خَتمِ نبَّوت پر حملے:-10

حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں عبد اللہ ابن سبا یہودی نامی شخص نے اسلام قبول کیا اس کا مقصد دین اسلام میں فتنہ پیدا کرنا اور اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا تھا وہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں پیدا ہونے والے فتنے میں پیش پیش تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قتل میں بھی ملوث ہوا اس شخص کے عقائد ونظریات سے رفض نے جنم لیا رفض کے بہت سے گروہ ہیں بعض محض تفضیلی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو تمام صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے افضل سمجھتے ہیں اور کسی صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کرتے بعض تبرائی ہیں کہ چند صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے علاوہ باقی سب کو برا بھلا کہتے ہیں بعض الوہیت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قائل ہیں بعض تحریف قرآن کے قائل ہیں بعض صفات باری تعالیٰ کے مخلوق ہونے کے قائل ہیں بعض اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر بہت سی چیزیں واجب ہیں بعض آخرت میں رؤیت باری تعالیٰ کے قائل نہیں ہیں وغیر وغیرہ۔ دارقطنی میں حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا بہت جلد میرے بعد ایک ایسی جماعت آوے گی جس کو لوگ رافضی کہیں گے،اگر تم ان کو پانا تو قتل کردینا؛ کیونکہ وہ لوگ مشرک ہوں گے،حضرت علیﷺ ؓ نے ان لوگوں کی پہچان دریافت کی تو آنحضورﷺ نے فرمایا کہ اے علی تمہارے اندر وہ ایسے اوصاف بڑھا چڑھاکر دکھادیں گے جو تمہارے اندر موجود نہیں ہیں اور اگلے بزرگوں پر زبان درازی اور طعن کریں گے ،اس روایت میں روافض کی جس جماعت کے متعلق نبی کریم ﷺ نے جو پیشن گوئی فرمائی وہ پوری ہوکر رہی اور حضرت علیؓ کے زمانے میں ایک یہودی عبداللہ بن سبا نے لوگوں کو گمراہ کیا اور فرقہ روافض کی بنیاد ڈالی اس یہودی کے ماننے والے حضرت علی کو خدا کا درجہ دینے لگے، اسی وجہ سے ان کو مشرک کہاگیا اور حضرت علی کو اتنا بڑھایا کہ پیغمبروں کے برابر بلکہ بہت سے پیغمبروں سے بھی افضل ٹھہرایا اور یہ بات ہر جماعت کے لوگ جانتے ہیں کہ یہ رافضی فرقہ کے لوگ بڑے بڑے صحابہ ابوبکرؓ وعمرؓ وغیرہ پر زبان درازی اور طعن کرتے ہیں ا یک روایت میں یہ بھی ہے کہ رافضی لوگ اہل بیت اور رسول اللہﷺ کے گھرانے کی محبت کا دعوی کریں گے اور حقیقت میں ایسے نہ ہوں گے ،اس کی پہچان یہ ہے کہ وہ حضرت ابوبکرؓ وحضرت عمر ؓکو برا کہیں گے، دارقطنی نے اس حدیث کو کئی سندوں سے بیان کیا ہے اور حضرت ام سلمہ ؓاور حضرت فاطمہؓ سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔رفض کے ہرگروہ کے عقائد دوسرے سے مختلف ہیں لہذا بحیثیت مجموعی ان پر کوئی ایک حکم نہیں لگایاجاسکتا۔
واقعہ:زمین میں دھنسانے کا واقعہ طبری نے ریاض النفرہ میں نقل کیاہے کہ مقام حلب کے رافضیوں کی ایک جماعت مدینہ منورہ کے حاکم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بہت سارا مال عمدہ عمدہ تحفے پیش کرکے اس جماعت نے حاکم مدینہ سے درخواست کی کہ حضرت رسول پاکﷺ کے حجرہ کا ایک دروازہ کھلوادیجیے ہم ابوبکرؓ وعمرؓ کی مقدس لاش کو نکال کر وہاں سے لے جائیں (ان بزرگوں کی لاش اس لیے یہ نکالنا چاہتے تھے کہ رافضیوں کے خیال میں یہ لوگ نعوذ باللہ اس قابل نہیں ہیں کہ
رسول پاک ﷺ کے پاس آرام کریں)مدینہ کا حاکم چونکہ بد عقیدہ دنیا کے لالچ میں پڑکر اس نے یہ درخواست منظور کرلی اور حرم شریف کے دربان کو بلاکر کہدیا کہ جب یہ لوگ آئیں تو ان کے لیے حرم شریف کا دروازہ کھول دینا اور اندر گھس کر جو کچھ کریں کرنے دینا منع نہ کرنا، دربان کا بیان ہے کہ نماز عشاء کے بعد مسجد خالی ہوگئی اور حرم شریف کے دروازے بند ہوگئے تو چالیس آدمی پھاوڑے کدال اور روشنی ہاتھوں میں لیے باب السلام پر آکھڑے ہوئے، دروازہ کھٹکٹایا،میں نے امیر مدینہ کے حکم کے مطابق دروازہ فوراً کھول دیااور خود میں نے مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر رونا شروع کردیا کہ اے خدا !یہ کیسی قیامت آن پڑی، خدا کی قدرت دیکھیے کہ ابھی یہ لوگ منبر شریف کے قریب بھی نہ پہنچے تھے کہ محراب عثمانی کے ستون کے پاس زمین پھٹ گئی اور ان تمام لوگوں کو ان کے سامانوں کے ساتھ نگل گئی اور امیر مدینہ کو انتظار تھا کہ یہ لوگ کام تمام کرکے اب آئےتب آئے،مگر جب بہت دیر ہوگئی تو اس نے مجھے بلاکر حال پوچھا،میں نے کل آنکھوں دیکھا حال بیان کیا تو اس نے مجھے دیوانہ کہہ کر میری باتوں کو دیوانے کی بڑ بتایا ،میں نے کہا اے امیر! آپ خود تشریف لے چلیں اور دیکھ لیں کہ اب تک زمین کے پھٹنے کا نشان باقی ہے اور اس جگہ ان کے کپڑے بھی موجود ہیں ۔یہ واقعہ طبری نے ایسے لوگوں کی طرف منسوب کیا ہے جو سچائی دیانت داری اور ثقاہت میں بہت اونچے تھے، ان واقعات سے یہ ثابت ہوگیا کہ رسول اللہﷺ نے جو پیشن گوئی کی تھی کہ روافض کو دھنسایا جائےگا، ان کی صورتیں سور، بندر کی بنادی جائیں گی یہ بالکل صحیح ثابت ہوئی۔
خوارج خارج کی جمع ہے خارج لغت میں باہر نکلنے والے کو کہتے ہیں اور شرعی اصطلاح میں ہر اس شخص کو کہتے ہیں جو امام برحق واجب الاطاعت کی بغاوت کرکے اس کی اطاعت سے باہر نکل جائے یہ لفظ ان باغیوں کا لقب اور نام بن گیا جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بغاوت کرکے ان کی شان میں بہت سی گستاخیاں کیں مسئلہ تحکیم کے موقع پر یہ گروہ پیدا ہوا یہ تقریباً بارہ ہزار لوگ تھے ان کے مختلف نام تھے مثلاً محکمہ حروریہ نواصب اور مارقہ وغیرہ۔ ان لوگوں کے ظاہری حالات بہت اچھے تھے لیکن ظاہر جتنا اچھا تھا باطن اتنا ہی برا تھا مسئلہ تحکیم کے بعد یہ لوگ حروراء مقام پر چلے گئے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ان کے پاس بھیجا کہ وہ انہیں سمجھائیں اور انہیں امیر کی اطاعت میں واپس لائیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سمجھانے سے بہت سے لوگ ان سے الگ ہو گئے اور امیر کی اطاعت میں واپس آگئے لیکن ان کے بڑے اور ان کے موافقین اپنی ضد پر اڑے رہے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی ان کے پاس تشریف لائے مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا انہوں نے صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن خباب رضی اللہ تعالٰی عنہ کو شہید کر دیا پھر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ان کے ساتھ معرکہ ہوا خارجیوں کی قیادت عبد اللہ بن وہب اور ذی الخویصرہ حرقوص بن زید وغیرہ کے ہاتھ میں تھی اس جنگ کے نتیجے میں اکثر خارجی قتل ہوگئے خوارج حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کو کافر اور مخلد فی النار قرار دیتے تھے اس شخص کو بھی کافر کہتے تھےجو ان کا ہم مسلک ہونے کے باوجود ان کے ساتھ قتال میں شریک نہ ہوتا مخالفین کے بچوں اور عورتوں کے قتل کےقائل تھے رجم کے قائل نہیں تھے اطفال المشرکین کے خلود فی النار کے قائل تھے اس بات کے بھی قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بھی نبی بنا دیتے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یہ علم ہو کہ یہ بعد میں کافر ہوجائے گا اس بات کے بھی قائل تھے کہ نبی بعثت سے پہلے معاذ اللہ کافر ہوسکتا ہے خوارج مرتکب کبیرہ کو کافر اور مخلد فی النار قرار دیتے تھے اس پر وہ کفر ابلیس سے استدلال کرتے تھے کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرکے مرتکب کبیرہ ہوا تھا اس بناء پر اس کو کافر قرار دیدیا گیا معلوم ہوا مرتکب کبیرہ کافر ہوجاتاہے حالانکہ ابلیس محض ارتکاب کبیرہ کی بناء پر کافر نہیں ہوا بلکہ حکم خداوندی کے مقابلے میں اباء واستکبار اس کے کفر کا سبب ہے۔
صحیحین میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں ہم لوگ حاضر تھے ،آپﷺ مال غنیمت تقسیم فرمارہے تھے کہ قبیلۂ بنی تمیم کا ایک شخص آیا جس کا نام حرقوص بن ظہیر اور لقب دوالخویصرہ تھا ،اس نے کہا کہ اللہ کے رسول انصاف کیجیے، آپﷺ نے فرمایا تیرے لیے خرابی ہو اگر میں انصاف نہ کروں تو اور کون دنیا میں ہے جو انصاف کرےگا ،اگر میں عدل نہ کروں تو تجھ سے بڑا کون ناامید اور زیاں کار ہوگا ،حضرت عمر ؓنے عرض کیا کہ حضورﷺ اگر آپﷺ کی اجازت ہوتو میں اس گستاخ کی گردن ماردوں ،آپﷺ نے حضرت عمرؓ کو منع کیا اور پھر یہ پیشن گوئی فرمائی کہ اس گستاخ کی طرح کچھ لوگ آئندہ ہوں گے وہ نماز روزہ کے اتنے پابند ہوں گے کہ تم اپنی عبادت ان کے مقابل حقیر اور ہیچ سمجھوگے؛ لیکن وہ کلام پاک کی تلاوت کریں گے اور اس کا اثر ان کے حلق سے اوپر نہیں ہوگا ،جس طرح تیر شکار کا جسم پار کرکے باہر نکل جاتا ہے اور اس میں خون کا دھبہ تک نہیں آتا ،اسی طرح وہ لوگ دین سے ایسا نکل جائیں گے کہ دین کا کچھ اثر دکھائی نہ دے گا، اس بدبخت گروہ کی علامت یہ ہے کہ ان میں ایک کالا آدمی ہوگا جس کا ایک بازو سکڑ کر عورت کی چھاتی کی طرح جھولتا ہوگا،یہ وہ گروہ ہوگا کہ دنیا کےافضل ترین گروہ کے خلاف بغاوت کرےگا۔
اس پیشن گوئی کی تصدیق اس حدیث کے راوی حضرت ابوسعید خدری قسم کھاکر فرماتے ہیں کہ اس سے مراد خوارج تھے جنھوں نے حضرت علیؓ کے خلاف بغاوت کی تھی ،حضرت ابوسعیدؓ فرماتے ہیں کہ میں اس لڑائی میں خود شریک تھا جو خوارج سے لڑی گئی تھی؛ چنانچہ حضرت علیؓ کے مخالفین میں سے تلاش کے بعد ہوبہو ایسا ہی ایک آدمی پکڑ کر لایاگیا ، جس کا بازو نرم تھا اور جھولتا تھا ، اس کو لوگ پستان والا کہتے تھے؛ یہی اس گروہ کا سردار تھا اور یہ گروہ اس قبیلہ میں تھا جس کی پیشن گوئی آنحضرتﷺ نے فرمائی تھی۔
Advertisements
3 comments
  1. mani said:

    جزاک اللہ خیر

  2. Siasat thi jo k huzoor k baad peda hui r majority jangen jo musalmano ny lerin after hazrat umer wo siasi theen

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: