حضرت خَدیجہؓ-3

شعبِ ابی طالب میں رہنا

ایک مرتبہ مشرکینِ مکّہ نے آپس میں یہ معاہدہ کیا کہ سارے بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کا بائیکاٹ کیا جائے۔ نہ اُن کوکوئی شخص اپنے پاس بیٹھنے دے، نہ اُن سے بات کرے، نہ خرید و فروخت کرے، نہ اُن کو اپنے گھر آنے دے اور اُس وقت تک صلح نہ کی جائے جب تک یہ لوگ حضور کو قتل کرنے کے لیے ہمارے حوالہ نہ کر دیں ۔ یہ معاہدہ زبانی باتوں ہی پر ختم نہیں ہوا بلکہ تحریری معاہدہ لکھ کر کعبہ محترمہ پر لٹکا دیا گیا تاکہ ہر شخص اِس کا احترام کرے۔
اِس معاہدہ کی وجہ سے آنحضرت اور سارے بنو ہاشم  اور بنو عبد المطلب تین سال تک دو پہاڑوں کے درمیان ایک گھاٹی میں رہے۔اِس تین برس میں اُن کو فاقوں پر فاقے گزرے ۔
مرد و عورت سب ہی بھوک سے بیتاب ہو کر روتے اور چیختے چلاتے تھے جس کی وجہ سے اُن کے والدین کو اور بھی زیادہ دُکھ ہوتا تھا۔ حضورِ اقدس
کی بیوی حضرت خَدیجہؓ اور آپ کی اَولاد سب ہی اِس گھاٹی میں رہے اور  دعوتِ دین کے لیے فاقے جھیلے اور مصیبت کے دِن کاٹے۔ آخر تین سال کے بعد معاہدہ والی تحریر کو دِیمک کھا گئی تب اُن حضرات کو اُس گھاٹی سے نکلنا نصیب ہوا۔ (البدایہ)

اِسلام کے فروغ میں حضرت خَدیجہؓ  کا مال بھی لگا

حضرت خَدیجہؓ نے آنحضرت کی خدمت گزاری اور دِلداری میں بھی کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھا تھا اور اپنے مال کوبھی اِسلام اور دَاعی اِسلام کی ضروریات کے لیے اِس طرح پیش کر دیا تھا جیسے اُس مال میں خود کو مالکیت کا حق ہی نہیں رہا۔
قرآن مجید میں اللہ جل شانہ نے آنحضرت
کو خطاب فرمایا: ہے : وَوَجَدَکَ عَآئِلاً فَاَغْنیٰ اور تم کو اللہ نے بے مال والا پایا پس غنی کر دیا۔اِس کی تفسیر میں مفسرین لکھتے ہیں: : ای بمال خدیجة یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو خَدیجہؓ کے مال کےذریعہ غنی کر دیا۔ حضرت خَدیجہؓ کے پاس جو مال تھا وہ آپ ہی کا سمجھتی تھیں اُن کے مال خرچ کرنےکےاحسان کا آپ کے دِل پر بہت اثر تھا۔
ایک مرتبہ اُن کے اِس اِحسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: وَاَعْطَتْنِیْ مَالَھَا فَاَنْفَقْتُہ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ
یعنی اُنہوں نے اپنا مال مجھے دیا جسے میں نے اللہ کے راہ میں خرچ کیا۔
حضرت زید بن حارثہؓ مکّہ میں فروخت کیے جا رہے تھے۔ حضرت خَدیجہؓ نے اِن کو اپنے مال سےخریدکرآنحضرت کی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپ نے اِن کو آزاد کر کے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ حضرت زیدؓ بھی سابقینِ  اوّلین میں سے ہیں ۔ آنحضرت کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے ہیں ۔ اُن کو غلامی سے چھڑا کر اِسلام کےکاموں میں لگا دینے کا ذریعہ حضرت خَدیجہؓ ہی بنیں ۔
بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب میں جو لوگ کافر تھے وہ بھی حمیتِ قومی کی وجہ سے اس مصیبت میں شریک ہوئے اورآنحضرت کو قتل کرنے کے لیے حوالے کر دینے پر آمادہ نہ ہوئے۔

نماز پڑھنا

حضرت خَدیجہؓ کی زندگی میں پنج وقتہ نمازیں فرض نہ ہوئی تھیں اِن کی وفات کے بعد آنحضرت کو معراج ہوئی تب یہ نمازیں فرض ہوئیں، البتہ مطلق نماز پڑھنا ضروری تھا جسے وہ آنحضرت کے ساتھ پڑھا کرتی تھیں ۔ حافظ ابنِ کثیر لکھتے ہیں: کہ جب مطلق نماز فرض ہوئی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام آنحضرت کے پاس تشریف لائےاور ایک جگہ اپنی اَیڑی ماری جس سے چشمہ اُبل نکلا۔ پھر دونوں نے اِس میں وضو کیا اور حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دورَکعتیں پڑھیں ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے وضو اور نمازسیکھ کر آپ دولت کدہ پر تشریف لائے اورحضرت خَدیجہؓ کا ہاتھ پکڑ کر اُس چشمہ پر لے گئے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرح اُن کے سامنے وضو کیا اور دورَکعت پڑھیں ۔ اِس کے بعد آپ اور حضرت خَدیجہؓ پوشیدہ نماز پڑھا کرتے تھے۔ (البدایہ)
عفیف کندی کا بیان ہے کہ میں حج کے موقع پر عباس بن عبد المطلب کے پاس آیا۔ وہ تاجر آدمی تھے مجھے اُن سےخریدوفروخت کا معاملہ کرنا تھا اچانک نظر پڑی کہ ایک شخص ایک خیمہ سے نکل کر کعبہ کے سامنے نماز پڑھنےلگا۔ پھرایک عورت نکلی اور اُن کے پاس آئی وہ بھی (اُن کے پاس ) نماز پڑھنے لگی اور ایک لڑکا بھی نکل کر آیا وہ بھی (اُنکےپاس )نماز پڑھنے لگا۔ یہ ماجرہ دیکھ کر میں نے کہا اے عباس! یہ کونسا دین ہے ؟ ہم تو آج تک اِس سے واقف نہیں ہیں ۔
حضرت عباس
ؓ نے جواب دیا (جو اُس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے) یہ نوجوان محمّد بن عبداللہ ہے جو دعوی کرتا ہے کہ خدا نے اِسے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور یہ کہتا ہے کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے اِس کے ہاتھوں فتح ہوں گے اور یہ عورت اُس کی بیوی خَدیجہؓ بنتِ خویلد ہے جو اِس پر ایمان لا چکی ہے اور یہ لڑکا اِس نوجوان کا چچیرا بھائی ہے علی بن ابی طالب ہے جو اِس پر ایمان لا چکا ہے۔ عفیف کہتے ہیں کاش میں اُسی روز مسلمان ہو جاتا تو (بالغ مسلمانوں میں ) دُوسرا مسلمان شمار ہوتا۔(البدایہ)

حضورِ اقدس سے حضرت خَدیجہؓ کی اَولاد

حضرت خَدیجہؓ کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ آنحضرت کی اَولاد صرف اِن ہی سے پیدا ہوئی اور کسی بیوی سے اَولاد ہوئی ہی نہیں ۔ صرف ایک صاحبزادے حضرت ابراہیمؓ آپ کی باندی حضرت ماریہ قبطیہؓکےبطن سے پیدا ہوئے۔ مؤرخین اور محدثین کا اِس پر اتفاق ہے کہ آنحضرت کی چار لڑکیاں ہوئیں اوراکثر کی تحقیق یہ ہے کہ اُن میں سب سے بڑی حضرت زینب ؓپھر حضرت رُقیہ ؓپھر حضرت اُم کلثوم ؓپھرحضرت فاطمہ زہرا ء ؓ تھیں ۔
آپ کے لڑکے کتنے تھے؟ اِس میں اِختلاف ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سب بچپن ہی میں وفات پا گئے اور عرب میں اُس زمانہ میں تاریخ کا خاص اہتمام نہ تھا۔ اِس لیے یہ اَمر پوری طرح ایسا محفوظ نہ رہ سکا جس میں اِختلاف نہ ہوتا۔اکثر علماء کی تحقیق ہے کہ آنحضرت کے تین صاحبزادے پیدا ہوئے۔ دو صاحبزادے حضرت خَدیجہؓ سےاور ایک صاحبزادے حضرت ماریہ قبطیہؓ سے۔ اِس اعتبار سے آنحضرت کی چھ اَولاد حضرت خَدیجہؓ سےپیداہوئیں، دو لڑکے اور چار لڑکیاں ۔
ضرت خَدیجہؓ سے جو دو لڑکے پیدا ہوئے اُن میں سب سے پہلے حضرت قاسمؓ تھے۔ اِن ہی کے نام سےآنحضرت کی کنیت   ابوالقاسم   مشہورہوئی۔ یہ نبوت سے پہلے مکّہ ہی میں پیدا ہوئے اَور وہیں انتقال ہوا۔ اُس وقت پاؤں چلنے لگے تھے، ڈیڑھ دوسال زندہ رہے۔ حضورِ اقدس کے دُوسرے صاحبزادے جو حضرت خَدیجہؓسےپیداہوئےاُنکانام عبد اللہؓ تھا۔اُنہوں نے بھی بہت کم عمر پائی اور بچپن ہی میں وفات پا گئے، اِن کی پیدائش نبوت کے بعدہوئی تھی اِس لیے اُن کا لقب   طیب   بھی پڑا اور   طاہر   بھی(دونوں کے معنی پاکیزہ کے ہیں )۔

فضائل

حضرت خَدیجہؓ پاکیزگی ٔاخلاق کی وجہ سے اِسلام سے پہلے ہی   طاہرہ   کے لقب سے مشہور تھیں پھرحضورِاقدسکی  نکاح میں آ کر اُنہوں نے جو اپنی دانشمندی و عقلمندی اور خدمت گزاری سے جو فضائل حاصل کیے ہیں اُن کا تو کہنا ہی کیاہے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورِ اقدس کی بیویوں میں سے کسی بیوی پر بھی مجھے اِتنا رَشک نہیں جتنا حضرت خَدیجہؓ پر آتا تھا حالانکہ میں نے اُن کو دیکھا بھی نہیں تھا۔ اِس رَشک کی وجہ یہ تھی کہ آنحضرتاُنکواکثریادفرمایا: کرتے تھے۔ اور اکثر یہ بھی ہوتا کہ آپ بکری ذبح فرماتے تو اُس میں سے حضرت خَدیجہؓ کی سہیلیوں کو تلاش کرکےگوشت بھجواتے تھے،ایسے موقع پر بعض مرتبہ میں نے کہا کہ آپ کو اُن کا ایسا خیال ہے جیسے دُنیا و آخرت میں اُن کے علاوہ آپ کی اور کوئی بیوی ہی نہیں ۔ یہ سن کر حضور نے اِرشاد فرمایا:۔ وہ ایسی اچھی تھیں ایسی اچھی تھیں اور اُن سے میری اَولادہوئی۔ سبحان اللہ وفاداری اور یاد گاری کی یہ مثال کہاں ملے گی کہ صاحبِ محبت کے وفات پا جانے پر اُس کے دوستوں سےوہ برتاؤ رکھا جائے جسے وہ خود زِندگی میں اپنے دوستوں سے رکھتا اور اُس پر خوش ہوتا۔
ایک مرتبہ حضرت خَدیجہؓ آپ کی خدمت میں کھانا ١ اور سالن لے کر جا رہی تھیں ۔ ابھی پہنچنے بھی نہ پا ئی تھیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور عرض کیا حضرت خَدیجہؓ آ رہی ہیں وہ آپ کے پاس پہنچ جائیں تو اُن کو اللہ کا اور میرا سلام پہنچا دیجئے اور اُن کو جنت کا ایسا مکان مل جانے کی خوشخبری سنا دیجئے جو موتیوں کا ہو گا جس میں نہ ذراشور و شغب ہو گا نہ ذرا تکلیف ہو گی۔
جنت میں خلافِ طبع اور مکروہ آواز تو کسی کے کان میں بھی نہ آئے گی مگر خصوصیت کے ساتھ حضرت خَدیجہؓ کو جو ایسےمکان کی بشارت دی گئی یہ غالباً اِس لیے کہ دشمنانِ اِسلام اور داعی ٔاِسلام کے خلاف جو طرح طرح کی باتیں کرتےتھے وہ اُن کے کانوں میں پڑتی تھیں اُن کی وجہ سے جو سخت کوفت ہوتی تھی اُس کی وجہ سے تسلی دینے کے لیے یہ
خصوصی بشارت دی گئی۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت نے اِرشاد فرمایا: کہ جنت کی عورتوں میں سب سے افضل خَدیجہ ؓبنت خویلد اور فاطمہ ؓبنت محمّد ( ) اور مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم فرعون کی بیوی ہیں (الاصابہ)۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: کہ رسول اللہ گھر میں تشریف لا کر گھر سے باہر نہیں جایاکرتےتھے جب تک حضرت خَدیجہؓ کا تذکرہ نہ فرما لیتے تھے۔ ایک مرتبہ(لمعات میں لکھا ہے کہ )یہ کھانا حضرت خَدیجہ ؓغارِ حرا میں لے جا رہی تھیں اور یہ نبوت مل جانے کے بعد کی بات ہے کیونکہ نبوت مل جانے کے بعد بھی آپ کاغارِ حرا میں آنا جانا رہا ہے ۔
بخاری ومسلم، الاستیعاب میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آنحضرت سے عرض کیا کہ  خَدیجہؓ کو اُس کے رب کا سلام پہنچا دیجئے چنانچہ آپ نے پہنچا دیا۔
اُس کے جواب میں حضرت خَدیجہ ؓنے کہا اَللّٰہُ السَّلَامُ وَمِنْہُ السَّلَامُ وَعَلیٰ جِبْرِیْلَ السَّلَامُ یعنی اللہ کے سلام کا جواب کیا دُوں وہ تو خود سلام ہے اور اُسی سے سلامتی ملتی ہے۔ سلام لانے ولے جبرائیل علیہ السلام پر سلام ہو )
جو آپ نے اُن کا ذکر فرمایا: تو مجھے عورتوں والی غیرت سوار ہوئی۔ میں نے عرض کیا کہ ایک بڑھیا کو آپ یاد کرتے ہیں تو آپ بہت ناراض ہوئے۔اِس کے بعد میں نے یہ طے کر لیا کہ کبھی حضرت خَدیجہؓ کو برائی سے یاد نہ کروں گی (الاصابہ)۔
جب تک حضرت خَدیجہؓ زندہ رہیں آنحضرت نے کسی اور عورت سے نکاح نہیں کیا۔ اُن کی وفات کے بعد حضرت سودہ  ؓاور حضرت عائشہ ؓسے نکاح ہوا۔

وفات

حضرت خَدیجہؓ نے ١٠ نبوی میں بماہِ رمضان المبارک مکّہ میں وفات پائی۔ اُس وقت اُن کی عمر ٦٥ سال تھی۔ حضور کی صحبت میں کم و بیش ٢٥ سال رہیں ۔ ١٥ سال آپ کی نبوت سے پہلے اور دس برس نبوت مل جانے کے بعد، جس وقت اُن کی وفات ہوئی نمازِجنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، کفن دے کر حَجُوْن میں دفن کر دی گئیں جسے اَب   جَنَّتُ الْمُعَلّیٰ   کہتےہیں ۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَاَرْضَاھَا

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: