صفاتِ ایمان:01

جب آدمی عاقل اور بالغ ہو جاتا ہے تو اس کو ایمان لانا یعنی اللّٰہ کو ایک اور رسولوں کو برحق ماننا فرض ہو جاتا ہے۔جس کی تفصیل آگے آتی ہے،ایمان لانے کے بعد تمام عبادات فرائض و واجبات وغیرہ اس پر لازم ہو جاتے ہیں اور تمام ممنوعات و محرمات حرام ہو جاتے ہیں
 فرض 2قسم کے ہیں :
 1– دائمی جو ہمیشہ فرض ہو اور وہ ایمان پر ثابت قدم رہنا اور حرام و کفر و شرک سے بچنا ہے۔( یہ عقائد سے تعلق رکھتاہے)
2– وقتی جیسے نماز،روزہ،زکوٰۃ،حج وغیرہ ( ان کا حامل علمِ فِقہ ہے ) فرائض کا علم حاصل کرنا فرض ہے۔یعنی جب کسی فرض کا وقت آ جائے تو اس فرض کے متعلق احکامِ شرع کا علم حاصل کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے،مثلاً جب آدمی مسلمان ہوا یا بالغ ہوا تو ان چیزوں کا جاننا ضروری ہے جن کے بغیر ایمان صحیح نہیں ہوتا۔اور جب نماز فرض ہو گئی تو نماز کے احکام کا سیکھنا فرض ہے،ماہ رمضان المبارک کے آنے پر روزے کے احکام اور مالدار صاحبِ نصاب ہونے پر زکوٰۃ کے احکام کا سیکھنا علیٰ ہذالقیاس،حج و نکاح و طلاق و حیض و نفاس و بیع و شرا (خرید و فروخت) وغیرہ کے احکام کا سیکھنا اپنے اپنے وقت پر فرض ہو جاتا ہے۔ایمان و نماز روزہ اور حیض ونفاس کے احکام کا علم بقدر ضرورت حاصل کرنا ہر مومن مرد و عورت پر فرضِ عین ہے
اسلام ہی سچا مذہب ( دین) ہے جو تمام دین و دنیا کی بھلائیاں اور نیک باتیں سکھاتا ہے اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول و پسندیدہ دین اسلام ہی ہے بقولہ تعالیٰ:
 اِنَّ الدِّینَ عِندَاللّٰہِ الاِسلَامُ   بیشک دین اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی ہے   (آل عمران آیت 2)
ایضاً قال اللّٰہ تعالیٰ :  وَرَضِیتُ لَکمُ الاِسلَامَ دِینَا  میں نے تمہارے لئے دینِ اسلام کو پسند فرما لیا ہے۔(سورہ المائدہ آیت 1)
اور اسلام کو ماننے والے لوگ مسلمان کہلاتے ہیں۔
 اسلام کا پہلا رکن کلمہ ہے :
 لَا اِلَہَ اِلّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللّٰہِ   اللّٰہ کو سوا کوئی عبادت کو لائق نہیں،محمد ( ﷺ) اللّٰہ کے رسول ہیں   
اس کو کلمہ طیبہ،کلمہ توحید اور پہلا کلمہ بھی کہتے ہیں۔
 دوسرا کلمہ ،کلمہ شہادت کہلاتا ہے :
 اَشھَدُ اَن لَّا اِلَہَ اِلّا اللّٰہُ و اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّد عَبدُہُ وَ رَسُوُلُہ    میں گواہی دیتا ہوں کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں محمد ( ﷺ) اللّٰہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں  ۔
 جس نے کلمہ طیبہ یا کلمہ شہادت کے معنی سمجھ کر دل سے یقین اور زبان سے اقرار کر لیا وہ مسلمان ہے۔

کن باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے؟

 ایمان مجمل :
اٰمَنٰتُ بِاللّٰہِ کما ھُوَ بِاَسمَآۂ وَصِفَاتِہِ وَ قَبِلتُ جَمِیعَ اَحکَامِہِ    
میں اللّٰہ پر ایمان لایا جیسا کہ وہ اپنے ناموں اور صفتوں کے ساتھ ہے اور میں نے اس کے تمام احکام قبول کئے۔
ایمان مفصل :
اٰمَنتُ بِاللّٰہِ وَ مَلئِکَتِہِ وَ کُتُبِہِ وَ رَسُلِہِ وَ لیَومِ الاٰخِرِ وَ القَدِر خَیرِہِ وَ شَرِّہِ مِنَ اللّٰہِ تَعَالیٰ وَالبَعثِ بَعدَالمَوتِ  
میں اللّٰہ تعالیٰ پر اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر اور اس پر کہ اچھی اور بری تقدیر اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور موت کے بعد اٹھائے جانے پر ایمان لایا   
ایمان مفصل میں جن سات چیزوں کا ذکر ہوا ہے ان پر ہر مسلمان کو ایمان لانا ضروری ہے اور وہ سات چیزیں یہ ہیں:
 1– اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لانا
 2– اس کے فرشتوں پر ایمان لانا
 3– اللّٰہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانا
4– اس کے رسولوں پر ایمان لانا
 5– یومِ آخرت پر ایمان لانا
6– تقدیر کا منجانب اللّٰہ ہونا
 7– موت کے بعد اٹھائے جانے پر ایمان لانا۔
Advertisements
4 comments
  1. السلام علیکم ۔ ایمان لانے سے مُراد کیا ہے ؟ یہ کلمات جو آپ نے لکھے ہیں کیا انہیں کہنے سے آدمی ایمان دار ہو جاتا ہے ؟ کیا فرائض یا واجبات کو جاننے سے آدمی ایمان دار ہو جاتا ہے ؟

    • وعلیکم السلام:
      میں نے ایمان کی تعریف نہیں لکھی تھی اور ایسا غلطی سے ہوا
      آپ کے کہنے پر میں آپ کو ہی بتا دیتی ہوں بعد میں اس کی تصحیح کر لوں گی۔

      ایمان عربی زبان کا لفظ ہے، اس کا مادہ ’’ا۔ م۔ ن‘‘ (امن) سے مشتق ہے۔ لغت کی رو سے کسی خوف سے محفوظ ہو جانے، دل کے مطمئن ہو جانے اور انسان کے خیر و عافیت سے ہمکنار ہونے کو امن کہتے ہیں۔ ایمان کا لفظ بطور فعل لازم استعمال ہو تو اس کا معنی ہوتا
      ہے ’’امن پانا‘‘، اور جب یہ فعل متعدی کے طور پر آئے تو اس کا معنی ہوتا ہے ’’امن دینا‘‘۔
      1. ابن منظور،لسان العرب، 13 : 23
      2. زبيدی، تاج العروس من جواهر القاموس، 18 : 23، 24

      جبکہ کسی پر ایمان لانے سے مراد اس کی تصدیق کرنا اور اس پر یقین رکھنا ہے۔ گویا لفظ ایمان اپنے اصل معنی اور مفہوم کے اعتبار سے امن، امانت اور بھروسے پر دلالت کرتا ہے۔
      ایک مسلمان کا ایمان
      اللہ اور اس کے رسولﷺکا اور رسولﷺکے ذریعے اللہ کے پاس سے آئے ہوئے احکام کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرنے کا نام ایمان ہے۔

      • میں شاید درست طور پہر لکھ نہیں سکا ۔ آپ نے وضاحت کی ہے تو اسی سے آگے چلتے ہیں ۔ ہمارے ہاں لاکھوں لوگ اقرار و تصدیق کرتے ہیں مگر اللہ کے احکامات پر عمل نہیں کرتے ۔ بقول ایک عالِم کے ”ہم اللہ کو تو مانتے ہیں مگر اللہ کی نہیں مانتے“۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: