حضرت ایوب علیہ السلام-1

حضرت ایوب علیہ السلام جو صبر و استقامت كا نمونہ تھے،ان كا ذكر اس لئے ہے تاكہ اس وقت كے اور پھر اج كےاورائندہ كے مسلمانوں كے لئے مشكلوں اور پریشانیوں میں استقامت ،قیام اور جد و جہد كا درس ہواور انھیں پامردى كى دعوت دى جائے اور اس صبر و استقامت كا حسن انجام واضح كیاجائے۔
حضرت ایوب علیہ السلام نبى ہیں كہ ہمارے عظیم نبى ﷺنے ان كے واقعہ كو مسلمان كےلئے بیان کیا تاكہ مسلمان بڑى بڑى مشكلات سے نہ گھبرائیں اوراس كى رحمت سے كبھى بھى مایوس نہ ہوں ۔( بر خلاف موجودہ توریت كے كہ جو انھیں انبیاء كے زمرے میں شمار نہیں كرتى بلكہ انھیں ایك نیك اور صالح انسان سمجھتى ہے كہ جن كى بہت سى اولاد تھى اور جو صاحب مال شخص تھے۔)
قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:”ہمارے بندے ایوب كو یاد كرو كہ جب اس نے اپنے پروردگار كو پكارا اور عرض كی:شیطان نے مجھے بہت تكلیف اور اذیت میں مبتلا كر ركھا ہے”۔(سورہ انبیاء آیت 41)
اولاً :بارگاہ الہى میں حضرت ایوب علیہ السلام كا بلند مقام ”عبدنا ”(ہمارابندہ )سے معلوم ہوتا ہے۔
ثانیاً:اشارتاً حضرت ایوب علیہ السلام كى شدید اور طاقت فرسا تكلیف اور فراواں مصیبت كا ذكر ہے ،اس ماجرے كى تفصیل قران میں نہیں ائی لیكن حدیث و تفسیر كى مشہور كتب میں اس كى تفصیل نقل ہوئی ہے ۔
وہ مصیبت جو حضرت ایوب علیہ السلام كو دامن گیر ہوئی ،كس بنا پر تھى ؟
اس كا تفصیلى جواب یوں ہے :
ایوب علیہ السلام كفران نعمت كى وجہ سے ان عظیم مصائب میں گرفتا رنہیں ہوئے بلكہ اس كے بر عكس شكر نعمت كى وجہ سے ہوئے، كیونكہ شیطان نے بارگاہ خدا میں عرض كى كہ یہ جو ایوب تیرا شكر گزار ہے وہ فراواں نعمتوں كى وجہ سے ہےكہ جو تونے اسے دى ہیں ، اگر یہ نعمتیں اس سے چھین لى جائیں تو یقینا وہ كبھى شكر گزار بندہ نہیں ہو گا۔اس بنا پر كہ سارى دنیا پر ایوب علیہ السلام كا خلوص واضح ہو جائے اور انھیں عالمین كے لئے نمونہ قرار دیا جائے تاكہ لوگ نعمت اور مصیبت ہر دوعالم میں شاكر و صابر وہیں ۔اللہ نے شیطان كو اجازت دى كہ وہ حضرت ایوب علیہ السلام كى دنیا پر قبضہ كر لے، شیطان نے اللہ سے خواہش كى ایوب كا فراواں مال و دولت ،ان كى كھیتیاں ،بھیڑ بكریاں اور ال اولادسب ختم ہو جائے ۔افتیں اور مصیبتیں ائیں اور دیكھتے ہى دیكھتے سب كچھ تباہ و برباد ہو گیا لیكن نہ صرف یہ كہ ایوب علیہ السلام كے شكر میں كمى نہیں ائی بلكہ اس میں اور اضافہ ہو گیا۔خدا سے شیطان نے خواہش كى كہ اب اسے ایوب علیہ السلام كے بدن پر بھى مسلط كردے اور وہ اس طرح بیمار ہو جائیں كہ ان كا بدن شدت درد كى لپیٹ میں اجائے اور وہ بیمارى كے بستر كا اسیر ہوجائے لیكن اس چیز نے بھى ان كے مقام شكر میں كمى نہ كى ۔پھر ایك ایسا واقعہ پیش ایا كہ جس نے ایوب علیہ السلام كا دل توڑ دیا اور ان كى روح كو سخت مجروح كیا، وہ یہ كہ نبى اسرائیل كے راہبوں كى ایك جماعت انھیں دیكھنے ائی اور انھوں نے كہا كہ تونے كون سا گناہ كیا ہے جس كى وجہ سے اس درد ناك عذاب میں مبتلا ہے؟ایوب علیہ السلام نے جواباً كہا: میرے پرور دگار كى قسم كہ مجھ سے كوئی غلط كام نہیں ہوامیں ہمیشہ اللہ كى اطاعت میں كوشاں رہا ہوں اور میں نے جب بھى كوئی لقمہ غذا كا كھایا ہے كوئی نہ كوئی یتیم و بے نوا میرےدسترخوان پر ہوتا تھا۔
یہ ٹھیك ہے كہ ایوب علیہ السلام دوستوں كى اس شماتت پر ہر دوسرى مصیبت سے زیادہ دكھى ہوئے پھر بھى صبر كا دا من نہ چھوڑا اور شكر كے صفاف و شریں پانى كو كفران سے الودہ نہ كیا،صرف بارگاہ خدا كى طرف رخ كیا اور مذكورہ جملہ عرض كیا اور چونكہ آپ اللہ كے امتحانوں سے خوب عہدہ بر اہوئے لہذا اللہ نے اپنے اس شاكر و صابر بندے پر پھراپنى رحمت كے دروازے كھول دیئے اور كھوئی ہوئی نعمتیں یكے بعد دیگرے پہلے سے بھى زیادہ انھیں عطا كیں تاكہ سب لو گ صبروشكر كا نیك انجام دیكھ لیں ۔
بہرحال كہتے ہیں كہ ان كى بیمارى اور ناراحتى سات سال تك رہى اور ایك رو آیت كے مطابق سترہ برس تك رہى ،یہاں تك كہ آپ كے نزدیك ترین ساتھى بھى ساتھ چھوڑ گئے ،صرف ایك بیوى نے وفا میں استقامت كى اور یہ چیز خود ایك شاہد ہے بعض بیویوں كى وفادارى پر۔
لیكن حضرت ایوب علیہ السلام كو جس چیز سے زیادہ دكھ ہوتا تھا وہ دشمنوں كى شماتت تھی،اسى لئے ایك حدیث میں ہے كہ جب حضرت ایوب علیہ السلام كو كھوئی ہوئی صحت و سلامتى پھر مل گئی اور رحمت الہى كے دروازے ان كے لئے كھل گئےتولوگوں نے آپ سے سوال كیا كہ سب سے شدید دردآپ كو كون سا تھا؟

توآپ نے كہا:دشمنوں كى شماتت ۔

آخرم كار حضرت ایوب علیہ السلام ازمائش  الہى كى اس گرم بھٹى سے صحیح و سالم باہر نكل ائے اور پھر رحمت خداكااغازہوا،انھیں حكم دیا گیا كہ” اپناپاو ں زمین پر مارو”تو پانى كا چشمہ ابل پڑے گا كہ جو تیرے نہانے كے لئے ٹھنڈا بھى ہوگااورتیرے پینے كے لئے عمدہ بھی۔( سورہ ص آیت 42)
وہى خدا جس نے خشك اور تپتے بیابان میں شیر خوار اسماعیل كى ایڑیوں كے نیچے چشمہ پیدا كر دیا ،وہى خدا كہ ہر حركت وسكون اور ہر نعمت و عن آیت جس كى طرف سے ہے،اس نے یہ فرمان ایوب علیہ السلام كے لئے بھى صادر فرمایا ،پانى كاچشمہ ابلنے لگا،ٹھنڈا اور میٹھا چشمہ جو اندرونى و بیرونى سب بیماریوں كے لئے شفا بخش تھا۔

بعض كا خیال ہے كہ اس چشمے میں ایك طرح كا معدنى پانى تھا جو پینے كے لئے بھى اچھا تھا اور بیماریوں كودروكرنےكےلئےبھى مو ثر تھا ،بہر حال كچھ بھى تھا ایك صابر و شاكر بنى كے لئے اللہ كا لطف و كرم تھا۔

كچھ لوگوں نے یہ احتمال بھى ذكر كیا ہے كہ وہ سب یا ان میں سے بعض افراد بھى طرح طرح كى بیماریوں میں مبتلاہوگئےتھے رحمت الہى ان كے شامل حال ہوئی وہ سب رو بصحت ہوئے اور پروانوں كى طرح وجود پدر كى شمع كےگردجمع ہوئے ۔

”اور ان كے ساتھ ان كے مانند بھى قرار دیئے ”یہ اس طرف اشارہ ہے كہ اللہ نے ان كے گھر كو پہلے سے بھى زیادہ اباد اور پر رونق كیا اور ایوب علیہ السلام كو مزید بیٹے عطا كئے ۔

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: