روحانی اورجسمانی بیماریوں کا علاج قرآنِ مجید سے:01

تمام الہامی کتب سے بڑھ کر عزو شرف والی کتاب، عظمت اور فضیلت والی کتاب، خیر و برکت سے مالامال، ہدایت اور حکمت سے لبریز، شک و شبہ سے بالاتر، حق و باطل میں فرق کرنے والی، جہالت کے اندھیروں سے نکال کرتوحیدکےنورسےمنورکرنےوالی، ایمان لانے والوں کو جنت کی بشارت دینے والی اور انکار کرنے والوں کو جہنم سےڈرانےوالی،بنی نوع انسان کے لئے سب سے بڑی نعمت۔۔۔ قرآن مجید، اللہ سبحانہ و تعالی کا کلام، جس رات نازل ہوا، اس رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل قرار دی گئی۔ (سورۃ القدر، آیت نمبر 1 تا 3)
 قرآن مجید کی فضیلت میں اگر صرف یہی ایک آیت نازل کی گئی ہوتی تب بھی قرآن مجید کی عظمت اور فضیلت کے لئے کافی  تھی، لیکن رسول اکرمﷺ نے قرآن مجید کے فضائل اور فیوض و برکات کے بارے میں جو احادیث مبارکہ ارشاد فرمائیں ہیں وہ اتنی زیادہ ہیں کہ اس نعمت عظمی کا شکر ادا کرنے کے لئے امت محمّدیہ کا ہر فرد اگر ساری زندگی اللہ تعالی کےحضورسجدےمیں گزار دے تب بھی حق شکر ادا نہیں ہوتا۔
قرآن مجید کے فضائل پر مشتمل احادیث مبارکہ:
1) تم میں سے سب سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سکھائے۔ (بخاری)
2) قرآن مجید سیکھنے کے لئے جو شخص گھر سے نکلے اللہ تعالی اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں۔ (مسلم)
3) قرآن مجید پڑھنے پڑھانے والے، اللہ والے اور اس کے چنے ہوئے بندے ہیں۔ (ابن ماجہ)
4) قرآن مجید کا علم سیکھنے والے کے لئے زمین و آسمان کی ہر چیز حتی کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی دعا کرتی ہیں۔ (ابن ماجہ)
5) قرآن مجید کی بکثرت تلاوت کرنے والے لوگ قابل رشک ہیں۔ (بخاری)
6) قرآن مجید کی بکثرت تلاوت کرنے والا قیامت کے روز مقرب فرشتوں کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ (مسلم)
7) قرآن مجید پڑھنے پڑھانے والوں پر اللہ تعالی سکینت نازل فرماتے ہیں، فرشتے ان کی مجلس کے گرد (احتراما)کھڑے رہتے ہیں نیز اللہ تعالی ان لوگوں کا ذکر (فخر کے طور پر) فرشتوں کے سامنے کرتے ہیں۔ (مسلم)
8) قرآن مجید کا ایک سرا اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا اہل ایمان کے ہاتھ میں پس جو اسے تھامے رکھیں گے (دنیا میں) گمراہ ہوں گے نہ (آخرت میں) ہلاک ہوں گے۔ (طبرانی)
9) اپنی اولاد کو قرآن مجید کی تعلیم دلوانے والے والدین کو قیامت کے روز دو ایسے قیمتی لباس پہناے جائیں گے جن کےمقابلے میں دنیا و مافیہا کی ساری دولت ہیچ ہوگی۔ (احمد)
10) قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے کو ایک حرف پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔ (ترمذی)
دنیا میں عزت، عروج اور غلبہ کا وعدہ قرآن مجید کو مضبوطی سے تھامنے اور اس پر عمل کرنے سے مشروط ہے۔ آج اگر ہم دنیامیں مغلوب اور بے توقیر ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو ترک کر دیا ہے۔ ہمارا معاشرہ ایمان،نیکی،تقوی،امانت، دیانت، صداقت اور شجاعت کے بجائے شرک، بدعات، ظلم، بے رحمی، قتل و غارت، لوٹ کھسوٹ،اغوا، شراب، زنا، جوا، بے حیائی، بدامنی اور بدحالی میں مبتلا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کوترک کر دیا ہے۔
بقول حکیم الامت علامہ اقبالؒ:                                  
وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
پس اگر ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں اعلی و ارفع اقدار کا چلن عام کرنا چاہتے ہیں،ا پنی ذلت اور پستی کو عزت اوروقار میں بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن مجید کی طرف پلٹ آنا چائیے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
فَمَنِ اتـَّبَعَ ھُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَلَا یَشْقٰی پس جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا نہ بدبختی میں مبتلاہوگا۔(طہ123)
قرآن مجید کے نزول کا نبیادی مقصد بنی نوعِ انسان کی ہدایت ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
 فَقَدْ جَائَ کُمْ بَیِّنَۃ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَھُدًی وَّرَحْمَۃتمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس ایک روشن دلیل، ہدایت اور رحمت آگئی ہے۔ (سورۂ الانعام، آیت نمبر 157)
دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے:
وَاِنَّہ لَھُدًی وَّ رَحْمَۃ لِّلْمُؤمِنِیْنَ اور بے شک یہ قرآن ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لئے۔ (سورۂ النمل، آیت نمبر 77)
یہ قرآن مجید کا اعجاز ہے کہ جو بھی ادنی و اعلی شخص ہدایت کی نیت سے اسے پڑھتا ہے یا سنتا ہے اس کے لئے اللہ تعالی ہدایت کے راستے کھول دیتے ہیں بشرطیکہ اس کے ذہن میں تعصب یا ہٹ دھرمی نہ ہو۔
قرآن مجید شفا ہے:
اللہ تعالی نے قرآن مجید کو درج ذیل تین مقامات پر شفا ارشاد فرمایا ہے:
یٰأَیُّھَاالنَّاسُ قَدْ جَائَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَائ لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی لئے شفا آگئی ہے۔  (یونس57)
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ھُوَ شِفَائ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَلاَ یَزِیْدُ الظَّالِمِیْنَ إِلاَّ خَسَارًا۔ اور ہم قرآن میں جو کچھ نازل کرتے ہیں وہ مومنوں کے لئے شفاء ہے مگر ظالموں کے لئے یہ قرآن خسارے کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔  (بنی اسرائیل82)
قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھُدًی وَّشِفَاء (اے محمّدﷺ) کہہ دیجئے، یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور شفا ہے۔ (حم السجدہ 44)
قرآن مجید انسان کی تمام روحانی بیماریوں مثلا شرک، کفر، نفاق، ریا، حسد، بغض، کینہ، عداوت وغیرہ کے لئے تو بدرجہ اولی شفاہے۔ جیسا کہ سورۂ یونس کی آیت میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے لیکن سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ حم السجدہ کی آیت میں قرآن مجید کو مطلق شفا ارشاد فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید جسمانی بیماریوں کے لئے بھی شفا ہے۔ بہت سی احادیث بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں۔
روحانی بیماریوں کے لئے شفا کا ذکر تو ہو چکا ہے۔ اب ان سطور میں ہم جسمانی بیماریوں کے لئے شفا کا ذکر کریں گے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: