آبِ زَم زَم:02

آبِ زَم زَم کی فضیلت

وقال عبدان أخبرنا عبد الله، أخبرنا یونس، عن الزهری، قال أنس بن مالك كان أبو ذر ـ ؓ یحدث أن رسول الله ﷺقال ‏ ‏فرج سقفی وأنا بمكة، فنزل جبریل ـ علیه السلام ـ ففرج صدری، ثم غسله بماء زَم زَم ، ثم جاء بطست من ذهب ممتلئ حكمة وإیمانا، فأفرغها فی صدری، ثم أطبقه، ثم أخذ بیدی فعرج إلى السماء الدنیا‏۔‏ قال جبریل لخازن السماء
الدنیا افتح‏۔‏ قال من هذا قال جبریل‏
اور عبدان نے کہا کہ مجھ کو عبداللہ بن مبارک نے خبردی، انہوں نے کہا کہ ہمیں یونس نے خبردی، انہیں زہری نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ ابوذر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب میں مکّہ میں تھاتومیری(گھرکی )چھت کھلی اور جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے۔ انہوں نے میرا سینہ چاک کیا اور اسے زَم زَم کے پانی سےدھویا۔ اس کے بعد ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ اسے انہوں نے میرے سینے میں ڈال دیا اور پھر سینہ بند کر دیا۔ اب وہ مجھے ہاتھ سے پکڑ کر آسمان دنیا کی طرف لے چلے۔ آسمان دنیا کے داروغہ سے جبریل نےکہادروازہ کھولو۔ انہوں نے دریافت کیا کون صاحب ہیں؟ کہا جبریل ! ( بخاری حدیث نمبر : 1636)
حدثنا محّمد ـ هو ابن سلام ـ أخبرنا الفزاری، عن عاصم، عن الشعبی، أن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ حدثه قال سقیت رسول الله ﷺمن زَم زَم فشرب وهو قائم‏۔‏ قال عاصم فحلف عكرمة ما كان یومئذ إلا على بعیر‏۔
ہم  سے محّمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے خبردی، انہیں عاصم نے اورانہیں شعبی نے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے ان سے بیان کیا، کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو زَم زَم کا پانی پلایا تھا۔ آپ نے پانی کھڑے ہوکر پیا تھا۔ عاصم نے بیان کیا کہ عکرمہ نے قسم کھاکر کہا کہ آنحضور ﷺ اس دن اونٹ پر سوار تھے۔( بخاری حدیث
نمبر:1637
)
یہ معراج کی حدیث کا ایک ٹکڑا ہے۔ یہاں امام بخاری اس کو اس لیے لائے کہ اس سے زَم زَم کے پانی کی فضیلت نکلتی ہے۔ اس لیے کہ آپ کا سینہ اسی پانی سے دھویا گیا۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی احادیث زَم زَم کے پانی کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں مگر حضرت امیر المؤمنین فی الحدیث کی شرط پر یہی حدیث تھی۔ صحیح مسلم میں آبِ زَم زَم کو پانی کے ساتھ خوراک بھی قرار دیا گیا ہے اور بیماروں کے لیے دوا بھی فرمایا گیا ہے۔ حدیث ابن عباس ؓ میں مرفوعاً یہ بھی ہے کہ :
ماءزَم زَم لما شرب لہ کہ زَم زَم کا پانی جس لیے پیا جائے اللہ وہ دیتا ہے۔
آبِ زَم زَم کا ذائقہ قدرے نمکین ہے۔ دنیا کے پانیوں سے زیادہ بھاری زود ہضم اور شافی امراض ہے۔ حضوراکرمﷺنےفرمایا جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے،مقام ابراہیم کے پیچھے دو نفل پڑہے اور آبِ زَم زَم پئے تو اسکےتمام
گناہ بخش دئے جاتے ہیں اور فرمایا جناب رسول خدا ﷺنے کہ آبِ زَم زَم ہر غرض کے لئے ہے۔ یعنی ہر مرض کےلیےبھی اور اس کو پی کر جو دعا کرو وہ بھی قبول ہوتی ہے۔ابن قیم جوزیہ ؒ کہتے ہیں :زَم زَم سب پانیوں کا سردار اورسب سےزیادہ شرف و قدروالا ہے ، لوگوں کے نفوس کوسب سے زیادہ اچھا اورمرغوب اوربہت ہی قیمتی ہے جوکہ جبریل علیہ
السلام کے کھودے ہو
ۓ چشمہ اوراللہ تعالٰی کی طرف سےاسماعیل علیہ السلام علیہ السلام کی تشنگی دورکرنے والا پانی ہے ۔
صحیح مسلم میں نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے ابوذرؓ کو جب وہ کعبہ کے پردوں پیچھے چالیس دن رات تک مقیم رہےاوران کا کھانا صرف زَم زَم تھا اس وقت فرمایا : نبی ﷺ نے ابوذرؓ سے پوچھا تم کب سے یہاں مقیم ہو ؟ توابوذر ؓ کہتے ہیں میں نے جواب دیا تیس دن رات سے یہیں مقیم ہوں ، تونبی ﷺ فرمانے لگے :تیرے کھانے کا اتنظام کون کرتا تھا؟ وہ کہتےہیں میں نے جواب میں کہا کہ میرے پاس توصرف زَم زَم ہی تھا اس سے میں اتنا موٹا ہوگیا کہ میرے پیٹ کے تمام کس بل نکل گئے ، اورمیری ساری بھوک اورکمزوری جاتی رہی ، نبی ﷺ فرمانے لگے : بلاشبہ زَم زَم بابرکت اورکھانےوالےکےلیےکھانےکی حیثیت رکھتا ہے۔(صحیح مسلم حدیث نمبر2473 )
اورایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ:یہ بیمارکی بیماری کی شفا ہے ۔(مسندالبزار حدیث نمبر 1171 اور 1172 اورمعجم طبرانی الصغیر حدیث نمبر 295 ) ۔
علماء کرام نے اس حدیث پر عمل اورتجربہ بھی کیا ہے عبداللہ بن مبارک ؒ نے جب حج کیا تووہ زَم زَم کے پاس آئےتوکہنےلگےاے اللہ مجھے ابن ابی الموالی نے محّمد بن منکدر سے اورانہوں نے جابرؓ سے حدیث بیان کی ہے کہ نبی ﷺ نےفرمایا : زَم زَم اسی چیز کےلیے ہے جس کے لیے اسے نوش کیا جآئے ، اورمیں روزقیامت کی تشنگی اورپیاس سےبچنےکےلیےاسے پی رہا ہوں ۔
ابن قیمؒ بیان کرتے ہیں کہ: میں اورمیرے علاوہ دوسروں نے بھی زَم زَم پی کرتجربہ کیا ہے کہ اس سے عجیب وغریب قسم کی بیماریاں جاتی رہتی ہیں اورمجھے زَم زَم کے ساتھ کئ ایک بیماریوں سے شفانصیب ہوئی ہے اورالحمدللہ میں ان سے نجات حاصل کرچکا ہوں
آبِ زَم زَم پینے کا مسنون اور افضل طریقہ
آبِ زَم زَم پینے کا مسنون اور افضل طریقہ یہ ہے کہ کھڑے ہو کر قبلہ کی طرف رخ کر کے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کرپیں، انسان خواہ سعودی عرب میں رہتا ہو یا سعودی عرب سے باہر ہو، آبِ زَم زَم میں جب تک چاہیں دوسرا پانی ملا کر فیض لے سکتے ہیں اور اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ اگرچہ پوری زندگی آبِ زَم زَم میں دوسراپانی ملا کر پیتا رہے۔واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: