حضرت الیاس علیہ السلام

اس میں تو كوئی شك نہیں كہ حضرت الیا س علیہ السلام خدا كے عظیم انبیاء میں سے ایك ہیں اورقرآنى ایات نے یہ مسئلہ صراحت كے ساتھ بیان كیا ہے كہ” الیاس خدا كے رسولوں میں سے تھے”۔( سورہ صافات آیت 123)
اس پیغمبر كانام قران مجید كى دو ایات میں ایا ہے ایك تو سورہ صافات میں اور دوسرا سورہ انعام میں چند انبیاء كے ساتھ ۔لیكن اس بارے میں كہ قران میں جن انبیاء كا نام ایا ہے انہى میں سے ایك پیغمبر كانام الیاس ہے یا یہ كسى پیغمبر كا مستقل نام ہے نیز اس كى خصوصیات كیا ہیں ؟اس ضمن میں مفسرین میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ،ان كا خلاصہ كچھ یوں ہے :
الف:۔بعض كہتے ہیں كہ” الیاس”،”ادریس”كا دوسرانام ہے (كیونكہ ادریس كا دوسرا نام” ادراس” بھى تلفظ ہوا ہے اور وہ مختصر سى تبدیلى كے ساتھ الیاس ہو گیا)۔
ب:۔بعض كا كہنا ہے كہ الیاس بنى اسرائیل كے پیغمبروں میں سے ہیں ”یاسین”كے فرزند ہیں اور موسى علیہ السلام كے بھائی ہارون كے نواسوں میں سے ہیں ۔
ج:۔كچھ كا یہ بھى كہنا ہے كہ الیاس خضر كا دوسرا نام ہے جب كہ بعض دوسروں كا كہنا ہے كہ الیاس خضر  كے دوستوں میں سے ہیں اوردونوں زندہ ہیں اس فرق كےساتھ كہ الیاس تو خشكى پر مامور ہیں لیكن خضر جزیروں اوردریاو ں پر مامور ہیں ،بعض دوسرے الیاس كى ماموریت بیابانوں میں اور خضر كى ماموریت پہاڑوں پر خیال كرتے ہیں اور دونوں كے لئے عمر جاودانى كے قائل ہیں ،بعض الیاس كو”الیسع”كا فرزند سمجھتے ہیں ۔
د:۔بعض كہتے ہیں كہ الیاس بنى اسرائیل كے وہى ”ایلیا ”پیغمبرہیں جو”اجاب”بادشاہ بنى اسرائیل كے ہم عصر تھے جنھیں لوگوں نے ”یح”بھى جانا ہے جو مسیح كےتعمیددہندہ تھے ۔
لیكن قران كى ایات كے ظاہر كے ساتھ جو بات ہم آہنگ ہے وہ یہ ہے كہ یہ لفظ مستقلاً ایك پیغمبر كانام ہے اور قران میں جن دیگر پیغمبروں كے نام ائے ہیں یہ انكے علاوہ ہیں جو ایك بت پرست قوم كى ہد آیت كے لئے مامور ہوئے تھے اور اس قوم كى اكثریت ان كى تكذیب كے لئے اٹھ كھڑى ہوئی لیكن مخلص مومنین كے ایك گروہ نے ان كى پیروى كی۔
بعض اس بات پر توجہ كرتے ہوئے كہ اس قوم كے بڑے بت كا نام”بعل” تھا یہ نظریہ ركھتے تھے كہ یہ پیغمبر سر زمین ”شامات”میں مبعوث ہوئے تھے اور ان كى فعالیت كامركز شہر”بعلبك”تھا جو اس وقت لبنان كا حصہ ہے اور شام كى سرحد پر واقع ہے۔
بہرحال اس پیغمبر كے بارے میں مختلف داستانیں كتابوں میں بیان كى گئی ہیں اور چونكہ وہ قابل اعتماد و اطمینان نہیں لہذاہم نے انھیں نقل نہیں كیا۔
پیغمبرخدا مشركین كے مقابلے میں قران میں جناب الیاس علیہ السلام كے واقعہ كو بیان كرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :اس وقت كویاد كرو جب اس نے قوم كو خبردار كیا اور كہا:”كیا تم تقوى اختیارنہیں كرتے”؟( سورہ صافات آیت 124)
آگےچل كر قرآن میں اس مسئلہ كے بارے میں ،اس سے بھى زیادہ صراحت كے ساتھ بیان فرماتاہے :”كیا تم” بعل ”بت كو پكارتے ہواور بہترین خالق كوچھوڑرہےہو”۔( صافات آیت 125)
اس سے واضح ہو جاتا ہے كہ ان كا ایك معروف بت تھا ،جس كانام”بعل”تھا۔  اور وہ اس كے سامنے سجدہ كیا كرتے تھے حضرت الیاس علیہ السلام نے انھیں اس قبیح
عمل سے روكا اور عظیم افریدگار عالم اور توحید خالص كى طرف دعوت دی۔
اسى وجہ سے ایك جماعت كا نظریہ ہے كہ حضرت الیا س علیہ السلام كى فعالیت كا مركز” شامات” كے شہروں میں سے شہر ”بعلبك ”تھا۔كیونكہ ”بعل”اس مخصو ص بت كانام تھا اور ”بك”كا معنى ہے شہر۔ ان دونوں كى اپس میں تركیب سے ”بعلبك ”ہوگیا،كہتے ہیں كہ سونے كا اتنا بڑا بت تھا كہ اس كا طول بیس ہاتھ تھا ،اس كے چارچہرے تھے اور اس بت كے چار سوسے زیادہ خادم تھے  البتہ بعض كسى معین بت كو ”بعل”نہیں سمجھتے بلكہ بت كے مطلق معنى میں لیتے ہیں مگر بعض دوسرے اسے ”رب اور معبود”كے معنى میں سمجھتے ہیں ۔
بہر حال الیاس علیہ السلام نے اس بت پرست قوم كى سخت مذمت كى اور مزید كہا :”اس خدا كو چھوڑ رہے ہو جو تمہارا اور تمہارے گزشتہ اباواجدادكاپروردگارہے۔”(سورہ صافات 126)
تم سب كامالك و مربى وہى تھا اور ہے ،اورجو نعمت بھى تمہارے پاس ہے وہ اسى كى طرف سے ہے اور ہر مشكل كا حل اسى كے دست قدرت سے ہوتا ہے ، اسكےعلاوہ نہ تو خیر و بركت كا كوئی اور سر چشمہ موجود ہے اور نہ ہى شرو افت كا كوئی اور دفع كرنے والا ہے ۔
قوم الیاس علیہ السلام كارد عمل
لیكن اس سرپھر ى اور خود پسند قوم نے خدا كے اس عظیم پیغمبر كے استدلالى پند و نصائح اور واضح ہدایات پر كان نہ دھرے اور ”اس كى تكذیب كے لئے اٹھ كھڑےہوئے ”۔( سورہ صافات127)
خدا نے بھى ان كى سزا كو ایك مختصر سے جملے میں بیان كرتے ہوئے كہہ دیا” :وہ بار گاہ عدل الہى اور اس كى دوزخ كے عذاب میں حاضر كئے جائیں گے ۔”(سورہ صافات127)اور اپنے قبیح اور بد اعمال كى سز اكا مزا چكھیں گے۔ لیكن ظاہر ہوتا ہے كہ چھوٹا سانیك ،پاك اور مخلص گروہ حضرت الیاس علیہ السلام پر ایمان لےایاتھالہذا ان كا حق فراموش نہ كرتے ہوئے بلا فاصلہ فرمایا گیا ہے :”مگر خدا كے مخلص بندے۔”(سورہ صافات128)
قران اس واقعہ كے اخر میں فرماتا ہے :”ہم نے الیاس كا نیك نام بعد والى امتوں میں جاوداں كر دیا۔”(سورہ صافات129)دوسرے مرحلے میں قران مزیدكہتاہے:”الیاسین پر سلام و درود ہو۔”(سورہ صافات130)( ”الیاس ”كى جگہ ”الیاسین ”انا اس وجہ سے ہے كہ الیاسین بھى الیاس كے ہم معنى ہیں یا الیا س اوران كے پیرو كاروں كے لئے ایا ہے)
تیسرے مرحلے میں فریاماگیا ہے :”ہم نیكوں كاروں كو اسى طرح سے بدلہ دیا كرتے ہیں ۔”(سورہ صافات131)
چوتھے مرحلے میں ان تمام باتوں كى اصل بنیادى یعنى ایمان كا ذكر ہے :یقینا وہ (الیاس )ہمارے مومن بندوں میں سے ہے ”(سورہ صافات132)
”ایمان ”و”عبودیت”احسان كا سر چشمہ ہے اورا حسان مخلصین كى صف میں شامل ہونے اور خدا كے سلام كا حقدار ہونے كا سبب ہے ۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: