صفاتِ ایمان:02

1- اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لانا
 اللّٰہ یہ اس ذات کا اسم ذات ہے جو واجب الوجود ہے۔ یعنی جو خودبخود ہر وقت ہر جگہ موجود ہے،ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہےگا،نہ اس کی کوئی ابتدا ہے نہ انتہا اور اُس کا عدم یعنی کسی وقت کسی جگہ نہ ہونا محال ہے،اللّٰہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی چیزواجب الوجوب نہیں،اس اسمِ ذاتی کے علاوہ اُس ذات کے بہت سے صفاتی نام ہیں مثلاً خالق،رازق،حی و قیوم وغیرہ جولاتعداد ہیں۔ ایک حدیث شریف میں ننانوے یعنی ایک کم سو نام آئے ہیں اور بعض دوسری احادیث میں ان کے علاوہ اورنام بھی آئے ہیں۔ قرآن و حدیث میں آئے ہوئے ناموں کے علاوہ اپنے بنائے ہوئے عقلی و عرفی ناموں سے اللّٰہ کوپکارناہرگزجائزنہیں ہے۔
چاہے وہ صحیح ناموں کے مطابق ہوں۔ مثلاً اللّٰہ تعالیٰ کو عالم کہیں گے،لیکن عاقل کہنا جائز نہیں،اللّٰہ تعالیٰ کے اسماءو صفات اللّٰہ تعالیٰ کی ذات مقدس سے اس طرح پر متعلق ہیں کہ نہ عینِ ذات ہیں اور نہ غیر ذات،اسی لئے اللّٰہ تعالیٰ کی صفات یعنی علم وقدرت وغیرہ کو اللّٰہ نہیں کہہ سکتے اور نہ اس کا غیر ہی کہہ سکتے ہیں،اللّٰہ تعالیٰ کی صفات کو صفاتِ ذاتی یا صفاتِ کمالیہ کہتے ہیں اور وہ یہ ہیں:
 1– وحدت
یعنی اللّٰہ تعالیٰ ایک ہے۔اس کی ذات و صفات میں اس کا کوئی شریک۔ نہیں اور وہی عبادت کے لائق ہے،اس کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں۔
 2– قِدَم
یعنی وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا،جو ہمیشہ سے ہو اس کو ازلی کہتے ہیں اور جو ہمیشہ رہے اس کو ابدی کہتے ہیں،پس اللّٰہ تعالیٰ ازلی۔بھی ہے اور ابدی بھی اور قدیم ہونے کے یہی معنی ہیں۔
 3– حیوٰۃ
ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا،وہ حی و قیوم ہے
4– قدرت
کائنات کے پیدا کرنے اور قائم رکھنے پھر فنا کرنے اور پھر موجود۔ کرنے اور ہر چیز پر قادر ہے۔
 5– علم
کوئی چیز چھوٹی ہو یا بڑی اس کے علم سے باہر اور اس سے پوشیدہ نہیں،اور وہ اس کو موجود ہونے سے پہلے اور مٹ جانےکےبعد بھی جانتا ہے،۔وہ ہر بات کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔
 6– ارادہاللّٰہ
تعالیٰ جس چیز کو چاہتا ہے اپنے اختیار و ارادہ سے پیدا کرتا اور مٹاتا ہے۔ کائنات
کی کوئی چیز اس کے ارادہ اور اختیار سے باہر نہیں اور وہ کسی کام میں مجبور
نہیں،جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اس کو روک ٹوک کرنے۔والا نہیں
 7– سمع  و  8– بصر
وہ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے،ہلکی سے ہلکی آواز کو سنتا اور چھوٹی سے چھوٹی چیز کو دیکھتا ہے،نزدیک ودوراندھیرےاور اُ جالے۔کا کوئی فرق نہیں۔
 9- کلام یعنی بات کرنا
یہ صفت بھی اللّٰہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہے،اس کا کلام آواز سے پاک ہے اور وہ اس کے لئے زبان وغیرہ کسی چیز کا محتاج نہیں۔ اس نے اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ذریعے اپنا کلام اپنے بندوں کو پہنچایا ہے،تمام آسمانی کتابیں اور صحیفے اس کا کلام ہیں۔
 10– خلق و تکوین
یعنی پیدا کرنا اور وجود میں لانا،اسی نے زمین،آسمان،چاند،سورج،ستارے،فرشتے،آدمی،جن،غرض کہ تمام کائنات کو پیدا کیا۔ تمام کائنات پہلے سے بلکل ناپید تھی،پھر اللّٰہ تعالیٰ کے پیدا کرنے سے موجود ہوئی اور وہی تمام کائنات کا مالک ہے ان مذکورہ  صفات کو صفاتِ ثابتہ یا صفاتِ ثبوتیہ کہتے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی صفات ہیں۔ مثلاً مارنا،زندہ کرنا،عزت دینا،ذلت دینا،رزق دیناوغیرہ جو سب ازلی و ابدی و قدیم ہیں،ان میں کمی و بیشی و تغیر و تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اس کی تمام صفات بے کیف اورہمیشہ رہنے والی ہیں،وہ رحمان اور رحیم مالک الملک ہے سب کا بادشاہ ہے،اپنے بندوں کو آفتوں سے بچاتا ہے،عزت و بزرگی والاہے،گناہوں کو بخشنے والا،زبردست ہے،بہت دینے والا ہے،تمام مخلوق کو روزی دیتا ہے،جس کی چاہے روزی زیادہ کرےاورجس کو چاہے روزی تنگ کر دے،جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے،جس کو چاہے پست کرےاور جس کو چاہے بلند کرے،انصاف اور تحمل اور برداشت والا،خدمت و عبادت کی قدر کرنے والا،دعا قبول کرنےوالاہے،سب پر حاکم ہے اس پر کوئی حاکم نہیں،اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں،سب کے کام بنانے والا ہے،وہی جِلاتا اور مارتا ہے،توبہ قبول کرنے والا،ہدایت دینے والا،جو سزا کے قابل ہیں ان کو سزا دینے والا ہے،اس کے حکم کےبغیرایک ذرہ بھی حرکت نہیں کر سکتا اور تمام عالم کی حفاظت سے نہیں تھکتا،تمام ناقص صفتیں اس کی بارگاہ سے دور ہیں،وہ سب عیبوں سے پاک ہے مخلوق کی صفتوں سے بری ہے۔ وہ نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے نہ سوتا ہے نہ اونگھتا ہے،نہ وہ کسی سےپیداہوااور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا،اور نہ اس کا باپ ماں ہے اور نہ بیٹا بیٹی ہے،وہ بہن بھائی بیوی رشتہ داروں وغیرہ تمام تعلقات سے پاک ہے۔زمان و مکان،اطراف و جہات،طول و عرض،جسم و جوہر،شکل و صورت،رنگ و بو،موت و ہلاکت غرض کہ ہر عیب و حدوث سے پاک و بری ہے۔ قرآن مجید اور حدیثوں میں بعض جگہ جو اللّٰہ تعالیٰ کے لے ایسی باتوں کی خبر دی گئی ہے ان کی حقیقت اللّٰہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے،ان کے معنی اللّٰہ تعالیٰ کے حوالہ کئے جائیں،وہ کسی کا محتاج نہیں،سب اسکےمحتاج ہیں،اس کو کسی چیز کی حاجت نہیں وہ بے مثل ہے کوئی چیز اس کے مثل و مشابہ نہیں،تمام کمالات اُس کو حاصل ہیں۔
 
2– فرشتوں پر ایمان لانا
 
 فرشتوں پر ایمان لانے سے مراد یہ ماننا ہے کہ فرشتے اللّٰہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہیں،وہ سب نور سے پیدا ہوئے ہیں،دن رات عبادتِ الہی میں مشغول رہتے ہیں،ہماری نظروں سے غائب ہیں،وہ نہ مرد ہیں نہ عورت،رشتہ ناتے کرنے اور کھانےپینےکےمحتاج نہیں،تمام فرشتے معصوم ہیں اللّٰہ کی نافرمانی اور گناہ نہیں کرتے۔ جن کاموں پر اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں مقرر فرما دیا ہے انہی میں لگے رہتے ہیں اور تمام کام و انتظام اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کے موافق پورا کرتے ہیں۔وہ بے شمار ہیں ان کی گنتی اللّٰہ تعالیٰ کےسواکوئی نہیں جانتا،ان میں سے چار فرشتے مقرب اور مشہور ہیں۔
 1– حضرت جبرائیل علیہم السلام:
جو اللّٰہ تعالیٰ کی کتابیں اور احکام و پیغام پیغمبروں کے پاس لاتے تھے بعض مرتبہ انبیاء علیہم السلام کی مدد کرنے اور اللّٰہ و رسول کے دشمنوں سے لڑنے کے لئے بھی بھیجے گئے بعض مرتبہ اللّٰہ۔تعالیٰ کے نافرمان بندوں پرعذاب بھی ان کے ذریعے سےبھیجاگیا
 
 2– حضرت میکائیل علیہم السلام:
جو بارش وغیرہ کا انتظام کرنے اور مخلوق کو روزی پہچانے کے کام پر مقرر ہیں اور بے شمار فرشتہ ان کی ماتحتی میں کام کرتےہیں۔ بعض بادلوں کے انتظام پر مقرر ہیں،بعض ہواؤں کے انتظام پر مامور ہیں اور بعض دریاؤں اور تالابوں اور نہروں پرمقرر ہیں اور ان تمام چیزوں کا انتظام اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کرتے ہیں۔3-حضرت اسرافیل علیہم السلام:جو قیامت میں صور پھونکیں گے۔
 4– حضرت عزرائیل علیہم السلام:
جو مخلوق کی روحیں قبض کرنے یعنی جان نکالنے پر مقرر ہیں،ان کو ملک الموت بھی کہتے ہیں،ان کی ماتحتی میں بھی بےشمارفرشتے کام کرتے ہیں،نیک بندوں کی جان نکالنے والے فرشتے علیحدہ اور بدکار آدمیوں کی جان نکالنے والے علیحدہ ہیں،
 یہ چاروں فرشتے باقی سب فرشتوں سے افضل ہیں ان کے علاوہ اور فرشتے بھی ہیں جو آپس میں کم زیادہ مرتبہ رکھتے ہیں،یعنی کوئی زیادہ مقرب ہے کوئی کم۔
 ان میں سے مشہور فرشتے یہ ہیں:
٭کراماً کاتبین
٭حفظہ
٭منکر نکیر
٭مجالس ذکر تلاوت ودیگر اعمال خیر میں حاضر ہونے والے فرشتے
٭رضوان یعنی داروغۂ جنّت اور انکےماتحت فرشتے
٭مالک یعنی داروغۂ جہنم
٭اللّٰہ تعالیٰ کا عرش اٹھانے والے فرشتے
٭ہر وقت اللّٰہ تعالیٰ کی یاد و عبادت و تسبیح و تحمید و تہلیل و تقدیس میں مشغول رہنے والے فرشتے
سب فرشتے معصوم ہیں،ان میں سے بعض دو پر رکھتے ہیں بعض تین اور بعض چار پر بھی رکھتے ہیں اور بعض بہت زیادہ،ان پروں کی حقیقت اللّٰہ ہی بہتر جانتا ہے یہ سب باتیں قرآن مجید اور صحیح حدیثوں میں مذکور ہیں ان میں شک کرنا یا ان کی توہین ودشمنی کفر وبال ہے۔
 
3– اللّٰہ تعالیٰ کی کتابوں پرایمان لانا
 اللّٰہ تعالیٰ کی کتابوں سے مراد وہ صحیفے ( چھوٹی کتابیں ) اور کتابیں ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں پر نازل فرمائیں ہیں۔یہ صحیفےاور کتابیں بہت سی ہیں جن کی گنتی یقینی طور پر معلوم نہیں۔ان میں سے یہ چار کتابیں مشہور ہیں:
 1– توریت جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر  عبرانی زبان میں نازل کی گئی۔
2– زبور جو حضرت داؤد علیہ السلام پر سُریانی زبان میں نازل کی گئی۔
 3– انجیل جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر عبرانی زبان میں نازل کی گئی۔
 4– قرآن مجید جو ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر عربی زبان میں نازل کی گئی۔
 ان چار کتابوں کے علاوہ کچھ صحیفے ( چھوٹی کتابیں ) حضرت آدم علیہ السلام پر اور کچھ حضرت شیث علیہ السلام پر اور کچھ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور کچھ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئے۔ان کے علاوہ کچھ اور بھی صحیفے ہیں جو بعض  دوسرے پیغمبروں پر نازل ہوئے۔ یہ سب کچھ قرآن مجید سے ثابت ہے اور ان کو نہ ماننے والا شخص کافر ہے۔لیکن قرآن مجید سے یہ ثابت ہے کہ موجودہ توریت و زبور و انجیل جو یہودیوں اور عیسٰائیوں کے پاس ہیں اصلی نہیں ہیں۔بلکہ ان لوگوں نےاصل کتابوں کو رد و بدل کر دیا ہے اس لئے ان کے متعلق یہ اعتقاد نہ رکھنا چاہئے کہ یہ اصلی آسمانی کتابیں ہیں بلکہ یہ اعتقاد رکھے کہ یہ اصلی نہیں ہیں اور ان ناموں کی کتابیں اُن انبیاء کرام پر نازل ہوئی تھیں۔قرآن مجید کے نازل ہونے سے وہ کتابیں اور ان کی شریعت منسوخ ہو گئی اور قرآن مجید سب سے آخری کتاب ہے اسکےاحکام قیامت تک جاری رہیں گے۔یہ ہرقسم کے رد و بدل(تحریف) سے محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گی۔آسمانی کتابوں میں سب سے افضل قرآن مجیدہےیعنی اس میں ثواب اور اس کا فائدہ مند ہونا سب سے زیادہ ثابت ہے اس کی چند فضیلتیں یہ ہیں:
1– اس کا ایک ایک حرف اور ایک ایک لفظ حتیٰ کہ زبر زیر پیش یا شوشہ تک ہر قسم کی کمی بیشی سے قیامت تک محفوظ ہے۔
2– اس کی چھوٹی سے چھوٹی سورۃ کے مثل بھی کوئی نہیں بنا سکتا۔
 3– اس نے پہلی سب کتابوں اور شریعتوں کے بہت سے احکام منسوخ کر دئے ہیں۔
4– اس کے احکام ایسے معتدل ہیں کہ قیامت تک ہر زمانہ اور ہر قوم کے لئے مناسب ہیں۔
5– سب کتابیں اپنے اپنے وقت میں ایک ہی دفعہ نازل ہوئی ہیں لیکن قرآن مجید کو دو فضیلتیں حاصل ہیں۔اول یہ کہ ایک ہی دفعہ میں ماہ رمضان المبارک کو لیلتہ القدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل ہوا،پھر وہاں سے تیئس برس تک ضرورت کےوقت تھورا تھورا نازل ہوتا رہا اور اس طرح سے لوگوں کے دلوں میں اترتا گیا۔یہ سب حکمت الٰہی پر مبنی تھا۔
6– حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانے سے آج تک تواتر کے ساتھ نقل ہوتا چلا آ رہا ہے جو اس کے یقینی و قطعی ہونےاورتحریف و تبدیل سے محفوظ ہونے کی بین دلیل ہے۔
 7– قرآن مجید ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے سینوں میں صدر اسلام سے آج تک محفوظ چلا آ رہا ہے اور انشاء اللّٰہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ یہی وجہ ہےکہ اسلام کے دشمنوں کو کسی وقت اس میں کمی بیشی کرنے کا موقع نہیں مل سکا اور نہ انشاءاللّٰہ قیامت تک مل سکے گا۔
4- رسولوں پر ایمان لانا
 رسولوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک اپنے احکام پہچانے کے لئے ان ہی میں سے کچھ بندوں کو چن لیا ہے۔جن کو نبی اور رسول کہتے ہیں۔ نبی اور رسول اللّٰہ تعالیٰ کے بندے اور انسان ہوتے ہیں وہ سچےہوتےہیں،کبھی جھوٹ نہیں بولتے،ہر قسم کے صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے معصوم ہوتےہیں۔اللّٰہ تعالیٰ کے احکام پوری طرح سے پہچا دیتے ہیں اور ان میں کمی بیشی نہیں کرتے اور نہ کسی پیغام کو چھپاتے ہیں۔
 رسول اس پیغمبر کو کہتے ہیں جس کو نئی شریعت اور کتاب دی گئی ہو اور نبی ہر پیغمبر کو کہتے ہیں خواہ اسے نئی شریعت اور کتاب دی گئی ہو یا نہ دی گئی ہو بلکہ وہ پہلی شریعت اور کتاب کا تابع ہو،پس ہر رسول نبی ہے اور ہر نبی رسول نہیں ہے۔ ( بعض علمانے نبی اور رسول کو ایک ہی معنی میں لیا ہے )
نبوت اور رسالت اپنے کسب و کوشش سے حاصل نہیں ہوتی۔ بلکہ جس کو اللّٰہ تعالیٰ بنائے وہی بنتا ہے۔پس یہ مرتبہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔ سب نبی مرد ہوئے ہیں کوئی عورت نبی نہیں ہوئی دنیا میں بہت سے رسول اور نبی آئے بعض روایتوں میں ان کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار آئی ہے اور بعض میں ایک لاکھ چونتیس ہزار اور بعض میں دو لاکھ چوبیس ہزار،یہ تعداد قطعی نہیں ہے،غالباً کثرت کے بیان کے لئے ہے،ان کی صحیح تعداد اللّٰہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ہمیں اور آپ کو اس طرح ایمان لانا چاہیے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے جتنے رسول اور نبی بھیجے ہم اُن سب کو برحق اور رسول اور نبی مانتے ہیں۔
ان میں تین سو تیرہ رسول ہیں۔
سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ الاسلام ہیں اور سب سے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں،یعنی آپ ﷺ خاتم النبین ہیں،آپ ﷺ پر رسالت و نبوت ختم ہو گئی ہے آپ قیامت تک تمام انسانوں اور جنوں کے لئے رسول ہیں۔آپ ﷺ کے بعد قیامت تک حقیقی یا ظلّی یا بروزی کسی قسم کا کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔آپ ﷺ کے بعد جو شخص حقیقی یاظلّی یا بروزی کسی بھی قسم کی پیغمبری کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا اور کافر و دجال ہے۔حضرت آدم علیہ الاسلام اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے درمیان میں جو پیغمبر آئے ان میں سے بعض کے اسمائے گرامی قران مجید و احادیث میں آئے ہیں۔ ان میں سے مشہور نام یہ ہیں :
٭حضرت نوح ؑ
٭حضرت شیث ؑ
٭حضرت ابراہیم ؑ
٭حضرت اسحٰق ؑ
٭حضرت اسمٰعیل ؑ
٭حضرت یعقوب ؑ
٭حضرت یوسف ؑ
٭حضرت داؤد ؑ
٭حضرت سلیمان ؑ
٭حضرت ایوب ؑ
٭حضرت موسیٰ ؑ
٭حضرت ہارونؑ
٭حضرت زکریا ؑ
٭حضرت یحییٰ ؑ
٭حضرت الیاس ؑ
٭حضرت الیسع ؑ
٭حضرت یونس ؑ
٭حضرت لوط ؑ
٭حضرت ادریس ؑ
٭حضرت ذوالکفل ؑ
٭حضرت صالح ؑ
٭حضرت ہود ؑ
٭حضرت شعیب ؑ
٭حضرت عیسیٰ ؑ
رسولوں پیغمبروں میں بعض کا مرتبہ بعض سے بڑا ہے۔ ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تمام نبیوں اور رسولوں سے افضل اور بزرگ ہیں۔اللّٰہ تعالیٰ کے تو آپ بھی بندے اور فرمانبردار ہیں اللّٰہ تعالیٰ کے بعد آپ کا مرتبہ سب سے بڑھا ہوا ہے۔
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
آپ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں ہیں اور عرب کے مشہور و بزرگ ترین خاندانِ قریش میں سے ہیں اور ملکِ عرب کے مشہور شہر مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے،عرب کے تمام خاندانوں میں خاندانِ قریش کی عزت اور مرتبہ سب سے زیادہ تھااوریہ دوسرے خاندانوں کے سردار مانے جاتے تھے،پھر خاندانِ قریش کی ایک شاخ بنی ہاشم تھی،جو قریش کی دوسری شاخوں سے زیادہ عزت رکھتی تھی،آپ ﷺ اس شاخ بنی ہاشم میں سے ہیں،اس لئے حضور اکرم ﷺ کو ہاشمی بھی کہتے ہیں،ہاشم آپ ﷺ کے پردادا کا نام ہے،آپ کا سلسلہ نسب چار پشت تک ہر مسلمان کو یاد رکھنا چاہئے،وہ اس طرح ہے :
محمد () بن عبداللّٰہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدالمناف۔
چالیس برس میں آپ پر وہی کا نزول ہوا۔ یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا کلام قرآن مجید اور اپنے احکام اتارنے شروع کئے۔ اس کےبعد آپ تئیس سال زندہ رہے،ظہور نبوت سے تیرہ سال تک یعنی کل ترپن سال مکہ معظمہ میں اور دس سال مدینہ منورہ  میں قیام پزیر رہے۔ جب آپ نے مکہ معظمہ میں دینِ اسلام کی تبلیغ شروع کی تو مکہ معظمہ کے کفار و مشرکین نے آپ کو طرح  طرح کی تکلیفیں پہنچانی شروع کر دیں آپ برداشت کرتے رہے۔
5– آخرت پر ایمان لانا
 آخرت پر ایمان لانا یوم آخرت پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کا دن اور اس کی سختیاں حق ہیں۔قبر میں منکر نکیر کاسوال جواب اور سب کافروں اور بعض گنہگار مومنوں کو قبر کا عذاب ہونا حق ہے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: