نبی پاکﷺکی کثرتِ ازواج کےاسباب

حضرت ﷺنے 25 سال کا عرصہ تجرد اور عفت وپاکبازی سے گزارا ۔ 25 سال کی عمر میں ایک ایسی خاتون (حضرت  خدیجہؓ ) سے نکاح کیا جو بیوہ تھیں اورعمر میں آپ اسے پندرہ سال بڑی تھیں ۔ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد ‘اپنی عمرکےپچاسویں سال جس خاتون (حضرت سودہؓ ) سے نکاح کیا وہ آپ کی ہم سن اور بیوہ تھیں ۔ بقیہ 9 ازواج مطہرات سےآپ کا نکاح 53سال کی عمر سے 60 سال کی عمر کے درمیانی عرصہ میں ہوا ۔ یہ ساری خواتین (سوائے حضرت عائشہؓ کے ) ایک دو یا تین شوہروں کی بیویاں رہ چکی تھیں ۔
اپنی عمر کے آخری تین سالوں میں ‘جب کہ جزیرة العرب کے بڑے حصے پرآپ کا اقتدار قائم ہوچکا تھا ‘آپ نے کوئی نکاح نہیں کیا ۔ یہ وہ حقائق ہیں جن سے اس اعتراض کی جڑ کٹ جاتی ہے کہ آنحضرت ﷺکی کثرت ازدواج کا سبب آپ ﷺﷺکی بڑھی ہوئی نفسانی خواہش تھی ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس کے کیا اسباب تھے ؟ آنحضرت ﷺکے نکاحوں میں غورکرنے سے درج ذیل اسباب سامنے آتے ہیں:
1-اصحاب کی دل جوئی
دین کی تبلیغ واشاعت کی راہ میں بعض صحابہ وصحابیات نے غیر معمولی قربانیاں دی تھیں اور ان کی نصرت اور تعاون سےآپ کو بہت سہارا ملا تھا ۔ آپ ﷺنے ان کی دل جوئی کرنے ، ان کی رفاقت کو پختہ ترکرنے اور ان کی قدر افزائی کے لیے بعض نکاح کیے ۔ مثلاً حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ آپ کے قریب ترین اصحاب تھے ۔ آپ نے ان کی دل جوئی اورقدر دانی کے لیے ان کی صاحب زادیوں حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ سے نکاح کیا ۔ حضرت سودہؓ ابتدائی عہد میں اسلام قبول کرنے اور حبشہ ہجرت کرنے والوں میں سے تھیں ۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے سخت آزمائشیں جھیلیں تھیں ۔ ان کی سبقتِ اسلام ، ہجرت حبشہ اورقربانیوں کا لحاظ کرتے ہوئے حضور ﷺنے ان سے نکاح کیا ۔ اس وقت ان کی عمر پچاس سال تھی اور حضور کی بھی اتنی ہی تھی ۔ ہرذی عقل سمجھ سکتا ہے کہ ایک پچاس سالہ بیوہ سے نکاح میں جنسی محرک کیا ہوسکتا ہے ؟
حضرت زینب بنت خزیمہؓ کے تیسرے شوہر عبداللہ بن جحشؓ آپ ﷺکے پھوپھی زاد بھائی تھے ۔ وہ غزوہ احد میں شہیدہوگئے تو آپ ﷺنے قرابت کا لحاظ کرتے ہوئے اور غزوہ احد میں صحابہ کے شہید ہوجانے سے پیدا ہونے والی سماجی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے حضرت زینبؓ سے نکاح کیا ۔
حضرت ام سلمہؓ کے پہلے شوہر حضرت ابوسلمہؓ حضور کے رضاعی بھائی اور اور السابقون الالون میں سے تھے ۔ انہوں نےحبشہ ہجرت کی تھی، پھر وہاں سے واپس آکر ہجرتِ مدینہ کا شرف بھی حاصل کیا تھا اور اس میں اپنی بیوی اوربچےسےطویل عرصہ تک جدائی بھی برداشت کی تھی ۔ انہوں نے غزوہ احد میں زخمی ہونے کے بعد وفات پائی ۔ اس وقت ان کے چار بچے تھے ۔ حضور ﷺنے زوجین کی بے مثال قربانیوں کی قدر افزائی اور بچو ں کی کفالت کےمقصدسےحضرت ام سلمہؓ سے نکاح کیا ۔
اسی طرح حضرت زینب بنت جحشؓ سے آپ نے ان کی دل شکنی اور ذہنی اذیت کی تلافی کے لیے نکاح کیا تھا ۔
2-دین کی توسیع اور استحکام
جب آنحضرت ﷺکی بعثت ہوئی اس زمانے میں عرب میں قبائلی نظام بڑا مستحکم تھا ۔ اپنے کسی فرد کی حمایت میں عموماًپورا قبیلہ متحد ہوجاتا تھا ۔
کفار نے جب آپ ﷺکی معاشی بائیکاٹ کیا تو پورے بنوہاشم نے آپ کا ساتھ دیا تھا ۔ آنحضرتﷺکی تمام ازواج الگ الگ قبیلوں سے تعلق رکھتی تھیں ۔ حضرت خدیجہؓ بنو عزی ، حضرت سودہؓ بنو عامر، حضرت عائشہؓ بنو تیم ، حضرت حفصہؓ بنو عدی ، حضرت زینب بنت خزیمہؓ بنو ہلال ، حضرت ام سلمہؓ بنو مخزوم ، حضرت زینب بنت جحشؓ بنو اسد ، حضرت جویریہؓ بنو مصطلق ، حضرت صفیہؓ بنو ہارون ، حضرت ام حبیبہؓ بنو امیہ ، حضرت میمونہؓ بنو عیلان ۔
مختلف قبائل میں آنحضرت ﷺکے نکاح کرنے سے ایک فائدہ یہ حاصل ہوا کہ ان قبائل سے قربت پیدا ہوئی ،انہوں نے سنجیدگی سے اسلام کے بارے میں غور کیا اور اسے قبول کرنے کے لیے آگے بڑھے ۔ اس طرح مختصر مدت میں دین کی توسیع اور استحکام کی راہ ہموار ہوئی ۔
3-عداوتوں کا خاتمہ
ان نکاحوں سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ جن قبائل اور خاندانو ں سے آپ کے سسرالی رشتے قائم ہوئے انہوں نے اپنی عداوتیں ختم کردیں اور آپ کے خلاف ان کی سرگرمیاں ٹھنڈی پڑگئیں ۔
حضرت ام حبیبہؓ ابوسفیان ؓ  کی بیٹی تھیں جنہوں نے آنحضرت ﷺکے خلاف ہر موقع پر لشکر کی قیادت کی تھی ۔ لیکن ان سے آپؓ کے نکاح کے بعد ان کے باپ کی مخالفت کم زور پڑگئی اور وہ پھر کبھی آپ ﷺ کے مقابلے پر نہیں آئےیہاں تک کہ کچھ عرصہ کے بعد وہ اور ان کے دونوں فرزند حضرت معاویہ ؓ  اور حضرت یزید ؓ  حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔ حضرت جویریہؓ قبیلہ بنو مصطلق کے سردار حارث کی بیٹی تھیں ۔ ان سے نکاح کے بعد ان کا پورا قبیلہ رہزنی سے
تائب ہوکر مسلمان ہوگیا ۔ حضرت صفیہؓ کا تعلق یہود کے اس قبیلے سے تھا جس کا سلسلہ نسب حضرت ہارون علیہ السلام سے جا ملتا ہے ۔ ان کے امہات المومنین میں شامل ہونے سے یہود کی سازشوں کو کم کرنے میں مدد ملی ۔
4-عورتوں کی تعلیم وتربیت
آنحضرت ﷺجس مقصدکولے کر مبعوث ہوئے اس کے لیے صرف مردوں کی تعلیم وتربیت کافی نہیں تھی بلکہ عورتوں کی تعلیم وتربیت بھی اتنی ہی ضروری تھی ۔ لیکن چوں کہ اسلامی معاشرت میں مردوں اور عورتوں کا آزادانہ اختلاط ممنوع تھا اس لیے عورتوں کی براہ راست تعلیم وتربیت کے لیے زیادہ وقت فارغ کرنا آپ ﷺکے لیے ممکن نہ تھا ۔ دوسرےبہت سے نسوانی مسائل ایسے ہیں جن کو علی الاعلان یا عورتوں کے سامنے کھول کر بیان کرنے میں حیا مانع ہوتی ہے اور اللہ کے رسول ﷺجیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ کنواری پردہ نشیں سے زیادہ حیادار تھے (بخاری ،مسلم) اس بناپر عورتوں کی تعلیم وتربیت کا اس سے بہتر اور کوئی طریقہ نہیں ہوسکتا تھا کہ آپ مختلف خواتین سے نکاح کرکے ان کی براہ راست تعلیم وتربیت کریں اور انہیں دوسری عورتوں کو دین سکھانے کے لیے تیار کریں ۔ نسوانی مسائل کی بہت سی گتھیوں کو سلجھانے میں ازواج مطہرات کا غیرمعمولی کردار ہے ۔ انہوں نے وہ مسائل خود آنحضرت ﷺسے دریافت کرکے دوسری صحابیات کو بتائے یا صحابیات ان کی خدمت میں حاضر ہوکر دریافت کرتی تھیں تو وہ حضور ﷺسے رجوع کرکے انہیں جواب دیتی تھیں ۔
مخصوص مسائل سے ہٹ کر بھی بہت سی تعلیما ت اور احکام کا علم امت کو ازواج مطہرات ہی کے واسطے سے ہوا ہے ۔ وہ خلوت گاہِ نبوت کی رازدار تھیں ۔
انہیں بہت سی ان باتوں کی خبر رہتی تھی جو دوسروں کی نگاہوں سے پوشیدہ تھیں ۔ دین کی بہت سی تعلیمات انہوں نےخود رسول اللہ ﷺسے دریافت کرکے حاصل کیں اور آپ ﷺبھی انہیں مستفیدفرماتےرہتےتھے۔آنحضرتﷺکےارشادات عالیہ کی معتدبہ تعداد ایسی ہے جو ہم تک صرف ازواج مطہرات کے ذریعے سے پہنچی ہے ۔
5-حسن معاشرت کا اعلی نمونہ
آنحضرت ﷺنے اپنی ازدواجی زندگی کے ذریعے حسن معاشرت کا اعلی نمونہ پیش کیا ۔ آپ کی ازواج مختلف قبائل سےتعلق رکھتی تھیں ۔ ان کی عمریں بھی متفاوت تھیں اور ان کے مزاجوں میں بھی فرق تھا ۔ ان میں ایک کنواری تھی اور ایک مطلقہ ۔ان میں ایک ایک شوہر کی بیوائیں بھی تھی ، دو دو شوہروں کی بیوائیں بھی اور تین شوہروں کی بیوہ بھی ۔ لیکن ان کے تعلقات آپس میں ہمیشہ خوشگوار رہے اور ان میں سے ہرایک کے ساتھ آنحضرت ﷺکے تعلقات بھی مثالی رہے ۔
آپ ﷺکی حیات طیبہ اس شخص کے لیے بھی زندہ نمونہ ہے جس کا نکاح اپنے سے بڑی اور پختہ عمر کی عورت کےساتھ ہواہو کہ اس کے ساتھ کیسی خوش گوار ازدواجی زندگی گزاری جا سکتی ہے اور اس شخص کے لیے بھی جس کی بیوی نوعمرہوکہ کس طرح اس کی دل داری کی جاتی ہے ۔ آپ کی زندگی ہر شخص کے لیے اسوہ ہے ، خواہ اس کا نکاح کنواری سے ہوا ہو یا مطلقہ سے ، کسی صاحب اولاد سے ہواہو یا بے اولاد بیوہ سے ۔ آپ ﷺکی کثرت ازواج کی ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ اس طرح مختلف پہلوؤں سے آپ کا اسوہ نمایاں ہو اور ہرشخص اپنے حالات کے لحاظ سے اس سے رہنمائی حاصل کرسکے ۔
6-لے پالک کے جاہلی طریقے کا خاتمہ
زمانہ جاہلیت میں یہ طریقہ عام تھاکہ لوگ کسی کولے پالک بنالیتے اور وہ صلبی بیٹے کے جیسے وراثت کا بھی حقدار ٹھہرتا تھا۔ جب زید بن حارثہ ؓ  کو خدیجہؓ نے اللہ کے رسول ﷺکی تحویل میں کیا اوراللہ کے رسول ﷺحضرت زید ؓ کی دیکھ بھال کرنے لگے تو لوگوں نے زید ؓ  کو زید بن محمد کے نام کے پکارنا شروع کردیا،جس سے بروقت روک دیا گیا لیکن اللہ تعالی لے پالک کا پوری طرح خاتمہ کردینا چاہتا تھا،اور یہ اسی وقت ممکن تھا جب عملی نمونہ سامنے آجائے چنانچہ اللہ کے نبی ﷺکے تعدد ازدواج کی مصلحتوں میں سے ایک مصلحت لے پالک کا خاتمہ بھی ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺکی پھوپھی زاد بہن زینبؓ کی شادی آپ ﷺکے آزاد کردہ غلام زید ؓ  کے ساتھ ہوئی تھی ، لیکن ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے اور مزاج میل نہ کھانے کی وجہ سے ایک ڈیڑھ سال کے اندر ہی طلاق کی نوبت آ گئی۔
چنانچہ زید ؓ  نے حضرت زینبؓ کو قید نکاح سے آزاد سے آزاد کردیا۔ جب زینب بنت جحشؓ کی عدت پوری ہو گئی تو اللہ تعالی نے نبی ﷺکو حکم دیا کہ آپ اس سے نکاح کرلیں ۔ اس طرح آپ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی تعمیل کی اور حضرت زینبؓ آپ ﷺکی زوجیت میں آ گئیں ۔
اس نکاح نے وہ رکاوٹ دور کر دی جو منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے بیاہ کرنے کے سلسلے میں زمانہ جاہلیت سے چلی آ رہی تھی اور اسلام کے عائلی قانون کی ایک اہم دفعہ روشن ہو کر سامنے آ گئی۔

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: