خَتمِ نبَّوت پر حملے:-9

فرقہ اسماعیلیہ قرامطہ
حضرت جعفر رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد شیعہ کے  دو گروہ پیدا ہوئے ۔جس نے ان کے چھوٹے بیٹے حضرت موسی کاظم کو ان کا جانشین تسلیم کیا وہ آگے چل کر امامیہ اثنا عشریہ کے نام سے مشہور ہوا۔جنہوں نے ان کے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل کو ان کا جانشین تسلیم کیا وہ آگے چل کر اسمعیلیہ کے نام سے مشہور ہوا ۔ ، تاریخ میں اسے ملاحدہ، باطنیہ، تعلیمیہ اور قرامطہ جیسے رسوائے عالم القاب سے یاد کیا گیا۔ حمدان قرمط ایک عراقی کاشتکار تھا ، چونکہ اس کی ٹانگیں چھوٹیں تھیں اس لیے اسے قرمط کہتےتھے۔ ا س نے اسمعیلی مذہب کو باطنی تحریک میں تبدیل کردیا، اسی کے نام سے اسماعیلی فرقہ قرامطہ کے نام سے موسوم ہوگیا۔ انہوں نےمسلمانوں کے تہذیب، تمدن، معیشت، سیاست، معاشرت، عبادات، تفسیر، احادیث، اسلامی علوم و فنون غرض ہر شعبہ زندگی میں  اپنا اثر ڈالا ۔ اس فرقہ نے اپنی  عیاری اور معاندانہ سرگرمیوں سے اسلامی کتابوں حتیٰ کہ قرآن مجید اور احادیث میں بھی تدسیس (اپنی باتوں کو دوسروں کی باتوں میں ملا کر چھپانا) کرنے کی کوشش  کی۔انہوں نے قران کے فہم میں معنوی تحریف کا راستہ اپنایا اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب رہے ، اور ہیں ، قران کو سمجھنے کے لیے اپنی عقل اور رائے ، منطق اور فلسفہ کا استعمال رائج کیا گیا  اوراُمت مسلمہ کے ہر کس و ناکس کو بظاہر قران کا محب اور قران پر عمل پیرا ہونے کےزعم میں مبتلا کرکے یہ کج روی سُجھائی جانےلگی کہ احادیث کو چھوڑ کر اپنی سوچ و فکر کی بنا پر قرآن کو سمجھے اور سمجھائے ،  چنانچہ آج ہم ایسے کئی لوگوں کو دیکھتے ہیں جو قران کریم میں مذکور اللہ تبارک و تعالی کے الفاظ مبارک میں سے چند ایک کے بھی لفظی و لغوی معانی نہیں جانتے چہ جائیکہ ان کے احکام اور اللہ کی مراد جانتے ہوں ، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی احادیث مبارکہ کورد کرتے ہیں ، اور قران کی معنوی تحریف کرتے ہیں ۔قرآن کے بعد شیعہ نما یہود کا دوسرا بڑا وار  احادیث   میں تدسیس کی کوششیں تھیں، چنانچہ ملا علی قاری کے ایک قول کے مطابق  باطنیہ نے صرف  حضرت علی ؓ کے فضائل میں تین  لاکھ کے قریب روایات گھڑ کے پھیلائی ہیں۔جیسے انا مدینۃ العلم
یا   انا دادالحکمۃ وعلی بابھا  اور ناد علی کی روایت ۔۔دشمنان اسلام نے قرآن و حدیث کے بعد تاریخ اسلام کو خصوصی طور پر تدسیس وتحریف کا ہدف بنایا اور اسکا خاص مقصد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ کی تنقیص و توہین وتحقیر ہے۔
فرقہ معتزلہ
دوسری صدی ہجری کے اوائل میں یہ فرقہ معرض وجود میں آیا اس فرقے کا بانی واصل بن عطاء الغزال تھا اور اس کا سب سے پہلا پیروکار عمرو بن عبید تھا جو حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا شاگرد تھا ان لوگوں کو اہل سنت والجماعت کے عقائد سے الگ ہوجانے کی بناء پر معتزلہ کہا جاتاہے۔ معتزلہ کے مذہب کی بنیاد عقل پر ہے کہ ان لوگوں نے عقل کو نقل پر ترجیح دی ہے عقل کے خلاف قطعیات میں  تاویلات کرتے ہیں اور ظنیات کا انکار کردیتے ہیں اللہ تعالیٰ کے افعال کو بندوں کےافعال پر قیاس کرتے ہیں بندوں کے افعال کے حسن وقبح کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کے افعال پر حسن وقبح کا حکم لگاتے ہیں خلق اور کسب میں کوئی فرق نہیں کرپاتے ان کے مذہب کے پانچ اصول ہیں
1-عدل 2-توحید 3-انفاذ وعید4-منزلة بین منزلتین 5-امر بالمعروف ونہی عن  المنکر
1-عقیدہٴ عدل کے اندر درحقیقت انکارِ عقیدہ تقدیر مضمر ہے ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ شرکا خالق نہیں اگر اللہ تعالیٰ کو شرکا خالق مانیں تو شریر لوگوں کو عذاب
دینا ظلم ہوگا جوکہ خلاف عدل ہے جبکہ اللہ تعالیٰ عادل ہے ظالم نہیں۔
2-ان کی توحید کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات اور قرآن کریم مخلوق ہیں اگر انہیں غیر مخلوق مانیں تو تعدد قدماء لازم آتاہے جو توحید کے خلاف ہے۔
3-وعید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو جو عذاب بتلائے ہیں اور جو جو وعیدیں سنائی ہیں گنہگاروں پر ان کو جاری کرنا اللہ تعالیٰ پر واجب ہے اللہ تعالیٰ کسی کو معاف نہیں کرسکتا اور کسی گنہگار کی توبہ قبول نہیں کرسکتا  اس پر لازم ہے کہ گناہ گار کو سزا دے جیساکہ اس پر لازم ہے کہ نیک کو اجر وثواب دے ورنہ انفاذ وعید نہیں ہوگا۔
4-منزلة بین منزلتین کا مطلب یہ ہے کہ معتزلہ ایمان اور کفر کے درمیان ایک تیسرا درجہ مانتے ہیں اور وہ مرتکب کبیرہ کا درجہ ہے ان کے نزدیک مرتکب کبیرہ یعنی گناہ گار شخص ایمان سے نکل جاتاہے اور کفر میں داخل نہیں ہوتا گویا نہ وہ مسلمان ہے اور نہ کافر۔
5-امر بالمعروف کا مطلب ان کے نزدیک یہ ہے کہ جن احکامات کے ہم مکلف ہیں دوسرں کو ان کاحکم کریں اور لازمی طور پر ان کی پابندی کروائیں اور نہی عن المنکر یہ ہے کہ اگر امام ظلم کرے تو اس کی بغاوت کرکے اس کے ساتھ قتال کیا جائے  معتزلہ کے یہ تمام اصول اور ان کی تشریحات عقل وقیاس پر مبنی ہیں ان کے خلاف واضح آیات واحادیث موجود ہیں نصوص کی موجودگی میں عقل وقیاس کو مقدم کرنا سراسر غلطی اور گمراہی ہے۔
فرقہ مشبہ
یہ وہ فرقہ ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ کو مخلوق کے ساتھ صفات میں تشبیہ دیتا ہے اس فرقے کا بانی داود جواربی تھا یہ مذہب  مذہب نصاریٰ کے برعکس ہے کہ وہ مخلوق یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خالق کے ساتھ ملاتے ہیں اور انہیں بھی الٰہ قرار دیتے ہیں اور یہ خالق کو مخلوق کے ساتھ ملاتے ہیں اس مذہب کے باطل اور گمراہ ہونے میں کیا شک ہوسکتاہے۔
فرقہ مرجئہ
یہ فرقہ اعمال کی ضرورت کا قائل نہیں ارجاء کا معنی ہوتا ہے پیچھے کرنا یہ اعمال کی حیثیت کو بالکل پیچھے کر دیتے ہیں ان کے نزدیک ایمان صرف تصدیق کا نام ہے تصدیق قلبی حاصل ہو تو بس کافی ہے ان کا کہنا ہے کہ جیسے کفر کے ہوتے ہوئے کوئی نیکی مفید نہیں ایسے ہی ایمان یعنی تصدیق کے ہوتے ہوئے کوئی گناہ مضر نہیں جس طرح ایک کافر عمر بھر حسنات کرتے رہنے سے ایک لمحہ کے لئے بھی جنت میں داخل نہیں ہوگا جنت اس پر حرام ہے اسی طرح گناہوں میں غرق ہونے والا مومن ایک لمحہ کے لئے بھی جہنم میں نہیں جائے گا جہنم اس پر حرام ہے یہ مذہب بھی باطل اور سراسر گمراہی ہے کیونکہ قرآن وحدیث میں جابجا مسلمانوں کو اعمال صالحہ کرنے کا اور اعمال سیئہ سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔
Advertisements
2 comments
  1. mani said:

    جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: