئے سلطان کے نام سمن جاری کر دیا۔ عدالت کے حکم کی تعمیل کرانے کے لئے ایک پیادے کو روانہ کر دیا۔ پیادہ قصر شاہی کے حدود میں داخل ہوا تو اس کو اندازہ ہوا کہ بے پناہ مصروفیت کے باعث اس وقت بادشاہ تک رسائی آسان نہیں ہے ۔پیادے نے بلند آواز سے اذان دینی شروع کر دی۔ بے وقت اذان سن کر بادشاہ نے موذن کو دربار میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
موذن کو حاضر کیا گیا تو بادشاہ نے بے وقت اذان کی وجہ دریافت کی۔ پیادے نے عدالت کا پروانہ پیش کر دیا اورکہا’’مجھےسلطان کو محکمہ عدلیہ میں حاضر کرنے کا حکم ملا ہے ۔ مجھے اندازہ ہوا کہ قصر شاہی کا عملہ اس وقت سلطان تک رسائی نہ دے گا ،اس لئے یہ حیلہ اختیار کیا۔ سلطان فوراً اٹھا ایک چھوٹی سی تلوار بغل میں چھپا کر عدالت کی طرف چل پڑا۔ قاضی سراج الدین کےسامنے پیش ہوا، قاضی صاحب نے تعظیم تو کجا سلطان کی طرف التفات تک نہ کیا۔جیسے کہ اس کو جانتے ہی نہ تھے ۔فریقین کے بیان لئے اور فیصلہ صادر کیا۔ سلطان غیاث الدین پر قتل کا جرم ثابت ہو گیا ،از روئے قانون شریعت سلطان کو قصاص میں قتل کرنے کی سزا سنائی جاتی ہے ۔ البتہ سلطان کو موت وزیست کا فیصلہ مشتغثہ کی مرضی پر منحصر ہے ۔ سلطان غیاث الدین نےملزموں کے کٹہرے میں اپنے خلاف سنائی گئی سزائے موت کو سر جھکائے تسلیم کیا۔ یہ منظر دیدنی تھا،سلطان ایک لاچار ملزم کی حیثیت سے محکمہ عدلیہ میں اس پرندے کی طرح بے یار و مددگار تھا جسے ذبح کرنے کی غرض سے کسی پنجرے میں بندکردیاگیا ہو۔ مستغثہ ممتا کی ٹیس کی وجہ سے سلطان پر خشمگیں نظریں گاڑی ہوئی تھی۔ سب کو لگا کہ سلطان اب تھوڑی دیرکامہمان ہے اور جر م کی پاداش میں اس پر حد شرعی لاگو ہونے والی ہے ۔ اِدھر قاضی صاحب فیصلہ سنانے کے بعد اس انتظارمیں تھے کہ اگر فریقین کے بیچ شریعت میں دی گئی رعایت کے پیش نظر کوئی سمجھوتہ ہوتا ہے تو ٹھیک نہیں تو سورج ڈوبنے سے پہلے سلطان کو جلاد کے حوالے کر دیا جائے ۔ سلطان کی لاچاری اور کسمپرسی کو دیکھ کر یکایک خاتون کا دل بھرآیااوراس نے خون بہا کے عوض سلطان کو موت کے بے رحم شکنجے سے چھڑانے کا فیصلہ کیا۔ قاضی صاحب کو اطلاع دی گئی کہ مستغثہ سلطان کی جان بخشی کے لئے تیار ہو گئی ہے ۔ قاضی صاحب نے مستغثہ سے پوچھا ’’ کیا تو راضی ہو گئی ؟‘‘
جواب ملا’’سلطان کی لاچاری دیکھ کر میں نے اس کی جان بخشی کا فیصلہ کر لیا ‘‘۔ پھر دریافت کیا ’’کیا اس عدالت سے تونےدادپائی ‘‘۔ مستغثہ نے جواب دیا ’’ قاضی صاحب میں آپ کی عدالت سے بھر پور داد پائی ‘‘۔ مقدمے سے فراغت کے بعد قاضی سراج الدین نے خندہ پیشانی سے سلطان کی تعظیم کی اور اس کو مسند پر بٹھایا۔ سلطان نے بغل میں چھپائی ہوئ تلوار نکالی اوربولا’’قاضی صاحب میں شریعت کی پابندی کی خاطر آپ کے پاس حاضر ہوا۔ اگر آپ قانونِ شریعت کی سرمو خلاف ورزی کرتے تو اس تلوار سے آپ کی گردن اُڑا دیتا۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ نے منصب قضاء کا پورا حق ادا کر دیا‘‘۔ قاضی شہر قاضی
سراج الدین نے مسند کے نیچے چھپایا ہوا دُرہ نکالا اور فرمایا’’ اے سلطان! اگر آ ج آپ شریعت کی حد سے ذرا بھی تجاوزکرتےتواس دُرے سے آپ کی کھال اُتار دیتا….آج ہم دونوں کے امتحان کا دن تھا‘‘۔

Advertisements
1 comment
  1. ہنزہ said:

    پلیز باقی تمامبر صغیر کے مسلم حکمرانوں پر بھی لکھیے۔۔۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: