آبِ زَم زَم:01

آبِ زَم زَم کی تاریخ:

زَم زَم دراصل مکّہ کے اس چشمے /کنویں کا نام ہے ،جس سے آبِ زَم زَم نکلتا ہے یہ وہ پانی ہے جو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ یہ  ایک معجزےکی صورت میں مکہ مکرمہ کےبےآب و گیاہ ریگستان میں جاری ہواجو آج تک جاری ہے۔آبِ زَم زَم مسجد الحرام میں خانۂِ کعبہ کےجنوب مشرق میں تقریباً21میٹر کےفاصلےپر تہ خانے میں واقع ہے۔ آبِ زَم زَم کا سب سےبڑا دہانہ  حجرِاَسوَدکےپاس ہےجبکہ اذان کی جگہ کےعلاوہ صفاو مروہ کےمختلف مقامات سےبھی نکلتا ہے۔
آبِ زَم زَم کی ابتداء آج سے تقریباً4ہزارسال قبل سیدنا ذبیح اللہ اسمٰعیل علیہ السلام کی شیرخواری سے شروع ہوتی ہے۔جب بحکم خدا جناب ابراہیم علیہ السلام اپنی زوجہ ہاجرہ علیہ السلام اور شیر خوار جناب اسماعیل علیہ السلام کو عرب کے اس بے آب و گیاہ علاقے میں چھوڑ کر شام کی طرف تشریف لے گئے اور بی بی ہاجرہ علیہ السلام وہیں مقیم ہوئیں۔ جب پانی کا ذخیرہ ختم ہواتوننھے اسماعیل علیہ السلام شدت پیاس سے نڈھال ہو گئے۔ تو بی بی ہاجرہ علیہ السلام بے تابی سے پانی تلاش کرنے لگیں اوراسی اضطراب و پریشانی میں وہ دو پہاڑیوں پر بھاگ بھاگ کر چڑھتیں اور واپس اتر کر پھر سے دوسری کی طرف جاتیں۔اور اس طرح انہوں نے سات چکر لگائے۔ ( ان کے وہ سات چکر اب سعی کے نام سے رکن عمرہ و حج ہیں)۔ ادہر جناب اسماعیل علیہ السلام شدت پیاس سے بچوں کے فطری انداز میں زمین پر ایڑیاں رگڑ رہے تھے۔ ساتویں چکر کے بعد جب بی بی علیہ السلام واپس آئیں تو دیکھا کہ جہاں جناب اسماعیل علیہ السلام نے ایڑیاں رگڑیں وہاں ایک چشمہ پھوٹ پڑا ہے۔ تو بچے کے زیرِ قدم یہ نعمت غیر مترقبہ دیکھ کر باغ باغ ہوگئیں۔پھر انہوں نے اس پانی کو روکنے کی خاطر اس کے گرد ریت یا بروایت دیگر پتھروں سےدیوار بنانے کی کوشش کی اور ساتھ ہی فرمایا زَم زَم یعنی ٹھہر ٹھہر ۔ تب سے یہ پانی آبِ زَم زَم کہلاتا ہے۔ یہ مبارک چشمہ پیاس کی بے تابی میں آپ کی ایڑیاں رگڑنے سے فوارہ کی طرح اس سنگلاخ زمین میں ابلا تھا۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں وسمیت زَم زَم لکثیر تھا یقال ماء زَم زَم ای کثیر وقیل لا جتماعھا یعنی اسکا نام زَم زَم اس  لیے رکھا گیا ہے کہ یہ بہت ہے اور ایسے ہی مقام پر بولا جاتا ہے۔ماہ زَم زَم ای کثیر یعنی یہ پانی بہت بڑی مقدار میں ہےاوراسکے جمع ہونے کی وجہ سے بھی اسے زَم زَم کہا گیا ہے۔
مجاہد نے کہا کہ یہ لفظ ہزمہ سے مشتق ہے۔لفظ ہزمہ کے معنے ہیں ایڑیوں سے زمین میں اشارے کرنا۔چونکہ مشہور ہے کہ  حضرت اسماعیل علیہ السلام کے زمین پر ایڑی رگڑنے سے یہ چشمہ نکلا لہذا اسے زَم زَم کہا گیا۔ واللہ اعلم۔
چند ارباب دانش کے نزدیک یہ مصری زبان کا لفظ ہے اس کا مطلب ٹھہر ٹھہر ہے ۔ اور کچھ ماہرین لسانیات کہتے ہیں کہ یہ عربی زبان کے لفظ زَم زَمہ سے ہے۔ جس کا مطلب چھوٹے چھوٹے گھونٹ سے پانی پینا یا اوک سے پانی پینا ہے۔
توریت میں اس مبارک کنویں کا ذکر ان لفظوں میں ہے: خدا کے فرشتے نے آسمان سے ہاجرہ کو پکارا اور اس سے کہا :
اے ہاجرہ!تجھ کو کیا ہوا مت ڈر کہ اس لڑکے کی آواز جہاں وہ پڑا ہے خدا نے سنی، اٹھ اور لڑکے کو اٹھا اور اسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کہ میں اس کو ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ پھر خدا نے اس کی آنکھیں کھولیں اور اس نے پانی کا ایک کنواں دیکھااورجاکر اپنی مشک کو پانی سے بھرلیا اور لڑکے کو پلالیا۔ ( توریت ، سفر پیدائش، باب: 21 )
کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بعد میں اس کو چار طرف سے کھود کر کنویں کی شکل میں کردیا تھا اور اب زمین کےاونچا ہوتے ہوتے اتنا گہرا ہوگیا۔
پانی زندگی کی علامت ہے اور دنیا کی بیشتر تہذیبیں دریاوں کے کناروں پر پھلی پھولی ہیں۔ چنانچہ بی بی علیہ السلام نے وہاں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ کچھ عرصہ بعد قبیلہ بنو جرہم کا ایک قافلہ یہاں سے گذرا اور وہ لوگ پانی دیکھ کر وہاں رہنے لگے۔چشمے کی ملکیت بدستور بی بی علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کے پاس رہی۔ یہ مکّہ معظمہ کی پہلی آبادی تھی۔خانۂِ کعبہ کی تعمیر کے بعد اہل فارس بھی ادھر آئے۔ ساسانیوں کے جد امجد ساسان ابن بابق نے بھی اس اس کی زیارت کی۔ اس کا تذکرہ  قدیم پارسی شاعری میں ملتا ہے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد کئی دفعہ ایسا ہوا کہ زَم زَم کا چشمہ خشک ہوگیا جوں جوں یہ
خشک ہوتا گیا لوگ اس کو گہرا کرتے گئے یہاں تک کہ وہ ایک گہرا کنواں بن گیا۔مدتوں تک خانۂِ کعبہ کی تولیت بنو جرہم کےہاتھوں میں رہی۔ جب بنو خزاعہ کو اقتدار حاصل ہوااور بنو جرہم یہاں سے کوچ کرنے لگے تو انہوں نے قریش کےمشہوربتوں ایساف اور نائلہ کے ساتھ اپنے خزانے اور حجرِاَسوَد ساتھ میں غلافِ کعبہ کو بھی زَم زَم میں ڈال کرچشمےکوبندکردیا ۔ مشہور مورخ مسعودی لکھتا ہے یہ خزائن بنو جرہم کے نہ تھے کیونکہ بنوجرہم ایک غریب قبیلہ تھا۔ انہیں تواہل فارس وہاں لائے تھے ۔ پھر مدتوں تک یہ مبارک چشمہ غائب رہا۔
محّمد حسین ہیکل لکھتا ہے:آبِ زَم زَم مضاض بن عمرو جرہمی کے دور میں خشک ہوا۔ لیکن اس کا مقام عربوں کے ذہن میں محفوظ رہا اور اسے دوبارہ کھودنے کی آرزو ان کے دل میں مچلتی رہی۔ حتیٰ کہ رسالت مآب محّمد مصطفےٰ ﷺ کے دادا جناب عبدالمطلب نے بحکم الٰہی خواب میں اس کے صحیح مقام کو دیکھ کر اس کنوئیں کو کھودنے کا حکم ہوا ۔
اس کے متعلق عبدالمطلب کا بیان ہے کہ میں سویا ہوا تھا کہ:خواب میں مجھے ایک شخص نے کہا طیبہ کو کھودو۔ میں نے کہا کہ طیبہ کیا چیز ہے؟ وہ شخص بغیر جواب دئیے چلا گیا اور میں بیدار ہوگیا۔ دوسرے دن جب سویا تو خواب میں پھروہی شخص آیااورکہا کہ مضنونہ کو کھودو۔ میں نے کہا کہ مضنونہ کیا چیز ہے؟ اتنے میں میری آنکھ کھل گئی اور وہ شخص غائب ہوگیا۔ تیسری رات پھر وہی واقعہ پیش آیا اور اب کی دفعہ اس شخص نے کہا کہ زَم زَم کو کھودو۔ میں نے کہا زَم زَم کیا ہے؟
اس نےکہاتمہارے دادا اسمٰعیل علیہ السلام کا چشمہ ہے۔ اس میں بہت پانی نکلے گا اور کھودنے میں تم کو زیادہ مشقت بھی نہ ہوگی۔ وہ اس جگہ ہے جہاں لوگ قربانیاں کرتے ہیں۔ ( عہد جاہلیت میں یہاں بتوں کے نام پر قربانیاں ہوتی تھیں)وہاں چیونٹیوں کابل ہے۔ تم صبح کو ایک کوا وہاں چونچ سے زمین کریدتا ہوا دیکھو گے۔ صبح ہونے پر عبدالمطلب خود کدال لےکرکھڑے ہوگئے اور کھودنا شروع کردیا۔ساتھ میں ان کے بیٹے حارث نے ان کی مدد کی ۔ تھوڑی ہی دیر میں پانی نمودارہوگیا۔ جسے دیکھ کر انہوں نے زور سے تکبیر کہی۔ پانی کے ساتھ دو طلائی ہرن اور تلواریں بھی برآمد ہوئیں۔ اس مال کی تقسیم کے لئے تیر اندازی کے ذرعے قرعہ اندازی ہوئی۔ دو تیر قریش ، دو کعبہ اور دو جناب عبدالمطلب کی جانب سےچلائےگئے۔ مقصد یہ تھا کہ جس کے تیر نشانے پر لگیں وہ مالک ہو گا۔ قریش کے دونوں تیر خطا گئے۔ ہرن کعبےکےاورتلواریں جناب عبدالمطلب کے حصے میں آئے۔ آپ نے تلواریں فرخت کر کے کعبے کا دروازہ تعمیر کیا۔ ہرن اس میں محفوظ کر دئے گئے۔علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں کہ :یہ ہرن ایرانی زائروں نے کعبہ پر چڑھائے تھے۔
آبِ زَم زَم کمی آب کی وجہ سے کئی دفعہ کھودا گیا ہے۔ 223 ھ میں اس کی اکثر دیواریں منہدم ہوگئیں اور اندر بہت سا ملبہ جمع ہوگیاتھا۔ اس وقت طائف کے ایک شخص محّمد بن بشیر نامی نے اس کی مٹی نکالی اور بقدر ضرورت اس کی مرمّت کی کہ پانی بھرپور آنے لگا۔
مشہور مؤرخ ازرقی کہتا ہے کہ:اس وقت میں بھی کنویں کے اندر اترا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس میں تین طرف سے چشمے جاری ہیں۔ ایک حجرِاَسوَد کی جانب سے دوسرا جبل ابوقبیس کی طرف سے تیسرا مروہ کی طرف سے، تینوں مل کر کنویں کی گہرائی میں جمع  وتے رہتے ہیں اور رات دن کتنا ہی کھینچومگر پانی نہیں ٹوٹتا۔
اسی مؤرخ کا قول ہے کہ:میں نے قعر آب کی بھی پیمائش کی تو 40 ہاتھ کنویں کی تعمیر میں اور 26 ہاتھ پہاڑی غار میں، کل 69ہاتھ پانی تھا۔ ممکن ہے آج کل زیادہ ہوگیا ہو۔
145ھ میں ابو جعفر منصور نے اس پر قبضہ بنایا اور اندر سنگ مرمر کافرش کیا۔ پھر مامون رشید نے آبِ زَم زَم کی مٹی نکلواکراس کو گہرا کیا۔
ایک مرتبہ کوئی دیوانہ کنویں کے اندر کود پڑا تھا۔ اس کے نکالنے کے لیے ساحل جدہ سے غواص بلائے گئے۔ بمشکل اس کی نعش ملی اور کنویں کو پاک صاف کرنے کے لیے بہت سا پانی نکالا گیا۔ اس لیے 1020ھ میں سلطان احمد خاں کے حکم سے آبِ زَم زَم کے اندر سطح آب سے سوا تین فٹ نیچے لوہے کا ایک جال ڈال دیا گیا۔ 1039 ھ میں سلطان مراد خاں مرحوم نے جب کعبہ شریف کو از سرنو تعمیر کیا تو آبِ زَم زَم کی بھی نئی بہترین تعمیر کی گئی۔ تہہ آب سے اوپر تک سنگ مرمر سے مزین کردیا اور زمین سے ایک گز اونچی 2 گز عریض منڈیر بنوادی۔ ارد گرد چاروں طرف دو دو گزتک سنگ مرمر کا فرش بناکر اس پردیواریں اٹھادیں اور ان پر چھت پاٹ کر ایک کمرہ بنوادیا جس میں سبز جالیاں لگادیں۔
Advertisements
2 comments
  1. mani said:

    جزاکِ اللہ

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: