جمعۃ المبارک-03

جمعہ کے دن کی اہمیت کے متعلق چند احادیث
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا  جمعہ کا دن سارے دنوں کا سردار ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک جمعہ کا دن سارےدنوں میں سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر کے دن سے بھی زیادہ مرتبہ والا ہے۔
اس دن کی پانچ باتیں خاص ہیں:
1-اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔
2-اِسی دن اُن کو زمین پر اتارا۔
3-اِسی دن اُن کو موت دی۔
4-اِس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ اس میں جو چیز بھی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ضرور عطا فرماتے ہیں؛ بشرطیکہکسی حرام چیز کا سوال نہ کرے۔
5-اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ تمام مقرب فرشتے ، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ، سمندر سب جمعہ کے دن سےگھبراتےہیں کہ کہیں قیامت قائم نہ ہوجائے؛ اس لیے کہ قیامت، جمعہ کے دن ہی آئے گی (ابن ماجہ)۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا  سورج کے طلوع وغروب والے دنوں میں کوئی بھی دن جمعہ کے دن سے افضل نہیں ،یعنی جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل ہے (صحیح ابن حبان)۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ جمعہ کے دن ارشاد فرمایا   مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے اِس دن کو تمہارےلیےعیدکادن بنایاہے؛ لہٰذا اِس دن غسل کیا کرو اور مسواک کیا کرو (طبرانی، مجمع الزوائد)۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کادن ہفتہ کی عید ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام کی سورہٴ بروج میں﴿وشاھد ومشہود﴾ کے ذریعہ قسم کھائی ہے۔ شاہد سے مراد جمعہ کادن ہےیعنی اِس دن جس نے جو بھی عمل کیا ہوگا،یہ جمعہ کا دن قیامت کے دن اُس کی گواہی دے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا  اللہ کے نزدیک سب سے افضل نماز‘ جمعہ کے دن فجرکی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرناہے (طبرانی ، بزاز)۔
جہنم کی آگ روزانہ دہکائی جاتی ہے؛ مگر جمعہ کے دن اس کی عظمت اور خاص اہمیت وفضیلت کی وجہ سے جہنم کی آگ نہیں دہکائی جاتی ۔ (زاد المعاد 1 / 387
جمعہ کے دن قبولیت والی گھڑی کی تعیین  
رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا   اس میں ایک گھڑی ایسی ہے، جس میں کوئی مسلمان نمازپڑھے،اوراللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو عنایت فرمادیتا ہے اور ہاتھ کے اشارے سے آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ وہ ساعت مختصر سی ہے (بخاری)۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا  وہ گھڑی خطبہ شروع ہونے سے لے کر نماز کے ختم ہونے تک کا درمیانی وقت ہے(مسلم)۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا  جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ مسلمان بندہ جو مانگتا ہے، اللہ اُسکوضرورعطافرمادیتے ہیں۔ اور وہ گھڑی عصر کے بعد ہوتی ہے (مسند احمد)۔ مذکورہ حدیث شریف اوردیگر احادیث کی روشنی میں جمعہ کے دن قبولیت والی گھڑی کے متعلق علماء نے دو وقتوں کی تحدید کی ہے:
1-دونوں خطبوں کا درمیانی وقت، جب امام منبر پر کچھ لمحات کے لیے بیٹھتا ہے۔
2-غروبِ آفتاب سے کچھ وقت قبل۔
نماز ِجمعہ کی فضیلت
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا  پانچوں نمازیں، جمعہ کی نماز پچھلے جمعہ تک اور رمضان کے روزے پچھلے رمضان تک درمیانی اوقات کے گناہوں کے لیے کفارہ ہیں؛ جب کہ اِن اعمال کو کرنے والا بڑے گناہوں سےبچے(مسلم)۔ یعنی چھوٹے گناہوں کی معافی ہوجاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا  جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر جمعہ کی نماز کے لیے آتا ہے، خوب دھیان سےخطبہ سنتا ہے اور خطبہ کے دوران خاموش رہتا ہے تو اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک ، اور مزید تین دن کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں (مسلم) ۔
جمعہ کی نماز کے لیے مسجد جلدی پہنچنا
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا  جو شخص جمعہ کے دن جنابت کے غسل کی طرح (اہتمام کے ساتھ) غسل کرتاہےپھرپہلی فرصت میں مسجد جاتا ہے تو گویا اس نے اللہ کی خوشنودی کے لیے اونٹنی قربان کی۔ جو دوسری فرصت میں مسجد جاتا ہے گویا اس نے گائے قربان کی۔ جو تیسری فرصت میں مسجد جاتا ہے گویا اس نےمینڈھاقربان کیا۔ جوچوتھی فرصت میں جاتا ہے، گویا اس نے مرغی قربان کی۔جو پانچویں فرصت میں جاتاہے،گویا اس نےانڈےسےخداکی خوشنودی حاصل کی۔ پھر جب امام خطبہ کے لیے نکل آتا ہے توفرشتے خطبہ میں شریک ہوکر خطبہ سننے لگتے ہیں (بخاری،مسلم)۔
یہ فرصت(گھڑی) کس وقت سے شروع ہوتی ہے، علماء کی چند آراء ہیں؛ مگر خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ حتی الامکان مسجدجلدی پہونچیں، اگر زیادہ جلدی نہ جاسکیں تو کم از کم خطبہ شروع ہونے سے کچھ وقت قبل ضرور مسجد پہنچ جائیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا  جب جمعہ کا دن ہوتاہےتوفرشتےمسجدکےہردروازےپرکھڑےہوجاتےہیں،پہلےآنےوالےکانام پہلے، اس کے بعد آنے والے کا نام
اس کے بعد لکھتے ہیں(اسی طرح آنے والوں کے نام ان کے آنے کی ترتیب سے لکھتے رہتےہیں)۔ جب امام خطبہ دینےکےلیے آتا ہے تو فرشتے اپنے رجسٹر (جن میں آنے والوں کے نام لکھے گئے ہیں) لپیٹ دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں (مسلم)۔
خطبہٴ جمعہ شروع ہونے کے بعد مسجد پہونچنے والے حضرات کی نمازِ جمعہ تو ادا ہوجاتی ہے، مگر نمازِ جمعہ کی فضیلت اُنکوحاصل نہیں ہوتی ۔
خطبہٴ جمعہ
 جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ نماز سے قبل دو خطبے دئے جائیں؛ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیشہ جمعہ کے دن دو خطبے دئے (مسلم)۔ دونوں خطبوں کے درمیان خطیب کا بیٹھنا بھی سنت ہے(مسلم)۔ منبرپر کھڑے ہوکر ہاتھ میں عصا لے کر خطبہ دینا سنت ہے۔
دورانِ خطبہ کسی طرح کی بات کرنا؛ حتی کہ نصیحت کرنا بھی منع ہےرسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا  جس نے جمعہ کےروزدورانِ خطبہ اپنے ساتھی سے کہا (خاموش رہو ) اس نے بھی لغو کام کیا(مسلم)۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا  جس شخص نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا یعنی دورانِ خطبہ اُن سےکھیلتارہا(یاہاتھ،چٹائی،کپڑےوغیرہ سے کھیلتا رہا) تو اس نےفضول کام کیا (اور اس کی وجہ سے جمعہ کا خاص ثواب ضائع کردیا) (مسلم)۔
 رسول اللہ ﷺ نے خطبہ کے دوران گوٹھ مارکر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے (ترمذی)۔ (آدمی اپنے گھٹنے کھڑے کرکےرانوں کو پیٹ سے لگاکر دونوں ہاتھوں کو باندھ لے تو اسے گوٹھ مارنا کہتے ہیں)۔
حضرت عبد اللہ بن بسرؓفرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن منبر کے قریب بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص لوگوں کی گردنوں کوپھلانگتاہوا آیا جب کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا  بیٹھ جا، تونے تکلیف دی اورتاخیر کی (صحیح ابن حبان)۔
 :نوٹ
 امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے جانا منع ہے،پیچھے جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے۔جمعہ کی نمازکا حکم  جمعہ کی نماز ہر اُس مسلمان، صحت مند، بالغ ،مردپر فرض ہے جو کسی شہر یا ایسے علاقے میں مقیم ہو جہاں روزمرہ کی ضروریات مہیّا ہوں۔ معلوم ہوا کہ عورتوں، بچوں، مسافر اور مریض پر جمعہ کی نماز فرض نہیں ہے؛ البتہ عورتیں، بچے، مسافر اور مریض اگر جمعہ کی نماز میں حاضر ہوجائیں تو نماز ادا ہوجائے گی۔ ورنہ اِن حضرات کو جمعہ کی نمازکی جگہ ظہر کی نماز ادا کرنی ہوگی۔
 اگر آپ صحراء میں ہیں جہاں کوئی نہیں ، یا ہوائی جہاز میں سوار ہیں توآپ ظہر کی نماز ادا فرمالیں۔
 نماز ِجمعہ کی دو رکعت فرض ہیں، جس کے لیے جماعت شرط ہے۔ جمعہ کی دونوں رکعت میں جہری قراء ت ضروری ہے۔ نمازِ جمعہ میں سورة الاعلیٰ اور سورہٴ الغاشیہ، یا سورة الجمعہ اور سورة المنافقون کی تلاوت کرنا مسنون ہے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: