حضرت خَدیجہؓ-2

حضرت خَدیجہؓکا سب سے پہلے اِسلام لانا اور اسلام کے فروغ میں حصہ لینا
حضرت خَدیجہؓ کو یہ مَنْقبَتْ حاصل ہے کہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہوئیں یعنی حضور اَقدس کی دعوتِ اسلام تمام اِنسانوں سے پہلے اِنہوں نے قبول کی۔ اِن سے پہلے نہ کوئی مرد اِسلام لایا نہ عورت نہ بوڑھا نہ بچہ۔
صاحبِ مشکوٰة الا کمال فی اسما ء الرجال میں لکھتے ہیں:
وَھِیَ اَوَّلُ مَنْ اٰمَنَ مِنْ کَافَّةِ النَّاسِ ذَکَرِھِمْ وَاُنْثَاھُمْ ۔
 تمام اِنسانوں سے پہلے حضرت خَدیجہؓ اِسلام لائیں ۔ تمام مردوں سے بھی اور تمام عورتوں سے بھی پہلے۔
وَمِثْلُہ فِی الْاِسْتِیْعَابِ حَیْثُ قَالَ نَاقِلاً عَنْ عُرْوَةَ اَوَّلُ مَنْ اٰمَنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ خَدِیْجَةُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ ؓ ۔
حافظ ابنِ کثیر ؒ ٰ البدایہ میں محمّد بن کعب سے نقل فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
اَوَّلُ مَنْ اَسْلَمَ مِنْ ھٰذِہِ الْاُمَّةِ خَدِیْجَةُ وَاَوَّلُ رَجُلَیْنِ اَسْلَمَا اَبُوْبَکْرٍ وَعَلِیّ
  اُمت میں سب سے پہلے حضرت خَدیجہؓ نے اسلام قبول کیا۔ اور مردوں میں سب سے پہلے اِسلام قبول کرنےوالےحضرت ابوبکر ؓو حضرت علیؓ ہیں ۔ 
ایک مرتبہ آنحضرت نے حضرت عائشہؓ کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا:
وَقَدْ اٰمَنَتْ بِیْ اِذْ کَفَرَ بِیَ النَّاسُ وَصَدَّقَتْنِیْ اِذْکَذَّبُوْنِیْ وَاٰنَسَتْنِیْ بِمَالِھَا اِذْ حَرُمَنِیَ النَّاسُ وَرَزَقَتْنِیَ اللّٰہُ وُلْدَھَا اِذْ حَرُمَنِیْ اَوْلَادُ النِّسَآءِ ۔(البدایہ)
  وہ مجھ پر ایمان لائیں جب لوگ میری رسالت کے منکر تھے اَور اُنہوں نے میری تصدیق کی جبکہ لوگوں نےمجھےجھٹلایااوراُنہوں نے اپنے مال سے میری ہمدردی کی جبکہ لوگوں نے مجھے اپنے مالوں سے محروم کیا اور اُن
سے مجھے اللہ نے اَولاد نصیب فرمائی جبکہ دُوسری عورتیں مجھ سے نکاح کر کے اپنی اَولاد کا باپ بنانا گوارہ نہیں کرتی تھیں ۔   
اِسلام کے فروغ میں  حضرت خَدیجہؓ کا بہت بڑا حصّہ ہے۔  نبوت سے پہلے حضوراَقدس تنہائی میں عبادت کرنےکےلیے غارِ حرا میں تشریف لے جایا کرتے تھے اور حضرت خَدیجہؓ آپ کے لیے کھانے پینے کا سامان تیارکرکے دے دیا کرتی تھیں ۔ آپ غارِ حرا میں کئی کئی رات رہتے تھے۔ جب خوردو نوش کا سامان ختم ہو جاتا تو آپ تشریف لاتے اور سامان لے کر واپس چلے جاتے تھے۔
ایک دِن حسبِ معمول آپ حراء میں مشغولِ عبادت تھے کہ فرشتہ آیا اور اُس نے کہا اِقْرَأْ یعنی پڑھیے۔ آپ نےکہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔ فرشتہ نے آپ کو پکڑ کر اپنے سے چمٹا کر خوب زور سے بھینچ کرچھوڑدیااورپھرکہااِقْرَأْ (پڑھیے) آپ نے وہی جواب دیا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔ فرشتہ نے دوبارہ آپ کواپنےسے چمٹا کر خوب زور سے دبا کر چھوڑ  دیا اور پھرپڑھنے کو کہا۔ آپ نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ فرشتہ نے پھر تیسری مرتبہ آپ کو پکڑ کر اپنے سےچمٹایا اور خوب زور سے دبا کر آپ کوچھوڑدیااورخودپڑھنے لگا۔
اِقْرَأْبِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ o خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ oاِقْرَأْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ o الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ o عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْo
یہ آیات سن کر آپ نے یاد فرما لیں اور ڈرتے ہوئے گھر تشریف لائے۔
حضرت خَدیجہؓ سے فرمایا: زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ (مجھے کپڑا اُڑھا دو مجھے کپڑا اُڑھا دو) اُنہوں نے آ پ کو کپڑا  اُڑھا دیا اور کچھ دیر بعد وہ خوف کی طبعی کیفیت جاتی رہی۔ اس کے بعد آپ نے حضرت خَدیجہؓ کو اپنا سارا واقعہ سنا کر فرمایا:
لَقَدْ خَشِیْتُ عَلیٰ نَفْسِیْ (مجھے اپنی جان کا خوف ہے )۔
عورتیں کچی طبیعت کی ہوتی ہیں مرد کو گھبرایا ہوا دیکھ کر اُس سے زیادہ گھبرا جاتی ہیں لیکن حضرت خَدیجہؓ ذرا نہ گھبرائیں اور تسلی دیتے ہوئے خوب جم کر فرمایا:
کَلَّا وَاللّٰہِ لَایُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَداً اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلیٰ نَوَائِبِ الْحَقِّ ۔
  خدا کی قسم ہرگز نہیں ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ تمہاری جان کو مصیبت میں ڈال کر تم کو رُسوا کرے(آپ کی صفات بڑی اچھی ہیں ایسی صفات والا رُسوا نہیں کیا جاتا)آپ صلہ رحمی کرتے ہیں اور مہمان نوازی آپ کی خاص صفت ہے۔ آپ بے بس وبےکس آدمی کا خرچ برداشت کرتے ہیں اور عاجزو محتاج کی مددکرتے ہیں اور مصائب کے وقت حق کی مدد کرتے ہیں ۔ 
اِس کے بعد حضرت خَدیجہؓ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور اُن سے کہا کہ اے بھائی ! سنو یہ کیا کہتے ہیں ؟ ورقہ بن نوفل بوڑھے آدمی تھے بینائی جاتی رہی تھی عیسائیت اختیار کیے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے  حضورِاَقدس سے دریافت کیا کہ آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ نے اُن کو پوری کیفیت سے آگاہ فرمایا: تو اُنہوں نےکہا
ھٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلیٰ مُوْسیٰ یَا لَیْتَنِیْ فِیْھَا جَذَعاً یَالَیْتَنِیْ اَکُوْنُ حَیًّا اِذْ یُخْرِجْکَ قَوْمُکَ ۔ (بخاری شریف ص ٣ )
  یہ تو وہی راز دار فرشتہ جبرائیل ہے جسے اللہ نے موسی (علیہ السلام ) پر نازل کیا تھا۔ کاش اُس وقت نوجوان ہوتا (جب آپ کی دعوتِ دین کا ظہور ہو گا ) کاش میں اُس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو نکال د ے گی۔ 
حافظ ابنِ کثیر نے البدایہ میں بحوالہ بیہقی یہ بھی نقل کیا ہے کہ :
حضرت خَدیجہؓ نے حضور اَقدس سے نبوت کے بالکل ابتدائی دور میں یہ بھی عرض کیا کہ آپ ایسا کرسکتے ہیں کہ جب فرشتہ آپ کے پاس آئے تو آپ مجھے اطلاع فرما دیں ۔ آپ نے فرمایا: ہاں ایسا ہوسکتا ہے۔ عرض کیا کہ اَب  آئے تو بتلایئے گا۔ چنانچہ حضرت جبرائیل ؑ  تشریف لائے تو آپ نے فرمایا:
اے خَدیجہ
ؓیہ ہیں جبرائیل علیہ السلام۔ اُنہوں نے عرض کیا اِس وقت آپ کو نظر آرہے ہیں ؟ فرمایا: ہاں ! عرض کیا آپ اُٹھ کر میری داہنی طرف بیٹھ جائیں ۔چنانچہ آپ نے منظور فرمایا: اور اپنی جگہ سے ہٹ کر اُن کی داہنی طرف بیٹھ گئے۔ حضرت خَدیجہؓ نے پوچھا اِس وقت بھی آپ کو جبرائیل نظر آرہے ہیں ؟ فرمایا: ہاں نظر آرہے ہیں ۔ عرض کیا آپ   میری گود میں بیٹھ جائیں ۔ آپ نے ایسا ہی کیا جب آپ اُن کی گود میں بیٹھ گئے تو دریافت کیا۔ کیا اَب بھی آپ کو جبرائیل علیہ السلام نظر آرہے ہیں ؟ فرمایا: ہاں نظر آرہے ہیں ۔اِس کے بعد حضرت خَدیجہؓ نے اپنا دوپٹہ ہٹا کرسرکھولا اور دریافت کیا ۔ کیا آپ اَب بھی حضرت جبرائیل علیہ السلام نظر آرہے ہیں ؟
فرمایا: اَب تو نظر نہیں آتے یہ سن کر حضرت خَدیجہ
ؓ نے عرض کیا یقین جانیے یہ فرشتہ ہی ہے۔ آپ ثابت قدم رہیں اورنبوت کی خوشخبری قبول فرمائیں (اگر یہ شیطان ہوتا تو میرا سردیکھ کر غائب نہ ہو جاتا چونکہ فرشتہ ہی ہے اِس لیے شرما گیا)۔
اِس واقعہ سے حضرت خَدیجہؓ کی دانشمندی کا پتہ چلتا ہے۔ نبوت مل جانے کے بعد جب آنحضرت نے اِسلام کی  دعوت دینی شرع کی تو مشرکین مکّہ آپ کے دُشمن ہو گئے اور طرح طرح سے آپ کو ستانا شروع کر دیا،ساری  قوم آپ کی دشمن اور عزیزو اَقربا بھی مخالف۔ایسے مصیبت کے زمانے میں آپ کے غم خوار صرف آپکےچچاابوطالب اور اہلیہ محترمہ حضرت خَدیجہؓ تھیں ۔

حافظ ابن کثیر البدایہ میں لکھتے ہیں:
وَکَانَتْ اَوَّلُ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہ وَصَدَّقَتْ بِمَا جَآئَ مِنْہُ فَخَفَّفَ اللّٰہُ بِذَالِکَ عَنْ رَّسُوْلِہ لَا یَسْمَعُ شَیْئاً یَکْرَھُہ مِنْ رَدٍّ عَلَیْہِ وَتَکْذِیْبٍ لَّہ فَیَحْزِنُہ ذٰلِکَ اِلَّا فَرَّجَ اللّٰہُ عَنْہُ اِذَا رَجَعَ اِلَیْھَا تُثَبِّتُہ وَتُخَفِّفُ عَنْہُ وَتُصَدِّقُہ وَ تُھَوِّنُ عَلَیْہِ اَمْرَالنَّاسِ ۔
  حضرت خَدیجہؓ اللہ اوررسول پر سب سے پہلے ایمان لانے والی اور رسول اللہ کے دین کی تصدیق کر نے والی تھیں۔ اُن کے اسلام قبول کرنے سے اللہ نے اپنے رسول کی مصیبت ہلکی کر دی (جس کی تفصیل یہ ہے) کہ جب دعوتِ اسلام دینے پر آپ کو اُلٹا جواب دیا جاتا اور آپ کو جھٹلایا جاتا تو اِس سے آپ کو رنج پہنچتا ۔ حضرت خَدیجہؓ  کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اِس رنج کو دُور فرما دیتے تھے۔ جب آپ گھر میں تشریف لاتے تو وہ آپ کی ہمت مضبوط کر دیتی  تھیں اور رنج ہلکا کر دیتی تھیں ۔ آپ کی تصدیق بھی کرتیں اور لوگوں کی مخالفت کو آپ کے سامنے بے جان بناکر بیان کرتی تھیں ۔
سیرت ابنِ ہشام میں حضرت خَدیجہؓ کے متعلق لکھا ہے:
وَکَانَتْ لَہ وَزِیْر صِدْق عَلَی الْاِسْلَامِ
  حضرت خَدیجہؓ اِسلام کے لیے آنحضرت کے لیے مخلص وزیر کی حیثیت رکھتی تھیں ۔ 
ہر وہ مصیبت جو حضورِ اقدس کو دعوتِ اسلام میں پیش آتی حضرت خَدیجہؓ پوری طرح اُس میں آپ کی شریکِ غم ہوتیں اور آپ کے ساتھ خود بھی تکلیفیں سہتی تھیں ۔ آپ کی ہمت بندھا نے اور بلند ہمتی کے ساتھ ہرآڑے وقت میں آپ کا ساتھ دینے میں اِن کو خاص فضیلت حاصل ہے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: