حضرت خضر علیہ السلام:03

كیوں  اس بچے كو قتل كررہے ہو؟
ان كا دریائی سفر ختم ہوگیا وہ كشتى سے اتر آئے ،”سفر جارى تھا اثنائے راہ میں  انہیں  ایك بچہ ملا لیكن اس عالم نے كسى تمہید كےبغیر ہى اس بچے كو قتل كردیا”۔ (سورہ كصف آیت 74) حضرت موسى  علیہ السلام  سے پھر نہ رہاگیا یہ نہ آیت وحشتناك منظر تھا بلا جواز اور بےوجہ ایك بے گناہ بچے كا قتل ، ایسى چیز نہ تھى كہ حضرت موسى خاموش رہ سكتے آپ غصے سے آگ بگولہ ہوگئے غم واندوہ اور غصے كا یہ عالم تھا كہ آپ نے پھر اپنے معاہدے كو نظر انداز كرتے ہوئے اب كى شدید تراور واضح تر اعتراض كیا یہ واقعہ بھى پہلے واقعے كى نسبت زیادہ وحشتناك تھا وہ كہنے لگے :”كیا آپ نے ایك بے گناہ اور پاك انسان كو قتل كردیا ہے جبكہ اس نے كسى كو قتل نہیں  كیا،واقعاً آپ نے كیسا برا كا م انجام دیاہے۔”(سورہ كہف آیت 74)( )لفظ”غلام”جوان نورس كے معنى میں  ہے وہ حد بلوغ كو پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو ۔ جس نوجوان كو اس عالم نے قتل كیا تھا وہ حد بلوغ كوپہنچاہواتھایانہیں  اس سلسلے میں  مفسرین میں  اختلاف ہے ۔
بعض نے ” نفسا زكیة” (پاك اور بے گناہ انسان ) كى تعبیر كو اس بات كى دلیل بنایا ہے كہ وہ بالغ تھا كیونكہ قصاص صرف بالغ سے لیا جاسكتا ہے ۔البتہ آیت كو مجموعى طور پر دیكھا جائے تو اس سلسلے میں  حتمى فیصلہ نہیں كیا جاسكتا ۔)اس عالم بزرگوارنےپھر اپنے خاص اطمینان اور نرم لہجے میں  وہى جملہ دہرایا : ” كہا: میں  نے تم سے نہ كہا تھا كہ تھا تم ہرگز میرے ساتھ صبر نہ كر سكو گے”۔ (سورہ كہف آیت 75)
حضرت موسى علیہ السلام كو اپنا عہد یاد آگیا انہیں  بہت احساس شرمندگى ہورہا تھا كیونكہ دومرتبہ یہ پیمان ٹوٹ چكا تھا چاہےبھول كرہى ایسا ہوا ہو انہیں  خیال آرہا تھا كہ ہوسكتا ہے استاد كى بات صحیح ہو كہ انہوں  نے تو پہلے ہى واضح كردیا تھا كہ ابتدا میں  ان كے كام موسى كے لئے ناقابل برداشت ہوں  گے۔
موسى  علیہ السلام  نے پھر عذر خواہى كے لہجے میں  كہا كہ اس دفعہ بھى مجھ سے صرف نظر كیجئے اور میرى بھول چوك كو نظرانداز كردیجئے اور” اگر اس كے بعد میں  آپ كے كاموں  كے بارے میں  وضاحت كا تقاضا كروں(اور آپ پر اعتراض كروں  ) تو پھربے شك مجھے ساتھ نہ ركھیں  اور اس صورت میں  آپ میرى استادى سے معذور ہوں  گے ” (سورہ كہف آیت 76) یہ جملہ حضرت موسى  علیہ السلام  كى انصاف پسندی، بلند نظرى اور اعلى ظرفى كى حك آیت كرتا ہے اور نشاندہى كرتاہےكہ وہ ایك حقیقت كے سامنے سرجھكادینے والے تھے اگرچہ وہ كتنى ہى تلخ كیوں  نہ ہو ۔
دوسرے لفظوں  میں  تین بار كى  آزمائش  سے یہ واضح ہوجائے گا كہ ان دونوں  كى ماموریت الگ الگ ہے اور اس كانباہ نہیں  ہوسكتا ۔
اپنے كام كى مزدورى لے لو
اس گفتگو اور نئے معاہدے كے بعد ”موسى  علیہ السلام  اپنے استاد كے ساتھ چل پڑے ،چلتے چلتے وہ ایك بستى میں  پہنچے انہوں  نے اس بستى والوں  سے كھانا مانگا لیكن بستى والوں  نے انہیں  مہمان بنانے سے انكار كردیا ”(سورہ كہف آیت 77)
اس میں  شك نہیں  كہ حضرت موسى اور حضرت خضر علیہ السلام  كوئی ایسے افراد نہ تھے كہ اس بستى كے لوگوں  پر بوجھ بننا چاہتے تھے،ایسا معلوم ہوتا ہے كہ وہ اپنا زاد وتوشہ راستے میں  كہیں  دے بیٹھے تھے یا پھر ختم ہوگیا تھا لہذاوہ چاہتے تھے كہ بستى والوں  كے مہمان ہوجائیں  (یہ احتمال بھى ہے كہ اس عالم نے جان بوجھ كرلوگوں  سے ایسا كہا ہوتاكہ حضرت موسى كو ایك اوردرس دیا جاسكے)۔( اس نكتے كى یاد دہانى بھى ضرورى ہے كہ ” قریة” قرآن كى زبان میں  ایك عام مفہوم ركھتا ہے اور ہر قسم كے شہر اور آبادى كے معنى میں  آیا ہے لیكن یہاں  خصوصیت سے شہر مراد ہے كیونكہ چند آیات كےبعداسكےلئےلفظ”المدینہ”(یعنى شہر) آیاہے)  
بہر حال مفسرین میں  اس سلسلے میں  اختلاف ہے كہ یہ شہر كو نسا تھا اور كہاں  واقع تھا ، منقول ہے كہ یہ شہر ”انطاكیہ” تھا۔ بعض نے كہا ہے كہ یہاں  ” ایلہ ” شہر مراد ہے كہ جو آج كل ” ایلات”نام كى مشہور بندرگاہ ہے اور بحیرہ احمر كے كنارے خلیج عقبہ كے نزدیك واقع ہے ۔
بعض دوسروں  كا نظریہ ہے كہ اس سے ” ناصرہ”شہر مراد ہے كہ كہ جو فلسطین كے شمال میں  واقع ہے اور حضرت عیسى كى جائے پیدائش  ہے۔
مجمع الجرین كے بارے میں  ہم كہہ چكے ہیں  كہ اس سے مراد” خلیج عقبہ” اور” خلیج سویز ”كا سنگم ہے اس سے واضح ہوتا ہے كہ شہر ناصرہ اور بندرگاہ ایلہ اس جگہ سے انطاكیہ كى نسبت زیادہ قریب ہیں  ۔
بہرصورت جو كچھ حضرت موسى علیہ السلام اور ان كے استاد كے ساتھ اس شہر میں  پیش آیا اس سے معلوم ہوتا ہے كہ اس شہر كے رہنے والے بہت بخیل اور كم ظرف لوگ تھے پیغمبر اكرم ﷺ سے اس شہر والو ں كے بارے میں  ایك بات  منقول ہے كہ آپ نے فرمایا :”وہ كمینے اور كم ظرف لوگ تھے ”۔
قرآن كہتا ہے :” اس كے باوجود انہوں  نے اس شہر میں  ایك گرتى ہوئی دیوار دیكھى تو اس عالم نے اس كى مرمت شروع كردى اور اسے كھڑا كردیا ۔”(سورہ كہف آیت 77)اور اس كو ویرانى سے بچالیا۔
حضرت موسى اس وقت تھكے ہوئے تھے انہیں  بھوك بھى ستارہى تھی، كوفت الگ تھى وہ محسوس كررہے تھے اس آبادى كےناسمجھ لوگوں  نے ان كى اور ان كے استاد كى ہتك كى ہے دوسرى طرف وہ دیكھے رہے تھے ، اس بے احترامى كےباوجودحضرت خضر اس گرتى ہوئی دیوار كى تعمیر میں  لگے ہوئے تھے جیسے ان كے سلوك كى مزدورى دے رہے ہوں  وہ سوچ رہے تھے كہ كم از كم استاد یہ كام اجرت لے كر ہى كرتے تاكہ كھانا تو فراہم ہوجاتا ۔
لہذا وہ اپنے معاہدے كو پھر بھول گئے انہوں  نے پھر اعتراض كیا لیكن اب لہجہ پہلے كى نسبت ملائم اور نرم تھا ” كہنے لگے: اس كام كى كچھ اجرت ہى لے لیتے ”(سورہ كہف آیت 77) درحقیقت حضرت موسى علیہ السلام یہ سوچ رہے تھے كہ یہ عدل تونہیں
كہ انسان ان لوگوں  سے ایثار كا سلوك كرے كہ جو اس قدر فرومایہ اور كم ظرف ہوں  ۔دوسرے لفظوں  میں  نیكى اچھى چیز ہے مگر جب محل پر ہو، یہ ٹھیك ہے  كہ برائی كے جواب میں  نیكى كرنا مردان خدا كا طریقہ ہے لیكن وہاں  كہ جہاں  بروں
كے لئے برائی كى تشویق كا باعث نہ ہو ”
فراق دوست ،زندگى كے سخت ترین ایام
اس موقع پر اس عالم بزرگوار نے حضرت موسى سے آخرى بات كہى كیونكہ گزشتہ تمام واقعات كى بناء پر انہیں  یقین ہوگیاتھاكہ موسى ان كے كاموں  كو برداشت نہیں  كرسكتے لہذا فرمایا :” لواب تمہارے اور میرے درمیان جدائی كا وقت آگیاہےجلدمیں
تمہیں  ان امور كے اسرار سے آگاہ كروں  گا كہ جن پر تم صبر نہ كرسكے”۔(سورہ كہف آیت 78) حضرت موسى نے بھى اس پر كوئی اعترا ض نہ كیا كیونكہ گزشتہ واقعے میں  یہى بات وہ خود تجویز كر چكے تھے یعنى خود حضرت موسى پر یہ حقیقت ثابت ہوچكى تھى كہ ان كا نباہ نہیں  ہوسكتا لیكن پھر بھى جدائی كى خبر موسى كے دل پر ہتھوڑے كى ضرب كى طرح لگى ایسےاستادسےجدائی كہ جس كا سینہ مخزن اسرار ہو، جس كى ہمراہى باعث بركت ہو اور جس كى ہر بات ایك درس ہو، جس كاطرز عمل الہام  بخش ہو، جس كى پیشانى سے نور خدا ضوفشاں  ہو اور جس كا دل علم الہى كا گنجینہ ہو ایسے رہبر سے جدائی باعث رنج وغم تھى لیكن یہ ایك ایسى تلخ حقیقت تھى جو موسى كو بہرحال قبول كرنا تھى ۔
رازی كہتے ہیں  كہ ایك رو آیت منقول ہے :
لوگوں  نے حضرت موسى سے پوچھا: آپ كى زندگىمیں  سب سے بڑى مشكل كونسى تھی؟
حضرت موسى  علیہ السلام  نے كہا : میں  نے بہت سختیاں  جھیلى ہیں  (فرعون كے دور كى سختیاں  اور پھر بنى اسرائیل كے دور كى  مشكلات كى طرف اشارہ ہے ) لیكن كسى مشكل اور رنج نے میرے دل كو اتنا رنجور نہیں  كیا جتنا حضرت خضرسے جدائی كى خبرنے ۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: