حضرت سودہ بنتِ زمعہ ؓ

حضور اکرم کو سیدہ خدیجہ ؓ سے بے پناہ محبت تھی ۔ انہوں نے جس طرح آنحضور کے ساتھ مشکل حالات میں تعاون کیا وہ ان کے بے مثل کردار کا عظیم پہلو ہے ۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ” جب کفار مجھے ستاتے ، مجھ پرنارواالزامات لگاتے اور لغو باتیں بناتے تو میں گھر میں خدیجہ سے اس کا تذکرہ کرتا ۔وہ اتنی عظیم خاتون تھیں کہ نہایت حکمت کے ساتھ میرا حوصلہ بڑھاتیں یہاں تک کہ میرے دل کو سکون مل جاتا ۔خدیجہ ؓ میرے ہر رنج و غم کوہلکاکردیاکرتی تھیں ۔
جب سیدہ خدیجہ فوت ہو ئیں تو اسی سال یعنی 10نبوی میں آپ کے مشفق چچا ابو طالب بھی وفات پاگئے ۔ آنحضور کی سیرت میں یہ سال عام الحزن ( غم کا سال ) کہلاتاہے ۔ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد آنحضور اپنےگھرکےمعاملات کے بارے میں خاصے فکر مند تھے ۔ ان دو عظیم شخصیات کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد دعوت کےمیدان میں بھی آپ کی مشکلات کئی گنا بڑھ گئیں ۔
آپ کی د وبچیاں حضرت زینب اور حضرت رقیہ شادی کے بعد اپنے اپنے گھروں میں چلی گئی تھیں ۔ حضرت ام کلثوم اورفاطمۃ الزہرا
ؓ گھر میں تھیں اور دنوں نو عمر تھیں۔
کارِ نبوت کے تقاضے پورے کرنا کوئی آسان کام نہ تھا ۔ اس پر مستزاد گھر کی پریشانیاں ، ان حالات میں اللہ تعالیٰ نےآپ کے لیے ایسا بہترین انتظام فرمایا کہ گھر کے محاذ سے آپ کافی حد تک مطمئن ہو گئے ۔ آپ کی ایک صحابیہ حضرت سودہ بنت زمعہؓ جو ابتدائی مسلمانوں میں سے تھیں ، اور ہجرت حبشہ کی سعادت بھی حاصل کر چکی تھیں ، ہجرت سے واپسی پر مکہ میں اپنے شوہر حضرت سکران بن عمروکے ساتھ واپس آئیں تو ان کے خاوند فوت ہو گئے ۔
وہ دونوں میاں بیوی خاندان بنو عبدشمس میں سے تھے ، جو قریش کا ایک معروف اور معزز گھرانہ تھا ۔حضرت سکران اورسیدہ سودہ کا ایک ہی بیٹا عبدالرحمن تھا جو اس وقت نوخیز جوان تھا ۔ حضرت سودہ اپنے شوہر کی وفات سے غم زدہ تھیں مگر اللہ ان پر اپنے انعامات کی نظر رحمت ڈال رہا تھا ۔ قسمت و مقدر کے فیصلے اسی کے ہاتھ میں ہیں۔
مشہور صحابیہ حضرت خولہ بنت حکیم (جو حضرت خدیجہ کی رشتہ دار تھیں)نے آنحضور کو مشورہ دیا کہ وہ حضرت  سودہ کو اپنے نکاح میں لے لیں کیونکہ وہ گھر کے معاملات اور بچیوں کی دیکھ بھال کے لیے نہایت موزوں اور موثر خاتون ہیں ۔آنحضور نے فرمایا ٹھیک ہے ۔ پھر حضرت خولہ نے حضرت سودہ سے بات کی تو وہ اور ان کے والد زمعہ دونوں اس پیغام سے خوش ہوئے ۔ حضرت خدیجہ کی وفات کے چند ہی دن بعد یہ مبارک نکاح وقوع پذیر ہوا اور حضرت سودہ آنحضور کے حرم میں داخل ہو گئیں ۔
مورخین نے حضرت سودہ ؓکے ایک خواب کا ذکر کیا ہے جس میں انھوں نے دیکھاتھا کہ وہ تکیے پر سر رکھے لیٹی تھیں کہ آسمان پھٹا اور چاند ان کے اوپر آ گرا ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب دونوں میاں بیوی داخل اسلام ہو چکے تھے ۔ انہوں نے یہ خواب حضرت سکران کے سامنے بیان کیا ۔ انہوں نے اس کی تعبیر یہ بتائی کہ وہ فوت ہو جائیں گے اور حضرت سودہ آنحضور کے گھر میں داخل ہوں گی ،چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔
مکی زندگی میں بیت نبوی میں جن دو عظیم المرتبت امہات المومنین کو داخلے کاشرف حاصل ہوا ، وہ حضرت خدیجہ اورحضرت سودہ ہی تھیں۔آنحضور کی ہجرت کے بعد آپ کے اہل بیت کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنا پڑی ۔ حضرت زیدبن حارثہؓ اور حضرت ابو رافعؓ آپ کے اہل بیت کو اس مبارک سفر پر لے کرنکلے ۔ اس پاکیزہ قافلے میں حضرت سودہؓ،حضرت ام کلثومؓ اور حضرت فاطمہ ؓ شامل تھیں ۔
حضرت سودہ آنحضور کے گھر میں بہت خوش و خرم رہیں ۔ وہ کئی خوبیوں کی مالک تھیں ۔ بچیوں کی دیکھ بھال اورتربیت کے علاوہ وہ دستکاری کے کئی کام جانتی تھیں ۔ انہیں اپنی حرفت سے جو آمدنی ہوتی تھی اس کا بیش تر حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتی تھیں ۔ جب دور خلافت راشدہ میں تمام مسلمانوں کو وظائف ملنے لگے تو وہ بیش تر رقم فوراً حاجت مندوں میں بانٹ دیتی تھیں ۔آنحضور کی ازواج مطہرات میں سے حضرت عائشہ واحد زوجہ تھیں جو نو عمر اور کنواری تھیں ۔حضرت سودہ چونکہ عمر رسیدہ تھیں اس لیے آنحضور کی برابری کی بنیاد پر تقسیم شدہ باریوں میں سےاپنےحصےکا وقت انہوں نے حضرت عائشہ کو دے دیا تھا ۔
حضرت عائشہؓ، حضرت سودہؓ کی بڑی تعریف کیا کرتی تھیں ۔ ان کا ایک قول ہے کہ ” عورتوں میں سوکن ہونے کی وجہ سے جو جذبہ رقابت ہوتاہے اس سے ایک ہی عورت میں نے خالی دیکھی ہے اور وہ تھیں حضرت سودہؓ ۔“
حضرت سودہؓ بھی آنحضور کی دل جوئی میں حضرت خدیجہؓ کی طرح کوئی کسر نہ اٹھا رکھتی تھیں ۔ وہ حسِ مزاح سےبھی مالا مال تھیں ۔ آنحضور کے ساتھ ایک رات قیام اللیل میں کھڑی ہو گئیں اور آپ کی طویل نماز پر آپ  سے عرض کیا یار سول اللہ مجھے تو رکوع میں یوں محسوس ہوا کہ میری نکسیر ہی پھوٹ جائے گی ۔ پھر میں نے ناک پراپناہاتھ رکھ لیا ۔ یہ سن کر آنحضور بہت محظوظ ہوئے ۔
آنحضور نے اپنی ازواج مطہرات کو حکم دیا تھاکہ چونکہ ان سب نے حج کر لیاہے اس لیے ان کے لیے بہتر یہ ہوگاکہ اس کے بعد اپنے گھروں میں بیٹھیں ۔ چونکہ اس حکم میں یہ گنجائش موجود تھی کہ گھروں سے کسی اور کام کےلیےتو نکلنا مناسب نہیں مگر حج و عمرہ اس سے مستثناہے مگر حضرت سودہ نے آنحضور کے اس حکم پر من و عن عمل کیا۔وہ فرمایا کرتی تھیں کہ میں نے حج بھی کر لیا ہے اور عمرہ بھی اس لیے اب میرے لیے گھر کا قیام ہی بہتر ہے۔وہ
اس کے بعد زندگی بھر سورة الاحزاب میں اللہ کے حکم
وقرن فی بیوتکن اور حجۃ الوداع میں آنحضور کے مذکورہ بالا ارشاد کی روشنی میں گھر سے باہر نہ نکلیں ۔
پردے کا حکم آنے سے قبل حضرت عمر آنحضور سے مسلسل عرض کیا کرتے تھے کہ ازواج مطہرات پردہ کیا کریں۔ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت سودہ کو رات کے وقت قضائے حاجت کے لیے باہر جاتے دیکھا تو انہیں پہچان لیااوراسکااظہاربھی کیا ۔ حضرت سودہ کو یہ بات ناگوار گزری مگر اس کے بعد جلد ہی پردے کا حکم آگیا ۔ حضرت سودہؓ آنحضور کو ہمیشہ خوش و خرم رکھتی تھیں ۔ آپ کو ان سے کبھی کوئی شکایت پیدا نہ ہوئی ۔
تمام صحابہ و صحابیات کے ایمان افروز واقعات کا مطالعہ بالکل واضح کرتاہے کہ ان کی زندگی کے ہر پہلو سےکوئی نہ کوئی درس اور جذبہ عمل امت کی طرف منتقل ہوتاہے ۔ حضرت سودہ کی زندگی جدوجہد ، قربانی وایثار ، للہیت و اخلاص ، خیرخواہی و انفاق اور مکمل تسلیم و رضا کا مظہر ہے ۔ اللہ اور اس کے رسول کا حکم حرف آخر ہے ۔ نیکی وہی ہے جو اللہ کی
کتاب اور رسول اللہ
کے ارشادات و اعمال میں بیان کر دی گئی ہے ۔ اللہ کرے آج ہم یہ متاع گم شدہ پھر حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں ۔

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: