حضرت خضر علیہ السلام:02

عرصہ دراز تك جناب خضر علیہ السلام كى تلاش
بعض لوگوں  نے جناب موسى علیہ السلام كے اس قول كے ،كہ انھوں  نے كہا:”میں  اس وقت تك كوشش كروں  گا بج تك اپنامقصد حاصل نہ كرلوں  ”كے بارے میں  كہا ہے :كہ لفظ”حقب” ، ”عرصہ دراز”كے معنى میں  ہے۔ بعض نے اس كى 80 سال سے تفسیر كى ہے۔ اس لفظ سے حضرت موسى علیہ السلام كا مقصد یہ تھا كہ مجھے جس كى تلاش ہے میں  اسے ڈھونڈھ كے رہوں  گا چاہے اس مقصد كے لئے مجھے سالہا سال تك سفر جارى ركھنا پڑے۔ ”بہر حال جس وقت وہ ان دو دریائوں  كے سنگم پر جاپہنچے تو ایك مچھلى كہ جو ان كے پاس تھى اسے بھول گئے”۔( سورہ كہف  آیت 61) لیكن تعجب كى بات یہ ہے كہ” مچھلى نے دریا میں  اپنى راہ لى اور چلتى بنی”۔( سورہ كہف آیت 61) یہ مچھلى جو ظاہراً ان كے پا س غذا كے طور پر تھی۔ كیا بھونى ہوئی تھى اور اسے نمك لگا ہوا تھا یا یہ تازہ مچھلى تھى كہ جو معجزانہ طور پر زندہ ہوكر اچھل كر پانى میں  جاكر تیرنے لگی۔ اس سلسلے میں  مفسرین میں  اختلاف ہے۔بعض كتب تفاسیر میں  یہ بھى ہے كہ اس علاقے میں  آب حیات كا چشمہ تھا۔ اس كے  كچھ قطرات مچھلى پر پڑگئے جس سے مچھلى زندہ ہوگئی۔ لیكن یہ احتمال بھى ہے كہ مچھلى ابھى پورى طرح مرى نہ تھى كیونكہ بعض مچھلیاں  ایسى بھى ہوتى ہیں  جو پانى سے نكلنے كے بعد  بہت دیر تك نیم جاں  صورت میں  رہتى ہیں  اور اس مدت میں  پانى میں  گر جائیں  تو ان كى معمول كى زندگى پھر شروع ہوجاتى ہے۔ آخر كار موسى علیہ السلام اور ان كے ہمراہى دو دریائوں  كے سنگم سے آگے نكل گئے تو لمبے سفر كے باعث انہیں  خستگى كااحساس ہوا اور بھوك بھى ستانے لگی۔ اس وقت موسى علیہ السلام كو یاد آیا كہ غذا تو ہم ہمراہ لائے تھے، لہذا انہوں  نےاپنےہمسفر دوست سے كہا: ہمارا كھانا لایئےس سفرنے تو بہت تھكا دیا ہے۔( سورہ كہف آیت 62) اس وقت ”ان كے ہمسفر نے انہیں  خبردى كہ آپ كو یاد ہے كہ جب ہم نے اس پتھر كے پاس پناہ لى تھی(اور آرام كیاتھا)تومجھے مچھلى كے بارے میں  بتانا یاد نہ تھا اور شیطان ہى تھا جس نے یہ بات مجھے بھلادى تھی۔ ہوا یہ كہ مچھلى نےبڑےحیران كن طریقے سے دریا كى راہ لى اور پانى میں  چلتى بنی”۔( سورہ كہف آیت 63) یہ معاملہ چونكہ موسى علیہ السلام كے لئے اس عالم بزرگ كو تلاش كرنے كے لئے نشانى كى حیثیت ركھتا تھا لہذا موسى علیہ السلام نے كہا:”یہى تو ہمیں  جاہئے تھا اور یہى چیزتو ہم ڈھونڈتے پھرتے تھے”۔( سورہ كہف آیت 64) ”اور اس وقت وہ تلاش كرتے ہوئے اسى راہ كى طرف پلٹے”۔( سورہ كہف آیت 64)
عظیم استاد كى زیارت
قرآن اس داستان كو آگے بڑھاتے ہوئے كہتا ہے:جس وقت موسى علیہ السلام اور ان كے ہمسفر دوست ”مجمع البحرین ”اورپتھركے پاس پلٹ كر آئے تو” اچانك ہمارے بندوں  میں  سے ایك بندے سے ان كى ملاقات ہوگئی۔ وہ بندہ كہ جس پر ہم نےاپنى رحمت كى تھى اور جسے ہم نے بہت سے علم و دانش سے نوازا تھا”۔( سورہ كہف آیت 65) اس وقت حضرت موسى علیہ السلام نے بڑے ادب سے اس عالم بزرگ كى خدمت میں  عرض كیا: ”كیا مجھے اجازت ہے كہ میں  آپ كى پیروى كروں  تاكہ جو علم آپ كو عطا كیا گیا ہے اور جو باعث رشد و صلاح ہے،مجھے بھى تعلیم دیں ”۔( سورہ كہف آیت 66)لیكن بڑے تعجب كى بات ہے كہ اس عالم نے موسى علیہ السلام سے كہا:”تم میرے ساتھ ہر گز صبر نہ كرسكوگے”۔( سورہ كہف آیت 67)ساتھ ہى اس كى وجہ اور دلیل بھى بیان كردى اور كہا:”تم اس چیز پر كیسے صبر كر سكتے ہو جس كے اسرار سے تم آگا ہى نہیں  ركھتے”؟(سورہ كہف آیت 68)جیسا كہ ہم بعد میں  دیكھیں  گے یہ عالم، اسرار و حوادث كے باطنى علوم پر دسترس ركھتا تھا جبكہ حضرت موسى علیہ السلام نہ باطن پر مامور تھے اور نہ ان كے بارے میں  زیادہ آگاہى ركھتے تھے۔ ایسے مواقع پر ایسا بہت ہوتا ہے كہ حوادث كے ظاہر سے ان كا باطن مختلف ہوتا ہے، بعض اوقات كسى واقعے كا ظاہر احمقانہ اور ناپسندیدہ ہوتا ہے جبكہ باطن میں  بہت مقدس منطقى اور سوچا سمجھا ہوتا ہے ایسے مواقع پر جو شخص ظاہر كو دیكھتا ہے وہ اس پر صبرنہیں  كرپاتا اور اس پر اعتراض كرتا ہے یا مخالفت كرنے لگتا ہے۔ لیكن وہ استاد كہ جو اسرار دروں  سے آگاہ ہے اور معاملے كے باطن پر نظر ركھتا ہے وہ بڑے اطمینان اور ٹھنڈے دل سے كام جارى ركھتا ہے اور اعتراض اور واویلاپر كان نہیں  دھرتا بلكہ مناسب موقع كے انتظار میں  رہتا ہے تاكہ حقیقت امر بیان كرے جبكہ شاگرد بے تاب رہتا ہے لیكن جب اسرار اس پر كھل جاتے ہیں  تو اسے پورى طرح سكون و قرار آجاتا ہے۔ حضرت موسى علیہ السلام یہ بات سن كر پریشان ہوئے ،انہیں  خوف تھا كہ اس عالم بزرگ كا فیض ان سے منقطع نہ ہولہذاانہوں  نے وعدہ كیا كہ تمام امور پر صبر كریں  گے اور كہا انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں  گے اور میں  وعدہ كرتا ہوں كہ كسى كام میں  آپ كى مخالفت نہیں  كروں  گا۔( سورہ كہف آیت 69) یہ كہہ كر حضرت موسى علیہ السلام نے پھر انتہائی ادب و احترام اور خدا كى مرضى پر اپنے بھروسے كا اظہار كیا۔ آپ نے اس عالم سے یہ نہیں  كہا كہ میں  صابر ہوں  بلكہ كہتے ہیں :انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں  گے۔لیكن چونكہ ایسےواقعات پر صبر كرنا كہ جو ظاہراً ناپسندیدہ ہوں  اور انسان جن كے اسرار سے آگاہ نہ ہوكوئی آسان كام نہیں  اس لئے اس عالم نےحضرت موسى علیہ السلام كو خبردار كرتے ہوئے پھر عہد لیا ”اور كہا اچھا اگر تم میرے پیچھے پیچھے آنا چاہتے ہو تو دیكھو خاموش رہنا اور كسى معاملے پر سوال نہ كرنا جب تك كہ مناسب موقع پر میں  خود تم سے بیان نہ كردوں ”۔( سورہ كہف آیت 70) جناب موسى  علیہ السلام  نے پھر دوبارہ وعدہ كیا اور استادكے ساتھ ہولئے۔
خدائی معلم اور یہ ناپسند یدہ كام ؟
”موسى  علیہ السلام  اس عالم ربانى كے ساتھ چل پڑے ۔چلتے چلتے ایك كشتى تك پہنچے اور اس میں سوار ہو گئے”۔ (سورہ كہف آیت 71) یہاں  سے ہم دیكھتے ہیں  كہ اب قرآن تثنیہ كى ضمیر استعمال كرنے لگا ہے۔ یہ اشارہ ہے حضرت موسى علیہ السلام اور اس عالم بزرگوار كى طرف۔ یہ امر نشاندہى كرتا ہے كہ حضرت موسى علیہ السلام كے ہمسفر یوشع علیہ السلام  كى ماموریت اس مقام پر ختم  ہوگئی تھى اور وہ یہاں  سے پلٹ گئے تھے یا پھر یہ ہے كہ وہ موجود تو تھے لیكن اس معاملے سے ان كا تعلق نہیں  تھالہذاانہیں  یہاں  نظرا نداز كردیا گیا ہے۔ لیكن پہلا احتمال زیادہ قوى معلوم ہوتا ہے۔ ”بہرحال وہ دونوں  كشتى پر سوار ہوگئے تو اس عالم نے كشتى میں سوراخ كردیا ”۔( سورہ كہف آیت 71) حضرت موسى علیہ السلام چونكہ ایك طرف تو اللہ كے عظیم نبى بھى تھے ،الہذاانہیں  لوگوں  كى جان ومال كا محافظ بھى ہونا چاہئےتھا او رانہیں  امر بالمعروف اور نہى عن المنكر بھى كرنا چاہتے تھا اور دوسرى طرف ان كا انسانى ضمیر اس بات كى اجازت نہیں  دیتا تھا كہ وہ اس قسم كے غلط كام پر خاموشى اختیار كریں  لہذا حضرت خضر كے ساتھ ان كا جو معاہدہ ہوا تھا اسے ایك طرف ركھا اور اس كام پر اعتراض كردیا اور ”كہا:  كیا آپ نے اہل كشتى كو غرق كرنے كے لئے اس میں  سوراخ كردیا ہے واقعاً آپ نے كس قدر برا كام انجام دیا ہے ”۔( سورہ كہف آیت 71) واقعا ًیہ كام كتنا حیرت انگیز ہے كہ كسى كشتى میں  بہت سے مسافر سوار ہوں  اور اس میں  سوراخ كردیا جائے ؟ بعض روایات میں  ہے كہ اہل كشتى جلدہى متوجہ ہوگئے اور انہوں  نے اس سوارخ كو كسى چیز كے ذریعے سے پركردیا لیكن اب وہ كشتى صحیح نہیں  رہ گئی تھى ۔ اس وقت اس عالم نے بڑى متانت كے ساتھ موسى پر نگاہ ڈالى اور ”كہا: میں  نے نہیں  كہا تھا كہ تم میرے ساتھ ہرگز صبرنہیں كرسكو گے ”۔( سورہ كصف آیت 72) اس واقعے كى اہمیت كے پیش نظر حضرت موسى كى عجلت اگرچہ فطرى تھى تاہم وہ پشیمان ہوئے انہیں  اپنا معاہدہ یادآیالہذامعذرت آمیز لہجے میں  استاد سے ” كہا اس بھول پر مجھ سے مواخذہ نہ كیجئے اور اس كام پرمجھ پر سخت گیرى نہ كیجئے ”۔(سورہ كہف آیت 73)
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: