جمعۃ المبارک-01

اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ساری کائنات پیدا فرمائی اور ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دی․․․․ سات دن بنائے،اور جمعہ کے دن کو دیگر ایام پر فوقیت دی۔ جمعہ کے فضائل میں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کےتمام ایام میں صرف جمعہ کے نام سے ہی قرآن کریم میں سورت  نازل ہوئی ہے جس کی رہتی دنیا تک تلاوت ہوتی رہے گی،ان شاء اللہ۔
مختصراًبیانسورہٴ جمعہ کا
سورہٴ جمعہ مدنی ہے۔ اس سورۂ میں 11 آیات اور 2 رکوع ہیں۔ اس کی ابتدا اللہ جل شانہ کی تسبیح اور تعریف سے کی گئی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی چارصفتیں بیان کی گئی ہیں
1-الملک (بادشاہ) حقیقی ودائمی بادشاہ، جس کی بادشاہت پر کبھی زوال نہیں ہے۔
2-القدوس (پاک ذات) جو ہر عیب سے پاک وصاف ہے۔
3-العزیز (زبردست) جو چاہتا ہے کرتا ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں ہے، ساری کائنات کے بغیر سب کچھ کرنے والا ہے۔
4-الحکیم (حکمت والا) اُس کا ہر فیصلہ حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کی رسالت ونبوت کاذکرکیاگیاہے کہ:ہم نے ناخوانداہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو اُنھیں ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا ہے،اُنکوپاک کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے۔ پھر یہود ونصاری کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس سورۂ کی آخری3آیتوں میں نمازجمعہ کا ذکر ہے:
اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے، یعنی نماز کی اذان ہوجائے، تو اللہ کی یاد کے لیے جلدی کرو۔اور خرید وفروخت چھوڑدو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ (9)اور جب نماز ہوجائے تو زمین میں پھیل جاوٴ اور اللہ کا فضل تلاش کرو یعنی رزق حلال تلاش کرو۔ اور اللہ کو بہت یاد کرو؛ تاکہ تم کامیاب ہوجاوٴ۔(10)جب لوگ سودا بکتا دیکھتے ہیں یا تماشہ ہوتا ہوا دیکھتے ہیں، تو اُدھر بھاگ جاتے ہیں اور آپکوکھڑاچھوڑدیتےہیں۔ تو فرمادیجیے جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے، تماشے سے اور سودے سے، اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والےہیں(11)
آخری آیت (11)کا شان نزول  :
ابتداء ِاسلام میں جمعہ کی نماز پہلے اور خطبہ بعد میں ہوتا تھا؛ چنانچہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کی نماز سے فراغت کےبعد خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک وحیہ بن خلیفہ کا قافلہ ملک ِشام سے غلّہ لے کر مدینہ منورہ پہنچا۔ اُس زمانے میں مدینہ منورہ میں غلّہ کی انتہائی کمی تھی۔ صحابہٴ کرام‌ؓ نے سمجھا کہ نمازِ جمعہ سے فراغت ہوگئی ہے اور گھروں میں غلّہ نہیں ہے،کہیں سامان ختم نہ ہوجائے؛ چنانچہ خطبہٴ جمعہ چھوڑکر باہر خرید وفروخت کے لیے چلے گئے، صرف 12 صحابہ مسجد میں رہ گئے، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی:
حضرت عراک بن مالکؓ جمعہ کی نماز سے فارغ ہوکرلوٹ کر مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہوجاتے اور یہ دعا پڑھتے:
اللّٰہُمَّ اِنّی اَجَبْتُ دَعْوَتَکَ، وَصَلّیْتُ فَرِیْضَتَک، وَانْتَشَرْتُ کَمَا اَمَرْتَنِی فَارْزُقْنِی مِنْ فَضْلِک وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّازِقِین۔
اے اللہ! میں نے تیری آواز پر حاضری دی، اور تیری فرض نماز ادا کی، پھر تیرے حکم کے مطابق اس مجمع سے اٹھ آیا،اب تو مجھے اپنا فضل نصیب فرما ، تو سب سے بہتر روزی رساں ہے۔ (ابن ابی حاتم) تفسیر ابن کثیر۔
اس آیت کے پیش نظر بعض سلف صالحین نے فرمایا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کے بعد خرید وفروخت کرے،اسے اللہ تعالیٰ ستر حصے زیادہ برکت دے گا۔ (تفسیر ابن کثیر)

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: