عظیم الشان،بلند و بالا عمارتیں:قیامت کی علامتیں، از:مُفتِی نَاصِر الدین مَظاہری:01

تعمیر پہ وہ لوگ ہی دیتے ہیں توجہ      
عقبیٰ کا جنہیں خوف نہ ملت کا کوئی غم
جدید تہذیب و تمدن نے ہر فن اور ہر میدان میں جو حیرت انگیز ترقی کی ہے اس کی وجہ سے ہر شخص نہ صرف حیرت زدہ ہےبلکہ ان کی آنکھیں بھی اس کی چکاچوند سے خیرہ ہیں۔
رسول اللہﷺ  کا ارشاد گرامی ہے:
 حب الد نیا رأس کل خطیئۃ دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
 اسی طرح ایک دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا:
’’مجھے اپنے جانے کے بعد تم پر سب سے زیادہ خطرہ دنیا کی زیب و زینت اور آرائش و آسائش کی چیزوں سےہےجنکےدروازےتم پر کھول دئے جائیں گے ‘‘ ۔
 رسول اللہﷺ  نے قیامت کی علامتوں اور نشانیوں سے اپنی امت کو روشناس فرما دیا ہے اور ہمارے اکابر اہل اللہ نے ان علامتوں کوی کجا کر کے امت کے سامنے پیش کرنے کی کوشش فرمائی ہے چنانچہ:
٭                     حضرت شاہ رفیع الدین دہلوی ؒ نے ’’قیامت نامہ ‘‘
٭                    علامہ محمد بن رسول برزنجیؒ نے ’’الاشاعۃ لاشراط الساعۃ’‘
٭                    ابوالفداء اسمعیل ابن کثیر نے النہایہللبدایہ
٭                    حضرت علامہ انور شاہ کشمیری ؒ نے ’’علاماتِ  قیامت’‘  
٭                    ’’عقیدۃ الاسلام فی حیوٰۃ عیسیٰ علیہ السلام’‘   ’’المعروف حیوٰۃ المسیح بمتن القرآن والحدیث  الصحیح’‘
٭                    ’’تحیۃ الاسلام فی حیوٰۃ عیسیٰ ؑ ‘’
٭                    ’’التصریح بما تواترفی نزول المسیح ‘‘
٭                    حضرت مولانا مدنی  ؒ نے’’ الخلیفۃ المہدی فی الاحادیث الصحیحۃ
٭                    حضرت مولانا مفتی محمد شفیع  ؒ نے’’ تحقیق یاجوج وماجوج ‘‘
٭                    حضرت مولانا سید بدر عالم میرٹھی ؒ نے ’’ترجمان السنۃ ‘‘
٭                    ’’دجالی فتنہ کی تفصیلات’‘ 
٭                    حضرت مولانا شیخ احمد علیؒ نے ’’ظہور مہدی، نزول عیسیٰؑ’‘
٭                    حضرت مولانا عاشق بلند شہری ؒ نے ’’علاماتِ قیامت ‘‘
٭                    حضرت مفتی محمد یوسف لدھیانویؒ نے’’ عصر حاضر حدیث کے آئینہ میں ‘‘
٭                    حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہٗ نے ’’نزولِ مسیح اور قیامت ‘‘
٭                    مولانا محمد عبد اللہ مدظلہٗ نے’’ عقیدۂ  نزول سیدنا مسیح ؑ ‘‘
٭                    حضرت مولانا محمد ولی رازی مدظلہٗ نے ’’قیامت سے پہلے کیا ہو گا’
٭                    مولانا اسعد قاسم سنبھلی نے ’’امام مہدی :شخصیت و حقیقت’‘
٭                    اور علامہ ابن عربی ؒ کے علاوہ بہت سے حضرات نے اس سلسلہ کی احادیث شریفہ کے دفترکےدفترتیارکرکےامت محمدیہ کو باخبر اور متنبہ فرمایا ہے۔

 بلند و بالا اور پر شکوہ و پر شوکت عمارات اور منقش و مزین مساجد وغیرہ کو بھی علامات قیامت میں شمار کیا گیا ہے۔

مولانا جمیل احمد مظاہری رئیس المعہدالعالی سہارنپور نے ناصر الدین مظاہری کو اس جانب متوجہ کیا اور یہ حکم بھی کہ اس سلسلہ میں تحقیقی مضمون قرآن و سنت کی روشنی میں تحریر کرو چنانچہ اس موضوع پر جب ناصر الدین مظاہری نے لکھنا شروع کیا تو معنون سے متعلق اس قدر مواد ملتا گیا کہ یہ مضمون مستقل رسالہ کی شکل اختیار کر گیا۔اپنے موضوع سے متعلق احادیث شریفہ کے تتبع اور تلاش میں احقر نے مستند اور معتبر کتابوں سے رجوع کیا ہے نیز اس موضوع سے متعلق بعض احادیث نہایت طویل تھیں اگر ان احادیث کو من و عن شامل کیا جاتا تو یہ رسالہ اپنے حجم میں کہیں زیادہ بڑھ جاتا اس لئے پوری حدیث شریف سے صرف موضوع سے متعلق حصوں کو لیا گیا ہے تاکہ رسالہ کی ضخامت زیادہ نہ ہونے پائے۔
اللہ تعالیٰ ناصر الدین مظاہری  کی اس کاوش کو قبول اور بار آور فرما کر ہمارے لئے صدقۂ  جاریہ بنائے اور ہمیں اخلاص کی دولت عطا فرما کر اپنے بزرگوں کی کفش برداری کی توفیق مرحمت فرمائے۔
علامہ ابن جوزیؒ نے ’’صیدالخاطر’‘ میں لکھا ہے کہ:
’’جو شخص دنیا کے انجام پر غور کرتا ہے، وہ بچ جاتا ہے اور جو آدمی لمبے سفر کا یقین رکھتا ہے وہ اس کی تیاری کرتاہےاوراےشخص! تیرا معاملہ کیا عجیب ہے؟
کہ ایک بات پر یقین رکھتا ہے پھر بھلا بیٹھتا ہے اور ایک بات کی مضرت کو جانتا بوجھتا ہے پھر اسی کو اختیار بھی کرلیتاہے(اورتولوگوں سے ڈرتا ہے حالانکہ سب سے بڑھ کر اللہ کا حق ہے کہ: تو اس سے ڈرے)نفس تو تجھ پر اپنی غیریقینی باتوں میں بھی غالب آ جاتا ہے اور تو اس پر اپنی یقینی باتوں میں بھی غلبہ نہیں پا سکتا۔۔عجائبات عجیب تیرا اپنے فریب پر خوش ہونا ہے اور اپنی غفلت میں ان چیزوں کو بھلا دینا ہے جو تیرے لئے چھپاکے رکھی ہوئی ہیں۔۔تو اپنی صحت پرغرورکرتاہےاوراچانک آنے والی بیماری کو بھلائے ہوئے ہے۔
اپنی عافیت و سلامتی پر خوش ہو رہا ہے اور آفت کے سرپر آ جانے سے غافل ہے، دوسروں کی موت نے تجھے تیری موت دکھادی ہے اور دوسروں کی آرام گاہ(قبر)نے مرنے سے پہلے تیری قبر دکھا دی ہے۔لذتوں کے حصول نے اپنی ذات کےفناہونے کی یاد سے تجھے مصروف کر رکھا ہے کہ: گویا مرنے والوں کی کوئی خبر تو نے سنی ہی نہیں ہے اور پیچھے رہنےوالوں میں زمانہ کارروائیاں کرتا ہے جو تو نے دیکھی ہی نہیں سو اگر تو نہیں جانتا تو، لے:
٭                    یہ ان کے مکانات ہیں۔۔جنھیں تیرے بعد ہواؤں کے چکروں نے کھنڈر بنا دیا ہے۔۔اور ۔۔یہ ان کی قبریں ہیں!
٭                    کتنے محلات تو نے دیکھے ہوں گے۔۔جو ابھی لحد میں نہ اترے تھے مگر اتر گئے!
٭                    کتنے محلات کے مالک تو نے دیکھے ہیں جن کے دشمن ان عہدوں پر فائز ہوئے جہاں سے وہ معزول ہوئےتھے!
٭                    اے وہ شخص!جو ہر لمحہ ان حالات کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کا عمل ایسے شخص کا سا ہے جو کچھ بھی سمجھ بوجھ نہیں رکھتا!
٭                    وہ آنکھ چین سے کیسے سو سکتی ہے جسے کچھ پتہ نہیں کہ اچھے اور برے ٹھکانے میں سے اسے کہاں اترنا ہے!
٭                    جو چراگاہ کے آس پاس گھومتا ہے، قریب ہے کہ: اس میں داخل ہو جائے!
٭                    جو فتنہ کے قریب ہوتا ہے سلامتی اس سے دور ہو جاتی ہے!
ظاہر ہے دنیا ایک چراگاہ ہے، جس کی رنگینی و رعنائی، حسن و خوبصورتی اور اس کی زیبائی و دلفریبی کی طرح انسانی طبائع کا میلان و رجحان ایک فطری اور لابدی چیز ہے۔
جو لوگ خواہشات نفسانی کا گلا گھونٹ کر، تعیشات زندگی کو خیرباد کہہ کر اور اپنی آرزوؤں، امنگوں اور آس و امیدوں پر شرعی تقاضوں کو ترجیح دینے میں کامیاب ہوتے ہیں، قرآنی مطالبات کی کسوٹی پر اپنے آپ کو ناپنے اور تولنے کا ہنر جان لیتے ہیں وہ دنیاوی لذات، نفسانی خواہشات اور تمدنی تعیشات سے خائف نہیں ہوتے۔
امام اعظم ابوحنیفہ ؒ اور شیخ جنید بغدادی ؒ جیسے خدا جانے کتنے اکابر علماء ہیں جن کے در اور  دربار پر دولت کےانبارنظرآتےہیں،جہاں دولت کی ریل پیل کو  دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں لیکن ان کی دولت اور ثروت کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ:
یہاں سے نہ معلوم کتنے بھوکوں کو آسودگی میسر ہوتی ہے۔۔کتنے بے لباسوں کو لباس ملتا ہے۔۔کتنے پیاسوں کی سیرابی ہوتی ہے۔۔کتنے ضرورت مندوں کی ضروریات کا تکفل ہوتا ہے۔۔کتنے گھروں میں ان درباروں کی وجہ سےچولھےجلتےہیں۔۔کتنےآشیانوں میں ان حضرات کی دریا دلی کے باعث چراغاں ہوتا ہے۔۔اور کتنے ہی مرجھائےاورکمہلائےچہروں پر ہنسی و مسرت کے کنول کھلتے ہیں۔
کاروباری نقطۂ  نظر سے ان حضرات کی اقتصادی معیشت اور صنعت و حرفت ترقیات کے اعلیٰ مقام پر نظر آتی ہیں تو دوسری طرف زہد و تقویٰ، تدین و اخلاص کے بے پناہ سمندروں کو پئے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ظاہر سی بات ہے انسان خطاؤں کامعجون مرکب ہے، غلطیوں کا صدور ممکن ہے، بہکنا، پھسلنا اور پھسل کر گر جانے کا بھی خدشہ و اندیشہ ہے اسی لئے آپﷺ  نے عام مسلمانوں کے لئے  دنیا اور دنیاوی خرافات کونا پسند کر کے ان سے دور رہنے کی ترغیب اور ترہیب دی ہے تو اسی کےساتھ ساتھ مال اور اولاد کو زندگیوں کی زینت قرار دیا ہے جو لوگ مال اور اولاد والے ہیں، شریعت کا اتباع، احکامات قرآنی کی تعمیل، فرمودات رسول کی تعمیر و تشکیل کو حرز جان بنانے والے ہیں ان کے لئے یہ چیزیں بہرحال زینت ہیں۔
دولت و ثروت، رزق اور روپیہ بقدر کفاف نہ تو برا ہے اور نہ ہی اس پر وعید ہے بلکہ آ پ ﷺنے ضرورت کےبقدر’’ذخیرہ اندوزی’‘ کی ترغیب بھی دی ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے اور انسان سوال کی ذلت سے بچا رہے۔
حضرت طلحہؓ اپنے بعد تین سو بہار چھوڑ گئے(ہر بہار میں تین تین قنطار تھے، بہار بوجھ کو کہتے ہیں جو تین سو رطل کاہوتاہےاورایک قنطار ایک ہزار دو سو اوقیہ کا ہوتا ہے)حضرت زبیرؓ کا مال پانچ کروڑ کا تھا اور حضرت ابن مسعودؓنےنوےہزارکا مال چھوڑا۔
حضرت ابو عبداللہ مقری کو اپنے باپ کے ترکہ سے علاوہ اسباب و زمین کے پچاس ہزار دینار ورثہ میں ملے تھے۔(تلبیس ابلیس)
دنیا اور اسباب دنیا بھی اسی زمرے میں ہیں اس کی طرف رغبت اور بھر پور توجہ جو دنیوی اور اخروی نقصانات کا باعث ہو وہ بہر حال غلط ہے البتہ اس سے اتنا لگاؤ اور دلچسپی جس کی آپ ﷺنے اجازت اور ترغیب دی ہے قطعاً بری چیز نہیں ہے۔
حضرت سعد بن عبادہؓ دعا مانگا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ خداوندا!مجھ کو فراخ دستی عطا فرما۔
حضرت ایوب ؑ کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں مرقوم ہے کہ: جب شفا پا چکے تو سونے کی ٹڈیاں ان کے پاس سےگزریں،حضرت ایوبؑ اپنی چادر پھیلا کر ان ٹڈیوں کو پکڑنے لگے تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ ایوب!کیا تیرا پیٹ نہیں  بھرا؟انہوں نےعرض کیا اے پروردگار تیرے فضل سے کس کا پیٹ بھرتا ہے؟۔(تلبیس ابلیس)
مقصد ان معروضات کا صرف یہ ہے کہ: مال جمع کرنا ایک ایسا امر ہے جو انسانی طبائع میں رکھا گیا ہے اور پھر جب اس سےمقصود خیر ہو تو وہ خیر محض ہو گا۔
اسلام نے رہبانیت سے لوگوں کو منع کیا ہے، نہ تو اس کا کوئی مقام ہے اور نہ اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے اسی لئے آپ نے لا رہبانیۃ فی الاسلام فرما کر مہر ثبت فرما دی تاکہ جو لوگ زاہدانہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں وہ بھی ان حدود اور قیودکےاندررہ کر زندگی گزاریں جو شریعت نے متعین فرمائی ہیں۔اسلام نے افراط و تفریط سے بھی منع کیا ہے، اس نےہرموقع،ہرموڑاورہرزاوئے سے راہنما اصول متعین فرما دئے تاکہ آنے والی نسلیں ان ہی اصول و قوانین کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو  سنوار اور سدھار سکیں اور ان میں سر مو انحراف یا جادۂ  اعتدال سے برگشتگی (افراط وتفریط)کوگلےلگاکراپنی زندگی کو مصائب و مشکلات کی نئی ڈگر پر نہ ڈال سکیں۔تعمیرات کے سلسلے میں اسلام کا نقطۂ  نظر یہ ہے کہ: بقدر ضرورت سر چھپانے کے لئے اور اپنے بال بچوں کے تکفل کے لئے اپنا آشیانہ بہر حال ہونا چاہئے کیونکہ ہر انسان کی اپنی ضروریات ہوتی ہیں، اپنے بیوی، بچوں کے حقوق اور جائز مطالبات ہوتے ہیں اگر آپ کا اپنا آشیانہ اور اپنا نشیمن نہیں ہے، آپ کے پاس رہنےاور سر چھپانے کے لئے ذاتی مکان اور جھونپڑا نہیں ہے تو آپ خود بھی پریشان رہیں گے اور اپنے بال بچوں کو بھی پریشان رکھیں گے۔
گلوبلائزیشن کے اس دور میں جب کہ ہر شخص، ہر قوم، ہر ملک ترقیات اور اقتصادیات کے معاملے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دھن میں جائز و نا جائز، حلال و حرام اور جا و بے جا دولت کمانے میں مصروف ہے، ایسے وقت میں غربا ومساکین اور فقراء و مفلسین کی طرف توجہ دینے کی کسے ضرورت ہے یہی وجہ ہے کہ: حکومتوں نے اپنی رعایا کو ماہانہ وظائف دینےبندکردیے، ضرورت مندوں کی خبرگیری اور دستگیری کے جذبات سرد پڑ گئے، دولت صرف محلات اور قلعوں میں قیدہوکررہ گئی، اس لئے  خود کو اور اپنے بچوں کو پالنے، سنبھالنے اور خاطرخواہ تعلیم و تربیت کے لئے  ذریعۂ  معاش کی بھی اسلام نےترغیب دی ہے، جائز اور درست کاروبار کے کرنے اور منافع کمانے کی شریعت نے نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ مختلف طریقے،قاعدے، ضابطے اور فارمولے بھی عطا کئے ہیں۔
حضرت ابراہیمؑ کے پاس مال اور کھیتیاں کافی مقدار میں تھیں، حضرت شعیبؑ  بھی کاشتکاری کرتے تھے، حضرت نوح اور حضرت زکریاؑ بڑھئی کا کام کرتے تھے، حضرت ادریسؑ (درزی گیری)کپڑے سیتے تھے، حضرت لوطؑ بھی کھیت بوتے تھے، حضرت صالح سوداگر تھے، حضرت داؤد کے بارے میں مشہور ہے کہ:
وہ زرہیں بنا کر بیچتے تھے، حضرت موسیٰ اور حضرت رسول مقبول ﷺکے بارے میں تو دنیا جانتی ہے کہ: بکریاں چَرائی ہیں۔
یہ تو حضرات انبیاء کرام کی بات تھی، صحابۂ  کرام اور تابعین کے بارے میں بھی تواتر کی حد تک ثابت ہے کہ: وہ اپنا مستقل کاروبار کرتے تھے، چنانچہ حضرت ابوبکرؓ ، حضرت عثمانؓ ، حضرت طلحہ ؓ کپڑے بیچا کرتے تھے، حضرت زبیرؓ ، حضرت عمرو بن العاصؓ ، حضرت عامر بن کریزؓ ، محمد بن سیرینؒ ، میمون بن مہرانؒ اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ نیز حضرت جنید بغدادیؒ جیسےاساطین امت بھی کپڑے کا کاروبار کرتے تھے، حضرت سعد بن وقاصؓ تیر بناتے تھے، حضرت عثمانؓ بن طلحہ درزی کا کام کرتے تھے، حضرت ابراہیمؒ بن ادہم کھیتی کرتے تھے، حضرت سلیمان خواصؒ خوشہ چین تھے اور حضرت حذیفہ مرعشیؒ اینٹیں بناتے تھے، یہ تو چند مثالیں ہیں ورنہ ہمارے بزرگوں نے ہمیشہ اپنا تجارتی، صنعتی، معاشی اور اقتصادی کام کیا ہے۔
ہمارے علماء و اکابر نے بھی ہر معاملہ میں بقدر کفاف کے اصول کو حرز جان بنائے رکھا، افراط و تفریط سے بھی بچتے رہے،ضروریات زندگی پربھی اپنی توجہات مبذول کیں، بال بچوں کے لئے  ذاتی مکان و آشیانہ کا بھی بندوبست کیا اس لئے کہ شریعت مطہرہ کا یہی تقاضا ہے، رسول اللہ ﷺکا یہی فرمان ہے اور سب سے بڑھ کر خالق کائنات کا یہی منشاء ہے۔
حضرت قتادہؓ کا ارشادہے کہ:
ماکان للمؤ من ان یری الافی ثلثۃ مواطن مسجدیعمرہ وبیت یسترہ وحاجۃ لابأس بھا۔(تنبیہ الغافلین۲۴۰مطبوعہ بیروت)
مومن کے لئے  مناسب نہیں ہے کہ: تین چیزوں کے سوا اور کی طرف نظر لگائے:
(۱)مسجد جسے وہ آباد رکھتا ہے(۲)وہ گھر جس میں سر چھپاتا ہے (۳)حاجت ضروریہ کی چیز کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حضرت امام اوزاعیؒ فرماتے ہیں کہ:
خمس کان علیہن  ر سول اللّٰہ والتابعون باحسان لزوم الجماعۃ واتباع السنۃ وعمارۃ المسجدوتلاوۃ القرآن والجہاد فی سبیل اللہ تعالیٰ۔   (تنبیہ الغافلین۲۴۰)
پانچ چیزیں ہیں جن پر خود رسول اللہ ﷺاور آپ کے مخلص پیرو کار پابندی سے لگے ہوئے تھے
 (۱)جماعت کا اہتمام(۲)اتباع سنت(۳) مسجد کی تعمیر(۴)قرآن پاک کی تلاوت(۵)جہاد فی سبیل اللہ ۔
سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ جب ہندوستان سے ہجرت فرما کرام القریٰ تشریف لے گئے تو اپنے ذاتی مکان کےلئے  نہ صرف فکر مند ر ہے بلکہ بارگاہ الہی میں دست بہ دعا بھی ہوئے، چنانچہ ایک عقیدتمند نے ایک مکان کا بندوبست کیا پھر آپ کی طبیعت کو سکون میسر آیا۔
 حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی بھی یہی رائے گرامی ہے کہ: آدمی کا اپنا ذاتی مکان ہونا ہی چاہئے تاکہ وہ دوسروں کی نظروں میں ذلیل و خوار نہ ہو سکے۔
حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ بھی انسان کے لئے ذاتی مکان اور بقدر ضرورت اس کی تزئین کے قائل تھے۔
یہی نہیں آپ ﷺکا تو یہاں تک ارشاد گرامی ہے: کہ: اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں دولت دی ہے، بقدر ضرورت رزق عطافرمایاہے، وسعت اور کشادگی ہے تو اپنے رہن سہن، نشست و برخاست اور لباس و غذا سے بھی اس کا اظہار شریعت کی متعین کردہ حدود و قیود کے اندر ہونا بہتر ہے۔
چنانچہ ابو داؤد شریف میں ہے کہ:
عن ابی الاحوص عن ابیہ قال اتیت النبی ﷺفی ثوب دون فقال ألک مال؟ قال نعم! قال من ای المال؟قال قداتانی اللّٰہ من الابل والغنم والخیل والرقیق، قال فاذا أتاک اللّٰہ مالافلیراثرنعمۃ اللّٰہ علیک وکرامتہ۔(ابوداؤد ۲/۵۶۲)
حضرت ابوالاحوص اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں آپﷺ  کی خدمت میں گھٹیا کپڑے پہن کرحاضرہواتوآپﷺنےپوچھا کہ کیا تمہارے پاس مال نہیں ہے؟میں نے عرض کیا کہ مال تو ہے، آپﷺ  نے پوچھا کہ کس قسم کا مال ہے؟میں نے عرض کیا کہ مجھے اللہ نے اونٹ، گائے، بکریاں، گھورے اور غلام ہر طرح کا مال عطا کیا ہے!یہ سن
کر آپﷺ  نے ارشاد فرمایا کہ: جب اللہ نے تم کو مال سے نوازا ہے تو لازم ہے کہ: اللہ تعالیٰ کی نعمت و کرامت کا اثرتمہارے بدن پر ظاہر ہو۔ (مشکوٰۃ
۲/۳۷۵)
اسی طرح ایک صحابی فرماتے ہیں کہ:
آپ ﷺنے مجھے اس حال میں دیکھا کہ میرے جسم پر کم قیمت کے کپڑے تھے تو فرمایا کہ کیا تیرے پاس از قسم مال ہے؟میں نے عرض کیا کہ ہاں !اللہ نے مجھے ہر قسم کے مال و دولت سے نوازا ہے، پھر فرمایا خدا کی قسم نعمت اور اس کی بخشش کو تمہارے جسم سے ظاہر چاہئے۔
مطلب یہ ہے کہ: تونگری اور مالداری کی حالت کے مناسب کپڑے پہنو اور خدا کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
 امام احمد بن حنبلؒ سے کسی نے حضرت سری سقطیؒ کے بارے میں سوال کیا، جواب دیا کہ وہ بزرگ طیب الطعم تھے، یعنی پاک اور حلال کھانے والے مشہور ہیں۔
احقر کو علامہ ابن جوزیؒ کی وہ بات نہایت پسند پائی جو انہوں نے اپنی ایک کتاب ’’تلبیس ابلیس’‘ میں تحریر فرمائی ہے کہ: جولباس صاحب لباس کے لئے  عیب ناک ہے وہ جس میں زہد اور افلاس کا اظہار پایا جائے ایسا لباس گویا خدا سے شکایت کرنےکی زبان اور پہننے والے کی حقارت کا سبب ہے اور یہ سب مکروہ ہے۔
حضرت ابوالعباس بن عطاؒ اپنے زمانہ میں بہت ہی اچھا کپڑا پہنتے تھے۔اگر کوئی شخص ذخیرۂ  احادیث میں غواصی کرے تواسےاس موضوع سے متعلق بے انتہا صدف، موتی اور جواہرات مل سکتے ہیں۔
مجھ ناچیز کا نہ تو یہ میدان ہے اور نہ ہی ایسی سہولیات حاصل ہیں پھر بھی حتی المقدور ساعی اور کوشاں ہوں کہ قوم و ملت کودین ہدایت کے حقیقی تقاضوں اور مطالبات سے روشناس کر کے ایک فرض سے سبکدوش اور ایک ذمہ داری سے عہدہ براہوجاؤں !
تعمیرات کے سلسلہ میں مضمون کا پس منظر صرف یہ ہے کہ: ہر معاملہ میں سنت و شریعت کو اختیار کیا جائے، اعتدال و میانہ روی اور حدود کی رعایت رکھی جائے، افراط و تفریط سے خود بھی بچا جائے اور حتیٰ المقدور دوسروں کو بھی بچنے کی ترغیب دی
جائے کیونکہ اس قسم کی تعمیرات جو دور حاضر میں ہو رہی ہیں، سینکڑوں منزلہ عمارات، وسیع، و عریض کشادہ بلڈنگیں، نفیس ودیدہ زیب قلعے اور بلند و بالا ٹاور اور پلازے نسل انسانی کے لئے سود مند کم اور نقصان دہ زیادہ ہیں۔
زلزلوں کی صورت میں ان عمارات کے ذریعہ نقصانات جس انداز میں ہو رہے ہیں ان سے انکار نہیں کیا جا سکتا، انسانی جانوں کااتلاف بلند و بالا عمارات ہی سے زیادہ ہوتا ہے، مال و دولت کا ضیاع بھی ان ہی عمارات سے عام طور پر ہوتا ہے، حادثات کاسبب یہی عمارتیں ہوتی ہیں اور یہ وہ نقصانات ہیں جو ظاہر میں نظر آتے ہیں اور وہ نقصانات جو نظر نہیں آتے ان کی نشاندہی احادیث شریفہ کی روشنی میں زیر نظر کتاب میں کی گئی ہے۔
عزیز مکرم مفتی ناصر الدین مظاہری سلمہ زمانۂ  طالب علمی سے ہی لکھنے اور پڑھنے کا ستھرا ذوق رکھتے ہیں، ان کے پر مغز علمی،دینی، معاشرتی تحقیقی، ادبی، تاریخی اور فقہی موضوعات پر مختلف مضامین و مقالات ملک کے مختلف اخبارات و رسائل اورجرائد و مجلات میں شائع ہوتے رہتے ہیں اور اہل علم اور اہل ذوق  ان کے مضامین دلچسپی اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے اورپڑھتے ہیں۔
ایک طویل عرصہ سے میرے ذہن و دماغ میں ’’تعمیرات کے سلسلہ میں افراط و تفریط’‘ کا موضوع گردش کر رہا تھا اورضرورت تھی کہ اس موضوع پر کسی صاحب علم کو لکھنے کی توفیق میسر آ جائے تاکہ مسلمانوں کو اس سلسلہ میں دین کا صحیح اور مثبت رخ نظر آ جائے۔
مفتی ناصرالدین صاحب مظاہری خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے احادیث شریفہ کا ایک بڑا ذخیرہ موضوع سے متعلق نہ صرف یکجا کر دیا بلکہ صحابۂ  کرام، تابعین عظام اور اکابر علماء کے اقوال و فرمودات اور ان کے طرز و تعامل کو بھی زیب قرطاس کردیا ہے۔
فجزاہم اللّٰہ احسن الجزاء۔
المعہدالعالی کے اہداف و مقاصد میں ایک یہ بھی ہے کہ: معاشرہ میں پھیلی ہوئی ان خامیوں اور کمیوں کی نشاندہی کی جائے جن کی طرف عام طور پر لوگوں کی نظر نہیں جاتی ہے۔حالانکہ وہ چیزیں اپنی ہلاکت آفرینی میں ’’میٹھا زہر’‘ کا مصداق ہیں۔
Advertisements
1 comment
  1. Kitnay afsos ki baat ha k hmaray ulema huzoor ki hadeeson ko samjh na sakay.. Dunia men musalmano ki zillat ki wja hi ye ha k ham musalmano ny dunia ko zaleel samjh rekha ha.. Allah musalmano ko aqal dy

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: