جمعۃ المبارک-02

اذانِ جمعہ
جس اذان کا اس آیت میں ذکر ہے، اس سے مراد وہ اذان ہے، جو امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد ہوتی ہے۔ نبیِ اکرمﷺ کے زمانے میں یہی ایک اذان تھی۔ جب آپ حجرہ سے تشریف لاتے، منبر پر جاتے، تو آپ کےمنبرپربیٹھنےکےبعد آپ ﷺکے سامنے یہ اذان ہوتی تھی۔ اس سے پہلے کی اذان حضور اکرم ﷺ ، حضرت ابوبکرصدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے میں نہیں تھی۔ حضرت عثمان بن عفانؓ کے زمانے میں جب لوگ بہت زیادہ ہوگئے تو آپ نے دوسری اذان ایک الگ مکان (زوراء) پر کہلوائی تاکہ لوگ نماز کی تیاری میں مشغول ہوجائیں۔ زوراءمسجد کے قریب سب سے بلند مکان تھا۔
ایک اہم نقطہ
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا:جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے۔۔۔جب نماز سے فارغ ہوجائیں۔۔۔
یہ اذان کس طرح دی جائے؟
اس کے الفاظ کیاہوں؟
نماز کس طرح ادا کریں؟
یہ قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے، البتہ حدیث میں ہے۔ معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کریم سمجھنا ممکن نہیں ہے۔
جمعہ کا نام جمعہ کیوں رکھا گیااس کے مختلف اسباب ذکر کیے جاتے ہیں:
1-جمعہ ”جمع“ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں  جمع ہونا؛ کیونکہ مسلمان اِس دن بڑی مساجد میں جمع ہوتے ہیں اورامت ِمسلمہ کے اجتماعات ہوتے ہیں ، اِس لیے اِس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے۔
2-چھ دن میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور تمام مخلوق کو پیدا فرمایا۔ جمعہ کے دن مخلوقات کی تخلیق مکمل ہوئی یعنی ساری مخلوق اس دن جمع ہوگئی؛ اس لیے اِس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے۔
3-اِس دن یعنی جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، یعنی اُن کو اِس دن جمع کیا گیا۔
 
اسلام کا پہلا جمعہ
یوم الجمعہ کو پہلے ”یوم العروبہ“ کہا جاتا تھا۔ نبیِ اکرم ﷺ کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے اور سورہٴ جمعہ کے نزول سے قبل انصار صحابہؓ نے مدینہ منورہ میں دیکھا کہ یہودی ہفتہ کے دن ، اور نصاریٰ اتوار کے دن جمع ہوکر عبادت کرتے ہیں؛ لہٰذاسب نے طے کیا کہ ہم بھی ایک دن اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لیے جمع ہوں؛ چنانچہ حضرت ابو امامہؓ کے پاس جمعہ کے دن لوگ جمع ہوئے، حضرت اسعد بن زرارةؓ نے دو رکعت نماز پڑھائی۔ لوگوں نے اپنے اِس اجتماع کی بنیاد پر اِس دن کا نام ”یوم الجمعہ“ رکھا ؛ اس طرح سے یہ اسلام کا پہلا جمعہ ہے (تفسیر قرطبی)
 
نبی اکرم ﷺ کا پہلا جمعہ
 نبی اکرم ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے وقت مدینہ منورہ کے قریب بنو عمروبن عوف کی بستی قبا میں چندروز کے لیے قیام فرمایا۔ قُبا سے روانہ ہونے سے ایک روز قبل جمعرات کے دن آپ ﷺ نے مسجد قبا کی بنیاد رکھی۔ یہ اسلام کی پہلی مسجد ہے، جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی۔ جمعہ کے دن صبح کو نبی اکرم ﷺ قُبا سے مدینہ منورہ کےلیےروانہ ہوئے۔ جب بنو سالم بن عوف کی آبادی میں پہونچے تو جمعہ کا وقت ہوگیا، تو آپ ﷺ نےبطنِ وادی میں اُس مقام پر جمعہ پڑھایا جہاں اب مسجد (مسجد جمعہ) بنی ہوئی ہے۔ یہ نبی اکرم ﷺ کا پہلا جمعہ ہے(تفسیر قرطبی)۔
 
جمعہ کے دن کی اہمیت
 یہودیوں نے ہفتہ کا دن پسند کیا جس میں مخلوق کی پیدائش شروع بھی نہیں ہوئی تھی، نصاری نے اتوار کو اختیار کیا، جس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتدا ہوئی تھی۔ اور اِس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نےمخلوق کو پورا کیا تھا۔ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا  ہم دنیا میں آنےکےاعتبارسےتوسب سے پیچھے ہیں؛
لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔مسلم کی روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلہ ہمارے بارے میں ہوگا (ابن کثیر)
Advertisements
1 comment
  1. شکریہ بہن ۔ ۔

    "جب آپ حجرہ سے تشریف لاتے، منبر پر جاتے، تو آپ کےمنبرپربیٹھنےکےبعد آپ ﷺکے سامنے یہ اذان ہوتی تھی۔ اس سے پہلے کی اذان حضور اکرم ﷺ ، حضرت ابوبکرصدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے میں نہیں تھی۔ حضرت عثمان بن عفانؓ کے زمانے میں جب لوگ بہت زیادہ ہوگئے تو آپ نے دوسری اذان ایک الگ مکان (زوراء) پر کہلوائی تاکہ لوگ نماز کی تیاری میں مشغول ہوجائیں۔ زوراءمسجد کے قریب سب سے بلند مکان تھا۔”

    ممکن ہو تو اس کا ریفرنس بھی بتا دیں کہ میرے ایک دوست کو بتانا ہے ۔ ۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: