حضرت اسماء بنت عمیس ؓ

حضرت اسماءؓبڑی بلند پایہ صحابیہ ؓ جو انی میں حلقہ بگوش اسلام ہوئیں اور عالی مرتبت صحابی جعفر ؓ بن ابی طالب کے نکاح میں آئیں۔ پھر ۵ نبوی میں انھی کے ساتھ حبشہ کی جانب ہجرت کر گئیں ۔ وہ
صحابہؓ کے درمیان اسماءؓ حبشہ والی مشہور ہو گئی تھیں۔ حضرت جعفر ؓحبشہ میں مسلمانوں کے مسلمہ و متفقہ راہنما تھے ۔ آنحضور ﷺ کے عم زاد ،اس نوجوان صحابی ؓ نے جس مہارت و کمال سے اس غریب الدیاری میں قیادت کاحق ادا کیا اور نجاشی کے دربار میں کلمہ حق کہا ، وہ اسلامی تاریخ کا زریں باب ہے ۔ تمام مسلمانوں کو ان پر بے پناہ اعتماد تھا۔
حضرت جعفر ؓ اپنی اہلیہ اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ ۷ ھ میں مدینہ واپس آئے۔ جس روز وہ آنحضور ﷺ سے ملے اسی روز آنحضور ﷺ نے خیبر فتح کیا تھا ۔ آنحضور ﷺ نے اس موقع پرحضرت جعفر ؓ کو گلے لگا کر ان کی پیشانی چومی اور پھر ان کی شان میں یہ عظیم الفاظ ارشاد فرمائے ۔ ” آج میرے لیے دو خوشیاں ہیں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے خیبر کی فتح سے زیادہ خوشی ہوئی ہے یا جعفرؓ کے واپس آنے سے ۔“ چونکہ حضرت جعفر ؓ سے آپ کو بے پناہ محبت تھی اسی لیے آپ ان کی وفا شعار و محبوب اہلیہ حضرت اسماءؓبنت عمیس کو بھی بہت عزیز رکھتے تھے ۔
حضرت جعفر ؓ کے ساتھ قیام حبشہ کے دوران حضرت اسماءؓ نے افریقی معاشرے کی بہت سی چیزیں دیکھیں اور بعض اچھی چیزوں کو اپنا یا بھی ۔ مثلا ً ایک مشہور واقعہ ہے کہ حضرت فاطمة الزہراؓ اور
حضرت اسماءؓ بنت عمیس دونوں آپس میں ایک دوسری سے بے پناہ محبت کرتی تھیں ۔ حضرت فاطمہ ؓ کی وفات کے وقت حضرت اسماءؓ ان کے پاس ہی تھیں اور سیدہ نے انہیں وصیت کی تھی کہ وہ انھیں غسل دیں اور یہ کوشش کریں کہ ان کا جنازہ بالکل پردے میں ہو۔کسی کی نظر جنازے کی چادر تک بھی نہ پہنچ پائے۔
حضرت اسماءؓ نے بنت رسول کو بتایا کہ حبشہ میں جنازے میں میت پر درختوں کی تازہ اور پھول دار شاخیں اس طرح ڈال دی جاتی تھیں کہ چادر اور کفن میں سے کوئی چیز نظر نہیں آتی تھی ۔ حضرت سیدہ ؓ نے ان کی اس تجویز کو بہت پسند فرمایا ۔ انہوں نے حضرت فاطمہ ؓ کی وصیت کے مطابق انہیں غسل بھی دیا اور پھرکھجور کی تازہ شاخوںسے جنازے کو ڈھانپ بھی دیا ۔
حضرت فاطمہ ؓ کا جنازہ رات کے وقت اٹھایا گیا اور رات ہی کو انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔
حضرت اسماء ؓ نے زندگی میں بڑے بڑے صدمات دیکھے لیکن سب سے بڑا صدمہ وہ تھا جب ان کے محبوب اور عظیم تاج دار حضرت جعفر ؓ بن ابی طالب جنگ موتہ میں فوجوں کی کمان کرتےہوئے شہید ہو گئے ۔ جنگ میں ان کے دونوں بازو کٹ گئے تھے مگر انہوں نے جھنڈا سرنگوں نہیں ہونے دیا تھا ۔ کٹے ہوئے بازؤں کے ساتھ بھی اس جھنڈے کو سینے سے لگائے رکھا یہاں
تک کہ  شہید ہو گئے ۔ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے جعفر ؓ کو کٹے ہوئے بازؤں کے بدلے میں پر عطا کر دیے ہیں اور وہ جنت میں پرواز کرتے پھر رہے ہیں ۔ اس فرمان نبوی کے مطابق ان کی شہادت کے بعد ہی انہیں جعفر ؓ طیار کہا گیا ۔
اللہ تعالیٰ نے جبریل امین ؑ کے ذریعے جنگ موتہ کے احوال اور زید ؓبن حارثہ ، جعفر ؓبن ابی طالب اور عبداللہ ؓ بن رواحہ تینوں سپہ سالاروں کی شہادت کی تفصیلات آنحضور ﷺ تک پہنچا دی تھیں ۔
آنحضورغم زدہ تھے مگر ساتھ ہی آپ کو یقین تھاکہ فوج شکست نہیں کھائے گی ۔ حضرت خالدؓ بن ولید نے ان تینوں شہید سپہ سالاروں کے بعد کمان سنبھالی تھی اور اسی جنگ میں انہیں آنحضورﷺ نے سیف اللہ کا خطاب دیا تھا ۔ حضرت جعفرؓ کی شہادت کی خبر سن کر آنحضور ﷺ ان کے گھر تشریف لے گئے ۔ اس وقت حضرت اسماء ؓ آٹا گوندھ چکی تھیں اور اپنے بچوں کونہلا دھلا کر صاف کپڑے پہنا رہی تھیں ۔ آپ نے گھر کا منظر دیکھا تو جی بھر آیا ۔ جعفر ؓ اور ان کے بچوں سے آپ کو ویسے ہی بڑی بے پناہ محبت تھی ۔ اس روز تو کیفیت دیدنی تھی۔ آنحضور ﷺ ؓ نے فرمایا جعفر ؓ کے بچوں کو میرے پاس لاؤ ۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔ آپ نے ان سب بچوں کو بار باری گلے لگایا اور سینے کے ساتھ چمٹائے رکھا اور انکےچہرےاورپیشانیاں چومیں ۔
حضرت اسماءؓ یہ منظر دیکھ کر پریشان ہو گئیں ۔ عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان ۔ آپ بہت غمگین ہیں ،کیا جعفر ؓ کے بارے میں کوئی خبر ملی ہے۔حضورﷺنےاپنےآنسوخشک کرتے ہوئے فرمایا !ہاں اسماءؓ! جعفر ؓ شہید ہو گئے ہیں ۔ یہ دردناک خبر سن کر بے ساختہ حضرت اسماءؓ کی چیخ نکل گئی ۔ ان کی آواز سن کر آس پاس کی خواتین جمع ہو گئیں ۔ آنحضور ﷺ نے اس روز ازواج مطہرات ؓ کوخصوصی ہدایت فرمائی کہ آل جعفر ؓ کا خیال رکھنا ۔ وہ شدت غم سے آج اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہیں ۔ انہیں غم کی ان گھڑیوں میں سینہ کوبی اور بین کرنے سے منع کرنا ۔حضرت فاطمہ ؓ نے یہ خبر سنی تو غم سے نڈھال ہو گئیں ۔ انہیں آل ابی طالب سے بے پناہ محبت تھی کیونکہ اس گھرانے نے ان کے والد گرامی کی پرورش اور صلہ رحمی و سرپرستی کا حق ادا کیا تھا ۔ حضرت جعفر ؓ ، حضرت فاطمہ ؓ کو اپنی بھتیجی کی حیثیت سے بہت عزیز گردانتے تھے ۔ اس کے علاوہ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت اسماءؓ کے درمیان ذاتی طور پر بھی بڑی اپنائیت اور دوستی تھی ۔ اس موقع پر آنحضور ﷺ نے اپنی بیٹی ؓ کو صبر کی تلقین کی اور فرمایا فاطمہ ؓ آج اسماء ؓ سخت غم زدہ ہے اس کا خیال رکھو اور جعفر ؓ کے بچوں کےلیے کھانا تیار کرو ۔ حضرت اسماءؓ بڑے دل گردے والی خاتون تھیں ۔ انہیں حدیث پر بھی عبور حاصل تھا ۔ وہ مدینہ میں فوت ہوئیں تو کبار صحابہ ؓان کے مناقب بیان کرتے رہے ۔ حضرت اسماءؓ کے سبھی بچے نامور ہوئے ۔ حضرت اسماءؓسب سے پہلے حضرت جعفر ؓ بن ابی طالب کے نکاح میں تھیں اور ان کی شہادت کے بعد حضرت ابو بکر ؓ کی زوجیت میں آئیں ۔ حضرت ابو بکر ؓ کی رحلت کے بعد حضرت علی ؓ نے ان سے نکاح کیا ۔ حضرت اسماءؓ کے بطن سے حضرت جعفر ؓ کے ہاں تین بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں ، جب کہ حضرت ابو بکر ؓ سے ایک بیٹے محمد ابن ابو بکر ؓ اور حضرت علی ؓ سے بھی ایک فرزند یحییٰ بن علی ؓ پیدا ہوئے ۔
حضر ت علی ؓ ایک دن اپنے گھر میں تشریف فرما تھے کہ ایک دلچسپ واقعہ رونما ہوا۔ حضرت فاطمة الزہرا ؓ اس زمانے میں فوت ہو چکی تھیں ۔ حضرت اسماؓ بنت عمیس گھر کے کام کاج میں مصروف
تھیں ۔ حضرت علی ؓ کے گھر میں محمد بن ابو بکرؓتین سال کی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ آئے اور انھی کی سرپرستی میں جوان ہوئے ۔ ایک دن حضرت اسماءؓ کے دو بیٹے محمد بن جعفر ؓ اور محمد بن ابو بکر ؓ گھر میں کھیلتے کھیلتے آپس میں جھگڑنے لگے ۔ دونوں کا دعوٰی یہ تھاکہ اس کا والد صحابہؓ میں سب سے افضل ہے ۔ محمد بن جعفرؓ کے پاس بھی دلائل تھے اور محمد بن ابو بکر ؓ بھی اپنی بات کے لیے دلائل پیش کر رہے تھے ۔ حضرت علی ؓ نے دونوں کی دلچسپ باتیں سنیں تو محظوظ ہوئے پھر کہا ” بچو تم جھگڑا چھوڑ و، آؤ تمہاری ماں سے فیصلہ کراتے ہیں ۔
حضرت اسماءؓ نے اپنے دونوں جگر گوشوں کی بات سنی تو فرمایا ” میں نے عرب کے نوجوانوں میں جعفر ؓ سے زیادہ اعلیٰ صفات کا حامل کسی کو نہیں پایا اور بڑی عمر کے لوگوں میں کسی کو ابوبکر ؓ سے اچھا نہیں پایا ۔ “ یہ بیان حضرت اسماءؓ کی ذہانت اور اخلاق کریمانہ کی علامت ہے ۔ اس دلچسپ بات کو سن کر حضرت علی ؓ نے مسکراتے ہوئے یوں تبصرہ کیا۔ ” ساری خوبیاں تو وہ دونوں مرحومین سمیٹ لے گئے ، پھر ہمارے لیے کیا بچا ؟
Advertisements
1 comment
  1. Ajaz said:

    Cut-n-paste mullani Ji. This will make other good Pakistanis feel good. Make sure, people don’t face realities and live in majestic past.

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: