حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ

روشن چہرہ، کشاد ہ پیشانی، طویل قامت، خفیف عارض، اگر کوئی دیکھے تو دیکھتا ہی ر ہ جائے۔ ایک بار مل کر بار بارملنےکوجی چاہے اور ہرملاقات پر قلب کو سکون میسر آئے، جس کا وجود تواضع اور انکساری کی جیتی جاگتی تصویر اور جس کےجسم کاایک ایک بال حیا کا آئینہ دار لیکن اگر وہ منکسر المزاج حق بات پر اڑ جائے تو بپھرہوا شیر دکھائی دے اور پھر اس کےتلوار کی تیزی دشمن سے اپنا لوہا منواکر دم لے۔ جی ہاں! ہم ذکر کر رہے ہیں امت محمدیہ کے عامر بن عبداللہ بن جراح فہری قریشی کا جن کی کنیت ابو عبید ہ ؓ  ہے۔
ابو عبیدہ ؓ  ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جنھوں نے دعوت اسلام پر لبیک کہنے میں پہل کی۔ آپ ابو بکر صدیق ؓ کے اسلام لانے کے دوسرے دن حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور ابو بکر صدیق ؓ  کے دست مبارک پر آپ نے اسلام قبول کیااورپھرعبدالرحمن بن عوف،عثمان بن مظعون اور ارقم بن ابی ارقم ؓ م ایک ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے اور آپ ؓ  کے دست مبارک پر کلمہ حق کا اعلان کیا۔
ابو عبیدہ ؓ  نے سرزمین مکہ میں مسلمانوں کو پیش آنے والی تمام تکالیف اور مصائب برداشت کیں اور ان کے ہر دکھ دردمیں برابر کے شریک رہے۔
لیکن جنگ بدر میں انھیں جس امتحان سے گزرنا پڑا ہم اور آپ اس امتحان کے تعلق سے
سوچ بھی نہیں سکتے۔ جنگ اپنے شباب پر تھی اور ابو عبیدہ ؓ  مشرکین کی صفوں میں بھگدڑ مچا رہے تھے۔ آپ کا
کوئی وار خالی نہ جاتا۔ آپ کے پے در پے حملوں سے مشرکین پر خوف ودہشت طاری ہو گئی
تھی اور آپ موت سے بے نیاز ہو کر یکے بعد دیگرے مشرکین کو صفحہ ہستی سے مٹاتے چلے
جا رہے تھے۔ آپ کی تلوار کی زد میں جو بھی آتا موت اس کا نصیبہ بن جاتی لیکن
مشرکین کی اس بھیڑ میں ایک شخص ایسا بھی تھا کہ اگر وہ ابو عبیدہ ؓ  کے سامنے آجاتا تو آپ نہ صرف یہ کہ راستے سے ہٹ جاتے بلکہ پوری کوشش کرتے کہ اس شخص سے آمنا سامنا نہ ہو۔ لیکن وہ شحص وقفے وقفے سے آڑے آتا اور اللہ کے دشمنوں اور آپ کے درمیان حائل ہوجاتا۔ جب ابو عبیدہ ؓ  کو اور کوئی راستہ دکھائی نہ دیا تو آپ نے اس کے سر پر تلوار کی ایسی کاری ضرب لگائی کہ وہ شخص دو ٹکڑوں میں کٹ کر آپ کے سامنے گر گیا۔
قارئین ! کیا تمھیں معلوم ہے کہ دو حصوں میں کٹ کر مرنے والاوہ شخص کون تھا؟ کیا میں نے تم سے پہلے نہیں کہاتھا کہ ابوعبیدہ ؓ  ایک ایسے امتحان سے گزرے ہیں جس کے تعلق سے ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ شاید تمہارا سر چکرا جائے جب تمھیں یہ معلوم ہو کہ وہ شخص جو کٹ کر گرا تھا کوئی اور نہیں ابو عبیدہ ؓ  کے والد عبداللہ بن جراح تھے۔ لیکن نہیں، ابو عبیدہ ؓ  نےاپنےوالد کو قتل نہیں کیا بلکہ شرک جوان کے والد کی شکل میں آیا انھوں نے اس شرک کو اس دنیا سے مٹا دیا۔ شرک چاہے وہ باپ کی شخصیت میں کیوں نہ ہو اسے ختم کرنے والے تو حید پرست ابو عبیدہ ؓ  کی شان میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیتیں نازل کیں:(سورہ مجادلہ:۲۲)
ابو عبیدہ ؓ  کی قوت ایمانی، دین کے لیے ان کے نصیحت اور امت محمدیہ میں ان کی امانت داری حددرجہ مقبول تھی۔ اسی لیے محمد بن جعفر ؓ  فرماتے ہیں کہ عیسائیوں کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ آپ اپنے صحابہ  میں سے جسے پسند فرمائیں ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ مال کے معاملے میں ہمارے درمیان جو اختلاف ہو گیا ہے وہ اس کا فیصلہ کردے۔ اس لیے کہ مسلمان ہمارے درمیان پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’تم شام کو میرے پاس آنا میں تمھارے ساتھ ایک قوی اور حددرجہ امانت دار شخص کو کردوں گا۔’’ عمر بن خطاب ؓ  فرماتے ہیں‘ میں اس  دن بڑے سویرے ظہر کی نماز کے لیے چلا گیا۔ اس دن میری یہ دلی خواہش تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے قوی اور امین کی جوصفت بیان فرمائی ہے اے کاش کہ اس کا موصوف میں نکلوں۔
جب رسول اللہ ﷺ نماز ظہر پڑھا چکے تو آپ نے دائیں بائیں دیکھنا شروع کیا۔ میں بھی اپنی جگہ اچک اچک کر دیکھ رہاتھاتاکہ آپ کی نظر مجھ پر پڑجائے۔ لیکن میری طرف سے بے نیاز آپ ادھر ادھر دیکھ ہی رہے اور جب ابو عبیدہ ؓ  دکھائی دیئےتوآپ نے بلایا اور فرمایا:’’ اے ابو عبیدہ ! ان عیسائیوں کے ساتھ جاؤ اور جن معاملات میں ان میں اختلاف ہو گیا ہے ان کو فیصلہ حق کے ساتھ انجام دو‘‘۔ عمر ؓ  فرماتے ہیں:میں نے اپنے دل میں کہا:ابو عبیدہ مبارک ہو کہ صادق الامین نے تمہیں قوی اور امین کےخطاب سے نوازا۔
ابو عبیدہ ؓ  نہ صرف امین تھے بلکہ وہ امانت داری کو بروئے کارلانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں پوری قوت صرف کردیاکرتےتھے۔ اور بے شمار موقعوں پر انھوں نے اپنی قوت کو امانت کے تحفظ کے لیے صرف کیا۔ لہذا ایک موقعے پر جب رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کے قافلے کو ابو عبیدہ ؓ  کی سربراہی میں روانہ کیا تو کھجور کی ٹوکری اس قافلے کا کل زادراہ تھی اور اس کے علاوہ ان کے پاس کھانے کے لیے اور کچھ نہ تھا۔
لہذا ابو عبیدہ ؓ  اپنے ہر ایک ساتھی کو روزانہ ایک کھجور دیتے اور وہ اسے چوس کر پانی پی لیتا۔ گویا پورے دن کی غذا صرف ایک عدد کھجور ہوا کرتی۔
جنگ احد میں جب مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور مشرکین میں سے ایک بدبخت صدادے رہا تھا: مجھے بتلاؤ محمد کہاں ہیں؟ تو اس سخت ترین موقعے پر ابو عبیدہ ؓ  ان دس صحابہ کرام میں سے ایک تھے جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ مشرکین کی طرف سے آپ ﷺ کی جانب پھینکے جانے والے ہر تیر کو وہ اپنے سینے پر روکتے تھے۔ جب جنگ کاخاتمہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ کی رباعی ٹوٹ چکے تھے، پیشانی زخمی ہو چکی تھی اور آپ کے زرہ کی دو کڑیاں آپ کی داڑھ میں پھنس چکی تھیں۔ ابو بکر صدیق ؓ  آگے بڑھے کہ ان دونوں کڑیوں کو نکال سکیں، ابو عبیدہ ؓ  نے انھیں قسم دی کہ یہ کام میرےلیے چھوڑ دو۔
ابو عبیدہ ؓ  کو ڈر تھا کہ اگر میں ان کڑیوں کو اپنے ہاتھ سے نکالوں گا تو رسول اللہ ﷺ کو تکلیف ہوگی۔ لہذا آپ نے اپنےثنایا (پہلو کے دانت) سے مضبوطی سے پکڑکر کھینچا جس سے ایک کڑی تو نکل گئی لیکن آپ کے دانت بھی ٹوٹ گئے۔ ابو بکر صدیق ؓ
فرماتے ہیں ہمارے درمیان صرف ابو عبیدہ ؓ کو یہ شرف حاصل تھا کہ انھوں نے اپنے چار دانت رسول اللہ ﷺ کو راحت پہنچانے کے لیے شہید کر دیے۔
ابو عبیدہ ؓ  رسول اللہ ﷺ کے تمام غزوات میں شریک ہوئے اور جب آپ ﷺ کی وفات ہو گئی اور صحابہ کرام سقیفہ بنی ساعدہ (ان دنوں وزارت اطلاعات کے سامنے والا تکونہ باغ) میں جمع ہوئے تو عمر بن خطاب ؓ  نے ابو عبیدہ ؓ  سے فرمایا:’’آپ اپناہاتھ بڑھاےئے میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتا ہوں اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا:’’ہرامت کا ایک امین ہوتا ہے اور آپ اس امت کے امین ہیں‘‘۔ ابو عبیدہ ؓ  نے جواباً فرمایا:’’ میں اس شخص کے مقابلے میں اپنے آپ کومقدم نہیں کر سکتا جسے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا کہ وہ نماز میں ہماری امامت کرے اور پھر اس نے امامت کی اوررسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی‘‘۔ یہ کہہ کر آپ نے ابو بکر صدیق ؓ  کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ کے دور خلافت میں ہمیشہ حق بات کے لیے آپ کو نصیحت کرتے رہے اور بھلائی کے کام میں ہمیشہ آپ کے مددگار رہے۔ ابو بکر ؓ کے خلافت کے بعدعمرفاروق ؓ  خلیفہ بنے۔ ابو عبیدہ ؓ  نے ان کی بھی اطاعت کی اور کبھی ان کی حکم عدولی نہیں کی سوائے ایک موقعے کے۔
کیاآپ جانتے ہیں کہ وہ کونسا حکم تھا جو خلیفۃ المسلمین نے ابو عبیدہ ؓ کو دیا اور انھو ں نے امیر المومنین کے اس حکم کو ماننے سےانکار کردیا۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ابو عبیدہ ؓ  شام کے شہروں میں مسلم افواج کی قیادت کر رہے تھے اور ہر جنگ میں انھیں کامیابی نصیب ہو رہی تھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھو ں شام کے تمام شہروں میں فتح دلائی اور آپ کی قیادت میں مسلم فوج مشرق میں فرات اور شمال میں ایشیا تک اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکی تھی۔ فتوحات کے یہ سلسلے جاری تھے کہ ملک شام میں طاعون کا روگ پھیل گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس قدر شدید ہوگیا کہ اس سے پہلے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی تھی اورلوگ یکے بعد دیگرے لقمہ اجل ہونے لگے۔ لہذا امیرالمومنین عمر بن خطاب ؓ  نے ایک قاصد کے ہاتھوں ابو عبیدہ ؓ  کو ایک  خط بھیجا جس میں لکھا تھا: ’’مجھے تم سے ایک ضروری کام آن پڑا ہے لہذا میرا یہ خط اگر تمہیں رات میں ملے تو میں تمھیں یہ تاکید کرتا ہوں کہ صبح کا انتظار نہ کرنا اور میری طرف چل پڑنا‘‘۔ ابو عبیدہ ؓ  نےعمرفاروق ؓ  کا یہ خط پڑھ کر فرمایا:’’میں جانتا ہوں کہ امیرالمومنین کو مجھ سے کیا کام نکل آیا ہے وہ چاہتے ہیں کہ ایک فناہونے والے کو بچالیں۔‘‘ پھر آپ نے ایک خط امیرالمومنین کو لکھا:’’یا امیرالمومنین میں جانتا ہوں کہ آپ کو مجھ سے کیاکام ہے، میں اس وقت مسلم فوج کے درمیان ہوں اور میری قطعاً یہ خواہش نہیں ہے کہ میں اپنے آپ کو اس مصیبت سے بچا لوں جس میں میری فوج گرفتار ہے۔ میں ان سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گا تا وقتیکہ اللہ میرے اور ان کےمعاملے میں فیصلہ نہ کر دے اور جب میرا یہ خط آپ کو ملے تو جو قسم آپ نے مجھے دی ہے اسے اللہ کے لیے ختم کردینا اور مجھے اجازت دینا کہ میں فوج کے ساتھ رہ سکوں۔‘‘ جب عمر ؓ  نے یہ خط پڑھا تو آنکھوں سے آنسو بہہ نکلےاورآپ ہچکیاں لے لے کے رونے لگے۔ حاضرین میں سے کسی نے پوچھا:’’ امیرالمومنین! کیا بات ہے کیا ابو عبیدہ ؓ  کا انتقال فرماگئے‘‘۔ آپ نے فرمایا نہیں لیکن موت اس سے قریب ہے۔ عمر فاروق ؓ  کا یہ گمان غلط ثابت نہیں ہوا۔ کچھ ہی دنوں میں ابو عبیدہ ؓ  کوطاعون نے آگھیرا، وفات سے پہلے آپ نے مسلم فوج کو اس طرح وصیت کی:’’ میں تمھیں ایک ایسی وصیت کررہا ہوں کہ اگر تم نے اسے قبول کر لیا تو بھلائی ہمیشہ تمہارا نصیبہ رہے گی۔ نماز قائم کرو،رمضان کےروزےرکھو، صدقات دیا کرو، حج اور عمرہ کرو، اچھی باتوں میں ایک دوسرے کو نصیحت کرو، اپنے سرداروں کو نصیحت کرو تاکہ وہ گمرہی کا شکار نہ ہوں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ دنیا تمہیں ہلاکت میں مبتلا کردے۔ اگر کسی شخص کو ایک ہزارسال کی عمر بھی مل جائے تو اس کا بھی انجام وہی ہوگا جو آج تم میرا دیکھ رہے ہو۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘۔
پھر آپ معاذ بن جبل ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا’’ معاذ لوگوں کو نماز پڑھاؤ‘‘ (ان کی امامت قبول کرو) اتنا کہہ کرحددرجہ سکون کے ساتھ اس دنیا کو چھوڑکر اپنے مالک حقیقی کی طرف کوچ کر گئے۔ معاذ ؓ  کھڑے ہوئے اورلوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’لوگو!آج تم ایک ایسے شخص کے غم میں ڈوبے ہوئے ہو جو اللہ تبارک وتعالیٰ کی قسم بڑےکشادہ دل والاتھا اور جس سے حسد کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ عاقبت کی محبت میں اس سے شدید کوئی نہ گزرا اور عام مسلمانوں کو اس سے اچھا ناصح نصیب نہ ہوا، تم سب اس کے لیے رحمت کی دعا کرو۔‘‘
2 comments
  1. Mashallah buhat hi maloomati mazmoon tha. Pata hi ni chala k kab parhna shrou kia or kb khatam ho gya. Jazak allah.

    • پسند کرنے کا شکریہ
      آپ نے شائد مکروہ نامی تحریر نہیں پڑھی جو ایک سال پہلے قسط وار شائع کی میں نے
      وہ پڑھیئے گا ضرور

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: